تنبيهات على أحكام تختص بالمؤمنات
خواتین کے مخصوص مسائل تالیف فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مقدمہ تمام تعریفیں اللہ ذو الجلال کے لئے ہیں جس نے ٹھیک ٹھاک اندازہ کیا اور پھر راہ دکھائی، اور جوڑا (نر ومادہ) پیادا کیا نطفہ سے جبکہ وہ ٹپکایا جاتا ہے، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں، تمام تعریفیں دنیا وآخرت میں اسی کے لیے ہیں۔ اور یہ بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہیں آسمان کی معراج کرائی گئی تو انہوں نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ اللہ تعالی آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل و اولاد…
خواتین کے مخصوص مسائل
تالیف فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ ذو الجلال کے لئے ہیں جس نے ٹھیک ٹھاک اندازہ کیا اور پھر راہ دکھائی، اور جوڑا (نر ومادہ) پیادا کیا نطفہ سے جبکہ وہ ٹپکایا جاتا ہے، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں، تمام تعریفیں دنیا وآخرت میں اسی کے لیے ہیں۔ اور یہ بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہیں آسمان کی معراج کرائی گئی تو انہوں نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ اللہ تعالی آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل و اولاد اور آپ کے اصحاب فضل ومنقبت اور فہم وفراست ہیں، زیادہ سے زیادہ ہمیشہ ہمیش درود وسلام نازل فرمائے۔
اسلام میں خواتین کا اپنا ایک مقام ومرتبہ ہے، کاروبارِ حیات کی متعدد ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئی ہیں، رسول اکرم ﷺ مخصوص طور پر ان کو اپنی تعلیمات سے نوازتےرہتے تھے، حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے خطبہ میں آپ ﷺ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی تھی، ان تمام امور سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ ہر زمانہ میں خواتین لازمی توجہ کی مستحق ہیں، خصوصاً موجودہ دور میں جبکہ مسلم خواتین سے ان کی عزت وناموس کو سلب کرنے نیز ان کو اپنے مقام ومرتبہ سے گرانے کے لیے مخصوص طریقہ سے ان پر یلغار کی جارہی ہے اور ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اس لیے انہیں خطرات سے آگاہ کرنا اور ان کے لیے راہ نجات کی نشاندہی کرنا از حد ضوری ہے۔
زیر نظر کتاب کے بارے میں ہماری یہی توقع ہے کہ اس کے اندر خواتین سے متعلق جو مخصوص احکامات بیان کئے گئے ہیں ان کی وجہ سے کتاب اس راہ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، یہ ایک حقیر اور متواضع شمولیت ہے، لیکن ایک کم مایہ شخص کی حتی المقدور کوشش ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس کتاب کو اس کے حجم اور مقدار کے مطابق کار آمد اور نفع بخش بنائے، خواتین کی رہنمائی اور ان کے لیے راہ نجات کی نشاندہی کے متعلق سے یہ پہلا قدم ہے، امید ہے کہ اس کے بعد اس سے زیادہ عمومیت اور شمولیت کے ساتھ اگلے قدم اٹھائے جائیں گے جن میں زیادہ بہتر اور مکمل طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
اس عجلت میں پیش کی گئی معلومات کو درج ذیل فصول کے تحت بیان کیا گیا ہے:
فصل اول: عام مسائل واحکام
فصل دوم: خواتین کی جسمانی زینت وآرائش سے متعلق مسائل
فصل سوم: حیض، استحاضہ اور نفاس کے مسائل
فصل چہارم: لباس اور پردہ کے مسائل
فصل پنجم: نماز سے متعلق خواتین کے مخصوص مسائل
فصل ششم: جنازہ سے متعلق خواتین کے مخصوص مسائل
فصل ہفتم: روزہ سے متعلق خواتین کے مخصوص مسائل
فصل ہشتم: حج اور عمرہ سے متعلق خواتین کے مخصوص مسائل
فصل نہم: ازدواجی زندگی سے متعلق مسائل
فصل دہم: خواتین کی عزت وناموس اور ان کی عفت وشرافت کو ضمانت فراہم کرنے والے احکام ومسائل
تالیف
فصل اول
عام مسائل و احكام
1- عورتوں کامقام قبل از اسلام: قبل از اسلام سے مراد زمانہ جاہلیت ہے جس وقت عرب بالخصوص اور روئے زمین پر بسنے والے بالعموم زندگی بسر کر رہے تھے اور لوگ عہد فترہ {فترہ: دو نبیوں کے درمیان کے زمانہ کو کہتے ہیں۔ (مترجم)} سے گزر رہے تھے، ہدایت اور نجات کی راہیں ناپید ہو چکی تھیں، حدیث نبوی کے بیان کے مطابق ”اللہ تعالی نے ان پر نظر ڈالی تو اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر عرب وعجم کے تمام لوگوں سے اللہ تعالی سخت ناراض ہوا۔“(1){(1) یہ ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت عیاض بن حماد مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، مذکورہ ٹکڑے کے الفاظ یہ ہیں:إِنَّ اللهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ، إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ...) صحيح مسلم، کتاب الجنۃ (مترجم)} اس عہد میں خواتین عموماً اور عرب معاشرہ میں خصوصاً سخت آزمائشی دور سے گزر رہی تھیں، عرب بچیوں کی ولادت کو سخت ناپسند کرتے تھے، کچھ ایسے تھے جو انہیں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے کہ مٹی کے نیچے دب کر دم توڑ دیں، اور کچھ ایسے بھی تھے جو ان کی تربیت وکفالت سے دست بردار ہو کر انہیں ذلت ورسوائی کی زندگی گزارنے پرمجبور کر دیتے تھے، اسی صورتِ حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ. (سورۃ النحل: 58-59)”ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہره سیاه ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے، اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آه! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟“ دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے: وَإِذَا الْمَوْؤُدَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ. (سورۃ التکویر: 8-9) ”جب زندہ گاری ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائي گا کہ کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی۔“
”مَوْؤُدَة“ اس بچی کو کہتي ہین جو زندہ درگور کردی گئی ہو کہمٹی کےنیچے دب کر دم توڑ دے۔ اگر لرکیزندہ درگور کیے جانے سے کسی طرح بچ جاتی تو اسے نہایت اہانت آمیز زندگی گزارنی پڑتی تھی، اس کو اپنے قریبی لوگوں کے ترکہ سے کوئی حصہ نہیں ملتا تھا، خواہ اس کي اقرباء کتنے ہی صاحب جولت وثروت کیوں نہ ہوں، اور وہ خود کتنی ہی غربت ومحتاجگی کی زندگی کیوں نہ گزار رہی ہو، کیونکہ ان کي یہاں عورتوں کے بجائے صرف مردوں کو ہی ترکہ ملتا تھا، عورتوں کو ترکہ کیا ملتا وہ خود مالِ میراث کی طرح وفات پانے والے شوہروں کے ورثاء میں تقسیم کی جاتی تھیں۔ ایک شوہر کی زوجیت میں بےشمار عورتیں ہوا کرتی تھیں، کیوکہ ان کے نزدیک تعدد ازواج کی کوئی قید نہیں تھی، اور اس کی بنا پر ان عورتوں کو لاحق ہوني والی پریشانیوں، تنگیوں اور ظلم وزیادتی کی وہ کوئی پرواہ بھی نہیں کرتے تھے۔
2- اسلام میں عورتوں کا مقام ومرتبہ:
جب اسلام آیا تو اس نے عورتوں پر ہونے والے ظلم وزیادتی کا خاتمہ کرتے ہوئے ان کی انسانی حیثیت اور مرتبہ کو انہین واپس دلایا، ارشاد ربانی ہے: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثى. (سورۃ الحجرات: 13)”اے لوگوں! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے۔“ اللہ تعالی نے واضح کردیا کہ انسان ہونے میں عورت، مرد کے مساوی درجہ رکھتی ہے، اسی طرح اعمال پر جزا وسزا میں بھی دونوں برابر اور یکساں حیثیت رکھتي ہیں: مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ. (سورۃ النحل: 97) ”جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔“ ارشاد ربانی ہے: لِيُعَذِّبَ اللَّهُ الْمُنافِقِينَ وَالْمُنافِقاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكاتِ. (سورۃالاحزاب: 73) ”(یہ اس لئے) کہ اللہ تعالی منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے۔“ اللہ تعالی نے عورت کی اس حیثیت کو حرام اور ممنوع قرار دیا ہے کہ مرنے والے شوہر کے متروکہ مال میں اسے شمار کیا جائے، چنانچہ فرماتا ہے: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّساءَ كَرْهاً۔ (النساء: 19) ”اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورثے میں لے بیٹھو۔“ اللہ تعالی نے خواتین کو ان کی اپنی ایک مستقل حیثیت کی ضمانت دی ہے، مال موروث نہ شمار کر کے انھین وارث بنایا ہے، خویش واقارب کے مال متروک میں ان کا حصہ متعین کیا ہے، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے: لِلرِّجالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّساءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ.(النساء: 7) ”ماں باپ اور خویش واقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور خویش واقارب چھوڑ مریں) خواه وه مال کم ہو یا زیاده (اس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔“ دوسرا جگہ ارشاد فرماتا ہے: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِساءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثا مَا تَرَكَ وَإِنْ كانَتْ واحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ.(النساء: 11) ”اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اوﻻد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے“ اسی طرح کی متعدد وہ تمام آیات کریمہ ہیں جو مال میراث میں ماں، بیٹی، بہن، بیوی کی صورت میں خواتین کے حصوں کی تعیین کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں۔ ازدواجی زندگی کے متعلق سے اللہ تبارک وتعالی نے چار بیویوں کی آخری حد متعین کردی ہے، بشرطیکہ ان کے مابین حتی المقدور عدل وانصاف قائم کیا جائے، اور ان کے ساتھ حسن معاشرت کو واجب اور ضروری قرار دیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ. (النساء: 19) ”ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بور وباش رکھو۔“ اور مہر کو عورتوں کا حق قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل ادائگی کا حکم دیا ہے مگر یہ کہ عورت خوش دلی کے ساتھ از خود معاف کردے۔ فرمان الٰہی ہے: وَآتُوا النِّساءَ صَدُقاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْساً فَكُلُوهُ هَنِيئاً مَرِيئاً. (النساء: 4) ”اور عوتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو، ہاں اگر وه خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھاؤ پیو۔“ اللہ تعالی نے عورت کو اپنے شوہر کے گھر میں ایک ایسے نگہبان کی حیثیت عطا کی ہے جو امر ونہی کی مالک ہوتی ہے اور اپنے بچوں کی مالکن اور سردار ہوتی ہے، ارشاد نبوی ہے: المرأة راعية في بيت زوجها، ومسئولة عن رعيتها. ”عورت اپنے شوہر کے گھر اور بال بچوں کی نگراں ہے اور اس سے ان کے متعلق سوال کیا جائے گا۔“ اسی طرح شوہر پر معروف طریقے سے بیوی کے نان ونفقہ اور لباس وغیرہ کے اخراجات کی ذمہ داری عائد کی ہے۔
3- دشمنان اسلام اور ان کے چیلے خواتین سے ان کی عزت وناموس اور ان کے حقوق سلب کرنا چاہتے ہیں:
آج کے دور میں دشمنان اسلام بلکہ دشمنان انسانیت کفار ومنافقین اور کج روی اختیار کرنے والوں کو اسلام میں خواتین کو ملی ہوئی عزت وشرافت اور تحفظ سخت ناگوار معلوم ہور ہا ہے، کیونکہ یہ لوگ عورتوں کو تباہی وبربادی اور ہلاکت کے ایک ایسے وسیلہ اور ایک ایسے جال کی شکل مین دیکھنا چاہتے ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنی ہیجان انگیز شہوتوں کو تسکین پہنچانے کے بعد کمزور ایمان، بے قابو اور خواہشات وہوس سے مغلوب لوگوں کو اپني پھندے میں گرفتار کرسکیں۔ اللہ رب العزت ایسے لوگوں کے حق میں ارشاد فرماتا ہے: وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَواتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلاً عَظِيماً. (النساء: 27) ”اور جو لوگ خواہشات نفس کے بیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس راہ راست سے بہت دور ہٹ جاؤ۔“
(حد ہو گئی کہ) بیمار دل اور کج رَو مسلمان بھی خواتین کے تعلق سے یہی چاہتے ہیں کہ شیطانی خواہشات اور شہوانی میلان رکھنے والے تاجروں کے شوردم مین ان کو سستے سامانوں کی طرح رکھا جائے جو خریداروں کے سامنے بالکل کھلے رکھے جاتے ہیں تاکہ ان کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں یا اس کے توسط سے ان کو بدترین عمل تک رسائی حاصل ہوسکے، چنانچہ ان کے اندر اس بات کی شدید رغبت پائی جاتی ہے کہ خواتین اپنے گھروں کی چہار دیواری سے نکل کر مردوں کے دوش بدوش ان کے کاموں میں ہاتھ بٹائیں، یا ہسپتالوں میں بحیثیت نرس مردوں کی تیمارداری کریں اور ان کی خدمت انجام دیں، یا ہوائی جہازوں میں بحیثیت ایئر ہوسٹس یا مخلوط تعلیم گاہوں میں بحیثیت طالبات اور ٹیچرز، یا تھیٹروں میں بحیثیت اداکارہ یا گلوکارہ، یا مختلف ذرائع ابلاغ میں بحیثیت اناؤنسر کام کریں، جہاں وہ اپنی شکل وصورت اور اپنی آواز سے لوگوں کو فتنوں میں مبتلا کریں۔ فحش رسائل واخبارات نے دوشیزاؤں کی ہیجان انگیز عریاں تصویروں کو اپنی مارکیٹنگ اور بازارون میں رواج حاصل کرنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنا رکھا ہے، اسی طرح بعض تاجروں اور صنعتی کمپنیوں نے اسی نوعیت کی فحش تصویروں کو اپنے سامان کی تجارت اور اپنے پروڈکس (مصنوعات) پر آویزاں کرکے انہیں فروغ دینے کا وسیلہ اور ذریعہ بنا رکھا ہے، ان تمام غلط حرکتوں کا نتیجہ برآمد ہوا کہ خواتین اپنے گھروں کے اندر اپنی حقیقی اور اصل ذمہ داریوں سے دست بردار ہو گئیں، اس وجہ سے ان کے خاوند اپنے بچوں کی تربیت اور گھریلو ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے بیرون ملک سے خادماؤں کو درآمد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کا اثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ بیشمار فتنے اور بڑی بڑی برائیاں جنم لیتی ہیں۔
4- خواتین کے لیے تعلیم وتعلم اور ملازمت کی اجازت: گھر کے باہر خواتین کی سروس یا دیگر کام کرنے ہم مخالف نہیں ہیں بشرطیکہ وہ مندرجہ ذیل ضوابط کے تحت ہوں:
1- عورت اس ملازمت کی یا معاشرہ اس کے کام کا واقعی ضرورتمند ہو، مردوں میں اس کام کو انجام دینے والا موجود نہ ہوں۔
2- گھریلو ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے بعد ہی وہ گھر کے باہر سروس کرسکتی ہے کیونکہ گھریلو ذمہ داریوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
3- مردوں سے دور رہ کر محض خواتین کي بیچ مین اس طرح کی سروس کیجاسکتی ہے، مثال کے طور پر عرتوں کی تعلیم وتربیت، ان کی تیمار داری اور ان کا علاج ومعالجہ۔
4- اسی طرح دینی امور کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایک ضروری چیز ہے، جن دینی مسائل کی عورت کو ضرورت ہو انہیں سیکھنے اور حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ انہیں عورتوں کے درمیان رہ کر حاصل کیا جائے، مساجد وغیرہ میں قائم کئے جانے والي وعظ ونصیحت کے دروس کی حاضری میں بھی مضائقہ نہیں ہے، بشرطیکہ پردہ کے ساتھ اور مردوں کے اختلاط سے دور ہو، جیسے کہ ابتداءِ اسلام میں خواتین مساجد مین حاضر ہو کر سیکھتی اور سکھاتی تھیں۔
فصل دوم
خواتین کی جسمانی زینت وآرائش (بناؤ سنگھار) سے متعلق مسائل
1- عورتوں کے مخصوص اور ان کے مناسب جو خصائل فطرت ہیں
ان میں ناخن کا تراشنا اور برابر ان کی خبر گیری کرنا عورت سے مطلوب ہے، کیونکہ ناخن تراشنے کے مسنون ہونے پر اہل علم کا اجماع ہے، یہ ان خصائل فطرت میں سے ہے جن کا ذکر حدیث نبوی میں وارد ہوا ہے (1) {عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتی ہیں: عشرٌ من الفِطرةِ : قصُّ الشَّاربِ، وإعفاءُ اللِّحيةِ، والسِّواكُ، واستنشاقُ الماءِ، وقصُّ الأظفارِ، وغسلُ البراجمِ، ونتفُ الإبطِ، وحلْقُ العانةِ، وانتقاصُ الماءِ. قال الراوي: ونسيتُ العاشرةَ . إلَّا أن تكونَ المضمضةَ. ”دس باتیں خصائل فطرت مین سے ہیں: مونچھوں کا تراشنا وداڑھی کا بڑھانا، مسواک، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے پوروں کا دھونا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیر ناف کا بنانا، استنجا کرنا۔ روای کا کہنا ہے کہ دسویں بات مین بھول گیا ہوں، ہوسکتا ہے دسویں بات کلی کرنا ہو۔ (مترجم)} اور ناخن کاٹنے میں نظافت اور خوبصورتی پائی جاتی ہے، جبکہ انھیں بڑھانے میں بدشکلی (بھدا پن) درندوں سے مشابہت، ان کے نیچے پانی کا نہ پہنچنا، اور ان کے اندر گندگی وغلاظت کا جمع ہونا، یہ سب خرابیان پائی جاتی ہیں، سنت سے ناواقفیت اور کافر عورتوں کی تلقید کی وجہ سے بعض مسلم خواتین بھی ناخن بڑھانے کی وبا میں مبتلا ہو گئی ہیں۔
زیر ناف اور بغل کے بالوں کی صفائی بھی عورتوں کے لیے مسنون ہے، کیونکہ حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے اور اسی میں خوبصورتی اور جمال ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتہ اس عمل کو انجام دیا جائے، یا چالیس دن سے زیادہ انھیں نہ چھوڑا جائے۔
2- سر اور ابرو کے بالوں کے بارے میں اسلام کا حکم، خضاب اور بالوں کے رنگنے کا حکم:
الف: مسلم خواتین سے سر کے بالوں کا بڑھانا مطلوب ہے، بلا کسی ضرورت انہیں منڈانا حرام ہے۔
شیخ محمد بن ابراھیم آل الشیخ (سابق) مفتی سعودی عرب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”عورتوں کے سروں کے بالوں کا مونڈنا جائز نہیں ہے، کیونکہ امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے، اور علامہ ابن جریر (الطبری) رحمہ اللہ نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے سنداً روایت کیا ہے کہ رسول ﷺ نے عورت کو اپنے سر کے بال منڈانے سے منع فرمایا ہے۔
آپ ﷺ کی نہی (ممانعت) اگر اس کا کوئی معارض ومخالف حکم موجود نہ ہو تو تحریم کیمتقاضی ہوتی ہے۔ (یعن ایسی نہی تحریم کے لئے ہوتی ہے)
ملا علی قاری رحمہ اللہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں: ”رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان مبارک: ”أن تَحلِقَ المرأةُ رأسَها“. اس وجہ سے ہے کہ خواتین کے حق میں چوٹیوں کو شکل وصورت اور حسن وجمال میں وہی حیثیت حاصل ہے جو مردوں کے حق میں داڑھی کو حاصل ہے۔“ (مجموع فتاویٰ الشیخ محمد بن ابراھیم: 2/49)
سر کے بالوں کو زیب وزینت کے علاوہ کسی دوسرے مقصد سے چھوٹا کرنا، مثال کے طور پر ان کی حفاظت وغیرہ سے عورت عاجز ہو جائے، یا اتنے زیادہ طویل ہو جائیں کہ عورت کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوں، تو بقدر ضرورت ان کو چھوٹا کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ بعض ازواج مطہرات (رضوان اللہ عليھن) رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ایسا کرتی تھیں، اس لیے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی وفات کے بعد زیب وزینت کو ترک کر دیا تھا اور بالوں کو بڑھانے اور انہیں سنوارنے کو ان کو حاجت وضرورت نہیں رہ گئی تھی۔
اور اگر بالوں کو چھوٹا کرانے سے کافرہ اور فاسقہ عورتوں یا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا مقصود ہے تو یہ بلا شک وشبہ حرام ہے، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے عموماً اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور بالوں کو چھوٹا کرانے سے زیب وزینت مقصود ہے تو واضح بات یہ ہے کہ یہ بھی جائز نہیں۔
استاد محترم شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر (اضواء البیان) میں لکھتے ہیں: ”بہت سے (مسلم) ممالک مین خواتین کا اپنے بالوں کو جڑوں کی حد تک چھوٹا کرانے کا رواج بڑھتا جارہا ہے، در حقیقت یہ فرنگی طور طریقہ ہے جو اس طور طریقہ کے بالکل مخالف ہے جس پر مسلم خواتین بلکہ قبل از اسلام عرب خواتین گامزن تھیں۔ یہ طریقہ ان تمام انحرافات مین سے ایک ہے جو دین واخلاق اور شکل وصورت وغیرہ میں عام ہوتے جارہے ہیں۔“ اس کے بعد موصوف نے اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے جس میں یہ وارد ہے کہ ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن اپنے بالوں کو وفرہ (کانوں تک لٹکے ہوئے بال) کی حد تک چھوتا کرالیتی تھیں، اور اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ازواج مطہرات نے رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد اپنے بالوں کو چھوٹا کرایا تھا، اس لئے کہ وہ آپ کی زندگی میں زیب وزینت اور بناؤ سنگھار کرتی تھیں اور ان کی بہترین زیب وزینت میں ان کے بال بھی تھے۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد ان کو ایک خاص حکم حاصل ہو گیا تھا جس کی رو سے پورے روئے زمین کی تمام خواتین میں سے کوئی بھی خاتون ان کی شریک اور ہم سر نہیں ہو سکتی تھی، اور وہ خاص حکم یہ تھا کہ شادی کے تعلق سے ان کی ساری توقعات کا خاتمہ ہو چکا تھا اور شادی سے وہ اس طرح ناامید ہوچکی تھیں کہ اس میں کسی حرص وطمع کی ادنٰی آمیزش بھی نہیں پائی جاتی تھی، چنانچہ وہ ایسی عدت گزار عورتیں تھیں جو تاحیات رسول اکرم ﷺ کی زوجیت میں ہونے کی وجہ سے محبوس تھیں، اللہ تعالی ان کے حق میں ارشاد فرماتا ہے: وَما كانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْواجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَداً إِنَّ ذلِكُمْ كانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيماً. (الاحزاب: 53) ”اور نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناه) ہے۔“ مردوں سے مکمل بے رغبتی اور مایوسی، زیب وزینت کی بعض ایسی چیزوں میں کوتاہی اور سستی کے لیے رخصت کا سبب بن سکتی ہے جو کسی دوسرے سبب کی بناء پر جائز نہیں ہوسکتی ہیں“ (اضواء البیان: 5/598-601) (اگر خاوند عورت کو بال چھوٹا کرنے کا حکم بھی دے تو اس کی اطاعت عورت کے لئے جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالی کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔)
لہذا عورتوں پر ضروری ہے کہ وہ اپنے سروں کے بالوں کی مکمل حفاظت کریں اور ان پر پوری توجہ دیں اور ان کی چوٹیاں بنا کر رکھیں، انھیں سروں پر یا سر کے پچھلے حصے پر اکٹھا کر کے باندھنا جائز نہیں ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (22/145) میں فرماتے ہیں: ”جس طرح بعض آبرو باختہ عورتیں اپنے بالوں کی ایک ہی چوٹی بناکر اور اسے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا کر رکھتی ہیں۔“
سعودی عرب کے (سابق) مفتی شیخ محمد بن ابراھیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”عصر حاضر کی بعض مسلم خواتین کا یہ عمل کہ سر کے بالوں کو ایک جانب سے کنگھی کرکے پچھلے حصہ (گدی) میں یا سر کے اوپر باندھ لیتی ہیں جیسا کہ انگریز عورتیں کرتی ہیں تو یہ ناجائز ہے، کیونکہ اس میں کفار کی عورتوں سے مشابہت پائی جاتی ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ((صنفانِ من أهلِ النارِ لم أرَهما . قومٌ معهم سياطٌ كأذنابِ البقرِ يضربون بها الناسَ. ونساءٌ كاسياتٌ عارياتٌ مائلاتٌ مميلاتٌ. رؤوسُهنَّ كأسنِمَةِ البختِ المائلةِ. لا يدخلْنَ الجنةَ ولا يجدْنَ ريحَها . وإن ريحَها ليوجد من مسيرةِ كذا وكذا)) ”جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جن کو میں نے دیکھا نہیں ہے، ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کے مانند کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے، دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی، مٹک مٹک کر، موندھوں اور کولہوں کو ہلا ہلا کر چلیں گی، ان کے سر اونٹ کے جھکے ہوئے کوہان کی طرح ہوں گے، وہ نہ تو جنت میں داخل ہونگی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے پائی جائے گی۔“ (مسلم)
بعض اہل علم نے حدیث میں وارد لفظ ” مائلاتٌ مميلاتٌ “ کی تفسیر وتوضیح کرتے ہوئے لکھا ہے:”ان کے کنگھی کرنے کی کیقیت اس طرح ہوتی ہے کہ بال ایک جانب جھکے ہوتے ہیں، یہ فاحشہ اور بدکار عوتوں کیکنگھی کا طریقہ ہے، اور (مميلاتٌ) ان عورتوں کو کہتے ہیں جو دوسری عورتوں کو اس طرح کنگھی کریں، درحقیقت یہ فرنگی (یورپی) خواتین اور ان کي نقش قدم پر چلنے والی مسلم خواتین کی کنگھی کا طریقہ ہے۔“ (مجموع فتاویٰ الشیخ: 2/47، نیز ملاحظہ ہو الايضاح والتبيين مؤلفہ شیخ حمود تویجری ص 85)
جس طرح خواتین کو بلا ضرورت سروں کے بالوں کو منڈوانے یا چھوٹا کرانے سے روکا گیا ہے اسی طرح انہیں اپنے بالوں میں مزید دوسرے بالوں کو جوڑ کر اضافہ کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے، چنانچہ صحیحین میں وارد ہے: لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الواصلة والمستوصلة. ”رسول اکرم ﷺ نے واصلہ اور مستوصلہ پر لعنت بھیجی ہے۔“ الواصلہ: اس عورت کو کہتے ہیں جو غیر کے بالوں کو جوڑ کر اپنے بالوں میں اضافہ کرتی ہے۔ مستوصلہ: اس عورت کو کہتے ہیں جس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اس وجہ سے ممنوع اور حرام ہے کہ اس میں فریب اور دھوکہ پایا جاتا ہے، اس ممنوعہ اضافہ میں باروکہ (وگ) کا استعمال بھی شامل ہے جو اس وقت کافی رواج پکرتا جارہا ہے۔ امام بخاری وامام مسلم رحمہما اللہ وغیرہ کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ تشیرف لائے تو انہوں نے ایک تقریر کی، دوران تقریر انہوں نے بالوں کا ایک گچھا نکال کر فرمایا: تمہاری خواتین کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے سروں میں اس طرح کی چیز استعمال کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ا مِن امرأةٍ تجعَلُ في رأسِها شَعرًا مِن شَعرِ غيرِها إلَّا كان زُورًا. (اگر کوئی عورت اپنے سر میں کسی غیر کے بال لگاتی ہے تو وہ جھوٹ اور فریب ہوتا ہے۔“ باروکہ (وگ) ایسے مصنوعی بالوں کو کہتے ہیں جو سر کے بالوں کے مشابہ تیار کیے جاتے ہیں، اس کے استعمال میں فریب اور دھوکہ دہی ہوتی ہے۔ ب- مسلم خواتین کے لیے ابرو کے تمام بالوں کو یا بعض بالوں کو مونڈ کر، ترشوا کر یا بال صفا دوائیں استعمال کرکے صاف کرنا حرام ہے، کیونکہ اسی کو ”نَمص“ کہا جاتا ہے جس کا ارتکاب کرنے والی خواتین پر رسول اکرم ﷺ نے لعنت بھیجی ہےو چنانچہ حدیث میں آتا ہے: لعنَ رسولُ اللَّهِ صلی اللہ عليه وسلم النَّامصةَ والمتنمِّصةَ. ”نبی کریم ﷺ نے نامصہ اور متنمصہ پر لعنت بھیجی ہے۔“ نامصہ: اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خیال میں زیب وزینت اختیار کرنے کے لیے اپنے ابرو کے تمام بالوں کو یا کچھ بالوں کو صاف کرتی ہے۔ متنمصہ: اس عورت کو کہتے ہیں جس کے لیے اس عمل کو انجام دیا جائے۔ یہ عمل در حقیقت اللہ تعالی کی خلقت میں تغییر وتبدیلی کرنے کے مترادف ہے جس کے بارے میں شیطان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ بنی آدم کو اللہ تعالی کیخلقت میں تبدیلی کا حکم دے گاو چنانچہ اس نے کہا تھا حیسا کہ اللہ رب العزت نے اس سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ. ”اور میں ان سے کہوں گا کہ اللہ تعالی کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں۔“ (النساء: 119) صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایسی عورتوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو جو گودنا گودتی ہین او گودنا گدواتی ہیں، اور جو ابرو کے بال اکھیڑتی اور اکھڑواتی ہیں، اور دانتوں کو گھسا کر خوبصورت بناتی ہیں، درحقیقت وہ اللہ تعالی کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑنے والی ہیں۔“{صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ (3/1678، حدیث 2125) [مترجم]} اس کے بعد آپ فرماتے ہیں: ”کیا میں ان لوگوں پر لعنت نہ بھیجوں جن پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے؟ اور یہ حکم اللہ تعالی کی کتاب میں موجود ہے۔“ آپ کی مراد اللہ تعالی کے اس قول سے ہے: وَما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا. (الحشر: 7) ”تمہیں جو کچھ رسول دیں، لے لو اور جس سے روکیں، رک جاؤ۔“ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر (2/359 مطبوعہ دار الاندلس) میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
اس سنگین اور خطرناک وبا میں آج بے شمار عورتیں مبتلا ہو گئی ہیں، درحقیقت یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔ صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ ابرو کے بال صاف کرنا روزمرہ کی ضروریات میں شامل ہو گیا ہے، اگر کسی عورت کا خاوند اس کا حکم دے تو بھی اس کی اطاعت نہیں جائز ہے، کیونکہ یہ ایک معصیت اور گناہ کا کام ہے۔
ج- زینت وآرائش کے مقصد سے دانتوں کو گھسنا کر ان میں جھری (دراز) بنانا مسلم خواتین کے لیے حرام ہے، وہ اس طرح سے کہ خوبصورتی پیدا کرنے کے لالچ میں دانتوں کو ریتی سے گھس کر ان کے درمیان مختصر شگاف بنالیا جائے۔ البتہ اگر دانتون میں کسی قسم کی بدشکلی پائی جاتی ہو اور اس کو دور کرنے اور دانتوں کو صحیح کرنے کے لئے آپریشن کی ضرورت پڑے، یا ان میں کیڑے پیدا ہو جائیں اور ان کو ختم کرنے کے لیے اصلاح کی ضرورت پیش آئے تو اس میں کوئی حرج یا مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ یہ علاج ومعالجہ اور بدصورتی کوختم کرنے کے قبیل سے ہے اور اسے اسپیشلسٹ لیڈی ڈاکٹر کے ہاتھوں انجام دیا جائے گا۔
د- جسم میں گودنا گودوانے کا عمل بھی عورت پر حرام ہے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے واشمہ اور مستوشمہ پر لعنت بھیجی ہے۔ واشمہ: اس عورت کو کہتے ہیں جو ہاتھ یا چہرے میں سوئی چبھو کر اس جگہ کو سرمہ یا روشنائی سے بھر دے (یعنی گودنا گودنے والی عورت) مستوشمہ: اس عورت کو کہتے ہیں جس پر یہ عمل کیا جائے۔ یہ عمل حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے گودنا گودنے والی اور گودوانے والی دونوں عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ اور شریعت مین صرف کبیرہ گناہ پر ہی لعنت بھیجی گئی ہے۔
ھ- خواتین کے لئے خضاب (مہندی) لگانے اور بالوں کے رنگنے کا حکم: 1- خضاب: اما م نووی رحہ اللہ المجموع (1/324) میں فرماتے ہیں: ”دونون ہاتھوں اور پیروں کا مہندی سے رنگنا شادی شدہ عورت کے لئے مستحب ہے، اس سلسلہ میں کئی حدیثیں معروف ومشہور ہیں۔“ امام نووی کا اشارہ اما ابو داؤد رحمہ اللہ کیاس روایت کی جانب ہے حس مین مذکور ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت نے مہندی لگانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں کیونکہ میرے محبوب رسول اکرم ﷺ کو اس کی بو ناپسند تھی۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی روایت کیا ہے، آپ ہی سے دوسری حدیث بھی مروی ہے فرماتی ہیں: ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے رسول اللہ ﷺ کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا اس کے ہاتھ میں ایک مکتوب تھا آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہین کہ یہ ہاتھ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا کسی عورت کا؟ اس نے کہا: یہ ایک عورت کاہاتھ ہے، آپ نے فرمایا: و كنت امرأة لغيرت أظفارك - يعني: بالحناء”اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخنون کو تبدیل کرلیتی“ (یعنی مہندی سے)۔ (ابو داؤد ونسائی) لیکن ایسی چیزوں سے وہ اپنے ناخنوں کو ہر گز نہیں رنگ سکتی ہے جو ان پر منجمد ہوکر طہارت کے پانی کے لئے رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ (جیسے نیل پالش والے رنگ)
2- خواتین کا اپنے بالوں کو رنگنے اور ان میں خضاب لگانے کا جہاں تک سوال ہے تو اگر بالوں میں سفیدی ظاہر ہوچکی ہے تو انہیں سیاہ رنگ کے علاوہ کسی دوسرے رنگ سے رنگ سکتی ہے، کیونکہ سیاہ خضاب سے رسول اکرم ﷺ سے وارد ممانعت میں مردوں اور عورتوں کے درمیان عمومیت پائی جاتی ہے،
چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ ریاض الصالحین (ص: 626) میں ایک باب کا عنوان قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”مردوں اور عورتوں کو سیاہ خضاب لگانے کی ممانعت“ اور المجموع شرح المھذب (1/324) میں لکھتے ہیں: ”سیاہ خضاب سے ممانعت میں مرد وعورت کے درمیان کوئی فرق نہین ہے، یہی ہمارا مذہب ہے۔“
اگر کوئی عورت اپنے سیاہ بالوں کو کسی دوسرے رنگ سے بدلنے کے لئے خضاب لگاتی ہے تو میں جہاں تک سمجھتا ہوں یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بالوں کے لیے سیاہ رنگ ہی خوبصورتی کا باعث ہوتا ہے اور اس میں ایسی کوئی بدشکلی نہیں پائی جاتی کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جائے، اور اس میں کافر عورتوں سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔
رسم ورواج کے مطابق خواتین کے لیے سونے وچاندی کے زیورات کا استعمال جائز ہے، اس پر علماء کا اتفاق ہے۔ لیکن ان زیورات کا محرم لوگوں کے علاوہ دوسرے اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ ان کو چھپائیں گی، خصوصاً گھر سے باہر نکلتے وقت اور ایسے وقت جبکہ مردوں کی نگاہیں ان پر پڑتی ہوں، کیونکہ یہ فتنہ کا باعث ہے، اور عورتوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ کپڑوں کے نیچے پوشیدہ زیورات کی آواز مردوں کو سنائیں، چنانچہ ارشاد ربانی ہے: وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ”اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے۔“ لہذا ظاہری زیورات کے بارے میں بدرجہ اولٰی ممانعت ہوگی۔
فصل سوم
حیض، استحاضہ اور نفاس کے مسائل
1- حیض اور اس کے مسائل:
حیض:
لغت میں سلان (بہنے) کو حیض کہتے ہیں، شریعت کی اصطلاح مین حیض اس خون کوکہتے ہیں جو عورت کے رحم (بچہ دانی) کے اندر سےمتعینہ اوقات مین بغیر کسی بیماری یا زخم کے نکلتا ہے۔ اس چیز کو اللہ تعالی نے تمام بنات آدم کے حق میں مقدر کردیا ہے، اسے رحم مادر کے اندر پیدا کرکے اثناء حمل بچہ کے لئے غذا کابندوبست کیا ہے، پھر یہی خون ولادت کے بعد دودھ کی شکل میں تبدیل ہوجاتا ہے، جب عورت حالت حمل مین نہیں ہوتی یا بچہ کو دودھ پلانے والی نہیں ہوتی تو اس خون کا کوئ مصرف نہیں رہ جاتا ہے، لہذا متعینہ اوقات میں خارج ہوجاتا ہےو اسی کو ماہواری کہا جاتا ہے۔
*کس عمر مین حیض کا خون شورع ہوتا ہے؟
عموماً سب سے کم عمر جس میں عورت کو حیض کا خون آنا شروع ہوتا ہے نو (9) سال ہے، اور پچاس سال کی عمر تک باقی رہتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ. ” تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔“ چنانچہ یائسہ عورت وہ ہے جو پچاس سال کی عمر کوپہنچ چکی ہو، اور جن کوحیض آنا شروع نہیں ہوا ہے وہ نو سال سے کم عمر کی چھوٹی بچیاں ہیں۔
* حیض کے مسائل:
الف- حالت حیض میں عورت کے فرج میں وطی (مجامعت) حرام ہے، دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذىً فَاعْتَزِلُوا النِّساءَ فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ. (البقرۃ : 222) ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وه پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔“ حائضہ عورت سے مجامعت کی حرمت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کہ خون آنا بند نہ ہوجائے اورعورت غسل (طہارت) سے فارغ نہ ہو جائے، فرمان الٰہی ہے: وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّـهُ ۚ۔ (البقرۃ: 222) ”تم حائضہ عورتون کے قریب نہ جاؤ جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وه پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے۔“ حیض والی عورت سے اس کا خاوند فرج میں مجامعت کے علاوہ ہر جائز شکل میں استمتاع کرسکتا ہے یعنی زن وشوئی کے تعلقات قائم کرسکتا ہےو دلیل صحیح مسلم کی روایت ہے جس مین رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں: اصنَعوا كلَّ شيءٍ إلا النِّكاحَ. یعنی ”سوائے مجامعت کے ہر کام کرو۔“ ب- حیض والی عورت مدت حیض میں نماز نہیں پڑھے گی اور روزہ نہیں رکھے گی، اس پر روزہ نماز دونوں ہی حرام ہیں، ان کی ادائگی حالت حیض میں صحیح نہیں ہوگی، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: أليس إذا حاضت المرأة لم تصل ولم تصم؟ ”کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حالت حیض میں ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے۔“ متفق علیہ، حیض سے پاک وصاف ہو جانے کے بعد عورت روزے کی قضا کرے گی اور نماز کی قضا نہیں کرے گی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: كنَّا نحيضُ على عهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ثمَّ نطهُرُ فيأمرنا بقضاءِ الصِّيامِ ولا يأمرُنا بقضاءِ الصَّلاةِ. ”عہد رسول اللہ ﷺ میں ہم حالت حیض مین ہوتے تھے تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا ، نماز کی قضاکا ہمیں حکم نہین دیا جاتا تھا۔“ (متفق علیہ)
نماز روزہ مین فرق کی وجہ –واللہ اعلم- یہ ہو سکتی ہے کہ نماز ایک ایسا عمل ہے جس کی بار بار تکرار ہوتی ہے، لہذا مشقت وپریشانی کے سبب اس کی قضا کا حکم نہین دیا گیا۔ جبکہ روزہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے (یعنی سال میں صرف ایک مرتبہ اس کا وقت آتا ہے)۔
ج- حیض کی حالت میں عورت کا قرآن کریم بغیر کسی حائل (اوٹ) کے چھونا حرام ہے، دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ. ”اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔“ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو رسول اکرم ﷺ نے جو خط لکھاتھا اس مین یہ تھا: ((لا يمس المصحف إلا طاهر)) (نسائی وغیرہ) ”مصحف کو صرف پاک وصاف شخص ہی چھو سکتا ہے۔“ چونکہ اس حدیث کو تمام لوگوں نے قبولیت کا درجہ دیا ہے (یعنی تمام لوگوں نے اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے) اس لیے یہ حدیث متواتر کی مانند ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ائمہ اربعہ کا مذہب ہے کہ قرآن کریم کو صرف طاہر (پاک صاف) شخص ہی چھو سکتا ہے،
مصحف کو چھوئے بغیر حائضہ عورت کے قرآن کریم پڑھنے کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے، زیادہ اختیاط اسی میں ہے کہ صرف ضرورت کے وقت ایسا کرسکتی ہے، مثال کے طور پر بھول جانے کا خطرہ ہو۔ واللہ أعلم (یعنی اس طرح کی صورت حال میں قرآن چھوئے بغیر پڑھ سکتی ہے۔)
د- حالت حیض میں خانہ کعبہ کا طواف بھی حرام ہے کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب ان کو حیض آگیا تھا فرمایا تھا: ((افعلي ما يفعلُ الحاجُّ غيرَ أنْ لا تطوفي بالبيتِ حتى تَطْهُرِي)) ”حج کے تمام ارکان ادا کرو سوائے طواف کے، یہاں تک کہ پاک وصاف ہو جاؤ۔“ (متفق علیہ)
ھ- حائضہ عورت کا مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے،
حائضہ عورت کا مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے، دلیل امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی روایت کردہ حدیث ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ((إني لا أُحِلُّ المسجدَ لحائضٍ ولا جُنُبٍ)) ”حائضہ اور جنبی کے لئے میں مسجد کو جائز نہیں کرتا ہوں۔“ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے: ((إنَّ المسجدَ لا يَحِلُّ لجُنُبٍ ولا لحائضٍ)) ”حائضہ اور جنبی کے لئے مسجد حلال نہیں ہے۔“ البتہ ٹھہرے بغیر مسجد سے گزرنا اس کے لئے جائز ہے دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جس میں رسول اکرم ﷺ آپ سے چٹائی طلب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ((ناوليني الخُمرةَ من المسجدِ قالت فقلتُ : إني حائضٌ، فقال إنَّ حيضتَك ليست في يدِك)) ”مسجد سے مجھے چٹائی دیدو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ میں نے کہا: میں حیض سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ (منتقی (1/140) میں اس حدیث کو امام بخاری کے علاوہ تمام اصحاب کتب ستہ کی جانب منسوب کیا گیا ہے)۔
تہلیل (لا إلَهَ إلَّا الله) تکبیر (اللَّهُ أَكْبرُ) تسبیح (سبحانَ اللَّهِ) کہنے نیز دیگر مشروع ذکر واذکار اور دعاؤں کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح صبح وشام سوتے اور جاگتے وقت مشروع اوراد ووظائف کے پڑھنے, نىز تفسىر, فقہ, حدىث وغىره سےمتعلق علمی کتابوں کے پڑھنے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ہے۔
* فائدہ اول: حائضہ عورت سے خارج ہونے والے صفرہ یا کدورت (زرد یا مٹیالے رنگ کا مادہ) کاحکم: صفرہ: پیب کی مانند ایک قسم کا مادہ جس پر زردی غالب ہوتی ہے۔ کدرہ: مٹیالے رنگ کے گندے پانی کی مانند ایک مادہ۔ اگر ماہواری کے ایام میں یہ دونوں مادے عورت سے خارج ہوں تو انہین حیض ہی شمار کیا جائے گا، اس پر حیض کے تمام احکام لاگو ہوں گے، اگر ایام حیض کے علاوہ دیگر ایام میں یہ دونوں مادے خارج ہوں تو عورت انہیں کچھ بھی نہیں شمار کرے گی، بلکہ اپنے آپ کو پاک وصاف تصور کرے گی، دلیل حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں: ((كنَّا لا نعدُّ الكَدرةَ والصُّفرةَ بعدَ الطهرِ شيئًا)) ”ہم لوگ طہارت کے بعد زرد یا مٹیالے رنگ کے مادوں کو کچھ بھی نہیں شمار کرتے تھے۔“ اس حدیث کو امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے مگر ان کے یہاں ” بعدَ الطهرِ “ کالفظ نہیں ہے۔ محدثین کے نزدیک اس حدیث کو مرفوع حدیث کا حکم حاصل ہے، کیونکہ اسے رسول اللہ ﷺ کی حدیث تقریری (1) {(1) رسول اکرم ﷺ کی موجودگی میں کسی صحابی نے کوئی عمل کیا اور آپ نے اس پر سکوت فرمایا ہو، اس کو شرعی حجت کی حیثیت حاصل ہے۔ (مترجم)} کا درجہ حاصل ہے۔ مذکورہ حدیث کا یہی حکم نکالا کہ زرد یا مٹیالے رنگ کا مادہ طاہرت (پاکیزگی) سے پہلے حیض شمار کیا جائے گا، اس پر حیض کے احکامات جاری ہوں گے۔
* فائدہ دوم:
عورت کس طرح حیض کی انتہاء کومعلوم کر سکتی ہے؟
حیض کی انتہاء کو خون کے بند ہونے سے معلوم کیا جاسکتا ہے، اس کی دو میں سے ایک علامت ہوگی: پہلی علامت: سفید پانی کا خارج ہونا۔ حیض کے بعد چونے کے پانی سے مشابہ ایک سفید پانی خارج ہوتا ہے، سفید کےعلاوہ کبھی دوسرے رنگ کا بھی ہوتا ہے، عورتوں کے حالات کے اختلاف سے اس پانی کا رنگ بھی مختلف ہوتا ہے۔
دوسری علامت: خشکی۔ شرمگاہ میں کپڑے کا ٹکڑا یا روئی ڈال کر نکالے تو روئی یا کپڑے کا ٹکڑا بالکل خشک نکلے، اس پر نہ تو خون کا اثر ہو اورنہ ہی زرد مٹیالے رنگ کے مادے کا۔
* حیض کا خون بند ہونے کے بعد عورت کیا کرے؟
حیض یا نفاس والی عورت کا خون اگر سورج غروب ہونے سے پہلے بند ہوجائے: خون بند ہونے کے بعد عورت پر غسل لازم ہے،چنانچہ طہارت کی نیت سے اپنے پورے بدن پر پانی بہائے گی، کیونکہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ((فإذا أقبَلتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصلاةَ ، وإذا أدْبَرَتْ فاغْتَسِلي وَ صَلّي)) ”جب تمہیں حیض آجائے تو نماز ترک کردو، اور جب بند ہوجائے تو غسل کرو اور نماز پڑھو۔“
غسل کا طریقہ: حدث (ناپاکی) دور کرنے کی یا نماز وغیرہ کے لیے طہارت (پاکی) حاصل کرنے کی نیت کرے، پھر بسم اللہ کہہ کر اپنے پورے جسم پر پانی بہائے، بالوں کی جڑوں کو بھی تر کرے، اگر بال کی چوٹیاں بندھی ہوئی ہوں تو ان کا کھولنا ضروری نہیں ہے، بس انہیں پانی سے تر کرلے گی، اگر پانی کے ساتھ بیری کی پتیاں، یا نظافت حاصل کرنے کی کوئی چیز استعمال کرلے تو بہتر ہے، غسل سے فراغت کے بعد شرم گاہ کے اندر خوشبو میں بھگوئی ہوئی روئی رکھنا مستحب ہے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو اس کا حکم دیا تھا، جیسا کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔
اہم تنبیہ: حیض یا نفاس والی عورت کا خون اگر سورج غروب ہونے سے پہلے بند ہوجائے اور عورت حیض یا نفاس سے پاک ہو جائے تو اس دن کی ظہر اور عصر دونوں نمازوں کا ادا کرنا اس پر لازم ہوگا، اور طلوع فجر سے پہلے طہارت حاصل کرتی ہے تو اس رات کی مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کا ادا کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ حالت عذر میں دوسری نماز کا وقت پہلی نماز کے وقت کو بھی شامل ہوتاہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے فتاویٰ (22/434) میں لکھتے ہیں: ”اسی وجہ سے جمہور علماء جیسے امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا یہ مذہب ہے کہ حائضہ عورت اگر دن کے آخری حصہ میں پاک ہوتی ہے تو ظہر اور عصر دونوں نمازیں اداکرے گی، اور اگر رات کے آخری حصہ میں پاک ہوتی ہے تو مغرب وعشاء دونوں نمازیں ادا کري گی، یہی قول حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے، اس لئے کہ حالت عذر میں وقت دو نمازوں کے درمیان مشترک ہوتا ہے، لہذا اگر دن کے آخری حصہ میں پاک ہوتی ہے تو ظہر کا وقت ابھی باقی ہے، چنانچہ عصر کی نماز سے پہلے ظہر کی نماز ادا کرے گی، اور اگر رات کے آخری حصہ میں پاک ہوتی ہے تو حالت عذر میں مغرب کا وقت باقی ہے، چنانچہ عشاء کی نماز سے پہلے مغرب کی نماز ادا کرے گی۔“
اگر کسی نماز کا وقت داخل خو گیا اور اس نماز کی ادائگی سے پہلے ہی عورت کو حیض یا نفاس کا خون آگیا تو راجح قول کے مطابق اس نماز کی قضا اس پر لازم نہیں ہے جس کے اول وقت کو اس نے پالیا تھا۔ مگر ا س نماز کو ادا کرنے سے پہلے ہی وہ حیض یا نفاص میں مبتلا ہو گئی تھی،
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (23/335) میں اس مسئلہ کے متعلق لکھتے ہیں: ”دلائل کے اعتبار سے سب سے راجح امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کا مذہب ہے، یعنی عورت پر کچھ بھی لازم نہیں ہے، کیونکہ قضا کا وجوب ایک نئے حکم سے ثابت ہوگا، اور یہاں پر کوئی ایسا حکم نہیں ہے جو عورت پر قضا کو لازم قرار دیتا ہو، اور اس عورت نے جائز حد تک تاخیر کی ہے، لہٰذا (اس تاخیر کی بناء پر) اس عورت کو سستی اور تساہلی سے نہیں متصف کیا جائے گا، سونے اور بھول جانے والا بھی اگرچہ سست اور متساہل نہیں قرار دیا جائے گا لیکن یاد آجانے کے بعد جس نماز کو وہ ادا کرے گا اس کی وہ نماز قضا نہیں شمار کی جائے گی، بلکہ اس کے حق میں نماز کا وقت یہی ہے۔“
2- استحاضہ اور اس کے مسائل:
استحاضہ کے مسائل:
استحاضہ: مقررہ وقت کے علاوہ دیگر ایام میں عاذل نامی رگ سے خون کا بکثرت خارج ہونا استحاضہ کہلاتا ہے، استحاضہ میں مبتلا عورت کا معاملہ قدرے پیچیدہ ہے، کیونکہ حیض اور استحاضہ کے خون میں بڑی حد تک مشابہت پائی جاتی ہے۔
اگر عورت سے بالاستمرار یا بیشتر اوقات میں خون خارج ہوتا ہے تو کس خون کو وہ حیض شمار کرے گی اور کس کو استحاضہ مان کر نماز روزہ ترک نہین کرے گی، اس لئے کہ استحاضہ والی عورت کو طاہرہ (پاک) عورت کا حکم حاصل ہے، اس کی معرفت حاصل کرنے کے لئے یہ جاننا ہوگا کہ
مستحاضہ (جس کو استحاضہ آتا ہے) کی تین حالتیں ہوتی ہیں: پہلی حالت: استحاضہ میں مبتلا ہونے سے پہلے عورت اپنی ماہواری کے ایام سے اچھی طرح واقف تھی بایں طور کہ استحاضہ سے پہلے مہینہ کے شروع یا درمیان میں پانچ دن یا آٹھ دن علی سبیل المثال اس کوحیض آتا تھا، چنانچہ اس کو اپنے ایام حیض کو تعداد اور وقت دونوں معلوم تھے، اس طرح کی عورت اپنی عادت کے مطابق (انہی ایام اور اوقات میں) نماز روزہ ترک کردے گی، اس پر حیض کے تمام احکامات عائد ہوں گے، ان ایام کو مکمل کرنے کے بعد غسل کرے گی اور غسل کرکے نماز شروع کردے گی، باقی خون استحاضہ کا خون سمجھا جائے گا، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ((امْكُثي قدرَ ما كانت تَحْبِسُكِ حيضتكِ، ثم اغتسلي وصلي)) ”اتنے دن تم ٹھری رہو، جتنے دن تم کو تمہارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کر کے نماز ادا کرو۔“ (مسلم) اور آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ((إنما ذلك عِرْقٌ، وليسَ بِحَيْضٍ، فإذا أقبَلتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصلاةَ، وإذا أدْبَرَتْ فاغسلي عنْكِ الدَّمَ ثم صلي)) (متفق علیہ) ”یہ ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب تمہارا حیض آجائے تو نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو اپنی شرمگاہ سے خون دھولو اور پھر نماز پڑھو۔“ دوسری حالت: اگر عورت کو اپنے حیض (ماہواری) کے ایام معلوم نہ ہوں لیکن اس کے خون امتیازی اوصاف کے حامل ہوتے ہوں، بعض خون مین حیض کے اوصاف پائے جاتے ہوں، بایں طور کہ سیاہ رنگ کا یا گاڑھا یا بدبودار ہو، اور بقیہ خون میں حیض کے اوصاف نہ پائے جاتے ہوں، بایں طور کہ سرخ رنگ کا ہو، یا بدبودار اور گاڑھا نہ ہو، اس طرح کی صورت حال میں جس خون کے اندر حیض کی صفت پائی جائے گی اسے حیض شمار کیا جائے گا، لہذا عورت اس مدت میں اپنے آپ کو حائضہ تصور کرکے نماز روزہ ترک کردے گی، اس کے علاوہ باقی خون کو استحاضہ کا خون شمار کیا جائے گا، جس خون میں حیض کی صفت پائی جائے گی اس کے بند ہونے پر غسل طہارت کرکے عورت نماز شروع کردے گی، اور اپنے آپ کو پاک وصاف تصور کرے گی، رسول اکرم ﷺ نے حضرت فاطمہ بن ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ((إذا كان دمُ الحيضةِ فإنه أسودُ يعرفُ فإذا كان ذلك فأمسِكي عنِ الصلاةِ فإذا كان الآخرُ فتوضَّئي وصلِّي)) ”اگر حیض کا خون ہوگا تو وہ سیاہ معروف ہوگا، لہذا تم اس خون میں نماز سے رک جاؤ، اور اگر اس کے برعکس دوسری طرح کا ہو تو تم وضو کرکے نماز پڑھو۔“ (اس حدیث کو امام ابو داؤد اور امام نسائی رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔ اما م ابن حبان اور امام حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استحاضہ والی عورت خون کے اوصاف کا اعتبار کرکے حیض وعدم حیض کے درمیان تفریق کرے گی۔ تیسری حالت: یہ ہے کہ عورت کو اپنی ماہواری کے ایام کا پتا ہی نہ ہو یعنی پہلے سے اس کی کوئی عادت ہی نہ ہو، اور خون میں بھی کوئی ایسا وصف نہ پایا جاتا ہو دس کے ذریعے حیض اور عدم حیض کے درمیان تفریق کرسکتی ہو، تو وہ حیض کی اکثر مدت ہر مہینہ میں چھ یا سات دن حیض کا شمار کرے گی، کیونکہ یہی بیشتر عورتوں کی عادت ہوتی ہے، آپ ﷺ نے حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ((إنَّما هيَ رَكْضةٌ من الشَّيطانِ، فتحيَّضي ستَّةَ أيَّامٍ، أو سبعةَ أيَّامٍ، ثمَّ اغتسِلي، فإذا استَنقأتِ فصلِّي أربعةً وعشرينَ، أو ثلاثةً وعشرينَ، وصومي وصلِّي، فإنَّ ذلِكَ يجزئُك، وَكَذلِكَ فافعَلي كلَّ شَهْرٍ كما تحيضُ النِّساءُ)) ”یہ شیطان کی جانب سے ایک دھکا ہوتا ہے لہذا چھ دن یا سات دن حیض کا ہے، اس کے بعد غسل کرو اور پاک صاف ہوجاؤ تو 24 یا 23 دن نماز پڑھو، روزہ رکھو اور نوافل پڑھو (یعنی اپنے آپ کو پاک تصور کرو) بلاشبہ یہی تمہارے لئے کافی ہے، ایسے ہی (ہر ماہ) تم کرو جس طرح عام عورتیں حیض میں ہوتی ہیں۔“ (اس حدیث کو ائمہ خمسہ یعنی امام احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی نے اس صحیح کہا ہے)
سابقہ کلام کا ماحصل یہ ہے کہ صاحب عادت اپنے معاملہ کو اپنی عادت پر محمول کرے گی، (یعنی اپنی سابقہ عادت کے ذریعہ حیض وعدم حیض میں تفریق کرے گی) صاحب تمیز عورت حیض واستحاضہ کے خون میں تفریق وتمیز پر اعتماد کرتے ہوئے عمل کرے گی، اور ایسی عورت جو نہ تو صاحب عادت ہو اور نہ صاحب تمیز ہو وہ چھ یا سات دن (ہر مہینہ میں) حیض شمار کرے گی، اسی طرح مستحاضہ عورت کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے وارد تینوں قسم کی احادیث میں تطبیق ہوجاتی ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں: ”استحاضہ کی جو علامت بیان کی جاتی ہیں وہ چھ ہیں: یا تو عادت ہوگی اور یہی قوی ترین علامت ہے، کیونکہ اصلاً حیض کا پایا جانا ہے نہ کہ کسی دوسری چیز کاو یا تمیز ہوگی کیونکہ سیاہ گاڑھے بدبودار خون کا حیض ہونا زیادہ اقرب ہے بہ نسبت سرخ خون کے، یا عورتوں کی جو عموماً عادت ہوتی ہے اس کا اعتبار ہوگا، کیونکہ اصل یہ ہے کہ کسی تنہا فرد کو اکثریت واغلبیت کے ساتھ شامل کیا جائے، یہ تونوں علامات ایسی ہیں جن کا احادیث اور قیاس وتجربہ سے پتہ چلتا ہے۔“ اس کے بعد موصوف رحمہ اللہ نے باقی تین علامتون کو بیان کیا ہے اور اخیر میں لکھتے ہیں: ”اس سلسلے میں صحیح ترین قول یہی ہے کہ انہی علامتوں کا اعتبار کیا جائے جو احادیث میں وارد ہوئی ہیں، ان کے علاوہ دیگر علامتوں کو لغو قرار دیا جائے گا۔“
* مستحاضہ کو طاہر ماننے کی صورت میں کیا کرنا ہوگا؟
1- سابقہ تفصیلات کے مطابق اعتبار کئے گئے حیض کے خاتمہ پر عورت پر غسل (طہارت) واجب ہوگا۔
2 خارج ہونے والے خون کی صفائی کے لئے ہر نماز کے وقت اپنی شرمگاہ کو دھوئے گی اور اس جگہ روئی وغیرہ رکھ کر بہنے والے خون کو روکے گی، اور روئی کو گرنے سے بچانے کے لئے کوئی چیز (لنگوٹ وغیرہ) باند لے گی، پھر نماز کے وقت وضو کرے گی، کیونکہ مستحاضہ عورت کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((تَدَعُ الصلاةَ أيامَ أقْرائِهاثم تَغتسلُ وتتوضأُ عندَ كلِّ صلاةٍ)) ”حیض کے ایام میں نماز ترک کردے گی، پھر غسل (طہارت) کرے گی اور ہر نماز کے وقت وضو کرے گی۔“ (اس حدیث کو ابو داؤدو ابن ماجہ او رترمذی رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے) مزىد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((أنعتُ لکِ الکُرسُفَ تحْشِينَ بہ المکانَ)) ”کرسف رکھنے کا طریقہ تم کو بتاتا ہوں، اس کے ذریعے اس جگہ (شرمگاہ) کو بھر دو۔“ کرسف: روئی کو کہتے ہیں، اور آج کےزمانے میں پائے جانے والے پیڈز (Pads) جیسے کیئر فری (care free) کا استعمال بھی ممکن ہے۔
3- نفاس اور اس کے مسائل:
نفاس کی تعریف اور اس کی مدت
نفاس: اس خون کو کہتے ہیں جو رحم مادر سے ولادت کے وقت اور ولادت کے بعد خارج ہوتا ہے، در حقیقیت وہ حمل کے وقت رحم میں رکے ہوئے خون کا بچا ہوا حصہ ہوتا ہے، ولادت کے بعد آہستہ آہستہ یہ بچا ہوا خون خارج ہوتا ہے، ولادت سے پہلے جو خون آثار ولادت کے ساتھ دکھلائی دیتا ہے وہ نفاس ہی کا خون ہوتا ہے۔ فقہائے کرام نے ولادت سے پہلے دو یا تین دن کی قید لگائی ہے،عموماً نفاس کی ابتدا ولادت کے ساتھ ہوتی ہےو اور (ولادت کے سلسلے میں) اس ولادت کا اعتبار ہوگا جس مین انسان کی تخلیق نمایاں ہو جاتی ہے، اقل مدت جس میں انسان کی تخلیق واضح ہو جاتی ہے 81 دن اور کثر مدت تین مہینے ہیں، اگر اس مدت سے پہلے کوئئ چیز عورت سے ساقط ہوتی ہے اور اس کے ساتھ خون بھی آجاتا ہے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دی جائے گی، اس خون کی وجہ سے وہ نماز روزہ ترک نہیں کرے گی، کیونکہ یہ فاسد خون ہے، لہذا اس عورت کا حکم وہی ہوگا جو ایک مستحاضہ عورت کا ہوتا ہے۔
عموماً نفاس کی اکثر مدت ابتدائے ولادت یا اس سے دو تین دن پہلے (جیسے کہ بیان کیاجاچکا ہے) سے چالیس دن ہے، دلیل حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے فرماتی ہیں: ((كانتِ النُفساءُ تَجْلِسُ على عهدِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أربعين يومًا)) ”نفاس والی عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چالیس دن (نفاس میں) بیٹھا کرتی تھیں۔“ (ترمذی وغیرہ)
امام ترمذی رحمہ اللہ وغیرہ کے بیان کے مطابق اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔ اگر چالیس دن سے پہلے عورت پاک ہو جائے بایں طور کہ خون آنا بند ہوجائے تو وہ غسل (طہارت) کرکے نماز شروع کردے گی، اس کی اقل مدت کی کوئی حد نہیں ہے، کیونکہ اس سلسلہ میں کو ئی حد وارد نہیں ہوئی ہے، اوراگر چالیس دن مکمل ہوجائیں اور خون آنا بند نہ ہو تو اگر یہ اس کے حیض کی سابقہ عادت کے موافق ہو تو اسے حیض مانا جائے گا، اور اگر حیض کی سابقہ عادت کے مطابق نہ ہو اور خون کا سلسلہ برابر جاری ہو تو اسے استحاضہ کا خون تصور کا جائے گا، اس خون کی وجہ سے چالیس دن کے بعد عبادت ترک نہیں کرے گی، اگر چالیس دن سے بڑھ جائے اور خون کا سلسلہ برابر جاری بھی نہ ہو اورحیض کی سابقہ عادت کے مطابق بھی نہ ہو تواس میں علماء کا اختلاف ہے۔
* نفاس کے احکام:
نفاس کے بھی وہی احکام ہیں جو حیض کے ہیں، ان کو ذیل میں بیان کیا جارہا ہے:
1- نفاس والی عورت سے وطی (جماع) حرام ہےجس طرح حائضہ سے حرام ہے، وطی کے علاوہ ہر طرح سے استمتاع (لطف اندوز ہونا) مباح ہے۔
2- نفاس والی عورت کا حائضہ کی طرح نماز پڑھنا، روزہ رکھنا اور خانہ کعبہ کا طواف کرنا حرام ہے۔
3- قرآن کریم کا چھونا یا پڑھنا حرام ہے، اگر بھول جانے کا خدشہ لاحق ہوتو حائضہ کی طرح مصحف کو چھوئے بغیر قرآن کریم پڑھ سکتی ہے۔
4- نفاس کی وجہ سے چھوٹے ہوئے فرض روزوں کی قضا حائضہ کی طرح نفاس والی عورت پر بھی واجب ہے۔
5- نفاس کے خاتمہ پر غسل (طہارت) واجب ہے جس طرح حائضہ پر حیض کے بعد غسل (طہارت) واجب ہے۔ دلائل: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ((كانتِ النُفساءُ تَجْلِسُ على عهدِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أربعين يومًا)) ”نفاس والی عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چالیس دن (نفاس میں) بیٹھا کرتی تھیں۔“ (مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)
شیخ مجد ابن تیمیہ رحمہ اللہ منتقیٰ (1/184) میں لکھتے ہیں: ”میں کہتا ہوں حدیث کے معنیٰ ہیں نفاس والی عورت کو چالیس (دن) رات تک بیٹھنے کاحکم دیا جاتا تھا۔ یہ معنیٰ اس لئي کہ حدیث جھوٹی نہ ہو، کیونکہ کسی بھی ایک زمانہ کی عورتوں کا نفاس یا حیض میں متفق ہونا ناممکن ہے۔“
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کوئی چالیس (دن) رات تک نفاس میں بیٹھتی تھیں، نبی کریم ﷺ حالت نفاس کی (چھوٹی ہوئی) نمازون کی قضا کا انہیں حکم نہیں دیتے تھے۔“ (ابو داؤد)
نفاس کا خون اگر چالیس دن سے پہلے بند ہوجائے:
فائدہ اول: نفاس کا خون اگر چالیس دن سے پہلے بند ہوجاتا ہے اور عورت (طہارت کا ) غسل کرکے نماز شروع کردیتی ہے اس کے بعد چالیس دن سے پہلے دوبارہ خون آجاتا ہے تو صحیح مسلک یہ ہے کہ اسے نفاس ہی کا خون سمجھا جائے گا، درمیان می حاصل ہونے والے طہر (پاکی کے ایام) مین اس نے جو روزے رکھے تھے وہ صحیح ہونگے ان کی قضا کی ضرورت نہین ہوگی۔ ملاحظہ ہو: مجموع فتاویٰ الشیخ محمد بن ابراہیم (2/102) (1) }آپ کی عبارت یوں ہے ”وتقضي الصوم دون الصلاۃ“ (یعنی روزے کی قضا کرے گی نہ کہ نماز کی) یہ مجمل کلام ہے، قضا کیے حانے والے روزہ کی وضاحت اس میں نہیں ہے، آیا وہ روزہ مراد ہے جو اس نے درمیانی طہر مین رکھے تھے یا وہ روزہ ہے جو اس نے دوبارہ خون آجانے کے بعد ترک کیا تھا۔ اور شاید یہی روزہ مقصود ہے۔{ فتاویٰ الشیخ عبدالعزیز بن باز، مطبوعہ در مجلّہ الدعوۃ (1/44) حاشیہ ابن قاسم علی شرخ الزاد (1/405) الدماء الطبیعۃ للنساء (عورتون کے طبعی خون) مؤلفہ محمد بن صالح العثيمين (ص 55-56) الفتاویٰ السعدیۃ (ص 137)
نفاس کے خون کی علت ولادت ہے، استحاضہ کا خون بیماری وغیرہ کی وجہ سے ایک عارضی اور وقتی خون ہے، اور حیض کا خون یہی اصلی خون ہے۔
فائدہ دوم شیخ عبد الرحمن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سابقہ تمام تفصیلت سے واضح ہوا کہ نفاس کے خون کی علت ولادت ہےو استحاضہ کا خون بیماری وغیرہ کی وجہ سے ایک عارضی اور وقتی خون ہے، اور حیض کا خون یہی اصلی خون ہے۔ واللہ أعلم۔“ (ملاحظہ ہو: کتاب ارشاد اولی الابصار والالباب ص: 24)
مانع حیض دواؤں کا استعمال: مانع حیض دواؤں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ صحت کے لئے مضر نہ ہوں، دوا استعمال کرنے کے بعد اگر حیض نہین آتا توعورت نماز پڑھے گی، روزہ رکھے گی، طواف بھی کرے گی، اس کے اعمال وعبادات اسی طرح صحیح اور درست ہوں گے جس طرح ایک پاک وطاہر عورت کے صحیح اور درست ہوتے ہیں۔
اسقاط حمل کا حکم: اللہ تعالی کے حکم سےرحم میں جو حمل قرار پاتا ہے شرعی نقطئہ نظر سے ایک مسلمان عورت اس کی امین اور محافظ ہوتی ہے، لہذا اسے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے، اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: ((وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ)) (البقرۃ: 228) ”انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیاہے اسے وہ چھپائیں اگر انہیں اللہ تعالی اور قیات پر ایمان ہے۔“
کسی بھی طریقہ اور وسیلہ سے اسے ساقط کرنے یا اس سے نجات حاصل کرنے کی خاطر حیلہ بازی سے کام نہ لے، اگر حالت حمل میں روزہ اس کے لئے باعث مشقتت یا مضر ثابت ہو رہا ہے تو اللہ تعالی نےرمضان کے مہینے میں اسے افظار کی رخصت اور اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسقاط حمل کا جو رواج چل پڑا ہے در اصل یہ ایک حرام کام ہے، اگر حمل میں روح پڑگئی ہے اور اسقاط کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی تو یہ ایک نفس کے قتل کے مترادف ہے جس کے ناحق قتل کو اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے، اس پر فوجداری قانون کے مطابق احکامات لاگو ہوں گے۔ مقدار دیت (خون بہا) کی تفصیلات کی روشنی میں اس پر دیت واجب ہوگی، بعض ائمہ کے قول کے مطابق کفارہ بھی واجب ہوگا، یعنی ایک مومن گردن (غلام) آزاد کرے، اگر مومن گردن نہ پائے تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔ بعض اہل علم نے اس عمل کو موؤدہ صغریٰ (چھوٹے پیمانہ پر زندہ درگور کرنا) مانا ہے، شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ اپنے مجموع فتاویٰ (11/151) میں لکھتے ہیں: ”جب تک حمل کی موت متحقق (ثابت) نہ ہو جائے اس کو ساقط کرنا جائز نہیں ہے،ہاں اگر موت متحقق ہوگئی ہو تو جائز ہے۔“
سعودی عرب کے کبار علماء بورڈ نے اپنے اجلاس نمبر: 140، بتاریخ 20/6/1407 ھ میں مندرجہ ذیل قرارداد پاس کی ہے: 1- کسی بھی مرحلہ میں اسقاط حمل جائز نہیں ہے، البتہ شرعی وجہ جواز پائے جانے کی صورت میں وہ بھی نہایت محدود دائرہ میں حمل کا اسقاط جائز ہے۔ 2- اگر حمل ابتدائی مرحلے میں ہو یعنی چالیس دن کے اندر ہو اور اس مدت میں اسقاط کا سبب اولا کی تعلیم وتربیت کی پریشانی اور مشقت کا خوف ہو، یا ان کے معاش اور تعلیم وتربیت کے اخراجات سے عجز وتہی دامنی کا خوف یا ان کے مستقبل کے خراب ہونے کا خدشہ ہو، یا زوجین اپنے موجودہ بال بچوں پر اکتفا کرنا چاہتے ہوں تو ان تمام صورتوں میں اسقاط حمل جائز نہیں ہے۔ 3- اگر حمل خون کا یا گوشت کا لوتھڑا ہو، اس صورت میں بھی اسقاط حمل جائز نہیں ہے، البتہ کوئی قابل اعتماد طبی کمیٹی یہ فیصلہ کردے کہ حمل کا برقرار رہنا ماں کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے، بایں طور کہ حمل کے باقی رہنے میں اس کی موت کا اندیشہ ہو تو خطرہ کے ازالہ کے لئے تمام وسائل وذرائع کو بروئے کار لانے (اور اس میں ناکامی) کے بعد اسقاط حمل جائز ہے۔ 4- تیسرے مرحلے کے بعد یعنی چار مہینے مکمل ہو جانے کے بعد حمل کا اسقاط بالکل حرام ہے، البتہ قابل اعتماد اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم یہ فیصلہ دیدے کہ جنین کا ماں کے پیٹ میں برقرار رہنا اس کی موت کا سبب بن سکتا ہے تواس کی زندگی بچانے کے لئے تمام وسائل وذرائع اختیار کرنے کے بعد (ناکامی کی صورت میں) اسقاط حمل جائز ہے۔ مذکورہ شرائط کے ساتھ اسقاط حمل کے اقدام کو جو اجازت دی گئی ہے وہ محض دو ضرر میں سے بڑے ضرر کو دور کرنے، اور دو مصلحتوں میں سے بڑی مصلحت کو حاصل کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ اجلاس مذکورہ قرار داد کو پاس کرتے ہوئے اللہ تعالی کا تقویٰ اور اس معاملہ میں کافی احتیاط اور تثبت اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے، اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے۔ وصلی اللہ علی نبينا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔
کتاب ”الدماء الطبيعۃ للنساء“ (عورتوں کے طبعی خون) مؤلفہ شیخ محمد بن العثيمين میں مذکور ہے: ”اسقاط حمل سے اگر حمل ضائع کرنا مقصود ہے تو یہ عمل روح پھونک دیے جانے کے بعد بلاشک وشبہ حرام ہے، کیونکہ یہ ایک حرام کردہ نفس کا ناحق قلت ہے جو کتاب وسنت اور اجماع سے حرام ہے۔“ (ص:60)
امام ابن الجوزی اپنی کتاب ”أحکام النساء“ (ص 108-109) میں لکھتے ہیں: ”جب نکاح کا مقصد طلب اولاد ہے اور ہر نطفہ سے اولاد کا ہونا ضروری نہیں ہے، لہٰذا حمل قرار پانے کے بعد مقصد حاصل ہو جاتا ہے، اس لئے قصداً حمل کا اسقاط مطلوبہ حکمت کی مخالفت ہے، ہاں اگر حمل ابتدائی مرحلے میں ہو تو روح ڈالے جانے سے پہلے اس کا اسقاط گناہ کبیرہ ہے، کیونکہ وہ بھی آہستہ آہستہ بتدریج کمال وتمام کی جانب بڑھ رہا تھا، البتہ اس صورت میں بہ نسبت جان پڑجانے کے بعد اسقاط حمل سے کم گناہ ہے کیونکہ جان پڑجانے کے بعد بالقصد ایک مومن کی جان لینے کی مانند ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ، بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ)) (سورۃ التکویر: 8-9) ”جب زندہ گاری ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائي گا کہ کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی۔“ انتهى
لہٰذا ایک مسلمان عورت کو اللہ تعالٰی سے ڈرنا چاہیے اور کسی بھی مقصد کے پیش نظر اس جرم کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے، اور اس طرح کے گمراہ کن پروپیگنڈوں اور ناروا رسم ورواج سے جن کی بنیاد نہ تو عقل پر ہے اور نہ دین پرفریب نہیں کھانا چاہئے۔
فصل جہارم
لباس اور پردے کے مسائل
الف- مسلم خاتون کا شرعی لباس اور اس کے اوصاف:
1- ایک مسلمان عورت کے لباس کا کامل ہونا ضروری ہے جو نامحرم مردوں سے اس کے پورے جسم کو مکمل پردے میں چھپا کر رکھے، اور محرم لوگوں کے سامنے جسم کے صرف انہیں حصوں کو ظاہر کر سکتی ہے جن کے ظاہر کرنے کا عموماً رواج پایا جاتا ہے، یعنی وہ ان کے سامنے صرف اپنے چہرے، اپنی دونوں ہتھیلیوں اور قدمون کو ظاہر کر سکتی ہے۔
2- لباس کا اس طرح ساتر ہونا ضروری ہے کہ جسم نظر نہ آئے، ایسا باریک نہ ہو کہ اس کے نیچے سے عورت کی جلد کا رنگ ظاہر ہو۔
3- ایسا تنگ اور چست نہ ہو کہ اس کے اعضاء کی ساخت نمایاں ہو، چنانچہ صحیح مسلم میں رسول اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((صنفانِ من أهلِ النارِ لم أرَهما . قومٌ معهم سياطٌ كأذنابِ البقرِ يضربون بها الناسَ. ونساءٌ كاسياتٌ عارياتٌ مائلاتٌ مميلاتٌ. رؤوسُهنَّ كأسنِمَةِ البختِ المائلةِ. لا يدخلْنَ الجنةَ ولا يجدْنَ ريحَها . وإن ريحَها ليوجد من مسيرةِ كذا وكذا)) ”جہنمیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جن کو میں نے دیکھا نہیں ہے، ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کے مانند کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے، دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی، مٹک مٹک کر، موندھوں اور کولہوں کو ہلا ہلا کر چلیں گی، ان کے سر اونٹ کے جھکے ہوئے کوہان کی طرح ہوں گے، وہ نہ تو جنت میں داخل ہونگی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے پائی جائے گی۔“ (مسلم) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (22/146) میں فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک ” كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ“ کی تفسیر یہ بھی بتلائی گئی ہے کہ غیر ساتر لباس پہنے ہوں گی، (بظاہر) وہ لباس پہنے ہوں گی لیکن حقیقتاً ننگی ہوں گی، مثال کے طور پر وہ خواتین جو ایسا باریک لباس استعمال کرتی ہیں جس سے ان کی جلد جھلکتی ہے، یا ایسا تنگ لباس پہنتی ہیں جو ان کے جسم کی ساخت اور جوڑ جوڑ یعنی پچھلے حصہ، بازؤوں وغیرہ کو ظاہر کرتا ہے، حالانکہ عورت کا لباس ایسا موٹا اور کشادہ ہونا چاہیے جو اس کے لیے (مکمل طور پر) ساتر ہو، اس کے جسم کاکوئی حصہ ظاہر نہ ہو اور نہ اس کے اعضاء کی ساخت نمایاں ہو۔“
4- لباس میں مردوں سے مشابہت نہ اختیار کرے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی اور ان کے طور طریقے کو اپنانے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ لباس میں مردوں سے مشابہت اختیار کرنے کی شکل یہ ہے کہ خواتین ایسے لباس اور کپڑے استعمال کریں اور پہنیں جو ہر معاشرہ کے اپنے عرف میں نوعیت اور صفت مین مردوں کے لئے مخصوص ہوں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (22/148-149 ، 155) میں لکھتے ہیں: ”مرد وزن کے لباس میں فرق کا انحصار اس امر پر ہے کہ کون سالباس مردوں کے لئے درست ہوسکتا ہے اور کس قسم کا لباس عورتوں کے حق میں مناسب ہو سکتا ہے، لہذا مرد جس چیز کے مامور ہیں اس کے مناسب لباس مردوں کا ہوگا، اور خواتین جس چیز کی مامور ہیں اس کے مطابق لباس عورتوں کا ہوگا، خواتین پردہ اور پوشیدگی میں رہنے کی مامور ہیں، نہ کہ بے پردگی اور کھلے طور پر رہنے کی مامور ہیں، یہی وجہ ہے کہ اذان، تلبیہ میں آواز بلند کرنا، صفا ومروہ پر چڑھنا اور حالت احرام میں مردوں کی طرح کپڑوں سے مجرد ہونا عورتوں کے لئے مشروع نہیں ہے۔ (حالت احرام میں) مردوں کو سر کھلا رکھنے اور معتاد لباس نہ پہننے کا حکم دیا گیا ہے، معتاد لباس کا مطلب یہ ہے ک ایسے کپڑے جو انسانی جسم کے اعضاء کی ساخت کے مطابق سلے گئے ہوں، لہذا مرد نہ تو قمیص پہن سکتے ہیں اور نہ پائجامہ اور نہ ہی برنس (ایسا لباس جس میں سر کو ڈھانکنے کے لئے ٹوپی بھی لگی ہوئی ہو) اور نہ ہی موزے۔“ مزید لکھتے ہیں: ”لیکن عورت کو کسی لباس سے منع نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ اسے پردہ اور حجاب کا پابند بنایا گیا ہے، لہذا اس کے لئے کوئی ایسی چیز مشروع کی گئی ہے جو حجاب اور پردہ کے مخالف ہو، ہاں نقاب لگانے اور دستانہ پہننے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ ایسا لباس ہے جو عضو کی ساخت کے مطابق بنایا گیا ہے اور عورت کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔“ اس کے بعد یہ ذکر کرتے ہوئے کہ محرم عورت اپنے چہرہ کو مردوں سے نقاب کے علاوہ کسی دوسری چیز سے چھپائے رکھے گی، اخیر میں لکھتے ہیں: ”جب یہ بات واضح ہوگئی کہ مردوں اور عورتوں کے لباس میں فرق ضروری ہے جس کے ذریعہ مرد وزن میں تمیز کی جاسکے، اور یہ کہ عورتوں کے لباس میں اتنا حجاب اور پردہ ہو کہ اس سے مقصود حاصل ہوجائے تواس باب میں اصل بات بھی واضح ہوگئی اور معلوم ہوگیا کہ ایسا لباس جس کو غالباً مرد ہی پہنتے ہیں وہ عورت کے لئے ممنوع ہوگا۔“ آگے مزید لکھتے ہیں: ”لباس میں بے پردگی اور مردوں سے مشابہت دونوں ہی جمع ہو جائیں تو دونوں اعتابر سے وہ لباس خواتین کے حق میں ممنوع ہوگا۔“
5- لباس میں ایسی زیب وزینت نہ ہو کہ گھر سے باہر نکلتے وقت عورت مردوں کو توجہ کامرکز بن جائے، اور اس کی وجہ سے اس کا شمار اجنبی مردوں کے سامنے اپنی زیب وزینت کا اظہار کرنے والی بے حیا عورتوں میں نہ ہو۔
ب- حجاب (پردہ):
حجاب کے معنی ہیں عورت نامحرم لوگوں سے اپنے پورے جسم کو پردے میں رکھے، اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلاَّ مَا ظَهَرَ مِنْها وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبائِهِنَّ أَوْ آباءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنائِهِنَّ أَوْ أَبْناءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوانِهِنَّ. (النور: 31) ”اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے“ اور ارشاد ربانی ہے: وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ. (الأحزاب: 53) ”جب تم نبی (ﷺ) کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔“ (آیت میں) حجاب سے مراد ایسی دیوار یا دروازہ یا لباس ہے جو عورت کو پردے میں رکھے، آیت اگرچہ ازواج مطہرات کے حق میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کا حکم تمام مومنات کو عام ہے کیونکہ اللہ تعالی اس کی علت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ. (الأحزاب: 53) ”تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے۔“ یہ ایک عام علت ہے، لہذا علت کا عموم حکم کے عموم کی دلیل ہے۔ ارشاد ربانی ہے: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ. (الأحزاب: 59) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں“
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (22/110-111) مین رقم طراز ہیں: ”(آیت کریمہ میں وارد لفظ) ”حجاب“ کے معنیٰ ہیں دوہری چادر جس کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر اہل علم ”رداء“ (چادر) اور عوام ”ازار“ کہتے ہیں، حقیقتاً جلباب اس بڑی چادر کو کہتے ہیں جو سر سمیت عورت کے پوري بدن کو ڈھانپ لے۔ ابو عبیدہ وغیرہ کا بیان ہے کہ اسے اپنے سر کے اوپر اس طرح ڈال لے گی کہ سوائے آنکھ کے جسم کاکوئی حصہ ظاہر نہ ہو، اسی قبیل سے نقاب بھی ہے۔“
نامحرم لوگوں کے سامنے عورت کا اپنے چہرہ کو چھپانا بھی ضروری ہے، سنت سے اس کے وجوب پر متعدد دلائل ہیں جن میں سے ایک دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بھی ہے، وہ فرماتی ہیں: ((كان الركبانُ يمرُّون بنا ونحنُ معَ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ مُحرماتٌ فإذا حاذَوا بنا سَدلت إحدانا جلبابَها من رأسِها على وجهِها وإذا جاوزونا كشفْناهُ)) (احمد، ابوداؤد ابن ماجہ) ”سواروں کا قافلہ ہم سے گزرتا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالت احرام میں ہوتے تھے، تو جب وہ ہمارے بالکل بالمقابل ہو جاتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنے جلباب (چادر) کو سر سے اپنے چہرہ پر ڈال لیتی اور جب وہ آگے بڑھ جاتے تو ہم اپنے چہروں کو کھول لیتے تھے۔“
نامحرم لوگوں کے سامنے چہرہ چھپانے کے وجوب پر کتاب وسنت میں بےشمار دلیلیں ہیں، اس سلسلے میں اپنی اسلامی بہنوں کو مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کا مشورہ دیتا ہوں: رسالۃ الحجاب واللباس فی الصلاۃ مؤلفہ: شیخ الاسلام ابن تیمیہ۔ رسالۃ الحجاب مؤلفہ: شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز۔ رسالۃ الصارم المشھور علی المفتونين بالسفور مؤلفہ: شیخ حمود بن عبد اللہ تویجری۔ رسالۃ الحجاب مؤلفہ: شیخ محمد بن صالح العثیمین۔ ان تمام کتابوں میں متعلقہ موضوع پر کافی وشافی بحث کی گئی ہے.
اسلامی بہنوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جن علماء نےچہرہ کو کھلا رکھنے کی اجازت دی ہے باوجود یکہ ان کا قول مرجوح ہے، انہوں نے اس اجازت کو شر وفساد سے امن وسلامتی کے ساتھ مقید کیا ہے، اور صورت حال یہ ہے کہ پورا معاشرہ فتنہ وفساد سے غیر محفوظ ہے، خصوصاً آج کے دور میں جبکہ خواتین اور مردوں میں دینی لگام باقی نہیں رہ گئی ہے، شرم وحیا کا فقدان ہوتا جارہا ہے، فتنہ وفساد کی دعوت دینے والوں کی کثرت ہے، شر وفساد کو ہوا دینے والے مختلف قسم کے زیورات سے اپنے چہروں کو آراستہ کرنے کی خواتین شوقین ہوتی جارہی ہیں۔ لہٰذا اسلامی بہنوں کو ان تمام امور سے پرہیز کرنا چاہیے اور پردے کا التزام کرنا چاہیے، ان شاء اللہ یہ انہیں ہر طرح کے فتنہ اور شر سے محفوظ ومامون رکھے گا، سلف وخلف میں سے کسی بھی معتبر عالم نے فتنوں کی شکار ان خواتین کے لیے ان امور کی قطعی اجازت نہیں دی ہے جن میں وہ گرفتار ہیں۔ بہت سی مسلمان عورتیں پردہ کے بارے میں نفاق سے کام لیتے ہوئے جب وہ کسی ایسی سوسائٹی میں ہوتی ہیں جہاں پردہ کا التزام کیا جاتا ہے تو پردہ کرتی ہیں، اور جب کسی ایسی سوسائٹی میں جاتی ہیں جہاں پڑدہ کا التزام نہیں کیا جاتا ہے تو پردہ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ اور بہت سی ایسی بھی ہیں جو عام جگہوں پر تو پردہ کرتی ہیں، مگر جب وہ دوکانوں یا اسپتالوں میں داخل ہوتی ہیں یا کسی جوہری (سنار) یا لیڈیز ٹیلر سے گفتگو کرتی ہیں تو اپنے چہروں اوربازؤوں کو اس طرح کھول دیتی ہیں گویا اپنے شوہروں یا اپنے محرم لوگوں کے پاس ہیں، ایسی خواتین کو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے، بیرون ملک سے آنیوالی بہت سی عورتوں کو جہازوں میں دیکھا جاتا ہے کہ وہ بے پردہ ہوتی ہیں اور اس ملک (سعودی عرب) کے کسی ایرپورٹ پر جہاز کے اترتے ہی نقاب اوڑھ لیتی ہیں گویا ان کی نظر میں پردے کا تعلق عادات اور رسم ورواج سے ہے یہ کوئی دینی حکم نہیں ہے۔
فصل پنجم
اسلامی بہنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پردہ انہیں ان زہر آلود نگاہوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے جو بیمار دلوں اور انسان نما کتوں سے صادر ہوتی ہیں اور ان سے ہیجان انگیز حرص وطمع کا ربط وتعلق کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ لہذا اسلامی بہنوں کو پردہ کا التزام کرنا چاہئے اور ان باطل پروپیگنڈوں پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہئے جو پردہ کی مخالفت میں یا پردہ کی اہمیت کم کرنےکے لئے جاتے ہیں، کیونکہ یہ عورتوں کے حق میں خیرخواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہیں، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَواتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلاً عَظِيماً. (النساء: 27) ”اور جو لوگ خواہشات نفس کے بیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس راہ راست سے بہت دور ہٹ جاؤ۔“ نماز سے متعلق عورتوں کے مخصوص مسائل
نماز سے متعلق
ہر مسلمان عورت پر پنجوقتہ نماز ان کے متعینہ اوقات مین شرائط، ارکان اور واجبات کی مکمل رعایت کرتے ہوئے پابندی کے ساتھ ادا کرنا لازم ہے، اللہ تعالی نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کوحکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللہ وَرَسُولَهُ. (الأحزاب: 33) ” اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔“ یہ حکم تمام مسلمان عورتوں کے لیے عام ہے۔ نماز اسلام کا دوسرا رکن اور دین کااہم ستون ہے،نماز کا ترک کرناایک ایسا کفریہ عمل ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے، نماز نہ پڑھنے والے مرد وزن کے نہ تو دین کا کوئی اعتبار ہے اور نہ ہی اسلام کا، عذر شرعی کے بغیر نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کرنا اس کو ضائع کرنا ہے۔ اللہ تعالی کاارشاد ہے: فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا إِلاَّ مَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً فَأُولئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ شَيْئاً.(مریم: 59-60) ”پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا، بجز ان کے جو توبہ کر لیں اور ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں۔ ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا سی بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔“
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ائمہ تفسیر کی ایک جماعتت سے نقل کیا ہے کہ اضاعت صلاۃ سے مراد نماز کے اوقات کو ضائع کرنا ہے، بایں طور کہ نماز کو اس کا وقت نکل جانے کے بعد ادا کیا جائے، اور لفظ ”غی” جس کے بارے بتلایا گیا ہے کہ نمازوں کو ضائع کرنے والے اسے پائیں گے، اس کی تفسیر خسارہ اور نقصان سے کی ہے۔ اس کی ایک تفسیر یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وہ جہنم میں ایک وادی ہے۔
نماز کے تعلق سے خواتین کے مردوں سے الگ کچھ مخصوص احکام ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
1- عورتوں پر نہ تو اذان ہے اور نہ اقامت، کیونکہ اذان بلند آواز سے کہنے مشروع ہے، اور عورتوں کے لیےآواز بلند کرنا جائز نہیں ہے، لہذا اذان اور اقامت عورتوں کے لیے درست نہیں ہیں۔ المغنی (2/68) میں علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس مسئلہ میں کسی اختلاف کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے۔
نماز میں عورت سوائے چہرہ کے
2- نماز میں عورت سوائے چہرہ کے اپنے آپ کو مکمل طور پر چھپائے گی، ہتھیلیوں اور قدموں کے بارے میں اختلاف ہے، اور یہ اس صورت میں جبکہ کسی غیر محرم شخص کی نظر اس پر نہ پڑ رہی ہو،اور اگر کوئی غیر محرم شخص اسے دیکھ رہا ہے تو مکمل طور پر ستر پوشی ضروری ہے جس طرح خارج نماز میں پردہ کرنا ضروری ہے۔ نماز میں عورت کو اپنا سر، گردن، جسم کے تمام حصوں کو یہاں تک کہ پیر کی پشت کو بھی چھپانا ضروری ہے، ارشاد نبوی ہے: ((لا يقبلُ اللهُ صلاةَ حائضٍ –يعني منْ بَلَغَتِ الحَيْضَ- إلا بخمارٍ)) ”اللہ تعالی حائضہ سے یعنی اس عورت سے جو حیض کی عمر کو پہنچ چکی ہے بغیر خمار کے نماز قبول نہیں کرتا ہے۔“ (ائمہ خمسہ یعنی احمد،ابوداؤد،ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ نے ان کو روایت کیا ہے) حدیث میں مذکور لفظ (خمار) سے مراد سر اور گردن کو چھپانے والی چادر ہے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ: کیا عورت قمیص اور دوپٹہ میں بغیر ازار کے نماز پڑھ سکتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((إذا كانَ الدِّرعُ سابِغًا يُغطِّي ظُهورَ قدَمَيْها)) ”اگر قمیص اتنی طویل ہو کہ عورت کے دونوں پیروں کی پشت کو ڈھانپ لے۔“ (تو بغیر ازار کے بھی نماز پڑھ سکتی ہے) اس حدیث کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نےروایت کیا ہے، ائمہ کرام نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح کہا ہے۔
دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ نماز میں عورت کے لیے سر اور گردن کا چھپانا ضروری ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی حدیث میں ہے، اور جسم کے بقیہ تمام حصوں کو یہاں تک کہ پیروں کی پشت کو بھی چھپانا ضروری ہے جیسا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں مذکور ہے، چہرہ کا کھلا رکھنا مباح ہے، بشرطیکہ کوئی اجنبی شخص اسے نہ دیکھ رہا ہو، اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (22/113-114) میں لکھتے ہیں: اگر عورت تنہا نماز پڑھ رہی ہو پھر بھی اسے دوپٹہ اوڑھنے کا حکم ہے، خارج نماز میں گھر کے اندر عورت اپنا سر کھلا رکھ سکتی ہے، لیکن نماز میں زینت اختیار کرنا اللہ تعالی حق ہے،چنانچہ کسی کے لیے خانہ کعبہ کا ننگے ہو کر طواف کرنا جائز نہیں خواہ تنہا رات کے وقت طواف کر رہا ہو، اور نہ ننگے ہوکر نماز پڑھ سکتا ہے خواہ تنہا ہی کیوں نہ ہو۔“ مزید تحریر کرتے ہیں: ”نماز میں چھپائے جانے والے جسمانی اعضاء کا ربط وتعلق ان اعضاء سے نہیں ہے جن کو نگاہوں سے چھپایا جاتا ہے، نہ تو قاعدہ مطردہ کے طور پر نہ ہی مفہوم مخالف کے طور پر۔“
المغنی (2/328) میں مذکور ہے: ”نماز میں آزاد عورت کے پورے جسم کی ستر پوشی ضروری ہے، اگر کوئی حصہ کھلا رہ گیا تو اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی، ہاں اگر بہت مختصر حصہ کھلا رہ گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہی مسلک امام مالک، امام اوزاعی اور امام شافعی رحمہم اللہ کا ہے۔“
عورت رکوع اور سجود میں اپنے آپ کو خوب پھیلا کر رکھنے کی بجائے سمیٹ کر رکھے گی۔
3- المغنی (2/258) میں مذکور ہے: ”عورت رکوع اور سجود میں اپنے آپ کو خوب پھیلا کر رکھنے کی بجائے سمیٹ کر رکھے گی، چار زانوں ہوکر بیٹھے گی، تورک کرنے اور ایک پیر کو بچھا کر بیٹھنے کی بجائے دونوں پیروں کو لٹا کر داہنی جانب انہیں نکال دے گی کیونکہ یہی اس کے حق میں زیادہ ساتر ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ المجموع (3/455) میں لکھتے ہیں: ”امام شافعی رحمہ اللہ نے مختصر میں فرمایا ہے: اعمال نماز میں مرد وزن کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، سوائے اس کے کہ عورت کے لیے مستحب یہ ہے کہ سجدہ میں وہ اپنے آپ کو سمیٹ کر، یا اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے چپکا کر حتی الامکان اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ پردہ میں رکھے گی، میں عورت کے لیے اس چیز کو رکوع اور پوری نماز میں پسند کرتا ہوں۔“
کسی عورت کی امامت میں جماعت کے ساتھ عورتوں کے نماز ادا کرنے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے
4- کسی عورت کی امامت میں جماعت کے ساتھ عورتوں کے نماز ادا کرنے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، بعض اہل علم منع کرتے ہیں اور بعض دوسرے جواز کے قائل ہیں، بیشتر علماء کا مسلک یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہےکیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اہل خاندان کی امامت کا حکم دیا تھا۔ (اس کو اما ابوداؤد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے) بعض اہل علم نے اس کو غیر مستحب عمل کہا ہے، جبکہ بعض دوسرے اہل علم اس کی کراہت کے قائل ہیں اور بعض دیگر اہل علم فرض نماز کے بجائے نفل نماز میںاس کو جائز سمجھتے ہیں، اور شاید راجح قول یہی ہے کہ یہ مستحب ہے، مزید تفصیل کے لئے المغنی لابن قدامہ (2/202) المجموع للنووی (4/84-85) کا مراجعہ مفید ہوگا۔
عورت بالجہر قراءت کرے گی بشرطیکہ غیر محرم اس کی قراءت کو نہ سن رہے ہوں۔
5- مسجد میں مردوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے خواتین کا گھر سے نکلنا مباح ہے۔
5- مسجد میں مردوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے خواتین کا گھر سے نکلنا مباح ہےلیکن گھروں کے اندر نماز ادا کرنا ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے، امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا فرمان مبارک ہے: ((لا تَمْنَعُوا إِماءَ اللهِ مساجِدَ اللهِ) ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو۔“ دوسری روایت میں ہے: ((لا تمنعوا النِّساءَ أن يخرُجنَ إلى المساجدِ وبيوتُهنَّ خيرٌ لَهنَّ)) ”عورتوں کو مساجد جانے سےنہ روکو، اور ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔“ (احمد وابوداؤد) لہذا ان کا گھروں میں رہ کر نماز ادا کرنا پردہ اور حجاب کی وجہ سے ان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر نماز کی ادائگی کے لیے مساجد جاتی ہیں توان کے لیے مندرجہ ذیل آداب کی پابندی ضروری ہے: *مکمل پردہ کے ساتھ اور کپڑوں میں اچھی طرح چھپ چھپا کر نکلنا ضروری ہے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ((كانَ النِّساء يصلِّينَ معَ رسولِ اللَّهِ ﷺ ثُمّ يَنْصرفنَ متلفِّعاتٍ بمروطِهِنَّ ، مَا يُعرَفْنَ من الغَلسِ)) (متفق علیہ) ”رسول اکرم ﷺ کے ساتھ خواتین (فجر کی) نماز ادا کرتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس ہوتی تھیں تاریکی کی وجہ سے پہچانی نہین جاتی تھیں۔“ *کسی قسم کی خوشبو لگائے بغیر مسجد کے لئے نکلیں گی، حدیث نبوی ہے: ((لا تمنَعوا إماءَ اللهِ مساجدَ اللهِ وليخرُجْنَ تَفِلاتٍ)) ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، اور چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“ (احمد وابوداؤد) حدیث میں مذکورہ لفظ (تَفِلات) کے معنی ہیں: خوشبو استعمال کئے بغیر۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ((أيُّما امرأةٍ أصابت بَخورًا، فلا تشهَدْ معنا العِشاءَ الآخرةَ)) ”جس عورت نے خوشبو لگا رکھی ہو وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز مین شریک نہ ہو۔“ (مسلم، ابوداؤد، نسائی) امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی حدیث بھی روایت کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ((إذا شهدتْ إحداكُنَّ الصلاةَ فلا تَمَسَّ طِيبًا)) ”تم میں سے کوئی عورت اگر مسجد جانا چاہتی ہو تو خوشبو نہ استعمال کرے۔“
امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الوطار (3/140-141) میں لکھتے ہیں: ”اس حدیث سے خواتین کے مسجد جانے کا پتہ چلتا ہے، لیکن عورتوں کے جانے کا جواز اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ ان کے مسجد جانے میں کسی قسم کا شر وفسادو یا خوشبو جیسی کوئی فتنہ کو بھڑکانے والی چیز نہ پائی جاتی ہو۔“ مزید لکھتے ہیں: ”تمام احادیث کا ماحصل یہی ہے کہ خواتین کو مسجد جانے کی اجازت مردوں کی جانب سے اسی صورت میں ملنی چاہیے جب ان کے مسجد جانے میں خوشبوو زیورات، یا کوئی دوسری زیب وزینت جیسی فتنہ انگیز چیز نہ پائی جاتی ہو۔“
*کپڑوں اور زیورات میں بن سنور کر نہیں نکلیں گی، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: ((لَوْ أنّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَىٰ مِنَ النِّسَاءِ مَا رأَيْنا لَمَنَعَهُنَّ مِنَ الْمَسجِدِ كَمَا مَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا)) ”اگر رسول اللہ ﷺ خواتین کی اس حالت کا مشاہدہ فرماتے جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں تو انہیں مسجد سےروک دیتے جس طرح بنو اسرائیل نے اپنی عورتوں کو روک دیا تھا۔“ (متفق علیہ)
امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (حوالہ مذکور) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”(لو رَأَى ما رأَيْنا) یعنی اگر آپ ﷺ حسین وجمیل لباس، خوشبو، زیب وزینت اور بے پردگی کا مشاہدہ کرتے جن کاآج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔ پہلے خواتین موٹے کپڑوں کمبلوں اور دبیز چادروں میں نکلا کرتی تھیں۔“
اما م ابن الجوزی رحمہ اللہ ”احکام النساء“ (ص 39) میں لکھتے ہیں: ”عورت کے لیے یہی مناسب ہے کہ باہر نکلنے سے حتی الامکان پرہیز کرے کیونکہ وہ اپنے طور پر کسی فتنہ اور شر سےمحفوظ رہ سکتی ہے لیکن دوسرے لوگ اسی فتنہ وفساد میں مبتلا ہوسکتے ہیں، ان کے محفوظ ومامون رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے، اگر اسے مجبوراً باہر نکلنے کی ضرورت پیش آجائے تو اپنے خاوند کی اجازت سے بناؤ سنگھار کے بغیر مکمل سادگی کے ساتھ نکلے، عام شاہراہوں اور بازاروں کو چھوڑ کر خالی جگہوں کواپنا راستہ بنائے، اپنی آواز سنانے سے پرہیز کرے، بیچ راستوں کو چھوڑ کر کنارے چلنے کی کوشش کرے۔“
*عورت اگر اکیلی ہے تو مردوں کے پیچھے تنہا کھڑی ہوگی، جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو میں اورایک یتیم (ہم دونوں) آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور بڑھیا عورت ہمارے پیچھے کھڑی ہوئی۔ (اسے بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اورنسائی نے روایت کیا ہے) اور انہی سے مروی ہے کہ میں نے اپنے گھر میں نبی ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی تو میں اورایک یتیم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اورہماری ماں ام سلیم ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ (صحیح بخاری) اور اگر عورتیں ایک سے زیادہ ہیں تو وہ مردوں کے پیچھے صف یا (حسب ضرورت) چند صفیں بنا کر کھڑی ہونگی کیونکہ نبی ﷺ مردون کو بچوں کے آگے کھڑا کرتے تھے،پھر بچوں کو اور بچوں کے بعد عورتوں کو۔ (مسند احمد) اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((خيرُ صفوفِ الرجالِ أولُها . وشرُّها آخرُها . وخيرُ صفوفِ النساءِ آخرُها . وشرُّها أولُها)) ”مردوں کے لیے سب سے بہتر صف پہلی صف ہے اور سب سے خراب آخری صف، اور عورتوں کے لیے سب سے بہتر صف آخری صف ہے اور سب سے خراب پہلی صف۔“ (اسے مسلم، ابوداؤد، ترمذی اورنسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے)
مذکورہ بالا حدیثیں اس امر کی دلیل ہیں کہ نماز کے لیے عورتیں، مردوں کے پیچھے صف بنا کر کھڑی ہونگی، الگ الگ نہیں کھڑی ہوں گی، چاہے وہ فرض نماز ہو یا تراویح کی نماز ہو۔
*دوران نماز اگر امام سے بھول ہوجائے تو عورت ہاتھوں سے تالی بجا کر اسے متنبہ کرسکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ((إذا نابكم في الصَّلاةِ شيءٌ فليُسبِّحِ الرِّجالُ، وليُصفِّقِ النِّساءُ)) ”جب تمہیں نماز کے دوران کوئی بات پیش آجائے تو (امام کو آگاہ کرنے کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“ (اسے امام احمد نے روایت کیا ہے)
اس حدیث میں عورت کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر دوران نماز کوئی بات پیش آجائے تو وہ تالی بجا کر آگاہ کردے، اور امام کا بھولنا بھی اسی قبیل سے ہے، عورت کو زبان سے کچھ کہنے کے بجائے تالی بجانے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ اس کی آواز مردوں کے لیے فتنہ کا باعث بن سکتی ہے۔
*امام کے سلام پھیرنے کے بعد عورتوں کو مسجد سے نکلنے میں جلدی کرنی چاہیے اور مردوں کو تھوڑی دیر ٹھرے رہنا چاہیے، تاکہ مسجد سے نکلنے والی عورتوں سے ان کی مڈبھیڑ نہ ہو، اور اس کی دلیل ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ےو وہ بیان کرتی ہیں کہ عورتیں فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد (فوراً) کھڑی ہو جاتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد اپنی اپنی جگہ پر تھوڑی دیر بیٹھے رہتے، پھر جب رسول اللہ ﷺ اٹھتے تو دوسرے لوگ بھی اٹھ جاتے۔
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارا خیال –واللہ اعلم- یہ ہے کہ آپ ﷺ ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ جو عورتیں مسجد سے لوٹنا چاہیں وہ لوٹ جائیں۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے، دیکھیےالشرح الکبیر علی المقنع (1/422) )
امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (2/326) میں لکھتے ہیں: ”مذکورہ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ امام وقت (خلیفہ یا سلطان) کے لیے مستحب ہے کہ رعایا کے احوال کا خیال رکھے، اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ محرمات اور ممنوعات کی جانب لے جانے والے امور اور شک وشبہ کی جگہوں سے اجتناب میں احتیاط برتنی چاہیے، اور یہ کہ عام گزرگاہوں میں بھی مرد وزن کااختلاط مکروہ ہے چہ جائیکہ گھروں میں۔“
امام نووی رحمہ اللہ المجموع (3/455) میں لکھتے ہیں: ”باجماعت نماز کی ادائیگی میں خواتین مردوں سے چند امور میں مختلف ہوتی ہیں: اول: خواتین کے حق میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس طرح مؤکد نہیں ہے جس طرح مردوں کے حق میں ہے۔
دوم: خواتین کی امام درمیان صف میں کھڑی ہوگی۔
سوم: تنہا عورت مردوں کے پیچھے کھڑی ہوگی نہ کہ بغل میں، برخلاف مردوں کے۔
چہارم: جب مردوں کے ساتھ صف لگا کر نماز ادا کریں گی توان کی سب سے آخری صف اپنی پہلی صف کی بہ نسبت زیادہ فضیلت کی حامل ہوگی۔“
سابقہ سطور سے واضح ہوگا کہ مرد وزن کے درمیان اختلاط ہر حالت میں حرام ہے۔
6. خواتین نماز عید کے لیے نکل سکی ہیں، چنانچہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: ((أمرنا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ، أن نُخرجهُنَّ في الفطرِ والأضحى. العواتقُ والحُيَّضُ وذواتُ الخدورِ. فأمَّا الحُيَّضُ فيعتزلْنَ الصلاةَ –وفي لفظ: المُصلَّى- ويشهدْنَ الخيرَ ودعوةَ المسلمين)) ”رسو ل اکرم ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ ہم بڑھیوں، حیض والیوں اور پردہ نشینوں کو عید وبقرعید کے روز عیدگاہ لے جائیں، حیض والی عورتیں نماز –دوسری روایت میں ہے: عیدگاہ- سے دور رہیں گی، البتہ خیر وبرکت اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک رہیں گی۔“ (اس حدیث کو اصحاب کتب ستہ اور امام احمد نے روایت کیا ہے)
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مذکورہ حدیث اور اس معنی کی دیگر احادیث سے عیدین میں خواتین کے عیدگاہ جانے کی مشروعیت کا قطعی طور پر پتہ چلتا ہے، چنانچہ شادی شدہ، غیر شادی شدہ نوجوان، بوڑھی، حائضہ وغیر حائضہ کے درمیان بلا کسی امتیاز وتفریق کے تمام عورتوں کا عیدگاہ جانامشروع ہے، البتہ اسی خواتین جو عدت میں ہوں یا جن کا عیدگاہ جانا باعث شر وفساد ہو یاجن کے لیے عوئی عذر شرعی ہو، وہ عیدگاہ نہیں جائیں گی۔“ (نیل الاوطار 3/306)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (6/458-459) میں تحریر کرتے ہیں: ”رسول اکرم ﷺ نے یہ بتلا دیا کہ خواتین کا گھروں کے اندر نماز ادا کرنا جمعہ یا جماعات مین شریک ہونے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے سوائے نماز عید کے، کیونکہ نماز عید کے لیے آپ ﷺ نے نکلنے کاحکم دیا ہے، شاید اس کے –اللہ تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے- چند اسباب ہیں: پہلا سبب: سال بھر میں صرف دو مرتبہ عید کا موقع آتا ہے لہذا جمع اور جماعت کے برخلاف عیدین میں ان کا نکلنا قابل قبول ہے۔
دوسرا سبب: جمع اور جماعت کے برعکس نماز عیدین کا کوئی متبادل نہیں ہے، چنانچہ عورت کا اپنے گھر کے اندر رہ کر نماز ظہر ادا کرنا ہی اس کاجمعہ ہے۔
تیسرا سبب: عیدین میں اللہ تعالی کے ذکر کے لیے جنگل اور بیابانوں میں نکلناہوتا ہے جو بعض پہلوؤں سے حج کے مشابہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ حجاج کرام کی موافقت میں عید اکبر (بقرعید) موسم حج میں رکھی گئی ہے۔
شوافع کے یہاں نماز عیدین میں عورتوں کے نکلنے کے لیئے ان کے حسین جمیل نہ ہونے کی قید ہے،
چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ المجموع (5/13) میں لکھتے ہیں: ”امام شافعی اور آپ کے تلامذہ (رحمہم اللہ) کا قول ہے کہ نماز عیدین میں شرکت ایسی عورتوں کے لیے مستحب ہے جو حسن وجمال والی نہیں ہیں، خوبصورت عورتوں کاعیدین میں شریک ہونا مکروہ ہے۔“ آگے مزید لکھتے ہیں: ”خواتین نماز عیدین کے لیے پرانے اور بوسیدہ کپڑے پہن کر نکلیں گی، ایسے لباس نہیں پہنیں گی جن سے ان کی نمائش ہو، سادہ پانی سے غسل کرنا ان کے لیے مستحب ہے، خوشبو وغیرہ کااستعمال مکروہ ہے، یہ سارے احکامات ایسی بوڑھی اور ضعیف عورتوں کے لیے ہیں جو ناقابل اشتہا اور غیر مرغوب ہیں، نوجوان خوبصورت اور مرغوب فیہ عورتوں کا عیدگاہ جانا مکروہ ہے، کیونکہ ان کے جانے میں خود ان کے یا ان کی وجہ سے دوسروں کے فتنہ وفساد میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ یہ بات حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث کی مخالف ہے، تو ہم کہیں گے صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث وارد ہے: ((لو أدرَك رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم ما أحدَثَ النساءُ، لمَنَعَهُنَّ كما مُنِعَتْ نساءُ بني إسرائيلَ)) ”اگر رسول اکرم ﷺ ان امور کا مشاہدہ کرتے جن کو (آج کی) عورتوں نے ایجاد کر رکھا ہے تو ان کو (مساجد سے) روک دیتے جس طرح بنی اسرائل کی عورتیں روک دی گئی تھیں۔“ اور زمانہ اول کے برخلاف موجودہ زمانہ میں شر وفساد اور فتنوں کے اسباب بے شمار ہیں، واللہ اعلم۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں ہمارے زمانہ میں صورت حال کہیں زیادہ ابتر ہے۔
امام ابن الجوزی ”احکام النساء“ (ص 38) میں فرماتے ہیں: ”میں کہتا ہوں: یہ ہم بیان کر آئے ہیں کہ خواتین کانکلنا جائز اور مباح ہے، لیکن خود ان کے یا ان کے ذریعے دوسروں کے شر وفساد اور فتنوں میں واقع ہونے کا خوف ہو تو نہ نکلنا ہی افضل ہے، کیونکہ صدر اول کی خواتین اس کے بالکل برعکس ہوتی تھیں جس طرح آج کی خواتین کی پرورش اور تربیت ہوتی ہے، یہی حال مردوں کا بھی تھا۔“
یعنی ان کے اندر درجہ زہد وورع پایا جاتا تھا۔
اسلامی بہنوں کو سابقہ سطور میں نقل کی گئی باتوں سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ شرعی اعتبار سے نماز عید کے لیے ان کا عیدگاہ جانا جائز ہے بشرطیکہ پردہ کا التزام ہو، اور مکمل حشمت وعصمت کے ساتھ نکلا جائے، اور اللہ رب العزت کا تقرب، مسلمانوں کے ساتھ دعاؤں میں شرکت اور اسلامی شعار کا اظہار مقصود ہو، نہ کہ اس سے زیب وزینت کی نمائش اور شر وفساد اور فتنوں کے درپے ہونا مقصود ہو، اس سلسلے میں کافی متنبہ اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
فصل ششم
جنازے سے متعلق عورتوں کے مخصوص مسائل جنازے سے متعلق اللہ تعالی نے ہر ذی روح پر موت لکھ دی ہے، صرف اسی کی ایک ذات ایسی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، ارشاد باری ہے: وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. (الرحمن: 27) ” صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی ره جائے گی۔“ انسانی جنازوں کے لیے کچھ مخصوص احکامات ہوتے ہیں جن کا نفاذ زندہ لوگوں پر ضروری ہوتا ہے، اس ضمن میں خواتین کے مخصوص احکام ومسائل کا ذکر ہم ذیل میں کر رہے ہیں: 1. فوت شدہ عورت کو عورتیں ہیں غسل (جنازہ) دیں گی، خواتین کو غسل (جنازہ) دینا شوہر کے علاوہ دیگر مردوں کے لیے جائز نہیں ہے، صرف شوہر اپنی بیوی کو غسل (جنازہ) دے سکتا ہے، اسی طرح مرد جنازے کو مرد ہی غسل (جنازہ) دیں گے، عورتیں اسے غسل نہیں دے سکتی ہیں، البتہ بیوی خاوند کو غسل دے سکتی ہے، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی فاطمہ بنت رسول ﷺ ( رضی اللہ عنہا) کو غسل دیا تھا اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غسل دیا تھا۔ 2. عورت کو پانچ سفید کپڑوں میں کفن دینا مستحب ہے: a. ازار جس کو بطور تہ بند استعمال کیا جائے۔ b. خمار (اوڑھنی) جس کو اس کے سر پر باندھا جائے گا۔ c. قمیص جو اسے پہنائی جائے گی۔ d. دو لفافے جن میں وہ مذکورہ کپڑوں کے اوپر لپیٹی جائے گی۔ دلیل حضرت لیلٰی ثقفیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں: ((كنتُ فيمن غسَّل أمَّ كلثومٍ بنْتَ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلم عند وفاتِها فكان أولُ ما أعطانا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلم الحِقاءَ ثمَّ الدِّرعَ ثمَّ الخِمارَ ثمَّ المِلحفةَ ثمَّ أُدرِجتْ بعدَ ذَلِکَ في الثوبِ الآخرِ.)) (احمدو ابوداؤد) ”حضرت ام کلثوم بنت رسول اللہ ﷺ (رضی اللہ عنہا) کو ان کی وفات کے وقت غسل دینے والیوں میں میں بھی تھی، سب سے پہلی چیز جسے آپ ﷺ نے ہمیں دیا تھا وہ ازار (یہ بند) تھا، اس کے بعد قمیص دی، پھر خمار (اوڑھنی) پھر چادر دی، اس کے بعد انہیں دوسرے کپڑے میں لپیٹا گیا۔“ حدیث میں وارد لفظ ”الحِقاءَ“ کے معنی ازار (تہبند) کے ہیں۔
امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (4/42) میں لکھتے ہیں: ”مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے کفن میں ازار (تہبند) قمیص، خمار (اوڑھنی) اور لفافہ مشروع ہے۔“
3. فوت شدہ عورت کے بالوں کا حکم:
اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بنائی جائیں گی اور انہیں پیچھے ڈال دیا جائے گا، دلیل حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس میں انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ کی لڑکی کو غسل دینے کی صفت بیان کی ہے، فرماتی ہیں: ((فضَفَرْنَا شعرها ثلاثةَ قرونٍ ، والقيناها خَلْفَهَا)) (متفق علیہ) ”ہم نے ان کے بالوں کی تین چوٹیاں بناکر انہیں پیچھے ڈال دیا تھا۔“
4. جنازے کے ساتھ خواتین کے چلنے کا حکم:
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ((نُهِينا عن اتباعِ الجنائزِ ، ولم يُعْزَمْ علينا)) (متفق علیہ) ”ہمیں جنازہ کے ساتھ چلنے سے روکا گیا ہے، لیکن ہمارے اوپر بہت زیادہ زور نہیں دیا گیا ہے۔“ بظاہر اس نہی (ممانعت) سے تحریم کا پتا چلتا ہے، حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ کے قول ”ولم يُعْزَمْ علينا“ کی تفسیر وتشریح میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (24/355) میں فرماتے ہیں: ”ہوسکتا ہے اس سے آپ کا مقصد یہ ہو کہ نہی (ممانعت) میں زور نہین دیا گیا ہے، مگر اس سے تحریم کی نفی نہیں ہوتی، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے تئیں گمان کیا ہو کہ یہ نہیں تحریم کے لئے نہیں ہے، حجت رسول اکرم ﷺ کے قول مبارک میں ہے نہ کہ کسی دوسرے کے ظن وتخمین میں۔“
5. خواتین کے لیے قبروں کی زیارت حرام ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: ((إنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ لعنَ زوَّاراتِ القبورِ)) ”رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔“ (احمد، ابن ماجہ، ترمذی نیز ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ بالکل واضح بات ہي کہ خواتین کے لیے اس کے دروازے کو کھول دیا گیا تو ان کے اندر پائی جاني والی کمزوری، کثرت جزع وفزع اور قلت صبر کی وجہ سے ان کا معاملہ چیخ وپکار، آہ وزاری اورنوحہ گریہ وزاری پر جاکر ختم ہوگا، مزید برآں یہ عمل ان کی گریہ زاری کو وجہ سے مردہ کی اذیت وتکلیف کا بھی باعث بنے گا، کیونکہ اس میں عورتوں کی آواز اور ان کی شکل وصورت کی وجہ سے زندوں کے لیے فتنہ کا سامان بھی ہے، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں وارد ہے: ((فإنکنَّ تفتِنّ الحيّ وتؤذين الميَّتَ)) ”تم لوگ زندوں کو فتنوں میں اور مردوں کو اذیت میں مبتلا کرنے والی ہو۔“ جب قبروں کی زیارت خواتین کے لیے خود ان کے حق میں اور دوسروے مرد حضرات کے حق میں بہت سے محرمات کا سبب اور پیش خیمہ بنتی ہے اور یہاں حکمت ومصلحت کی کوئی تحدید وتعیین نہیں کی گئی ہے، لہذا اس سلسلے میں کسی ایسی مقدار کی حد بندی ممکن نہیں ہے جو ان محرمات تک نہ لے جانے والی ہیں، یا اسی طرح ایک نوع (کی زیارت) کا دوسرے نوع (کی زیارت) سے الگ وممتاز کرنا بھی ممکن نہیں ہے، اور شریعت کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی حکم کے اندر حکمت مخفی ہو،یا غیر معروف ومنتشر ہو تو حکم کو حکمت کے اندیشے پر معلق کرکے اس باب کو ہی سد ذریعہ کے طور پر حرام قرار دیا جائے گا، جس طرح فتنوں کے پیش نظر غیر ظاہری زیب وزینت کی طرح نظر کرنا، اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں اکھٹا ہونا، اسی نوعیت کی دیگر نگاہیں حرام وممنوع ہیں، خواتین کی قبروں کی زیارت میں سوائے میت کے حق میں دعا کے اور کوئی مصلحت نہیں پائی جاتی ہے، جو گھر میں رہ کر بھی ممکن ہے۔“ (مجموع الفتاویٰ (24/335))
6- نوحہ اور گریہ وزاری کی حرمت:
میت کو یاد کر کے باآواز بلند اس پر رونا،بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کپڑے پھاڑنا، رخساروں پر تھپڑ مارنا، بال نوچنا، چہرہ سیاہ کرنا یا نوچنا، ہلاکت وبربادی کی دعائیں کرنا، اسی طرح کے دیگر تمام اعمال جن سے قضاء وقدر پر عدم اعتماد اور بے صبری ظاہر ہوتی ہو، سب نوحہ میں داخل ہیں اور یہ سارے اعمال حرام اور گناہ کبیرہ ہیں، دلیل صحیحین کی وہ حدیث ہے جس میں رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الخُدُودَ، وَشَقَّ الجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ» ”وہ ہم میں سے نہیں جو رخساروں کو تھپڑ مارے، گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔“ صحیحین میں ہی یہ حدیث بھی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے صالقہ، حالقہ، اور شاقہ سے اپنی براءت ظاہر کی ہے۔ صالقہ: مصیبت کے وقت چیخ وپکار کرنے الی عورت کو کہتے ہیں۔ حالقہ: مصیبت کے وقت سر منڈانے والی عورت کو کہتے ہیں۔ شاقہ: مصیبت کے وقت کپڑوں کو پھاڑنے والی عورت کو کہتے ہیں۔ صحیح مسلم کی ایک دوسری حدیث مین رسول اکرم ﷺ نے نوحہکرنے والی اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت بھیجی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ((أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ لَعَنَ النَّائِحَةَ والمُسْتَمِعَةَ)) لفظ (المُسْتَمِعَةَ) سے مراد وہ عورت ہے جو بالقصد نوحہ سننے جائے، اور اس کو نوحہ پسند ہو۔
مسلم خواتین کو مصیبت کے وقت ان حرام کاموں سے بچنا بہت ضروری ہے، مصیبت کے وقت صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالی سے اجر وثواب کی توقع رکھنا چاہیے، مصیبت کے وقت یہی طرز عمل ان کے گناہوں کے لیے کفارہ اور نیکیوں میں زیادتی کا سبب بن سکتا ہے،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ، الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرۃ: 155-157) ”اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے، جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔“
ہاں! موت کے وقت اس طرح روناکہ اس میں گریہ وزاری، نوحہ اور دیگر ایسے حرام اور ناجائز کام نہ پائے جائیں جن میں قضا وقدر سے ناراضگی اور عدم رضا ظاہر ہو، جائز ہے، کیونکہ رونے سے میت پر شفقت اور رقت قلب کا پتا چلتا ہے اور اس نوعیت کی بکاء پر قابو پانا بھی ناممکن ہے، اسی وجہ سے اس کو مباح بلکہ بعض حالات میں مستحب قرار دیاگیا ہے۔ واللہ المستعان.
فصل ہفتم:
روزہ سے متعلق خواتین کے مخصوص مسائل ماہ رمضان کے روزے ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہیں، روزہ کو اسلام میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔“ (البقرۃ: 183) آیت میں ”کُتِب“ کے معنی ہیں فرض کیا گیا، جب لڑکی سنِ تکلیف (بلوغت کی عمر) کو پہنچ جائے بایں طور کہ علامت بلوغت میں سے کوئی ایک علامت ظاہر ہو جائے، انہیں میں سے حیض کا آنا بھی ایک علامت ہے، تو ایسی لڑکی کے حق میں روزہ واجب ہو جاتا ہے، بعض بچیوں کو نو سال کی عمر میں ہی حیض شروع ہو جاتا ہے، لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا کہ حیض شروع ہوجانے کے بعد روزہ اس پر واجب ہو جاتا ہے، چانہچہ وہ اپنے آپ کو کم عمر سمجھ کر روزہ نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کے اہل خاندان اسے روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں، حالانکہ یہ عمل اسلام کے ایک اہم اور عظیم رکن کو ترک کر کے زبردست تساہلی اور سستی اختیار کرنے کے مترادف ہے، اگر کسی عورت سے اس قسم کی کوتاہی کا بچپن میں صدور ہوا ہو تو اس پر ان تمام روزون کی قضا ضروری ہے جنہیں اس نے ابتدائے حیض میں ترک کیا تھا، خواہ اس پر ایک لمبی مدت گزر گئی ہو، کیونکہ یہ تمام روزے اس کے ذمہ باقی ہیں۔
کن لوگوں پر روزہ رکھنا واجب ہے؟
ماہ رمضان کے شروع ہوجانے پر ہر بالغ مسلمان مرد اور عورت پر جو حالت صحت میں ہو اور مقیم ہو (یعنی حالت سفر میں نہ ہو) رمضان کے روزے فرض ہو جاتا ہیں، اگر کوئی مرد یا عورت اس مہینہ میں بیمار ہو یامسافر ہو تو وہ افطار کرسکتا ہے، یعنی اس کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ حاصل ہے، البتہ (شفایابی یا سفر کی حالت ختم ہونے کے بعد) رمضان کے علاوہ دوسرے ایام میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے گا، ارشاد ربانی ہے: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كانَ مَرِيضاً أَوْ عَلى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔ (سورۃ البقرۃ: 185) ”تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے“۔ اسی طرح ایسا عمر دراز مرد یا ایسی عمردراز خاتون جس کو روزے کیاستطاعت نہ ہو، یا ایسا دائمی مریض جس کے مرض کے زائل ہونے اور اس کی شفایابی کو توقع نہ ہو خواہ مرد ہو یا عورت وہ بھی افطار کرسکتے ہیں (یعن روزہ چھوڑ سکتے ہیں)، ہر دن کےبدلے ایک مسکین کو ملک کی عام غذا سے نصف صاع دینا ضوری ہوگا، دلیل فرمان الٰہی ہے: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعامُ مِسْكِينٍ (سورۃ البقرۃ: 184) ”اور جو لوگ بمشقت طاقت رکھنے والے ہیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں۔“
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ آیت ایسے عمر دراز بوڑھے شخص کے بارے میں ہے جس کی شفایابی کی امید نہیں ہوتی۔“ (بخاری) اور ایسا مریض جس کی بیماری سے شفایابی کی توقع نہ ہو وہ بھی عمردراز بوڑھے شخص کے حکم میں ہوگا، عدم استطاعت کی وجہ سے دونوں پر روزہ کی قضا نہیں ہے۔ آیت میں ” يُطِيقُونَهُ“ کے معنی ہیں: ”نہایت مشقت کے ساتھ برداشت کرنا۔“
خواتین کو مخصوص طور پر چند اعذار کی وجہ سے ماہ رمضان میں افطار کی اجازت ہے۔ خواتین کو مخصوص طور پر چند اعذار کی وجہ سے ماہ رمضان میں افطار کی اجازت ہے لیکن عذر کی وجہ سے ترک کیے ہوئے روزوں کی قضا لازم ہے، وہ اعذار جن کی وجہ سے خواتین روزہ ترک کرسکتی ہیں مندرجہ ذیل ہیں: 1. حیض ونفاس: ان دونون حالتون میں عورتوں کے لیے روزہ رکھنا حرام ہے، لیکن دیگر ایا م میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قاضا ان پر واجب ہے۔ دلیل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جو صحیحین میں مروی ہے جس میں آپ فرماتی ہیں: ((كنا نؤمر بقضاء الصوم، ولا نؤمر بقضاء الصلاة(( ”ہمیں روزون کی قضا کا حکم دیا جاتا تھاو نماز کی قضا کا حکم نہین دیا جاتا تھا۔“ آپ (رضی اللہ عنہا) نے یہ بات ایک عورت کے اس استفسار پر فرمائی تھی کہ کیا وجہ ہے کہ حائضہ عورت روزے کی قضا کرے گی او رنماز کی قضا نہیں کرے گی، تو آپ نے مذکورہ جواب کے ذریعہ یہ وضاحت فرمادی کہ یہ امر توقیفی ہے جس میں عقل وقیاس کا دخل نہیں ہے، اس میں شریعت کے حکم کی اتباع کی جائے گی۔
حالت حیض میں روزے کی ممانعت کا راز: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (15/251) میں لکھتے ہیں: ”حیض کی وجہ سے آنے والے خون میں خون کا نکلنا پایا جاتا ہے، جبکہ حائضہ کے لئے ممکن ہے کہ حیض کے ان اوقات کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھے جن میں خون کا نکلنا نہیں پایا جاتا ہے، لہذا ایسی صورت میں اس کا روزہ رکھنا معتدل ہوگا کیونکہ اس میں جسم کو تقویت پہنچانے والے بلکہ جسم کے اصل مادہ کا نکلنا نہیں پایا جاتا ہے، حالت حیض میں روزہ رکھنے سے وجوبی طور پر لازم آئے گا کہ جسم کا اصل مادہ بھی خارج ہوجو اس کے جسم کی کمی اورخود اس کے ضعف کا سبب بنتا ہے اور ساتھ ہی روزے کاحد اعتدال سے بھی خروج لازم آئے گا۔ خواتین کو اسی بنا پر اوقات حیض کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔“
2- حمل ورضاعت: حالت حمل اور حالت رضاعت (یعنی دودھ پلانے کی حالت) میں روزہ رکھنے سے خود عورت کو یا بچہ کو یا ایک ساتھ دونوں کو نقصان اور ضرر لاحق ہوسکتا ہے، لہذا عورت ان دونوں حالتوں میں افطار کرسکتی ہے (یعنی روزہ چھوڑ سکتی ہے)۔ اگر ضرر (نقصان) جس کے پیش نظر اس نے روزہ ترک کیا ہے محض بچے کو لاحق تھا تو چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے گی اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گی، اور اگر ضرر عورت کو بھی لاحق تھا تو اس پر صرف قضا ضروری ہے کیونکہ آیت: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعامُ مِسْكِينٍ (سورۃ البقرۃ: 184) ”اور جو لوگ بمشقت طاقت رکھنے والے ہیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں۔“ کے عموم میں حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی عورت) بھی داخل ہیں۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر (1/379) میں فرماتے ہیں: ”مذکورہ آیت کے مفہوم میں حاملہ اور مرضعہ بھی شامل مانی جائیں گی بشرطیکہ انہیں اپنے اور اپنے بچوں پر خوف لاحق ہو۔“
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر حاملہ اپنے جنین (پیٹ کے بچہ) پر خوف محسوس کرتی ہو تو افطار کرے گی، اور ہر دن کے بدلے ایک دن روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک مسکین کو ایک رطل روٹی کھلائے گی۔ مجموع الفتاوی (25/318)۔ (رطل: 408 گرام کے مساوی ہوتا ہے ملاحظہ ہو: الایضاح والتبیان فی معرفۃ المکیال والمیزان)۔
تنبیہ:
1- مستحاضہ (استحاضہ والی عورت) جس کو ایسا خون آرہا ہو جسے حیض کا خون نہیں کہا جا سکتا جیسا کہ سابقہ سطور میں بیان کیا جاچکا ہے، اس پر روزہ فرض ہے اس کے لیے افطار (روزہ ترک کرنا) جائز نہیں ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ حائضہ عورت کے افطار کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”بر خلاف مستحاضہ کے، اس لیے کہ استحاضہ کا خون تمام اوقات میں آتا ہے، اس کا کوئی مخصوص ومتعین وقت نہیں ہے کہ اس کے علاوہ دیگر اوقات میں روزہ رکھنے کا اسے حکم دیا جائے، اس سے بچنا نا ممکنات میں سے ہے جس طرح از خود قے آجانا، زخم اور پھوڑوں کی وجہ سے خون کا نکلنا اور احتلام وغیرہ ہیں، ان کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا کہ ان سے احتراز کیا جائے، لہذا یہ تمام امور روزہ کے منافی نہیں قرار دیے جائیں گے جس طرح حیض کے خون کو قرار دیا گیا ہے۔ “ (مجموع فتاویٰ: 25/251)
2- حائضہ، حاملہ اور مرضعہ کو چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا دوسرے رمضان کے آنے تک واجبی طور پر کر لینی چاہیے، قضا میں جتنی جلدی بازی سے کام لیا جائے اتنا ہی زیادہ بہتر ہے، اگر اگلا رمضان شروع ہونے میں اتنے ہی دن باقی رہ گئے ہوں جتنے دن اس نے روزہ ترک کیا ہے تو پچھلے رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا واجب ہوجاتی ہے، اسے لازمی طور پر چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرلینی چاہیے تاکہ ایسا نہ ہو کہ دوسرا رمضان شروع ہو جائے اور اس پر پچھلے رمضان کے روزوں کی قضا باقی ہو، اور اگر ایسا ہو گیا کہ پچھلے رمضان کے روزوں کی قضا کے بغیر دوسرا رمضان شروع ہوگیا اور تاخیر کا کوئی عذر معقول نہ ہو تو چھوٹے روزوں کی قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلانا ہوگا اور اگر کسی عذر کے وجہ سے تاخیر ہوئی ہو تو صرف روزوں کی قضا کی جائے گی۔ اسی طرح ان تمام لوگوں کا مذکورہ تفصیل کے مطابق ہی معاملہ ہوگا جن پر بیماری یا سفر کی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ہے، کیونکہ وہ بھی انہی عورتوں کے حکم میں ہونگے جنہوں نے حیض کی وجہ سے روزہ ترک کیا تھا۔
3- خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی عورت کے لیے نفل روزہ رکھنا جائز نہیں ہےو دلیل امام بخاری وامام مسلم رحمہما اللہ اور دیگر محدثین کی روایت کردہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جس میں رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ((لا يحِلُّ لامرأةٍ أنْ تصومَ وزوجُها شاهدٌ إلَّا بإذنِه)) ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ روزہ رکھے اور اس کا شوہر موجود ہو مگر اس کی اجازت سے۔“ امام احمد اور امام ابو داؤد رحمہما اللہ کے یہاں بعض روایات میں ((إلا رمضان)) کا اضافہ ہے، یعنی رمضان کے روزوں کو مستثنٰی کیا گیا ہےو ان کے لیے خاوند کی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر شوہر نے نفلی روزون کی اجازت دیدی ہو یا وہ موجود نہ ہو یا کسی کا شوہر ہی نہ ہو تو ایسی عورت کے لیے نفلی روزہ رکھنا مستحب ہے۔ خصوصاً جن ایام میں روزہ رکھنے کی فضیلت وارد ہے، مثال کے طور پر دو شنبہ وجمعرات کے دن، ہر ماہ میں تین دن (ایام بیض) شش عیدی روزے، ذی الحجہ کے دس دن، عرفہ کا دن، عاشوراء کا دن ایک دن ماقبل یا ایک دن مابعد کے ساتھ۔ ان تمام ایام میں روزے کی بڑی فضیلت ہےو البتہ رمضان کے روزوں کی قضا اگر اس پر ہے تو پہلے روزون کی قضا کرے گی، قضا کے بغیر نفلی روزے رکھنا مناسب نہیں۔ واللہ اعلم
4- حائضہ اگر رمضان میں دن کے وقت حیض سے پاک ہوئی ہے تو اسے دن کے بقیہ حصہ کو کچھ کھائے پیے بغیر گزارنا چاہیےو اور حیض کی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزوں کے ساتھ اس دن کی بھی قضا کرے گی جس دن اس نے طہارت حاصل کی تھی، اس دن کے بقیہ حصہ کو کچھ کھائے پئے بغیر گزارنا رمضان کے ادب واحترام میں واجب ہے۔
فصل ہشتم
حج وعمرہ سے متعلق خواتین کے مخصوص مسائل خانہ کعبہ کا سالانہ حج امت اسلامیہ پر فرض کفایہ ہے، اور ہر اس مسلم فرد پر جس کے اندر حج کی شرائط متوفر ہوں، زندگی میں ایک بار حج کرنا فرض ہے۔ ایک سے زائد بار حج نفل شمار ہوگا۔ حج اسلام کا ایک رکن ہے، نیز مسلم خواتین کے حق میں جہاد کا درجہ رکھتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جس میں انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا تھا: ((يا رسولَ اللهِ ، هَلْ على النساءِ جهادٌ ؟ قال: نَعَمْ، عليْهِنَّ جهادٌ لا قِتَالَ فِيهِ، الحجُّ والعمرةُ)) ”یا رسول اللہ! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! ان پر ایک ایسا جہاد ہے جس میں جنگ نہیں ہے، وہ حج وعمرہ ہے۔“ (امام احمد، امام ابن ماجہ رحمہما اللہ نے صحیح سند سے اس حدیث کو روایت کیا ہے) صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا: ((يا رسولَ اللهِ!، نرى الجهادَ أفضلَ العملِ، أفلا نجاهِدُ؟ قال: لكنَّ أفْضَلَ الجهادِ حجٌّ مبرورٌ)) ”یا رسول اللہ! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: لیکن تمہارے لیے سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔“
حج سے متعلق خواتین کے چند مخصوص مسائل حسب ذیل ہیں:
1- مَحرَم: حج کی فرضیت کے لیے مرد وزن کے حق میں چند عام شرائط ہیں: جو یہ ہیں: اسلام، عقل، حریت (آزادی)، بلوغت اور مالی استطاعت۔ خواتین کے حق میں ایک مخصوص شرط ایسے محرم کا وجود بھی ہے جو اس کے ساتھ سفر حج کے لیے نکل سکے۔ محرم خود اس کا خاوند ہوگا یا ایسا شخص ہوگا جس پر عورت ہمیشہ کے لیے بسبب نسب حرام ہوگی جیسے اس کے والد، یا بھائی، یا بیٹا، یا کسی مباح سبب کی وجہ سے حرام ہوگی جیسے رضاعی بھائی، یا اس کی والدہ کا شوہر یا اس کے شوہر کا لڑکا۔ دلیل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیث ہے جس میں ہے کہ آپ نے رسول اکرم ﷺ کو خطبہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ، وَلَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً، وَإِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: انْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ)) (متفق علیہ) ”کوئی (اجنبی) مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت (تنہائی) میں نہ ہو مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم بھی ہو، اور عورت بغیر محرم کے سفر پر نہ نکلے۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! میری بیوی حج میں نکلی ہے اور میں فلاں فلاں غزوہ (جنگ) میں اپنا نام لکھوایا ہے؟ آپ نے فرمایا: جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث بھی ہے جس میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ((لا تسافِرِ المرأةُ ثلاثًا إلَّا وَمَعَها ذُو مَحْرَمٍ)) (متفق علیہ) ”عورت تین (دن) کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔“
اس سلسلے میں بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں جن سے عورت کے بغیر محرم حج یا غیر حج میں نکلنے کی سخت ممانعت کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ عورت ایک کمزور مخلوق ہے، سفر میں ایسی مختلف پریشانیاں اور عوارض پیش آسکتے ہیں جن کا مقابلہ صرف مرد ہی کرسکتے ہیں، نیز عورت بدقماش اور اوباش قسم کے لوگوں کی بدنیتی اور حرص وطمع کا نشانہ بن سکتی ہے، لہٰذا ایسے محرم کا ساتھ ہونا جو اس کو تحفظ فراہم کرسکے اور پریشانیوں سے اسے نجات دلا سکے، اشد ضروری ہے۔
عورت کے ساتھ حج کے لیے نکلنے والے محرم میں عقل، بلوغت اور اسلام کی شرط ضروری ہے کیونکہ کافر قابل اعتماد نہیں ہوسکتا، اگر عورت محرم کی جانب سے نا امید ہو جائے تو لازمی طور پر کسی سے حج بدل کرائے گی۔
2- نفلی حج کے لیے عورت ک اپنے خاوند سے اجازت لینی ضروری ہے، کیونکہ حج میں نکلنے کی وجہ سے اس کے اوپر شوہر کے جو حقوق عائد ہیں وہ ضائع ہوجائیں گے۔ المغنی (3/240) میں علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ”نفلی حج سے خاوند اپنی بیوی کو منع کرسکتا ہےو علامہ ابن المنذر نے اس پر اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو نفلی حج کے لیے نکلني سے روک سکتا ہے، کیونکہ شوہر کا حق بیوی پر واجب ہے، لہٰذا کسی غیر واجب عمل کے ذریعہ اس واجب عمل کو ضائع نہیں کرسکتی، جس طرح آقا کا معاملہ اس کے اپنے غلام کے ساتھ ہے۔“
3- عورت، مرد کی جانب سے حج یا عمرہ میں نیابت کر سکتی ہے:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (26/13) میں لکھتے ہیں: ”باتفاق علماء ایک عورت دوسری عورت کا حج بدل کرسکتی ہے، خواہ وہ لڑکی ہو یا کوئی دوسری عورت، اسی طرح ائمہ اربعہ اور جمہور علماء کے نزدیک عورت مرد کا حج بدل کر سکتی ہے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے خثعمی عورت کو اپنے والد کی جانب سے حج کرنے کا حکم دیا تھا جس وقت اس نے کہا تھا: ((يا رسول الله إن فريضة الله في الحج على عباده أدركت أبي وهو شيخ كبير، فأمرها النبي -صلى الله عليه وسلم- أن تحج عن أبيها)) ”یا رسول اللہ! اللہ تعالی کے فریضۂ حج نے میرے والد کو پالیا ہے (یعنی میرے والد پر فرض ہوگیا ہے) لیکن وہ بہت بوڑھے ہیں، تو رسول اکرم ﷺ نے اس عورت کو اپنے والد کی جانب سے حج کرنے کی ہدایت کی تھی۔“ یہ الگ بات ہے کہ مرد کا احرام عورت کے احرام کی بہ نسبت زیادہ مکمل ہوتا ہے۔ انتهى 4- اگر سفر حج کے دوران عورت حیض یا نفاس میں مبتلا ہو جائے تو وہ اپنا سفر حج جاری رکھے گی، اگر عین احرام کے وقت حیض یا نفاس میں مبتلا ہوئی ہے تو وہ دیگر پاک وصاف عورتوں کی طرح احرام باندھے گی، کیونکہ احرام باندھنے کے لیے طہارت شرط نہیں ہے، علامہ ابن قدامہ المغنی (3/293،294) میں لکھتے ہیں: ”حاصل کلام یہ کہ خواتین کے لیے احرام کے وقت مردوں کی طرح غسل مشروع ہے کیونکہ یہ ایک نسک (عمل حج) ہے اور حیض ونفاس والی عورتوں کے حق میں یہ غسل زیادہ اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے متعلق حدیث وارد ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((حتى أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر، فأرسلت إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كيف أصنع ؟ قال: اغتسلي، واستثفري بثوب، وأحرمي)) (متفق علیہ) ”یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انہوں نے رسولﷺ کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ اب میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: غسل کرکے لنگوٹ کس لو اور احرام باندھ لو۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ((الحائضُ والنفساءُ إذا أتَتَا على الوقتِ تَغْتَسِلانِ وتُحْرِمانِ وتَقْضِيانِ المناسكَ كلَّها غيرَ الطَّوافِ بالبيتِ)) (ابو داؤد) ”حیض ونفاس والی خواتین بھی میقات پر پہنچ کر غسل کریں گی اور احرام باندھ لیں گی، اور تمام اعمال حج بجا لائیں گی سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے۔“ اسی طرح رسول اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جبکہ وہ حالت حیض میں تھیں حج کا احرام باندھنے کے لیے غسل کا حکم دیا تھا۔
احرام کے وقت حیض ونفاس والی خواتین کے غسل کا مقصد نظافت حاصل کرنا اور نا پسندیدہ بو کا ختم کرنا ہے کہ بھیڑ کے وقت لوگ اس سے اذیت نہ محسوس کریں، اسی طرح نجاست میں تخفیف مقصود ہے۔ اگر حالت احرام میں عورت کو نفاس یا حیض آجائے تو اس سے احرام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، چنانچہ وہ حالت احرام ہی میں باقی رہے گی، تمام ممنوعات احرام سے اجتناب کرے گی، البتہ بیت اللہ کا طواف حیض ونفاس سے پاک ہوئے اور غسل (طہارت) کئے بغیر نہیں کر سکتی، اگر عرفہ کے دن بھی وہ نہیں پاک ہوسکی اور اس نے حج تمتمع کا احرام باندھ رکھا تھا تو وہ حج کو عمرہ میں میں داخل کرکے حج کا احرام باندھ لے گی، اسی طرح وہ قارنہ (یعنی حج قران کرنے والی) ہوجائے گی،
- اس لیے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا تھا، جب ان کو حیض آگیا اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے ان سے دریافت فرمایا: ((ما يبكيك لعلك نفست ؟ قالت: نعم، قال: هذا شيء قد كتبه الله على بنات آدم، افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت)) ”کیوں رو رہی ہو؟ شاید تمہین حیض آگیا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالی نے بنات آدم (خواتین) پر لکھ دی ہے، حج کے تمام ارکان ادا کرو سوائے طواف کعبہ کے۔“ (بخاری ومسلم) اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ روایت میں ہے: اس کے بعد رسول اکرم ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو دیکھا کہ آپ بیٹھی رو رہی ہیں، دریافت فرمایا: کیا بات ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: مجھے حیض آگیا ہے، لوگ (عمرہ سے) حلال ہوگئے اور میں نہیں ہوئی اور نہ خانہ کعبہ کا طواف کیا، طواف کرنے کے بعد اب لوگ حج کے لئے نکل رہے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ((ن هذا أمر قد كتبه الله على بنات آدم، فاغتسلي، ثم أهلي ففعلت ووقفت المواقف كلها، حتى إذا طهرت طافت بالكعبة وبالصفا والمروة، ثم قال: قد حللت من حجك وعمرتك جميعا)) ”یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالی نے بنات آدم (خواتین) کے حق میں مقدر کر دیا ہے، لہذا غسل کر کے تلبیہ پکارنا شروع کردو، انہوں نے ایسا ہی کیا، تمام مواقف میں وقوف کیا، جب وہ پاک وصاف ہو گئیں تو خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی، اس کے بعد رسول اکرم ﷺ نے ان سے کہا: اب تم حج وعمرہ دونوں سے حلال ہوگئیں۔“ ۔ علامہ ابن القیم تہذیب السنن (2/303) میں لکھتے ہیں: ”صحیح احادیث سے واضح طور پر ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہلے پہل عمرہ کا تلبیہ پکارا تھا (یعنی عمرہ کا احرام باندھا تھا) اس کے بعد رسول اکرم ﷺ نے آپ کو جس وقت آپ حائضہ ہوگئیں حج کا تلبیہ پکارنے کا حکم دیا تھا (یعنی حج کا احرام باندھنے کا حکم دیا تھا) تو اس طرح آپ قارنہ ہوگئیں، اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے آپ سے کہا تھا: ((يكفيك طوافك بالبيت وبين الصفا والمروة لحجك وعمرتك)) ”خانہ کعبہ کا تمہارا (ایک) طواف اور صفا مروہ کی تمہاری (ایک) سعی تمہارے حج وعمرہ دونوں کے لئے کافی ہے۔“ ۔
5- عورت احرام کے وقت کیا کرے گی؟
عورت احرام کے وقت وہی سارے اعمال انجام دے گی جو مرد انجام دیتے ہیں، یعنی غسل کرے گی، اگر ضرورت ہوگی تو بال، ناخن کاٹ کر ناپسندیدہ بو کو زائل کرکے صفائی اور نظافت حاصل کرے گی تاکہ حالت احرام میں ان کی ضرورت نہ پیش آئے، کیونکہ حالت احرام میں ان کی ممانعت ہے، اگر ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے تو کوئی لازمی بات نہیں ہے، اس لیے کہ یہ چیزیں احرام کی خصوصیت میں داخل نہیں ہیں۔ جسم میں کسی ایسے عطر کے لگانے میں حرج نہیں ہے جس میں پھیلنے والی تیز خوشبو نہ پائی جاتی ہو، دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں: ((كنا نخرج مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فنضمد جباهنا بالمسك عند الإحرام، فإذا عرقت إحدانا سال على وجهها، فيراها النبي -صلى الله عليه وسلم- فلا ينهانا)) (ابو داؤد) ”ہم رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نکلتے تھے، احرام کے وقت اپنی پیشانیوں پر مشک کا لیپ لگا لیا کرتے تھے اور جب کسی کو پسینہ ہوتا تو یہ بہہ کر اس کے چہرے پر آجاتا، نبی کریم ﷺ دیکھتے اور منع نہیں کرتے تھے۔“
علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (5/12) میں فرماتے ہیں: ”آپﷺ کا سکوت اختیار کرنا جواز کی دلیل ہے اس لیے کہ آپ کسی غلط یا باطل کام پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔“
6- اگر عورت احرام سے پہلے نقاب یا برقعہ پہنے ہو تو احرام کی نیت کے وقت انہیں نکال دے گی۔
برقعہ یا نقاب چہرہ کے اس پردہ کو کہتے ہیں جس میں دونوں آنکھوں کی جگہوں پر سوراخ بنے ہوتے ہیں جن کے ذریعہ نقاب پوش یا برقعہ پوش عورت دکھلائی دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ((لا تنتقب المحرمة)) (بخاری) ”عورت حالت احرام میں نقاب نہیں لاگائے گی۔“ اور برقعہ کی حیثیت نقاب سے فزوں تر ہے۔ اسی طرح عورت اگر احرام سے پہلے دستانہ پہنے ہوگی تو انہیں بھی احرام کی نیت کرتے وقت نکال دے گی۔ قفاز (دستانہ) دونوں ہاتھوں کے واسطے بنا ہو ایک ایسا مخصوص لباس ہے جس میں ہاتھوں کو ڈال کر چھپایا جاتا ہے۔ نقاب یا برقعہ کے علاوہ کسی دوسری چیز سے اپنا چہرہ چھپا سکی ہے بایں طور کہ ہاتھوں کو اپنے اضافی کپڑوں کے اندر کر لے گی، کیونکہ چہرہ اور دونوں ہاتھ پردہ میں داخل ہیں جن کا حالت احرام یا غیر احرام میں مردوں سے چھپانا واجب ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خواتین مکمل طور پر عورت (غیر محرم سے چھپانے کی چیز ہے) ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے کپڑے پہنیں گی جن سے مکمل ستر پوشی ہو، اور محمل سے سایہ بھی حاصل کر سکتی ہیں، البتہ نبی کریم ﷺ نے نقاب اور قفاز (دستانہ) کے پہننے سے منع کیا ہے۔ قفاز (دستانہ) ہاتھوں کے لیے بطور غلاف (لفافہ) بنایا جاتا ہے۔ اگر عورت حالت احرام میں اپنا چہرہ کسی ایسی چیز سے چھپاتی ہے جو چہرہ سے مس نہ کرتی ہو تو یہ متفقہ طور پر جائز ہے، اور اگر چہرہ سے مس کرتی ہو تو صحیح مسلک کے مطابق یہ بھی جائز ہے، اسے اس بات کا مکلّف نہیں بنایا جائے گا کہ اپنے پردہ کو چہرہ سے لکڑی یا ہاتھ یا کسی دوسری چیز کے ذریعہ دور رکھے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو یکساں حیثیت دی ہے، اور دونوں کو آدمی کے بدن (دھڑ) کی حیثیت حاصل ہے نہ کہ اس کے سر کی حیثیت، ازواج مطہرات اپنے چہرون پر پردے ڈال لیتی تھیں اس کی پرواہ نہین کرتی تھیں کہ وہ چہرون سے دور ہیں۔ کسی اہل علم نے رسول اللہ ﷺ سے بطور حدیث یہ نقل نہین کیا ہے: ((إحرام المرأة في وجهها)) یعنی ”عورت کا احرام اس کے چہرے میں ہے“، بلکہ یہ بعض علماء سلف کا مقولہ ہے۔
علامہ ابن القیم تہذیب السنن (2/350) مین لکھتے ہیں: ”حالت احرام میں سوائے نقاب کی ممانعت کے رسول اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں ایک لفظ بھی ثابت نہیں ہے کہ عورت اپنا چہرہ کھلا رکھے گی۔“ مزید لکھتے ہیں: ”حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ حالت احرام میں وہ اپنے چہرہ کو ڈھکے رہتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ((كان الركبانُ يمرُّون بنا ونحنُ معَ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ مُحرماتٌ فإذا حاذَوا بنا سَدلت إحدانا جلبابَها من رأسِها على وجهِها وإذا جاوزونا كشفْناهُ)) ”سواروں کے قافلے ہم سے گزرتے تھے اور ہم رسول اکرم ﷺ کے ساتھ حالت احرام میں ہوتے تھے، جب وہ ہمارے بالکل سامنے آجاتے تو ہم اپنے چہروں پر اپنی چادریں ڈال لیا کرتے تھے اور جب وہ ہم سے آگے بڑھ جاتے تو ہم اپنے چہروں کو کھول لیتے تھے۔“ (ابو داؤد) ۔
احرام والی عورت کو معلوم ہونا چاہیے کہ چہرہ اور ہاتھوں کو کسی ایسی چیز سے خو خاص طور پر انہی کے لیے سلے گئے ہوں جیسے نقاب، یا دستانے سے چھپانے ممنوع ہے (لیکن اس کے ساتھ) غیر محرم لوگوں سے چہرہ اور دونوں ہاتھوں کو دوپٹہ یا کپڑے کے ذریعے چھپانا واجب ہے، اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ لکڑی یا پگڑی وغیرہ سے جیسی کوئی چیز رکھ کر پردہ کو چہرہ کی ملامست سے دور رکھا جائے۔
7- حالت احرام میں خواتین کے لیے جملہ زنانہ لباسوں کا استعمال جائز ہے بشرطیہکہ وہ زیب وزینت والے نہ ہوں،
اور مردانہ لباسوں کے مشابہ نہ ہوں، اور نہ اتنے تنگ وچست ہون کہ جسمانی اعضاء کی ساخت واضح ہوتی ہو، اور نہ اتنے باریک ہوں کہ ان کے نیچے سے جسم جھلکتا ہو، اور نہ اتنے چھوٹے ہوں کہ ہاتھ اور پیر کھلے ہوں، بلکہ طویل، موٹے اور کشادہ ہونے ضروری ہیں۔
علامہ ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ عورت احرام کی حالت میں قمیص، پائجامہ، اوڑھنی اور موزے استعمال کر سکتی ہے۔“ (المغنی 3/328)
لباس کے سلسلے میں عورت کسی خاص قسم کے رنگ کی پابند نہین ہے بلکہ وہ اپنے مناسب جو رنگ چاہے سرخ، سیاہ کسی بھی رنگ کا لباس پہن سکتی ہے بلکہ کسی ایک رنگ کے پہنے ہوئے لباس کو جب چاہے دوسرے رنگ کے لباس سے تبدیل بھی کر سکتی ہے۔
8- احرام کے بعد خواتین کے لیے تلبیہ پکارنا مسنون ہے، لیکن اتنی آواز سے کہ وہ خود سن سکے۔
علامہ ابن عبدالبر فرماتے ہیں: ”علماء کا اس امر پر اجماع ہے کہ عورت کے حق میں یہی مسنون ہے کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ نہیں پکارے گی، بلکہ اتنی آواز سے تلبیہ پکارے گی کہ وہ خود سن سکے، فتنہ کے خوف سے بلند آواز سے اس کا تلبیہ پکارنا مکروہ ہے، اسی وجہ سے خواتین کے حق میں نہ تو اذان مشروع ہے اور نہ ہی اقامت، اور نماز تالی بجانا اس کے حق مین مسنون ہے۔“ (المغنی: 2/330،331)
9-
طواف کعبہ کے وقت خواتین پر مکمل ستر پوشی، آواز کا پست رکھنا، نظر نیچی رکھنا اور مردوں کے بھیڑ میں خصوصاً حجر اسود اور رکن یمانی کے قریب نہ جانا واجب ہے، مطاف کے بالکل آخری حصہ میں جہاں مردوں کا ازدحام نہ ہو ان کا طواف کرنا زیادہ بہتر اور افضل ہے بہ نسبت مطاف کے قریبی حصہ میں بیت اللہ سے قریب رہ کر طواف کرنے کے، کیونکہ مردوں کے ساتھ ازدحام لگانا فتنہ کی وجہ سے حرام ہے، جبکہ بیت اللہ (خانہ کعبہ) سے قریب رہنا اور حجر اسود کا بوسہ دینا اگر بسہولت ان کا حصول ممکن ہو تو یہ زیادہ سے زیادہ سنت ہے، لہٰذا ایک سنت کے حصول کی خاطر حرام کام کا ارتکاب نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اس صورتحال میں ان کے لیے ان دونون پر عمل کی سنیت بھی باقی نہین رہ جاتی، کیونکہ اس صورتحال میں ان کے لیے منون یہی ہے کہ جب حجر اسود کے بالمقابل ہون گی تو اس کی طرف اشارہ کریں گی۔
امام نووی رحمہ اللہ المجموع (8/37) میں لکھتے ہیں: ”ہمارے اصحاب (علماء مذہب) کا قول ہے کہ خواتین کے لیے حجر اسود کا بوسہ یا اس کا استلام (ہاتھ سے چھو کر اس کو بوسہ دینا) غیر مستحب ہے، مگر یہ کہ رات وغیرہ میں جب مطاف خالی ہو تو ایسا کر سکتی ہیں، کیونکہ اس میں خود ان کے لئے اور دوسرے لوگوں کے لئے ضرر اور فتنہ ہے۔“
علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ المغنی (3/331) میں لکھتے ہیں: ”خواتین کے لئے رات میں کواف کرنا مستحب ہے، کیونکہ رات کے وقت طواف میں زیادہ ستر پوشی ہوتی ہے، ازدحام بھی کم ہوتا ہےو اس وقت بیت اللہ سے قربت اور حجر اسود کا استلام بھی ان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے۔“
۔
10- علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ المغنی (3/394) میں لکھتے ہیں: ”خواتین کے طواف اور ان کی سعی میں معمول کے مطابق چلنا ہے۔ علامہ ابن المنذر فرماتے ہیں: اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ طواف کعبہ میں خواتین پر اضطباع (داہنے کندھے کو کھولنا) بھی نہیں ہےو کیونکہ رمل (دلکی چال) اور اضطباع کا مقصد طاقب وقوت کا مظاہرہ ہے اور خواتین سے طاقت وقوت کا مظاہرہ مطلوب نہیں ہے، بلکہ ان سے ستر پوشی مطلوب ہے، رمل واضطباع میں اس کے برخلاف بے پردگی پائی جاتی ہے۔“
11- حائضہ عورت طہارت حاصل کرنے تک ن اعمال حج کو ادا کرے گی؟
حائضہ تمام اعمال حج ادا کرے گی، احرام باندھے گی، وقوف عرفہ کرے گی، مزدلفہ میں رات گزارے گی، کنکری مارے گی، البتہ بیت اللہ کا طواف پاک ہونے سے پہلے نہیں کرے گی۔ دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جس میں رسول اکرم ﷺ نے حیض آجانے پر ان سے فرمایا تھا: ((افعلي ما يفعلُ الحاجُّ غيرَ أنْ لا تطوفي بالبيتِ حتى تَطْهُرِي)) ”تمام اعمال حج کو انجام دو، البتہ طہارت حاصل کرنے تک بیت اللہ کے طواف سے رکی رہو۔“ (متفق علیہ) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ((فاقضي ما يقضي الحاجُّ غيرَ أنْ لا تطوفي بالبيتِ حتى تغتسلي)) ”وہ سارے مناسک حج ادا کرو جن کو ایک حاجی ادا کرتا ہے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا یہاں تک کہ غسل (طہارت) سے فارغ ہو جاؤ۔“
امام شوکانی نیل الاوطار (5/49) میں لکھتے ہیں: ”مذکورہ حدیث سے حائضہ کے لیے طواف سے نہی (ممانعت) واضح طور پر ثابت ہوتی ہے، یہاں تک کہ حیض کا خون بند ہو جائے اور غسل (طہارت) سے فارغ ہوجائے، اور نہی (ممانعت) فساد کو چاہتی ہے جس سے عمل کا بطلان مراد ہوتا ہے، لہٰذا اس حائضہ کا طواف باطل ہے، یہی جمہور کا قول ہے۔“
صفا ومروہ کے مابین سعی بھی نہیں کرے گی، کیونکہ سعی اس طواف کے بعد ہی صحیح ہوسکتی ہے جسے حج کے رکن کی حیثیت حاصل ہے اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے سعی طواف کے بعد ہی کی ہے۔
امام نووی المجموع (8/82) میں لکھتے ہیں: اگر کسی نے طواف سے پہلے سعی کرلی تو ہمارے نزدیک اس کی سعی درست نہیں ہوگی، یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ امام ماوردی سے ہم یہ قول نقل کر آئے ہیں کہ انہوں نے اس بارے میں اجماع نقل کیا ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ علامہ ابن المنذر نے امام عطاء اور بعض اہل الحدیث سے اس کی صحت نقل کی ہے (یعنی اگر طواف سے پہلے سعی کرلی تو اس کی سعی صحیح مانی جائے گی) ہمارے اصحاب (علماء مذہب) نے عطاء اور داؤد (ظاہری) رحمہم اللہ سے اسے نقل کیا ہے۔
ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے طواف کے بعد ہی سعی کی تھی اور فرمایا تھا: ((لِتَأْخُذُوا عَنِّي مناسِكَكُمْ)) ”مجھ سے اپنے مناسک حج حاصل کرلو۔“ رہی صحابی رسول ابن شریک رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں آپ فرماتے ہیں: ”میں حج کے لیے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نکلا تھا، لوگ آپ کے پاس آتے، بعض کہتے: یا رسول اللہ میں نے طواف سے پہلی سعی کرلی، یا یہ کہ میں نے ایک عمل کو دوسرے عمل پر مقدم یا مؤخر کر دیا تو آپﷺ ارشاد فرماتے: ((لا حرج إلا على رجل اقترض من عرض رجل مسلم وهو ظالم، فذلك الذي هلك وحرج)) ”کوئی حرج نہیں ہے سوائے اس شخص کے جس نے مسلمان شخص کی عزت ظالمانہ طریقے سے برباد کی تو وہ البتہ تباہ ہوگا، حرج میں پڑگیا۔“ (اور گنہگار ہوا) تو اس حدیث کو امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے اس کےتمام راوی صحیحین کے راوی ہیں، سوائے صحابی رسول اسامہ بن شریک کے۔ اس حدیث کو علامہ خطابی وغیرہ نے دس معنی ومفہوم پر محمول کیا ہے اسی پر محمول کیا جائے گا اور وہ یہ ہے کہ سائل کا یہ کہنا کہ میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی، یعنی طواف قدوم کے بعد اور طواف افاضہ سے پہلے سعی کرلی۔“
استاد محترم علامہ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر اضواء البیان (5/252) میں فرماتے ہیں: ”واضح ہو کہ جمہور اہل علم کا قول ہے کہ سعی‘طواف کے بعد ہی صحیح ہوسکتی ہے، اگر طواف سے پہلے سعی کرلی تو یہ سعی جمہور کے نزدیک صحیح نہیں ہوگی، اس کے قائلین میں ائمہ اربعہ بھی شامل ہیں، امام ماوردی وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔“ اس کے بعد شیخ موصوف نے امام نووی کا کلام اور صحابی رسول ابن شریک رضی اللہ عنہ کی حدیث کا جواب جس کا ابھی تذکرہ کیا گیا ہے نقل کیا ہے، پھر فرماتے ہیں: ”حدیث میں سائل کے اس قول ((قبل أن أطوف)) سے مراد طواف افاضہ ہے جس کو رکن کی حیثیت حاصل ہےو اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ اس نے طواف قدوم‘ جس کو رکن کی حیثیت نہیں حاصل ہے‘ کے بعد سعی کی تھی۔“
علامہ ابن قدامہ المغنی (5/250 طبع ہجر) میں رقم طراز ہیں: ”سعی‘ طواف کے تابع ہےو لہذا طواف سے پہلے سعی کرنا درست نہیں ہے، اگر طواف سے پہہلے کسی نے سعی کر لی تو یہ سعی صحیح نہیں ہوگی۔ امام مالک، امام شافعی اور اصحاب رائے کا یہی قول ہے۔ امام عطاء رحمہم اللہ کے قول کے مطابق یہ سعی صحیح ہو جائے گی۔ امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اگر بھول سے سعی پہلے کر لی تو صحیح ہو جائے گی اور اگر عمداً کی ہے تو درست نہیں ہوگی کیونکہ رسول اکرم ﷺ سے لا علمی اور نسیان کی صورت میں تقدیم وتاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ”لا حرج“ (یعنی کوئی بات نہیں) فرمایا تھا۔ اول الذکر مسلک کی توجیہ یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے طواف کے بعد سعی کی تھی اور فرمایا تھا: ((لِتَأْخُذُوا عَنِّي مناسِكَكُمْ)) ”اپنے مناسکِ حج مجھ سے سیکھو۔“ -
سابقہ سطور سے واضح ہو گیا کہ طواف سے ماقبل سعی کو صحیح قرار دینے والوں کا حضرت ابن شریک رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث سے استدلال درست نہیں ہے، حدیث میں اس مسئلے سے کوئی تعرض ہی نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ مذکورہ حدیث دو میں سے کسی ایک حالت پر محمول کی جائے گی، یا تو حدیث اس شخص کے حق میں ہے جس نے طواف افاضہ سے پہلے طواف قدوم کے بعد سعی کی، لہذا اس کی سعی طواف کے بعد ہی ہوئی، یا یہ حدیث بھول کا شکار ہو جانے والے اور جاہل کے حق میں ہے، قصداً طواف سے پہلے سعی کرنے والے کے بارے میں نہیں ہے۔ اس مسئلہ میں‘ میں نے قدرے تفصیل سے کام کیا ہےو کیونکہ آج کے دور میں بعض ایسے حضرات ظاہر ہوئے ہیں جو مطلقاً طواف سے پہلے سعی کے جواز کا فتویٰ دے رہے ہیں۔ واللہ المستعان
تنبیہ:
طواف سے فراغت کے بعد اگر عورت کو حیض آجائے تو حالت حیض ہی میں سعی کرسکتی ہے، کیونکہ سعی کے لیے طہارت (پاکیزگی) لازمی شرط نہیں ہے۔ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ المغنی (5/246) میں لکھتے ہیں: ”اکثر اہل علم کے نزدیک سعی کے لیے طہارت شرط نہیں ہے، اس کے قائلین امام عطاء، امام مالک، امام شافعی، امام ابو ثور رحمہم اللہ اور دیگر اصحاب رائے ہیں۔“ مزید لکھتے ہیں: ”امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اگر طواف کعبہ سے فراغت کے بعد حیض آجائے تو صفا ومروہ کی سعی کرکے واپسی کے لیے نکل سکتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروای ہے وہ فرماتی ہیں: طواف کعبع اور اس کی دو رکعتوں سے فراغت کے بعد عورت کو حیض آجائے تو صفا مروہ کی سعی کرسکی ہے۔“ (اثرم نے اس کو روایت کیا ہے)
12- چاند چھپ جانے کے بعد لوگوں کے ازدحام کے خوف سے خواتین کا کمزور اور ضعیف لوگوں کے ساتھ مزدلفہ سے کوچ کرنا اور منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ کو کنکری مارنا جائز ہے۔
-
علامہ موفق الدین ابن قدامہ المغنی (5/386) میں لکھتے ہیں: ”کمزور، ضعیف لوگوں اور خواتین کو (مزدلفہ سے منیٰ کے لیے) پہلے روانہ کردینے میں کوئی حرج نہیں ہے، (صحابہ کرام میں سے) حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما اپنے خاندان کے ضعیف اور کمزور لوگوں کو پہلے ہی روانہ کردیا کرتے تھے۔ امام عطاء، ثوری، شافعی، ابو ثور رحمہم اللہ نیز دیگر اصحاب رائے کا یہی مسلک ہے۔ ہمارے علم کے مطابق اس مسئلہ میں کسی نے مذکورہ قول کی مخالفت نہیں کی ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں کمزور ناتواں لوگوں کے ساتھ نرمی وشفقت پائی جاتی ہے، اسوۂ رسول ﷺ کے اقتدا کے ساتھ بھیڑ بھاڑ اور ازدحام کی مشقت سے انہیں بچانا اور محفوظ رکھنا بھی ہے۔“ -
علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (5/70) میں لکھتے ہیں: ”دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے جنہیں رخصت نہیں حاصل ہے، کنکری مارنے کا وقت طلوع آفتاب کے بعد ہے، اور جنہیں رخصت حاصل ہے جیسے خواتین، ضعیف اور کمزور لوگ، ان لوگوں کے لیے طلوع آفتاب سے پہلے کنکری مارنا جائز ہے۔“
امام نووی المجموع (8/125) میں امام شافعی رحمہ اللہ ودیگر علماء مذہب سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”کمزور، ضعفاء اور خواتین وغیرہ کے حق میں سنت یہ ہے کہ انہیں نصف شب کے بعد طلوع فجر سے پہلے مزدلفہ سے منی کے لئے روانہ کردیا جائے تاکہ لوگوں کے ازدحام اور بھیڑ سے پہلے ہی جمرہ عقبہ کو کنکری مار کر فارغ ہوجائیں۔“ اس کے بعد موصوف نے دلیل کے طور پر متعدد احادیث ذکر کی ہیں۔
13- خواتین کو حج یا عمرہ میں اپنے سروں کا حلق کرانا جائز نہیں ہے، بلکہ بالوں کے اوپری حصہ سے صرف ایک انگلی کے برابر بال کاٹ لیں گی۔
-
علامہ ابن قدامہ المغنی (5/310) میں لکھتے ہیں: ”خواتین کے حق میں قصر (یعنی بال چھوٹا کرانا) مشروع ہے، نہ کہ حلق، اس میں علماء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس پر علامہ ابن المنذر نے اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے، کیونکہ ان کے حق میں حلق (یعنی بال کا منڈانا) ایک طرح سے مثلہ (اللہ کی بنائی ہوئی شکل وصورت کو مسخ کرنا) ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ((ليْسَ على النِّساءِ حَلْقٌ؛ إنَّما على النِّساءِ التَّقصيرُ)) ”خواتین پر حلق نہیں ہے، بلکہ ان پر تقصیر (بالوں کو چھوٹا کروانا) ہے۔“ (ابو داؤد) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((نَهَى رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أنْ تَحلِقَ المرأةُ رأْسَها)) رسول اللہ ﷺ نے خواتین کو حلق کرانے سے منع فرمایا ہے۔“ (ترمذی) امام احمد رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عورت ہر چوٹی سے انگلی کے پور کے برابر بال کاٹ لے گی۔ یہی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، امام شافعی، اسحاق اور ابوثور رحمہم اللہ کا بھی قول ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فر ماتے ہیں: میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو سنا ہے آپ سے ایک ایسی عورت کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنے تمام بالوں سے قصر کرتی ہو؟ آپ نے جواب دیا: ہاں! تمام بالوں کو سر کے اگلے حصہ پر اکٹھا کرکے ان کے سر سے ایک انگلی کے برابر کاٹ لے گی۔“
امام نووی المجموع (8/ 150،154) میں لکھتے ہیں: ”علماء کا اس پر اجماع ہے کہ خواتین کو حلق (بال منڈانے) کا حکم نہیں دیا جائے گا، بلکہ ان کو تقصیر (چھوٹا) کرانا ہے، اس لیے کہ حلق ان کے حق مین بدعت اور مُثلہ ہے۔“
14- جمرہ عقبہ کو کنکری مارنے اور بالوں کو تقصیر کرانے کے بعد عورت اپنے احرام سے حلال ہوجاتی ہے،
احرام کی وجہ سے جو چیزیں اس پر حرام تھیں سب حلال ہوجائیں گی، البتہ وہ شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی، طواف افاضہ (زیارت) سے پہلے شوہر کو بیوی سے ہم بستری کی اجازت نہیں ہے، اور عورت اپنے شوہر کو طواف زیارت سے پہلے اس کی اجازت بھی نہیں دے سکتی ہے۔ اگر اس درمیان شوہر نے اس سے صحبت کر لی تو اس پر قدیہ واجب ہو جائے گا، یعنی مکہ میں ایک بکری ذبح کر کے اس کے گوشت کو حرم کے فقراء اور مساکین پر تقسیم کرنا پڑے گا، کیونکہ شوہر نے حلال اور کے بعد وطی کی ہے۔
15- طواف افاضہ (زیارت) کے بعد اگر عورت کو حیض آجائے تو اس کو اجازت ہے جب چاہے سفر کر سکتی ہے، طواف وداع اس سے ساقط ہو جائے گا۔ دلیل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، فرماتی ہیں: ((حاضت صفية بنت حيي بعدما أفاضت، قالت: فذكرت ذلك لرسول -صلى الله عليه وسلم- فقال: أحابستنا هي ؟ قلت: يا رسول الله إنها قد أفاضت وطافت بالبيت، ثم حاضت بعد الإفاضة، قال: فلتنفر إذن)) ”صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو طواف افاضہ کے بعد حیض آگیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اکرم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: کیا وہ ہمیں روکنے والی ہیں؟ میں نے کہا: انہوں نے طواف افاضہ کر لیا ہے، طواف افاضہ کے بعد ان کو حیض آیا ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: تب وہ واپسی کے لئے نکل پڑیں۔“ (متفق علیہ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ((أمر الناس أن يكون آخر عهدهم بالبيت إلا أنه خفف عن المرأة الحائض)) لوگوں کو اس کا حکم دیا گیا ہے کہ ان کا آخری وقت خانہ کعبہ کے طواف کے ساتھ ہو (یعنی طواف وداع کریں) مگر حائضہ کے حق میں تخفیف کردی گی ہے۔ (متفق علیہ) (یعنی اس سے یہ معاف کردیا گیا ہے) ابن عباس ہی سے ایک دوسری روایت ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: ((أن النبي -صلى الله عليه وسلم- رخص للحائض أن تصدر قبل أن تطوف بالبيت إذا كانت قد طافت في الإفاضة)) ”نبی کریم ﷺ نے حائضہ عورت کو طواف (وداع) سے قبل واپس ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی ہےو بشرطیکہ طواف افاضہ پہلے کرچکی ہو۔“ (احمد)
امام نووی المجموع (8/281) میں علامہ ابن المنذر کے حوالہ سے لکھتے ہیں: ”تمام اہل علم کا یہی قول ہے، ان میں امام مالک، اوزاعی، ثوری، احمد، اسحاق، ابوثور، ابو حنیفہ رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں۔“
علامہ ابن قدامی المعنی (3/461) میں لکھتے ہیں: ”یہی عام فقہاء کا قول ہے۔“ مزید لکھتے ہیں: ”نفاس والی عورت کا بھی وہی حکم ہے جو حائضہ کا ہےو کیونکہ کسی چیز کے ساقط ہونے یا واجب ہونے میں حیض ونفاص دونوں کا حکم یکساں ہے۔“
16- نماز کی ادائیگی اور ذکر ودعا کے لیے مسجد نبوی کی زیارت خواتین کے حق مین مستحب ہے (بشرطیکہ ان کی زیارت محرم کے ساتھ ہو) لیکن قبر رسولﷺ کی زیارت ان کے لیے جائز نہیں ہے، کیونکہ زیارت قبور سے خواتین کو منع گیا ہے۔
شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ سابق مفتی سعودی عرب رحمہ اللہ اپنے مجموع فتاویٰ (3/239) میں لکھتے ہیں: ”اس مسئلہ میں صحیح اور راجح مسلک یہ ہے کہ خواتین کے لیے قبر نبوی کی زیارت دو اسباب کی بنا پر ممنوع ہے: سبب اول: نہی (ممانعت) کے دلائل کی عمومیت، اور جب کسی چیز سے نہی (ممانعت) عام ہو تو اس نہی کی تخصیص کے لیے دلیل کاہونا ضروری ہے۔ سبب دوم: جس علت اور سبب کی وجہ سے خواتین کو زیارت قبور سے منع کیا گیا ہے وہ علت یہاں بھی موجود ہے۔“
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”مناسک حج“ میں مسجد نبوی کے زائرین کے لیے قبر نبوی کی زیارت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ”قبر نبوی کی زیارت خاص طور سے مَردوں کے لیے مشروع ہے، خواتین کے لیے کسی بھی قبر کی زیارت جائز نہیں ہےو جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور ان پر مسجدیں بنانے والے اور چراغاں کرنے والے مردوں پر لعنت بھیجی ہے۔
البتہ مسجد نبوی میں نمام کی ادائیگی اور دعا وغیرہ جیسے اعمال جو تمام مساجد میں مشروع ہیں‘ان کے لئے مدینہ کا رخت سفر باندھنا ہر ایک کے لئے مشروع ہے۔“
فصل نہم
ازدواجی زندگی کے خاص مسائل ارشاد ربانی ہے: وَمِنْ آياتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْها وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ. ”اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔“ (الروم: 21) - وَأَنْكِحُوا الْأَيامى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبادِكُمْ وَإِمائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ . ”تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔“ (النور: 32) علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس میں ایک طرح سے شادی کرنے کا حکم دیا گیا ہےو صاحب استطاعت وقدرت شخص کے حق میں اہل علم نے ایک جماعت شادی کے وجود کی قائل ہےو وہ حدیث کے ظاہری معنیٰ سے استدلال کرتی ہے، جس میں رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ((يا معشر الشباب، من استطاع منكم الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فإنه له وجاء)) ”نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے اسے شادی کر لینا چاہیے، کیونکہ شادی نگاہوں کو پست رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی ہے، اور جس کو طاقب نہ ہو اسے روزہ رکھنا چاہیے، اس لیے کہ روزہ اس کی قوت شہوت کو توڑنے والا ہے۔“ (اس حدیث کو امام بخاری و امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی صحیحین کے اندر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔) اس کے بعد علامہ موصوف نے مذکورہ آیت کے ٹکڑے: إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ”اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنادے گا۔“ سے استدلال کرتے ہوئے شادی کو معاشی خوشحالی کا سبب قرار دیا ہے اور اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل آثار نقل کئے ہیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”شادی کے سلسلے میں اللہ تعالی کے حکم کو بجا لاؤ، اللہ تعالی نے تم سے معاشی فراوانی کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کرے گا، کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ. ”اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی بنادے گا، اللہ تعالی کشادگی اور علم والا ہے۔“ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: ”نکاح (شادی) میں اقتصادی خوشحالی تلاش کرو، کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں: ” اس اثر کو علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس معنیٰ ومفہوم کا ایک اثر علامہ بغوی رحمہ اللہ نے عمر بن الخطاب سے نقل کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: 5/94،95 - مطبوعہ دار الاندلس)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاوی (32/90) میں لکھتے ہیں: ” اللہ تعالی نے مومنوں کے لیے شادی اور طلاق کو مباح قرار دیا ہے، چنانچہ اسلام میں دوسرے مرد سے شادی کر لینے اور اس کے طلاق دے دینے کے بعد اپنی مطلقہ عورت سے شادی کی اجازت ہے، لیکن نصاریٰ آپس میں ایک دوسرے پر شادی کو حرام قرار دیتے ہیں، اور جن لوگوں نے اس کو مباح قرار دیا ہے، انہوں نے طلاق کی اجازت دیتے ہیں لیکن مطلقہ اگر کسی دوسرے آدمی سے شادی کرلیتی ہے تو ان کے نزدیک پہلے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے۔ اس طرح نصاریٰ کے یہان طلاق نہیں ہے، اور یہود کے یہاں دوسرے مرد سے شادی کرلینے کے بعد مطلقہ عورت کا رجوع نہیں ہوسکتا، لیکن مومنوں کے لیے اللہ تعالی نے دونون چیزوں کو جائز ومباح قرار دیا ہے۔“
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ ”الھدی النبوی“ (3/149) میں ازدواجی زندگی کے ایک اہم مقصد جماع (میاں بیوی کی صحبت) کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں: ”جماع در حقیقت تین امور کے لئے بنایا گیا ہے اور انہی تینوں امور کو جماع کے اصل اور بنیادی مقاصد کی حیثیت حاصل ہے: (1) نسل کا تحفظ وبقا اور اس کا استمرار ودوام، یہاں تک کہ اللہ تعالی کی مقدر کردہ تعداد دنیا میں ظاہر ہو کر مکمل ہو جائے۔
(2) اس پانی کا اخراج جس کا رک جانا اور جمع ہو جانا پورے جسم اور بدن کے لیے نقصان دن ہو سکتا ہے۔
(3) شہوت پوری کرنا، لذت حاصل کرنا اور اللہ تعالی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا۔“
شادی کی متعدد عظیم فوائد ہیں، سب سے بڑا اور اہم فائدہ یہ ہے کہ شادی زنا جیسے برے عمل سے بچاؤ اور محرمات کی جانب بری نگاہ اٹھانے سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
شادی ہی کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے نسل کی بقا، حسب ونسب کی حفاظت
اور میاں بیوی کے مابین قلبی سکون اور روحانی طمانیت حاصل ہوتی ہے۔
مسلم معاشرہ میں جس صالح اور مثالی خاندان کو ایک اہم عنصر کی حیثیت حاصل ہے، اس کی تشکیل کے لیے زوجین کے درمیان باہمی تعاون کا حصول شادی کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
اسی شادی کے ذریعہ ہی شوہر بیوی کی کفالت اور اس کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری کو نبھا تا ہے اور بیوی گھریلو ذمہ داری کو ادا کرتی ہے۔ اسی شادی کے ذریعہ ایک عورت کو کاروبار حیات میں اپنی مناسب اور صحیح کارکردگی کے مظاہرہ کا موقع ملتا ہے۔ یہ دعویٰ کہ گھر سے باہر نکل کر سروس کرنے میں عورت مرد کے ہمسر اور برابر کی شریک ہے‘ درحقیقت یہ خود عورتوں اور انسانی معاشرہ کے دشمنوں کا دعویٰ ہے جنہوں نے عورتوں کو گھر کی چہار دیواری سے نکال کر ان کو ان کی اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا ہےو انہیں دوسروں کا عمل اور ان کا عمل دوسروں کو سونپ دیا ہے جس کی پاداش میں خاندانی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہےو میاں بیوی کے درمیان حسن مفاہمت کی بجائے سوء تفاہم کی خلیج حائل ہوگئی ہے جو بیشتر حالات میں آپس کی جدائی یا ناپسندیدہ اور پریشان کن زندگی گزارنے کا سبب بنی ہے۔
استاد محترم شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر اضواء البیان (3/422) میں فرماتے ہیں: ”معلوم ہونا چاہیے -اللہ تعالی ہم سب کو اپنے محبوب اور پسندیدہ اعمال کی توفیق عطا فرمائے- تمام معاملات اور شعبہ ہائے حیات مین مرد وزن کے درمیان برابری اور مساوات کا نظریہ غلط اور باطل ہونے کے ساتھ ساتھ عقل ومنطق، وحیِ آسمانی اور شریعتِ الٰہی کے بالکل مخالف ومنافی ہے، اس کے سبب سے معاشرتی نظام میں جو فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے وہ ہر ایک کے لئے ظاہر وعیاں ہے، محض اسی شخص پر یہ فساد وبگاڑ مخفی ہوسکتا ہے جس کی بصیرت کو اللہ تعالی نے سلب کر لیا ہو، کیونکہ اللہ تعالی نے خواتین کو ان کی اپنی مخصوص صفات کے ساتھ پیدا کر کے انسانی معاشرہ کی تشکیل میں متعدد ساجھی داری اور مشارکت کے لائق اور مناسب بنایا کہ ان کے علاوہ دوسرے ان کامون کیلئے موزوں ومناسب ہو ہی نہیں سکتے تھے جیسے حمل، ولادت، رضاعت، بچوں کی تربیت، گھر کی خدمتو کھانا پکانے، آٹا گوندھنےو جھاڑو دینے جیسی گھریلو ذمہ داریوں کا بجا لانا، یہ ساری ذمہ داریاں جن کو خواتین اپنے گھر کی چہار دیواری کے اندر رہ کر مکمل پردے، تحفظ، عفت وپاکدامنی، اپنی شرافت وکرامت اور انسانی اقدار کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیتی ہیں‘ معاش کی خاطر مردوں کی تگ ودو سے کسی طرح کم نہیں ہوتی ہیں۔ لہذا ان گئے گزرے جاہل کفار اور ان کی تقلید کرنے والوں کا یہ دعویٰ کہ عورتوں کو بھی گھروں سے باہر نکل کر کام کرنے کے سلسلے میں وہی حقوق حاصل ہیں جو مردوں کو حاصل ہیں‘ اس دعویٰ میں انسانی اقدار اور دین دونوں کا ضیاع ہے، جبکہ خواتین ایام حمل ورضاعت اور نفاس میں کسی بامشقت ڈیوٹی کو ادا کرنے کی قوت وطاقت نہیں رکھتی ہیں، یہ عام مشاہدہ کی بات ہے، اگر عورت اور اس کا شوہر دونوں ہی گھر سے باہر کام کے لئے نکل جائیں گے تو چھوٹے بچوںوں کو دیکھ بھال، شیر خوار بچوں کو دودھ پلانے اور ڈیوٹی سے فراغت کے بعد مردوں کی گھر واپسی کے وقت ان کے لئے کھانا وغیرہ کی تیاری جیسی ذمہ داریاں معطل ہو کر رہ جائیں گی، اگر کسی شخص کو اس عورت کی جگہ پر رکھ دیا جائے تو وہ شخص خود اس گھر کے اندر اسی تعطل کا شکار ہو کر رہ جائے گا جس تعطل سے فرار اختیار کرنے کے لئے عورت نے گھر سے باہر قدم نکالا تھا، علاوہ ازیں کام کے لئے عورت کا گھر سے نکلنا اور اسے ہر طرح کے کاموں میں گھسیٹنا اس میں انسانی اقدار اور دین دونوں کا ضیاع ہے۔“
لہٰذا مسلم بہنوں کو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہئے اور اس قسم کے باطل پروپیگنڈوں کے قریب نہیں جانا چاہئے کیونکہ ان پر فریب پروپیگنڈوں سے متاثر ہونے والی خواتین کے حالات ہی ان پروپیگنڈوں کی ناکامی اور ان کے بطلان کی بہتر دلیل ہیں، کہا جاتا ہے کہ تجربات واضح برہان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلم بہنوں کو اپنے عنفوان شباب ہی میں عمر ضائع ہونے سے پہلے شادی کے سلسلے میں چلد بازی سے کام لینا چاہئے جب کہ وہ مردوں کی نظروں میں قابل رغبت ہوں، تعلیم جاری رکھنے یا سروس پر برقرار رہنے کی خاطر شادی کو کبھی بھی موخر نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ کامیاب ازدواجی زندگی ہی میں ان کی سعادت اور سکون مضمر ہے، شادی کے ذریعہ تعلیم یا سروس کے نقصانات کی تلافی کی جاسکتی ہے لیکن تعلیم یا سروس خواہ وہ جس مقام ومعیار کی ہو، شادی کا متبادل نہیں ہو سکتی،
انہیں اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو بجالانے اور اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں پوری توجہ سے کام لینا چاہئے۔ یہی ان کا بنیادی عمل ہے جو ان کی زندگی میں کار آمد اور نفع بخش ہے۔ لہٰذا شادی کے مقابلہ میں کسی متبادل کی تلاش میں نہیں رہنا چاہئے، کوئی دوسری چیز اس کے مساوی نہیں ہوسکتی، نیک بخت اور صالح شخص سے کرنے میں کسی قسم کی تساہلی اور تاخیر نہیں برتنی چاہئے اس لئے کہ رسول اکرم ﷺ کا فرمان مبارک ہے: ((إذا أتاكم من تَرضَون دِينَه وخُلُقَه فأنكِحوه إن لا تفعلُوه تكن فتنةٌ في الأرضِ وفسادٌ كبيرٌ)) ”جب تمہارے پاس کوئی شخص آئے جس کے دین واخلاق سے تم مطمئن اور راضی ہو تو اس سے (اپنی بچیوں کی) شادی کردو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ برپا ہو گا اور زبردست طریقے سے فساد اور برائی پھیلے گی۔“ (اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کو حسن کہا ہے، اس کے متعدد شواہد بھی ہیں)
* شادی کے لیے عورت کی رضامندی:
جس خاتون کی شادی مقصود ہوتی ہے اس کی تین حالتوں میں سے کوئی ایک حالت ہوگی: (1) یا تو وہ کم سن باکرہ (غیر شادی شدہ) ہوگی۔ (2) یا تو وہ بالغہ باکرہ ہوگی۔ (3) یا وہ ثیبہ ہوگی یعنی جس کی پہلے شادی ہو چکی ہوگی۔ ہر ایک کے لئے الگ مخصوص حکم ہے:
1- کم سن بارکہ (غیر شادی شادہ) کے بارے میں علماء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے والد کو اس کی شادی کا حق حاصل ہےو کیونکہ کم سن بچی کی اجازت کا کوئی معنی ہی نہیں ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی لخت جگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی رسول اکرم ﷺ سے چھ سال کی عمر میں کی تھی اور نو سال کی عمر میں ان کی رخصتی کردی تھی۔ (متفق علیہ)
علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (6/128،129) میں لکھتے ہیں: ”مذکورہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ بلوغت سے قبل باپ کو بیٹی کی شادی کردینے کا پورا پروا حق حاصل ہے۔“ مزید لکھتے ہیں: ” یہی حدیث اس امر پر بھی دال ہے کہ کم سن لڑکی کی شادی بڑی عمر کے مرد سے کی جاسکتی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے اندر اسی پر ایک باب قائم کیا ہے، اور اس باب کے تحت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو ذکر کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس امر پر اجماع نقل کیا ہے۔“
علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ المغنی (6/487) میں تحریر کرتے ہیں: ”علامہ ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام اہل علم جن سے ہم نے علم اخذ کیا ہے ان کا اس امر پر اجماع ہے کہ والد اپنی کم سن لڑکی کی شادی کرسکتا ہے بشرطیکہ اس نے شادی مین کفو کا لحاظ رکھا ہو۔“
میں (یعنی مؤلف) کہتا ہوں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حضرت عائشع رضی اللہ عنہا کی 6 سال کی عمر میں رسول اکرم ﷺ سے شادی کرنے میں ان لوگوں کی سخت تردید پائی جاتی ہے جو کم عمر بچیوں کی بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ شادی پر نکیر کرتے ہیں اور ناک بھوں چڑھاتے ہیں، کتاب وسنت سے جہالت کی بنا پر یا اس کے پیچھے غلط مقاصد کارفرما ہونے کی وجہ سے اسے غلط رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ایک منکر کام تصور کرتے ہیں۔
2- باکرہ (غیر شادی شدہ) بالغہ عورت کی شادی اس کی رضا مندی اور اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکتی، اور اس کی خاموشی کو اجازت تصور کیا جائے گا، کیونکہ ارشاد نبوی ہے: ((ولا تنكح البكر حتى تستأذن، قالوا: يا رسول الله فكيف إذنها ؟ قال: أن تسكت)) ”باکرہ عورت کی شادی اس کی اجازت حاصل کئے بغیر نہیں کی جاسکتی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی کیسے اجازت حاصل کی جائے گی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ خاموش رہے۔“ (متفق علیہ) لہٰذا اہل علم کے صحیح قول کے مطابق باکرہ بالغہ عورت سے اس کی شادی کی رضا مندی اور اجازت حاصل کرنا ضروری ہے، خواہ اس کی شادی کرنے والا اس کا والد ہی کیوں نہ ہو۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ الھدی النبوی (5/96) میں لکھتے ہیں: ”جمہور سلف، امام ابوحنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ کا ایک روایت کے مطابق یہی قول ہے، یہی ہمارے نزدیک بھی راجح ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا قول ہم نہیں اختیار کرتے، کیونکہ یہی رسول اللہ ﷺ کے فرمان امر ونہی کے مطابق وموافق ہے۔“
3- شادی شدہ عورت کی (دوسری) شادی بھی اس کی اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکتی، البتہ اس کی اجازت صریح الفاظ (ہاں یا نہیں) میں حاصل کی جائے گی، بر خلاف باکرہ (غیر شادی شدہ) عورت کے، کہ اس کی خاموشی ہی کو اجازت تصور کیا جائے گا۔
المغنی (6/493) میں مذکور ہے: ”اس سلسلے میں اہل علم کے مابین ہمیں کسی اختلاف کا پتہ نہیں ہے کہ شادی شدہ عورت کی اجازت صریح الفاظ میں حاصل کی جائے گی، کیونکہ اس بارے میں واضح حدیث وارد ہے اور اس وجہ سے بھی کہ زبان ہی دل کی ترجمان ہے، اور اسی کا ہر ایسے مقام پر اعتبار ہوتا ہے جہاں اجازت کی ضرورت پڑتی ہے۔“
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاوی (32/39،40) میں تحریر فرماتے ہیں: ”کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی عورت کی شادی اس کی اجازت حاصل کیے بغیر کسی سے کردے، یہی رسول اکرم ﷺ کی تعلیم ہے، اگر عورت کسی شخص سے شادی کو ناپسند کرتی ہے تو اسے اس شخص سے شادی پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے، ہاں کم سن لڑکی کی شادی اس کا والد اجازت کے بغیر کر سکتا ہےو لیکن شایدی شدہ بالغہ عورت کی شادی اجازت کے بغیر نہ تو باپ کرسکتا ہے اور نہ باپ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص، اس مسئلہ میں تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اسی طرح بالغہ باکرہ (غیر شادی شدہ) عورت کی شادی باپ اور دادا کے علاوہ کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا، اس پر بھی مسلمانوں کا اجماع ہے۔ باپ اور دادا کو بھی اس سے اجازت حاصل کرنی چاہئے،
لیکن علماء کے مابین اس اجازت کے حکم میں اختلاف ہے، آیا وہ واجب ہے یا مستحب؟
صحیح قول کے مطابق اجازت حاصل کرنا ان دونوں پر واجب ہے۔ والی الامر کو اس شخص کے متعلق خوف الٰہی اور تقویٰ کو مد نظر رکھنا ضروری ہے جس سے وہ اپنی لڑکی کی شادی کرنے جا رہا ہے اور اس امر کی رعایت بہت ضروری ہے کہ کیا وہ لڑکی کا کفو بن سکتا ہے یا نہیں؟ لڑکی کی مصلحت اور اس کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر اس کی شادی کرنی چاہئے نہ کہ اپنے مفاد اور اپنی مصلحت کی خاطر کسی بھی شخص کے ساتھ شادی کردینی چاہئے۔“
* لڑکی کی شادی میں والی الامر کی شرط:
عورت کو اپنے موافق ومناسب شوہر کے انتخاب واختیار کا جو حق دین اسلام نے عطا کیا ہے‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کو اس بات کی مکمل چھوٹ اور آزادی دیدی گئی ہے کہ جس سے چاہے وہ شادی کرسکتی ہے، خواہ اس کی اس شادی کو وجہ سے اعزا واقربا اور اہل خاندان کی عزت وآبرو پر کسی قسم کی آنچ ہی کیوں نہ آئے، بکلہ اسے ایک ایسے والی سے مربوط کیا گیا ہے جس کی زیر نگرانی وہ اپنے شوہر کا انتخاب کرے گی، والی اس کی صحیح رہنمائی کرے گا اور عقد نکاح کا وہی ذمہ دار ہوگا، اسی کے ہاتھون عقد کے تمام امور انجام پائیں گے، عورت کو ازخود شادی کرنے یا عقد نکاح کا حق حاصل نہیں ہے، اگر وہ از خود عقد نکاح کا عمل انجام دیتی ہے تو اس کا نکاح باطل ہوگا کیونکہ سنن میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث میں آتا ہے: ((أيُّما امرأةٍ نكحَتْ نفسَها بغيرِ إذنِ وليِّها فنكاحُها باطلٌ فنكاحُها باطلٌ فنكاحُها باطلٌ)) ”جس عورت نے از خود اپنے والی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔“ (امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو حسن کہا ہے) سنن اربعہ میں یہ حدیث بھی مروی ہے: ((لا نكاحَ إلَّا بوليٍّ)) ”بغیر ولی کے نکاح نہیں ہے۔“ مذکورہ دونوں حدیثوں اور اس معنی ومفہوم کی دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا، کیونکہ کسی حکم کی نفی میں اصل صحت کی نفی ہوتی ہے۔ امام ترمذی کا ارشاد ہے: ”اسی حدیث پر اہل علم کا عمل ہے جن میں حضرت عمر، علی، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح فقہائے تابعین سے بھی مروی ہے کہ بغیر ولی کے نکاح درست نہیں ہوتا۔ امام شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ (ملاحظہ ہو: المغنی 6/449)
* نکاح کے اعلان کی غرض سے عورتوں کا دف بجانا:
نکاح کا اعلان اور اسے لوگوں کے مابین شہرت دینے کے لئے عورتوں کا دف بجانا مستحب ہے، بشرطیکہ یہ محض عورتوں کے درمیان ہو، اور اس میں موسیقی یا دیگر آلات لہو ولعب نہ ہوں، اور نہ ہی پیشہ ور گانے والیوں کی آواز اس میں شامل ہو۔ اس موقع پر اشعار پڑھنے اور گیت گانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ مردوں تک اس کی آواز نہ پہنچے، رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ((فصل ما بين الحلال والحرام الدف والصوت في النكاح)) ” نکاح میں حلال وحرام کے درمیان فرق کرنے والی چیز دف کا بجانا اور گیت گانا ہے۔“ اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے۔
علامہ شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار (6/200) میں لکھتے ہیں: ”یہ حدیث دلیل ہے کہ نکاح (شادی بیاہ) میں دف بجانا، بآواز بلند گیت گانا جیسے ”أتَيْناكم أتَيْناكم ...“ وغیرہ جائز ہے بشرطیکہ ایسے گیت نہ ہوں جن سے شر وفساد کو ہوا ملتی ہو، یا جن میں حسن وجمال، فسق وفجور اور جام وجم کی تعریف وتوصیف بیان کی گئی ہو، کیونکہ یہ تمام چیزیں نکاح (شادی بیاہ) میں ویسے ہی حرام ہیں جس طرح عام موقعوں پر حرام ہیں، اسی طرح دیگر تمام حرام لہو ولعب کی چیزیں حرام وممنوع ہیں۔“
مسلمان خواتین کو شادی بیاہ کے موقع پر زیورات اور کپڑوں کی خریداری میں حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ یہ اس اسراف کے قبیل سے ہے جس کی اللہ تعالی نے ممانعت فرمائی ہے اور بتلا دیا ہے کہ وہ اسراف کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا، ارشاد ربانی ہي: وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ”اور حد سے مت گزرو، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کا ناپسند کرتا ہے۔“ لہذا انہیں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرتے ہوئے فخر ومباہات سے دور رہنا چاہئے۔
* خاوند کی اطاعت واجب اور اس کی نافرمانی حرام ہے:
مسلم خواتین پر اپنے شوہر کی بھلے اور نیک کاموں میں اطاعت وفرمان برداری واجب ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہین کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ((إذا صلَّت المرأةُ خمسَها وحصَّنت فرجَها وأطاعت بعلَها دخلت من أيِّ أبوابِ الجنَّةِ شاءت)) ”اگر عورت نے اپنی پنجوقتہ فرض نمازیں ادا کرلیں، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور شوہر کی اطاعت وفرماں برداری کی تو جنت میں جس دروازے سے چاہے گی داخل ہو جائے گی۔ (صحیح ابن حبان) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسری حدیث مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فمایا ہے: ((لا يحِلُّ للمرأةِ أن تَصومَ وزَوجُها شاهِدٌ إلَّا بإذنِه، ولا تَأذَنَ في بَيتِه إلَّا بإذنِه)) ”کسی عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنے شوہر کے موجودگی میں نفلی روزے رکھے مگر اپنے شوہر کی اجازت سے، اور نہ اپنے شوہر کے گھر میں (کسی غیر کو آنے کی) اجازت دے مگر اپنے شوہر کی اجازت سے۔“ (بخاری مسلم) آپ ہی سے تیسری حدیث بھی مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ((إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فلم تأته، فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح)) ”اگر آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاتا ہے اور وہ نہیں آتی ہے، جس کی وجہ سے شوہر اس پر ناراض ہو کر رات گزارتا ہے تو فرشتے اس (عورت) پر صبح ہونے تک لعنت بھیجتے ہیں۔“ بخاری ومسلم کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه، فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها)) ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو بھی مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاتا ہے اور وہ انکار کرتی ہے تو وہ ذات جو آسمان پر ہے اس عورت پر ناراض رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو جائے۔“ عورت کے اوپر عائد شوہر کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اس کے گھر کی حفاظت ونگرانی کرے اور شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے، ارشاد نبوی ہے: ((المرأة راعية في بيت زوجها، ومسئولة عن رعيتها)) ”عورت اپنے شوہر کے گھر کی محافظ ونگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“
نیز اس پر یہ بھی ضروری ہے کہ گھر کے تمام کام کو از خود انجام دے، کسکی ایسی خادمہ کو باہر سے بلانے پر شوہر کو مجبور نہ کرے جس سے وہ پریشانی مین مبتلا ہو اور اس کی بان پر خود اسے اس کی اولاد کو فتنہ سے دوچار ہونا پڑے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ مجموع الفتاوی (32/260،261) میں لکھتے ہیں: ”فرمان الٰہی: ((فَالصَّالِحاتُ قانِتاتٌ حافِظاتٌ لِلْغَيْبِ بِما حَفِظَ)) النساء: 34 ”پس نیک عورتیں اطاعت شعار ہوتی ہیں اور خاوند کی عدم موجودگی میں بحفاظت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں۔“ آیت مبارکہ اس امر کی متقاضی ہے کہ عورت کے اوپر اپنے شوہر کی خدمت گزاری، اس کے ساتھ سفر، اپنے آپ کو اس کے قابو میں دینے (یعنی لطف اندوز ہونے کے لئے) اور دیگر امور میں مطلق اطاعت واجب ہے، رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ سے بھی اسی کا پتہ چلتا ہے۔“ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ ”الھدی والنبوی“ (5/188،189) میں فرماتے ہیں: ”خاوند کی خدمت گزاری کو جن علماء نے عورت پر لازم اور واجب قرار دیا ہے ان کا استدلال اس امر سے بھی ہے کہ جن لوگون کو اللہ تعالی نے اپنا مخاطب بنایا ہے ان کے نزدیک یہی چیز معروف تصور کی جاتی ہےو لیکن شوہر کا عورت کو آرام پہنچانا، اس کی خدمت گزاری کرناو جھاڑو دیناو آٹا گوندھنا، کپڑا دھوناو بستر لگانا اور گھریلو ذمہ داریوں کو بجا لانا منکر (ناپسندیدہ) کامون میں شماء کیے جاتے ہیں، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ((وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ)) البقرۃ: 228 ”اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردون کے ہیں اچھائی کے ساتھ۔“ اور ارشاد فرماتا ہے: ((الرِّجالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّساءِ)) النساء: 34 ”مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔“
اب اگر عورت شوہر کی خدمت نہ کرے بلکہ شوہر ہی عورت کا خادم بن کر رہے تو عورت کو مرد پر قوامیت (حاکمیت) حاصل ہوگی۔“ مزید فرماتے ہیں: ”عورت سے استفادہ اور اس کی خدمت گزاری کے عوض مرد پر عورت کے نان ونفقہ، سکنیٰ اور اس کے لباس وغیرہ کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے،
مزید براں کسی بھی دو شخص کے مابین طے پانے والے عام معاہدہ کو عرف عام پر ہی محمول کیا جاتا ہے، اور عرف عام میں خدمت گزاری اور اندرون خانہ کی ضروریات کی انجام دہی عورت کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔“ آگے مزید لکھتے ہیں: ”اس سلسلے میں شریف وغیر شریف، فقیر ومالدار کے درمیان تفریق کو روا رکھنا درست نہیں ہےو دنیا کی تمام عورتوں میں سب سے شریف خاتون حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کی خدمت کیا کرتی تھیں، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے حاضر ہو کر خدمت گزاری کی شکایت کی، لیکن آپﷺ نے ان کی شکایت نہیں سنی۔“
* اگر عورت اپنے خاوند کی جانب سے بے رغبتی اور بے توجہی محسوس کرنے کے باوجود اس کی زوجیت میں باقی رہنا چاہتی ہے تو اس کے لیے کیا کرے؟
فرمان الٰہی ہے: ((وَإِنِ امْرَأَةٌ خافَتْ مِنْ بَعْلِها نُشُوزاً أَوْ إِعْراضاً فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ.)) النساء: 128 ”اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بد سلوکی کی اور بے رخی کا خوف ہو تو دونون آپس میں جو صلح کرلیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیںو صلح بہت بہتر چیز ہے۔“ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر عورت کو اندیشہ لاحق ہو جائے کہ کہیں اس کا خاوند اس سے بے رغبتی اور عدم توجہی نہ برتنے لگے تو اس کے لئے جائز ہے کہ شوہر کے اوپر عائد اپنے جملہ حقوق یا بعض حقوق جیسے نان ونفقہ، لباس یا اس کے ساتھ شب باشی سے دست بردار ہو جائے، اگر عورت ایسا کرتی ہے تو خاوند کو بھی اس کی بات قبول کر لینی چاہئےو شوہر کی رفاقت حاصل کرنے کے لئے حقوق سے دست برداری میں عورت پر کوئی حرج نہیں ہے، اسی واسطے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ((فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ)) النساء: 128 ”دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں، صلح بہت بہتر چیز ہے۔“ یعنی آپس کی مصالحت جدائی اختیار کرنے سے بہتر ہے۔“ اس کے بعد موصوف رحمہ اللہ نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان کیا ہے کہ جب وہ عمر دراز ہوگئیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے جدائی کا ارادہ کر لیا تو انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے اس بات پر مصالحت کر لی کہ آپﷺ ان کو اپنی زوجیت میں باقی رکھیں اور وہ اپنی باری سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں دست بردار ہو جاتی ہیں، رسول اکرم ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی اس پیش کش کو قبول فرما کر انہیں اپنی زوجیت میں باقی رکھا۔ (تفسیر ابن کثیر 2/406)
* اگر عورت کو خاوند ناپسند ہو اور اس کی زوجیت میں نہ رہنا چاہتی ہو تو کیا کرے؟
ارشاد باری تعالی ہے: ((فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُناحَ عَلَيْهِما فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ)) البقرۃ: 229 ”اگر تمہیں ڈر ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں تو عورت رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے، اس میں دونوں پر گناہ نہیں ہے۔“
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر (1/483) میں فرماتے ہیں: ”اگر میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہو جائے اور عورت شوہر کے حقوق بجالانے میں ناپسندیدگی کی وجہ سے کوتاہی کرتی ہو، اور اس کے ساتھ گزر بسر کی اپنے اندر طاقت واستطاعت نہ پاتی ہو تو عورت کے لیے جائز ہے کہ خاوند کے دیے ہوئے مال ومتاع کو واپس دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرلے، شوہر کے دیے ہوئے مال کو واپس کرنے میں عورت پر کوئی حرج نہیں ہے، اور نہ اسے قبول کرنے میں شوہر پر کوئی مضائقہ ہے۔“ اور اسی کو اصطلاح شریعت میں خلع کہا جاتا ہے۔
* بغیر کسی عذر کے شوہر سے جدائی اختیار کرنے والی عورت کے بارے میں وعید:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ((أيما امرأة سألت زوجها طلاقها من غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة)) ”اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی عذر کے بغیر طلاق کی طالب ہوتی ہے تو اس پر جنت کی مہک حرام ہو جاتی ہے۔“ (ابو داؤد، ترمذی اور ابن حبان نے اس کو اپنی صحیح میں حسن کہا ہے) اس لیے کہ حلال اور مباح چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے، بوقت ضرورت ہی طلاق کی راہ اپنائی جاسکتی ہے، لیکن بغیر ضرورت کے یہ مکروہ ہےو کیونکہ طلاق کی وجہ سے متعدد واضح ترین نقصانات لازم آتے ہیں، اور جس ضرورت کے تحت عورت‘ خاوند سے طلاق کے لیے مجبور ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اوپر عائد خاوند کے حقوق کی ادائیگی مکمل طور پر نہ کر پاتی ہو جس کی بنا پر شوہر کی زوجیت میں باقی رہنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ((فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ)) البقرۃ: 229 ”یا تو اچھائی سے روکنا، یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا۔“ اور ارشاد فرماتا ہے: ((لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فاؤُ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ، وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ)) البقرۃ: 226،227 ”جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں، ان کے لئے چار مہینے کی مدت ہے، پھر اگر وه لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ بھی بخشنے واﻻ مہربان ہے، اور اگر طلاق کا ہی قصد کرلیں تو اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔“ -
* ازدواجی تعلق منقطع کر لینے کے بعد عورت کے واجبات:
زوجین کے درمیان جدائی کی دو صورتیں ہیں: پہلی صورت: زندگی میں جدائی۔ دوسری صورت: موت کے ذریعہ جدائی۔ دونوں صورتوں کی جدائیوں میں عورت پر عدت واجب ہو جاتی ہے، عدت کے معنیٰ ہیں شرعی اعتبار سے ایک محدود مدت کے لیے عورت کا (شادی سے) رکے رہنا۔ عدت کی حکمت یہ ہے کہ یہ در حقیقت ای نکاح کامل کے خاتمہ پر اس کے تقدس اور احترام کی رعایت ہے اور ساتھ ہی استبرائے رحم (یعنی رحم کو حمل سے پاک وصاف دیکھنا) ہے، تا کہ جس نے اس عورت سے جدائی اختیار کی ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس سے صحبت نہ کرے کہ مبادا اس سے (پیدا ہونے والے بچہ میں) اشتباہ واختلاط پیدا ہو جائے اور حسب ونسب کا ضیاع لازم آجائے۔ عدت میں پہلے عقد نکاح کا احترام ہے اور پہلے شوہر کے حق کا احترام وتقدس ہے اور ایک طرح سے اس کی جدائی پر تاثرات کا اظہار ہے۔
عدت کی چار قسمیں ہیں:
پہلی قسم: حاملہ عورت کی عدت، جو مطلق وضع حمل سے مکمل ہو جاتی ہے خواہ عورت مطلقہ بائنہ ہو یا مطلقہ رجعیہ، زندگی میں جدائی اختیار کرنے والی ہو یا متوفی عنہا زوجہا (یعنی اس کے شوہر کی وفات ہوگئی ہو)، الہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ((وَأُولاتُ الْأَحْمالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)) الطلاق: 4 ”حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔“ دوسری قسم: ایسی مطلقہ عورت کی عدت جس کو حیض آتا ہو، یہ عدت تین حیض آنے سے مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: ((وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ)) البقرۃ: 228 ”طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین قروء (حیض) تک روکے رکھیں۔“ آیت مبارکہ میں (ثَلاثَةَ قُرُوءٍ) سے مراد تین حیض ہے۔ تیسری قسم: ایسی عورت جس کو حیض ہی نہ آتا ہو، اس کی دو قسمیں ہیں: کمسن غیر حائضہ اور عمر دراز جو حیض سے نا امید ہو چکی ہو، ان دونوں کی عدت اللہ رب العزت نے اپنے اس فرمان میں بیان کردی ہے: ((وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ)) الطلاق: 4 ”تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔“ - چوتھی قسم: متوفی عنہا زوجہا (یعنی ایسی عورت جس کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہو)، اللہ تعالی نے اس کی عدت اپنے اس فرمان کے ذریعہ واضح کردی ہے: ((وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْواجاً يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْراً)) البقرۃ: 234 ”تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں۔“ یہ حکم مدخول بہا، وغیر مدخول بہا، کم سن اور عمر دراز سب کو شامل ہےو اس مین حاملہ عورت نہیں داخل ہوگی، کیونکہ دوسری آیت کے ذریعہ وہ خارج ہو جاتی ہے جس میں اللہ تعالی فرماتا ہے: ((وَأُولاتُ الْأَحْمالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)) الطلاق: 4 ”حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔“ (الہدی النبوی، مؤلفہ ابن القیم 5/594 (محقق ایڈیشن))
* عدت گزار عورت پر کیا کیا چیزیں حرام ہیں؟
1- شادی کا پیغام:
الف- ایسی عورت جو طلاق رجعی کی عدت گزار رہی ہو اس کی شادی کا پیغام دینا صراحت کے ساتھ یا اشاروں کنایوں میں دونوں طرح سے حرام ہے، کیونکہ وہ ابھی بیوی کے حکم میں ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ کوئی اسے شادی کا پیغام دے، کیونکہ وہ ابھی تک اپنے شوہر کی زوجیت اور اس کی ماتحتی میں ہے۔
ب- غیر رجعی طلاق کی عدت گزارنے والی عورت کو صراحت کے ساتھ شادی کا پیغام دینا حرام ہے، البتہ اشاروں کنایوں میں اس کو شادی کا پیغام دیا جاسکتا ہے، ارشاد ربانی ہے: ((وَلا جُناحَ عَلَيْكُمْ فِيما عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّساءِ)) النساء: 235 ”تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے شادی کی بات کہو۔“
صراحت کے ساتھ شادی کا پیغام دینے کی شکل یہ ہے کہ اس عورت سے شادی کی رغبت ظاہر کی جائے، مثلاً کہا جائے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ ایسی حالت میں شادی کی رغبت عورت کو وقت سے پہلے ہی عدت کے ختم ہونے کی اطلاع اور خبر دینے پر مجبور کرسکتی ہے، برخلاف اشارہ وکنایہ کےو کیونکہ اشاروں کنایوں میں شادی کی مکمل وضاحت نہیں ہوتی، لہٰذا ان پر کسی قسم کا محذور (ممنوع کام) مرتب نہیں ہوتا، اور پھر آیت کریمہ کا مفہوم بھی اسی معنیٰ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اشاروں اور کنایوں مین شادی کا پیغام دینے کی شکل یہ ہے کہ اس عورت سے کہا جائے کہ میں تمہاری جیسی عورت کا خواہشمند ہوں۔ غیر رجعی طلاق کی عدت گزارنے والی عورت غیر صریح پیغام کا جواب اشارہ وکنایہ میں دے سکتی ہے، البتہ صریح پیغام کا جواب دینا اس کے لیے کسی طرح بھی درست نہیں، اور رجعی طلاق کی عدت گزارنے والی عورت نہ تو صراحت کے ساتھ اور نہ ہی اشاروں کنایوں میں کسی طرح سے جواب دے سکتی ہے۔
2- عدت گزار عورت کی شادی کسی دوسرے شخص سے کرنا حرام، کیونکہ اللہ رب العزت فرماتا ہے: ((وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتابُ أَجَلَهُ)) ”اور عقد نکاح جب تک عدت ختم نہ ہو جائے پختہ نہ کرو۔“
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر (1/509) میں لکھتے ہیں: ”یعنی ان کا عقد نکاح نہ کرو یہاں تک کہ عدت پوری کرلیں، اس پر علماء کا اجماع ہے کہ عدت کے ایام میں دوسرا عقد صحیح نہیں ہے۔“
فائدہ:
1- دخول (میان بیوی کے اجتماع) سے پہلے طلاق دی گئی عورت پر عدت نہیں ہے، کیونکہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے: ((يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِناتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَما لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَها)) الاحزاب: 49 ”اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے (ہی) طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو۔“
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر (5/479) میں لکھتے ہیں: ”علماء کے مابین یہ ایک متفق علیہ امر ہے کہ اگر عورت کو دخول سے پہلے طلاق دے دی گئی تو اس پر کوئی عدت نہیں ہے، لہٰذا طلاق کے بعد فوراً جس سے چاہے شادی کرسکتی ہے۔“
2- اگر عورت کو دخول سے پہلے مہر کی تعیین کے بعد طلاق دی گئی ہو تو اسے نصف مہر دیا جائے گا، اور اگر مہر کی تعیین نہیں ہوئی تھی تو اسے کپڑے وغیرہ میں سے جو کچھ میسر ہو‘ دیا جائے گا۔
دخول کے بعد طلاق دینے کی صورت میں عورت کو مکمل مہر دیا جائے گا، فرمان الٰہی ہے: ((لا جُناحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّساءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ)) -إلی قولہ تعالٰی- ((وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ ما فَرَضْتُمْ)) البقرۃ: 236،237 ”اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کئے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناه نہیں، ہاں انہیں کچھ نہ کچھ فائده دو۔ خوشحال اپنے انداز سے اور تنگدست اپنی طاقت کے مطابق … اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دو کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کردیا ہو تو مقرره مہر کا آدھا مہر دے دو۔“ - - یعنی اللہ تعالی مَردوں کو مخاطب کرکے فرما رہا ہے کہ زوجین کی صحبت اور مہر کی تعیین سے پہلے طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر چہ اس سے عورت کے جذبات کو ٹھیس پہونچتی ہے، لیکن متعہ کے ذریعہ (یعنی انہیں کچھ مال ومتاع دے کر) اس کی تلافی ہو جاتی ہے، شوہر کی مالی حالت اور عرف عام کے اعتبار سے عورت کو ساز وسامان دینا ضروری ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایسی عورت کا تذکرہ کیا ہے جس کے مہر کی تعیین کی جاچکی ہے اور اسے دخول سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں نصف مہر دینے کا حکم دیا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر (1/512) میں لکھتے ہیں: ”ایسی صورت حال میں (یعنی مہر کی تعیین کے بعد) نصف مہر کا ادا کرنا علماء کے مابین ایک متفق علیہ مسئلہ ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“
3- شوہر کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت پر پانچ چیزین حرام ہوتی ہیں:
(1) تمام انواع واقسام کی خوشبو، نہ تو وہ اپنے جسم مین اور نہ ہی اپنے کپڑوں میں کسی قسم کی خوشبو لگائے گی اور نہ خوشبو دار چیز استعمال کرے گی، کیونکہ رسول اکرم ﷺ سے صحیح حدیث میں ثابت ہے: ((ولا تَمَسٌّ طِيباً)) ”اور عورت خوشبو نہیں استعمال کرے گی۔“
(2) جسمانی زیب وزینت: ایسی عورت کے لیے خضاب لگانا، اسی طرح زیب وزینت کی تمام اشیاء جیسے سرمہ وغیرہ، اور جلد کو رنگنے والی انواع واقسام کی چیزیوں کا استعمال حرام ہے، البتہ اگر اس کو بطور علاج اور دوا کے سرمہ لگانے کی ضرورت پیش آجائے تو رات کے وقت سرمہ لگا سکتی ہے، لیکن دن میں اسے صاف کر دے گی، سرمہ کے علاوہ غیر زینت کی چیزوں سے اپنی آنکھوں کا علاج کر سکتی ہے، اس میں کوئی مضائقہ یا حرج نہیں ہے۔
(3) زیب وزینت کے لباس پہن کر زینت اختیار کرنا بھی ممنوع ہے، ہر وہ لباس جس مین زیت وزینت نہ پائی جاتی ہو پہن سکتی ہے، اس سلسلے میں کوئی مخصوص رنگ متعین نہیں ہے (لیکن مختلف معاشروں میں) مخصوص رنگ کے لباس کا استعمال عام طور پر لوگوں کی عادت بنتی جارہی ہے (جس کا شریعت سے کوئی ثبوت نہیں ہے)
(4) انواع واقسام کے زیورات، یہاں تک کہ انگوٹھی بھی نہیں استعمال کرے گی۔
(5) جس مکان یا منزل میں اپنے خاوند کی وفات کے وقت تھی اس کے علاوہ کسی دوسرے مکان میں یا گھر میں رات گزارنا اور اس گھر سے کسی شرعی عذر کے بغیر منتقل ہونا بھی جائز نہیں ہے، کسی مریض کی عیادت، یا کسی قریبی یا دوست کی ملاقات کے لئے اپنے گھر سے نہیں نکل سکتی ہے، البتہ دن میں اپنے ضروری کاموں کے لیے نکل سکتی ہے۔ مذکورہ پانچ امور کے علاوہ کسی دیگر مباح امر سے عورت کو نہیں روکا جائے گا،
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ ”الھدی والنبوی“ (5/507) میں تحریر فرماتے ہیں: ”(خاوند کے انتقال کی وجہ سے) عد گزارنے والی عورت کو ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھاڑنے، غیر ضروری بالوں کو صاف کرنے، بیری کی پتی کے پانی سے غسل کرنے، نیز کنگھی کرنے سے منع نہیں کیا جائے گا۔“
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (34/27،28) میں تحریر فرماتے ہیں: ”ہر مباح چیز کا کھانا اس کے لیے جائز ہے، جیسے پھل اور گوشت وغیرہ، اسی طرح مباح مشروبات کا پینا بھی جائز ہے۔“ آگے مزید لکھتے ہیں: ”ایسی عورت کے لئے تمام مباح کام اور مشغلے جیسے کڑھائی، سلائی اور کٹائی وغیرہ جن کو عموماً عورتیں انجام دیتی ہیں‘ حرام یا ممنوع نہیں ہیں، وہ سارے اعمال یا چیزیں جو غیر عدت میں اس کے لئے مباح تھیں عدت کے ایام میں بھی مباح ہوں گی، مثلاً جن مردوں سے اسے گفتگو کی ضرورت پڑتی ہے ان سے وہ پردے کا خیال کرتے ہوئے گفتگو کر سکتی ہے۔ یہ تمام باتیں رسول اکرم ﷺ کی بتلائی ہوئی سنت کی باتیں ہیں جن پر صحابہ رضوان اللہ علیہم کی بیویاں اپنے شوہروں کی وفات کے بعد (ایام عدت میں) عمل کرتی تھیں۔
عوم میں جو یہ مشہور ہے کہ عدت گزار عورت چاند سے اپنا چہرہ کو چھپائے گی، گھڑ کی چھت پر نہیں چڑھے گی، مردوں سے گفتگو نہیں کرے گی اور اپنے محارم سے بھی اپنے چہرے کو چھپائے گی، یا اسی قبیل کی دیگر باتیں، تو حقیقتاً ان کی کوئی اصل یا بنیاد نہیں۔ واللہ اعلم
فصل دہم
خواتین کی عزت وناموس اور عفت وشرافت کو تحفظ فراہم کرنے والے احکام ومسائل - 1- مردوں کی طرح خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، ارشاد ربانی ہے: ((قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ، وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ)) النور: 30،31 ”مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت رکھیں۔ یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے، مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔“ - استاذ محترم شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر اضواء البیان (6/186) میں لکھتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو نگاہیں پست رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے، شرمگاہوں کی حفاظت میں زناو لواطت، سحاق (عورتوں کی ہم جنسی) اور بلا ضرورت انہیں لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے سے پرہیز کرنا اور محفوظ رکھنا داخل ہے۔“ آگے مزید فرماتے ہیں: ”اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں دیے گئے احکامات کو بجا لانے والے مردوں اور عورتوں سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ وہ اس کے ساتھ سورۂ احزاب میں بیان کیے گئے احکامات کو بھی بجا لائیں جس میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ((إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِماتِ)) إلی قوله ((وَالْحافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحافِظاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيراً وَالذَّاكِراتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً)) الاحزاب: 35 ” بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے۔“ - - - -
علامہ شنقیطی رحمہ اللہ کے کلام میں وارد لفظ (سحاق) کے معنی ہیں: عورتوں کی ہم جنسی کا عمل۔ یہ ایک سنگین جرم ہے جس پر دونوں عورتیں کڑی سزا اور سخت تادیب کی مستحق ہیں۔
علامہ ابن قدامہ المغنی (8/198) میں لکھتے ہیں: ”اگر دو عورتیں ہم جنسی کا عمل کرتی ہیں تو وہ دونوں زانی اور ملعون ہیں، کیونکہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ((إذا أتت المرأة المرأة فهما زانيتان)) ”جب دو عورتیں ہم جنسی کا عمل کرتی ہیں تو وہ دونوں زنا کا ارتکاب کرنے والی ہوتی ہیں۔“ ان دونوں پر تعزیری حد جاری کی جائے گی، اس لیے کہ یہ ایسا زنا ہے جس کے بارے کوئی متعین حد ثابت نہیں ہے۔
لہٰذا مسلم خواتین خصوصاً دو شیزاؤں کو اس قبیح عمل اور منکر عمل سے بچنا چاہیے۔
نگاہیں پست رکھنے کے سلسلے میں علامہ ابن القیم اپنی کتاب ”الجواب الکافی“ (ص: 129-130) میں تحریر کرتے ہیں: ”نگاہیں فحش کاری کا پیش خیمہ اور جنسی شہوت بھڑکانے کا سبب بنتی ہیں، چنانچہ نگاہوں کی حفاظت در حقیقت شرمگاہوں کی حفاظت کی اصل بنیاد ہے، جس شخص نے اپنی نگاہیں آزاد چھوڑ دیں اس نے اپنے لیے ہلاکت کا سامان مہیا کیا، رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ((يا علِيُّ، لا تُتْبِعِ النَّظْرةَ النَّظْرةَ؛ فإنَّ لكَ الأُولى)) ” اے علی! نظر کے پیچھے نظر نہ دوڑاؤ، کیونکہ پہلی (اتفاقی) نگاہ تمہارے لیے معاف ہے۔“ حدیث میں پہلی نظر سے مراد اچانک پڑنے والی نگاہ ہے جو بغیر قصد وارادہ کے واقع ہوتی ہے۔ مسند (احمد) میں رسول اکرم ﷺ سے مروی ہے: ((النَّظرةُ سهمٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ)) ”نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔“ آگے مزید لکھتے ہیں: ”انسان کو لاحق ہونے والی عام مصیبتوں اور پریشانیوں کی اصل جڑ اور بنیاد نظر ہی ہوا کرتی ہیں، کیونکہ اسی نظر سے دلوں میں مختلف وسوسے پیدا ہوتے ہیں، وسوسے افکار وخیالات کو جنم دیتے ہیں، خیالات سے شہوت پیدا ہوتی ہے، شہوت اور جنسی ہیجان سے دل میں ارادہ جنم لیتا ہے جو زور پکڑتے ہوئے عزم مصمم کی شکل اختیار کر لیتا ہے، پھر لازمی طور پر آخری عمل انجام پاتا ہے جس سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی، اسی واسطے کہا جاتا ہے کہ نگاہوں کو پست اور نیچی رکھنے پر صبر کر لینا بعد میں لاحق ہونے والی تکلیف پر صبر کرنے کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے۔“
مسلم خواتین کو مردوں کی جانب نظر اٹھانے، نیز میگزینوں، ٹیلیویژن یا ویڈیو پر پیش کی جانیوالی ہیجان انگیز تصویروں کو دیکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے، اس سے برے انجام سے محفوظ رہیں گیں، کتنی نظریں‘ نظر والوں کے لیے افسوس وندامت کا باعث بنتی ہیں، چھوٹی چنگاری سے ہی آگ بھڑکتی ہے۔
2- شرمگاہ کی حفاظت کے مختلف اسباب ووسائل میں سے ایک سبب اور وسیلہ یہ بھی ہے کہ گانے اور موسیقی کے سننے سے اجتناب کیا جائے،
ابن القیم ”اغاثۃ اللھفان“ (1/242،248،264،264) میں فرماتے ہیں: ”شیطان کے بے شمار جال ہیں جن کے ذریعہ کم علم، کم عقل اور دین سے بیگانہ لوگوں کو اپنے دامِ فریب میں لیتا ہے اور جاہلوں اور باطل پرستوں کے دلوں کا شکار کرتا ہے، انہی جالوں میں سے ایک جال ممنوع وحرام آلات لہو ولعب کے ذریعہ رقص وسرور اور گانے بجانے کا سماع ہے، جو کہ دلوں کو قرآن کریم سے پھیر دیتا ہے، نیز انہیں فسق وفجور اور عصیان ونافرمانی کا عادی اور رسیا بنا دیتا ہے، لہٰذا گانا بجانا در حقیقت شیطان کا قرآن ہے جس سے بندے اور اللہ تعالی کے مابین ایک دبیز پردہ حائل ہو جاتا ہے، یہ لواطت (اغلام بازی) اور زنا کے لیے جادو کا کام کرتا ہے، اسی کے وسوسہ سے بدچلن اور بدکار عاشق اپنے معشوق سے اپنی آخری آرزو اور تمنا کو حاصل کر لیتا ہے۔“ آگے مزید لکھتے ہیں: ”عورت یا امرد (بغیر داڑھی مونچھ کا نوجوان لڑکا) سے گانا سننا عظیم ترین محرمات میں سے ہے اور دین کو برباد کرنے کا ایک بڑا سبب ہے۔“ یہ بھی لکھتے ہیں: ”ایک با غیرت آدمی اپنے اہل وعیال کو گانے سننے سے اسی طرح روکتا اور منع کرتا ہے جس طرح انہیں شکوک وشبہات کے اسباب سے دور رکھتا ہے، اس طرح کے بدقماش لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جب عورت مرد کے قابو میں نہیں آتی ہے تو مرد اسے گانا سنانے کی پوری کوشش کرتا ہے، گانا سننے کے بعد عورت نرم پڑ جاتی ہے، کیونکہ وہ آواز سن کر بہت جلد اس کا اثر قبول کر لیتی ہے، اگر گانے کی آواز ہوگی تو اس کے اندر دو جانب سے انفعال (اثر) پیدا ہوگا، ایک آواز کی جانب سے، دوم گانے کے معنیٰ ومفہوم کی جانب سے۔ اب اس سحر آفرینی کے ساتھ ڈھول تاشا، غزلیات اور نسوانی انداز میں پورے جسم کو بل دے کر رقص بھی جمع ہو جائیں تو اگر گانے کے ذریعے کوئی عورت حاملہ ہو سکتی ہے تو اس نوعیت کے گانے سے ضرور بالضرور حاملہ ہو جائے گی، کتنی ہی شریف زادیوں نے محض گانوں کی وجہ سے عصمت فروشی کی راہ اپنا لی ہے۔“
چنانچہ ایک مسلم خاتون کو اللہ تعالی کا تقویٰ اور خوف اختیار کرنا چاہیے اور اس سنگین مہرک اخلاقی بیماری سے پرہیز کرنا چاہئے جو آج مسلمانوں کے درمیان مختلف وسائل وذرائع اور معدد اسالیب اور انداز سے گانوں کی شکل میں پھیلتی جا رہی ہے، جن کو بہت سی نادان دو شیزائیں ان کے اصل مصادر ومنبع سے طلب کر کے آپس میں ایک دوسرے کو بطور تحفہ (گفٹ) پیش کرتی ہیں۔
-
3- شرمگاہوں کی حفاظت کے مختلف طرق ووسائل میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ عورت کسی ایسے محرم کے بغیر سفر پر نہ نکلے جو اسے اوباشوں، بدکاروں اور آوارہ لوگوں کے برے ارادوں اور بری نیتوں سے تحفظ فراہم کر سکے اور بچا سکے۔ محرم کے بغیر عورت کے سفر کرنے کی ممانعت میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، انہی احادیث میں سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیث بھی ہے جس میں رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ((لا تسافِرِ المرأةُ ثلاثًا إلَّا وَمَعَها ذُو مَحْرَمٍ)) ”کسی محرم کی معیت کے بغیر عورت تین دن کی مسافت کا سفر نہ کرے۔ (متفق علیہ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث بھی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: ((نهى أن تسافر المرأة مسيرة يومين أو ليلتين إلا ومعها زوجها، أو ذو محرم)) ”نبی کریم ﷺ نے عورت کو شوہر یا محرم کی معیت کے بغیر دو دن یا دو رات کی مسافت طے کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ (متفق علیہ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث بھی ہے جس میں رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ((لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ عَلَيھَا)) ”کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی محرم کو ساتھ لیے بغیر ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر طے کرے۔“ (متفق علیہ)
مذکورہ احادیث میں تین دن، اور ایک رات کی جو تحدید کی گئی ہے تو اس سے مراد اس زمانہ کے وسائل نقل وحمل، پا پیادہ اور سواریوں کی مسافت ہے، تین دن، دو دن ایک دن، ایک رات یا اس سے بھی کم مسافت کی تحدید میں مختلف احادیث وارد ہوئی ہیں، تو علماء کرام نے اس اختلاف کا جواب یہ دیا ہے کہ اس تحدید سے اس کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہر وہ سفر ہي جس پر سفر کا اطلاق ہوتا ہے، اس سے عورت کو منع کیا گیا ہے۔
امام نووی صحیح مسلم کی شرح (9/103) میں لکھتے ہیں: ”حاصل کلام یہ ہے کہ ہر وہ مسافت جس پر سفر کا اطلاق ہوتا ہے شوہر یا محرم کی معیت کے بغیر اس کا سفر کرنے سے عورت کو منع کیا جائے گا، خواہ وہ تین دن ہو یا دو دن یا ایک دن ہو، ایک برید ہو یا اس سے بھی کم ہو، کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک حدیث مطلق سفر سے ممانعت میں وارد ہوئی ہے جس کو مذکورہ احادیث کے بعد بالکل اخیر میں امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ((لا تُسافرِ امرأةٌ إلَّا معَ ذي مَحرمٍ)) ”کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔“ یہ حدیث ان تمام مسافات کو شامل ہے جن پر سفر کا اطلاق ہوتا ہے۔
جن لوگوں نے عورتوں کی ایک جماعت کے ساتھ فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے عورت کو سفر کرنے کی اجازت دی ہے، تو حقیقتاً یہ فتویٰ خلاف سنت ہے۔ امام خطابی رحمہ اللہ ”معالم السنن“ (2/276،277، مطبوع مع تھذیب السنن لابن القیم) میں لکھتے ہیں: ”رسول اکرم ﷺ نے کسی مردِ محرم کی معیت کے بغیر عورت کے سفر کو ممنوع قرار دیا ہے، عورت کے سفر کے لیے جس شرط کو رسول اللہ ﷺ نے ضروری قرار دیا ہے اس کے فقدان کے باوجود سفر حج کے لئے عورت کے نکلنے کو جائز قرار دینا خلاف سنت ہےو غیر محرم مرد کے ساتھ عورت کا سفر کرنا معصیت اور گناہ ہے، لہٰذا حج جو اللہ کی اطاعت اور بندگی ہے اسے عورت پر معصیت اور گناہ کی طرف لے جانے والے کسی امر کے ذریعہ ضروری اور لازم قرار دینا جائز اور درست نہیں ہو سکتا۔“
میں (مؤلف) کہاں ہوں: ان لوگوں نے محرم کی معیت کے بغیر مطلق سفر کی اجازت عورت کو نہیں دی ہے، بلکہ انہوں نے صرف فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے اس سفر کی اجازت دی ہے،
امام نووی (المجموع 8/249) میں فرماتے ہیں: ”نفلی حج، تجارت اور زیارت وغیرہ کے سفر میں محرم کے بغیر عورت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے۔“
لہٰذا جو حضرات محرم کی معیت کے بغیر عورتوں کے ہر طرح کے سفر میں تساہل برتتے ہیں، ان کی کوئی بھی قابل اعتماد عالم موافقت اور تائید نہیں کرتا،
ان کا یہ کہنا کہ محرم عورت کو ہوائی جہاز مین سوار کرا دیتا ہے، جس شہر یا جس ملک میں وہ جانا چاہتی ہے وہاں پہنچنے کے بعد دوسرا محرم اس کا استقبال کر لیتا ہے اور اسے اتار لیتا ہے، چونکہ جہاز میں بکثرت مرد وزَن مسافرین کی تعداد موجود ہوتی ہے، اس لیے ان کے خیال کے مطابق جہاز کا سفر فتنوں سے مامون ومحفوظ ہوتا ہے۔
ہم ان حضرات کے جواب مین عرض کریں گے: ہرگز نہیں، جہاز کا سفر بہ نسبت دیگر سواریوں کے زیادہ پر خطر ہوتا ہے، کیونکہ اس میں مسافروں کے مابین اختلاط ہوتا ہے، عین ممکن ہے عورت کو کسی مرد کے بغل میں بیٹھنا پڑے اور جہاز کو ایسے حالات سے دوچار ہونا پڑے جن کی وجہ سے اسے اپنے رخ کو کسی دوسرے ایر پورٹ کی جانب موڑنا پڑے جہاں عورت کو لینے والا کوئی نہ ہو، وہاں اس کو مختلف خطرات کا سامنا ہو سکتا ہےو اور کسی ایسے شہر اور ملک میں عورت کا کیا حشر ہوگا جہاں نہ تو اس کا کوئی محرم ہے اور نہ اس شہر اور ملک سے وہ واقف ہے؟
-
4- عفت وعصمت کو محفوظ رکھنے اور بچانے کا ایک طریقہ اور وسیلہ یہ بھی ہے کہ نامحرم شخص کے ساتھ عورت خلوت (تنہائی) میں اکٹھا نہ ہونے دیا جائے، فرمان نبوی ہے: ((منْ كانَ يؤمِنُ بالله واليوْمِ الآخِرِ فَلا يَخْلوَنَّ باِمرأةٍ ليسَ مَعَهَا ذَو مَحْرَمٍ مِنْها؛ فإنَّ ثالثَهُمَا الشيْطانُ)) ”جو شخص اللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے کسی ایسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں ہونا چاہیے جس کے ساتھ اس کا محرم نہ ہو، اس لیے کہ ان دونوں کے علاوہ تیسرا شخص شیطان ہوتا ہے۔“ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((لا يخلونَّ رجلٌ بامرأة لا تحِلُّ له؛ فإنَّ ثالثَهما الشيطانُ، إلَّا مَحرَم)) ”کوئی شخص کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ ہو جو اس کے لیے حلال نہیں ہے، اس لیے کہ تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے، البتہ محرم اس کي ساتھ تنہائی میں ہو سکتا ہے۔“
مجد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے منتقیٰ میں لکھا ہے: ”ان دونوں حدیثوں کو امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی متفق علیہ حدیث میں یہ معنی گزر چکا ہے۔“
علامہ شوکانی ”نیل الاوطار“ (6/120) میں لکھتے ہیں: ”اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں اکٹھا ہونے کی حرمت پر علمائے امت کا اجماع ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں نقل کیا ہے۔ حرمت کی علت وہی ہے جو حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے، اور شیطان کی موجودگی دونوں کے لیے معصیت اور گناہ کے ارتکاب کا سبب بن سکتی ہے، محرم کی موجودگی میں اجنبی عورت کے ساتھ اکٹھا ہونا جائز ہےو کیونکہ اس کی موجودگی معصیت کے ارتکاب کے لیے رکاوٹ ہوگی۔“
بعض خواتین اور ان کے سر پرست مختلف نوع کی خلوتوں (تنہائیوں) کے سلسلے میں تساہل سے کام لیتے ہیں، انہی خلوتوں میں سے: (الف) ایک یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کے رشتہ داروں کے ساتھ خلوت (تنہائی) میں ہوتی ہے، ان کے سامنے اپنے چہرہ کو کھلا رکھتی ہے، حالانکہ یہ خلوت بہ نسبت دیگر خلوتوں کے زیادہ خطرناک اور سنگین ہوتی ہے، فرمان نبوی ہے: ((إيَّاكُمْ والدخولَ على النساءِ، فقالَ رجلٌ منَ الأنصارِ: يا رسولَ اللهِ، أفرأيتَ الْحَمُو؟ قالَ: الْحَمُو الموتُ)) ”خواتین پر داخل ہونے سے گریز کرو، ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! حمو کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: حمو‘ موت ہے۔“ (امام احمد، بخاری اور ترمذی رحمہم اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے) امام ترمذی فرماتے ہیں: ”حَمو“ کا معنی دیور (خاوند کا بھائی) بتلایا جاتا ہے، گویا آپﷺ نے دیور کے ساتھ خلوت کو ناپسند فرمایا ہے۔
حافظ ابن حجر ”فتح الباری“ (9/331) میں لکھتے ہیں: ”امام نووی رحمہ اللہ کا کہنا کہ خاوند کے قریبی رشتہ داروں جیسے والد، چچا، بھائی، بیٹے، بھتیجے اور چچیرے بھائی وغیرہ کو ”حمو“ کہا جاتا ہے، اس پر علمائے لغت کا اتفاق پایا جاتا ہے۔“ مزید لکھتے ہیں: ”حدیث میں حمو سے باپ اور بیٹوں کو چھوڑ کر خاوند کے تمام اقارب مراد ہیں، باپ اور بیٹے چونکہ محرم میں داخل ہیں اس لئے ان کا عورت کے ساتھ خلوت میں ہونا جائز ہے، ان کے حق میں خلوت کو موت سے نہیں تعبیر کیا جاسکتا ہے۔“ فرماتے ہیں: ”تساہل سے کام لیتے ہوئے عموماً بھائی اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ خلوت میں ہو جاتا ہے، اس لیے آپﷺ نے اسے موت سے تشبیہ دی ہے، لہٰذا وہ ممانعت کا زیادہ مستحق ہے۔“
علامہ شوکانی ”نیل الاوطار“ (6/122) میں حدیثِ نبوی ((الحَمُو المَوْت)) کی تشریح کرتے ہوئی لکھتے ہیں: ”بہ نسبت دیگر لوگوں کے اس سے زیادہ خطرہ اور خوف ہوتا ہےو جس طرح موت سے بہ نسبت دیگر چیزوں کے زیادہ خوف اور خطرہ ہوتا ہے۔“
لہٰذا ایک مسلمان خاتون کو اللہ سے خوف کرنا چاہئے اور اس معاملہ میں کسی قسم کی تساہلی نہیں برتنی چاہیے اگر چہ بیشتر لوگ اس میں تساہلی سے کام لیتے ہیں، کیونکہ اعتبار شریعت کے کے احکام کا ہے نہ کہ لوگوں کی عادات واطوار کا۔
(ب) -بعض خواتین اور ان کے سر پرست اجنبی ڈرائیور کے ساتھ عورت کے تنہا کار میں سوار ہونے کے معاملے میں تساہل اور چشم پوشی سے کام لیتے ہیں، حالانکہ یہ بھی حرام خلوت ہے،
شیخ محمد بن ابراھیم آل شیخ سابق مفتی سعودی عرب رحمہ اللہ اپنے مجموع فتاویٰ (10/52) میں فرماتے ہیں: ”اب اس امر میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی کہ اجنبی عورت کا ڈرائیور کے ساتھ محرم کی رفاقت کے بغیر تنہا کار میں سوار ہونا واضح طور پر ایک منکر عمل ہےو اس مین متعدد غیر معمولی خرابیاں ہیں‘ خواہ ڈرائیور کے ساتھ کار میں بیٹھنے والی باحیا، شرمیلی لڑکی ہو یا پاکدامن بڑی عمر کی عورت ہو جو مردوں سے بالمشافہ بات چیت کرتی ہو، جو شخص اپنی محرم خواتین کے لیے اس امر کو پسند کرتا ہے وہ دینی اعتبار سے کمزور، مردانگی میں ناقص اور بے غیرت ہے، رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ((ما خلا رجلٌ باِمرأَةٍ إلاّ كَان الشَّيطانُ ثَالثَهُما)) ”کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں ہوا مگر شیطان ان دونوں کا تیسرا ہوتا ہے۔“ عورت کا اجنبی مرد کے ساتھ کار میں سوار ہونا گھڑ وغیرہ میں اس کے ساتھ خلوت اختیار کرنے سے کہیں زیادہ خطرناک اور مضر ہےو کیونکہ وہ اس عورت کو شہر کے اندر یا شہر کے باہر اس کی رضامندی کے ساتھ یا بغیر رضا مندی کے کہیں بھی لے جا سکتا ہے، اس سے جو خرابیاں لازم آئیں گی وہ مجرد خلوت سے لازم آنے والی خرابیوں سے کہیں زیادہ خطرناک اور عظیم ہوںگی۔“
جس شخص کے ذریعے خلوت کو ختم کیا جاسکتا ہے اس کا بڑا ہونا ضروری ہے، لہٰذا کم سن بچے کا موجود ہونا کافی نہیں ہے۔ اور بعض خواتین کا یہ تصور کہ اگر انہوں نے اپنے ساتھ کسی بچے کو لے لیا تو خلوت ختم ہو گئی غلط ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ شرح مسلم (9/109) میں فرماتے ہیں: ”اگر کوئی اجنبی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ بغیر کسی تیسرے شخص کی موجودگی کے خلوت میں ہوتا ہے تو یہ باتفاق علماء حرام ہے، اسی طرح اگر ان دونوں کے ساتھ کوئی ایسا شخص ہو جس سے اس کی کم سنی کی وجہ سے شرم وحیا نہ کی جاتی ہو تو اس کے ذریعے ممنوعہ خلوت زائل نہیں ہو سکتی۔“
(ج) - بعض خواتین اور ان کے سر پرست ڈاکٹروں کے پاس بھی عورت کے تنہا جانے میں تساہل سے کام لیتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ عورت علاج کی ضرورتمند ہوتی ہے، یہ بھی ایک نہایت منکر (ناپسندیدہ) اور حد درجہ خطرناک عمل ہے جس پر خاموشی اور سکوت اختیار کرنا یا اسے باقی رکھنا جائز نہیں ہے۔
شیخ محمد بن ابراھیم رحمہ اللہ مجموع الفتاوی (10/13) میں لکھتے ہیں: ”بہر حال کسی اجتنبی عورت کے ساتھ کسی مرد کا خلوت میں ہونا شرعاً حرام ہےو خواہ وہ معالج طبیب ہی کیوں نہ ہو۔ دلیل وہی حدیث ہے جس میں وارد ہے کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں ہوا مگر شیطان ان دونوں کا تیسرا ہوتا ہے۔ لہٰذا عورت کے ساتھ کسی شخص کی موجودگی ضروری ہے، خواہ اس کا شوہر ہو یا اس کا محرم مرد ہوو اگر یہ میسر نہ ہو تو اس کی کوئی قریبی رشتہ دار کی عورت ہی ہو، اگر ان لوگوں میں سے کوئی بھی نہ ہو اور بیماری سنگین ہو جس کو مؤخر کرنا ناممکن نہ ہو تو کم از کم نرس وغیرہ کی موجودگی ضروری ہے تاکہ خلوت ممنوعہ سے اجتناب ہو سکے۔“
اسی طرح ڈاکٹر کا کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرنا جائز نہیں ہے، خواہ اس کی کلاس فیلو ڈاکٹر یا نرس ہی کیوں نہ ہو، اور نابینا استاذ وغیرہ کا کسی طالبہ کے ساتھ خلوت میں ہونا بھی جائز اور درست نہیں ہے، اور نہ ہی جہاز میں کسی ائر ہوسٹس کا اجنبی مرد کے ساتھ خلوت میں ہونا جائز ہے۔ جھوٹی تہذیب کے نام پر کفار کی اندھی تقلید اور شرعی احکام سے لاپرواہی کی بنا پر لوگ ان امور میں تساہل سے کام لیتے ہیں۔
گھر کے اندر کام کرنے والی خادمہ کے ساتھ آدمی کا خلوت میں ہونا یا گھر کی مالکن کا خادم کے ساتھ خلوت میں ہونا بھی جائز نہیں ہے۔ خادموں کا مسئلہ ایک ایسا خطرناک اور سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے جس سے عصر حاضر کے بیشتر لوگ دو چار ہیں، کیونکہ خواتین درس وتدریس اور گھر سے باہر مختلف کاموں میں مشغول ہیں۔ لہٰذا مومن مردوں اور عورتوں کو اس معاملہ میں متنبہ رہنے اور کافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور غلط عادات اور برے رسم ورواج کی دوڑ میں مسابقت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
تتمہ: کسی غیر محرم مرد سے عورت کا مصافحہ کرنا حرام ہے۔
شیخ عبدالعزیز بن باز صدر اعلیٰ برائے افتاء ودعوت وارشاد (سعودی عرب) رحمہ اللہ اپنے مجموع فتاوی (1/185 مطبوعہ مؤسسۃ الدوعۃ الاسلامیۃ الصحفیۃ) میں فرماتے ہیں: ”غیر محرم عورتوں سے مطلقاً مصافحہ جائز نہیں ہے، خواہ نوجوان ہوں یا عمر رسیدہ بوڑھی عورتیں، خواہ مصافحہ کرنے والا نوجوان ہو یا عمر رسیدہ بوڑھا، کیونکہ مصافحہ میں دونوں کے لیے فتنہ کا سامان موجود ہے، اور رسول اکرم ﷺ کے متعلق ثابت ہے: - - ((ما مسَّت يدُ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يدَ امرأةٍ قطُّ , ما كان يُبايعْهن إلا بالكلامِ)) ”آپﷺ کے دست مبارک سے کسی عورت کا ہاتھ کبھی بھی مس نہیں ہوا، صرف کلام کے ذریعہ آپ خواتین سے بیعت کرتے تھے۔“ ”اور مصافحہ کرتے وقت کپڑے وغیرہ کے ذریعہ دونوں ہاتھوں کے درمان حد فاصل قائم کرنے یا نہ کرنے میں کوئی فرق نہیں کیونکہ ممانعت کے دلائل میں عمومیت پائی جاتی ہے اور فتنہ کے سد باب کے لیے عدم تفریق ہی مناسب ہے۔“
شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ اپنی تفسیر اضواء البیان (6/602،603) میں لکھتے ہیں: ”واضح ہو کہ کسی اجنبی مرد کے لیے کسی اجنبی عورت سے مصافحہ جائز نہیں ہے، اور نہ ہی مردانہ جسم کے کسی حصہ کا زنانہ جسم کے کسی حصے سے مس ہونا جائز ہے، اور اس کے مختلف دلائل ہیں:
پہلی دلیل: نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ((إني لا أُصافحُ النساءَ)) الحدیث ”بیشک میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا“۔ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ((لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)) الاحزاب: 21 ”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے“۔
لہٰذا ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اقتدا کرتے ہوئے خواتین سے مصافحہ نہ کریں، مذکورہ حدیث کی وضاحت سورہ حج میں احرام یا غیر احرام کی حالت میں مردوں کے لیے مطلق معصفر (زعفرانی رنگ میں رنگے ہوئے) لباس کے استعمال پر گفتگو کے وقت کرچکے ہیں، اور سورہ احزاب کی آیت حجاب کی تفسیر کے دوران بھی اس پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے، بیعت کے وقت رسول اکرم ﷺ کا عورتوں سے مصافحہ نہ کرنا‘ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ مرد عورتوں سے مصافحہ نہیں کرسکتے، اور نہ ہی ان کے جسم کا کوئی حصہ عورت کے جسم کے کسی حصہ سے مس کر سکتا ہے، کیونکہ لمس کی سب سے خفیف صورت مصافحہ ہے، جب بوقت ضرورت یعنی بیعت کے وقت آپﷺ مصافحہ سے گریز کرتے تھے تو اس سے یہی معلوم ہوا کہ مصافحہ جائز نہیں ہے اور آپﷺ کی مخالفت کسی کے لئے جائز نہیں، اس لئے کہ آپ اپنے افعال واقوال اور تقریر کے ذریعہ اپنی امت کے لئے احکامات کی تشریح کرنے والے تھے۔
دوسری دلیل: پہلے ہم جو کہہ آئے ہیں کہ ایک خاتون مکمل طور سے عورت (یعنی ستر) ہوتی ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے آپ کو چھپائے، فتنہ میں واقع ہونے کے خوف سے اسے نگاہیں پست رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ دو جسموں کے لمس میں بہ نسبت آنکھوں کی نظر کے شہوت کو بھڑکانے اور فتنہ وفساد کی جانب دعوت دینے کا زیادہ قوی داعیہ پایا جاتا ہے، ہر انصاف پسند آدمی اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا بوجھتا ہے۔
تیسری دلیل: اس زمانے میں جبکہ لوگوں میں خوف الٰہی باقی نہیں رہا، امانت ودیانت کا فقدان ہوتا جارہا ہے، شکوک وشبہات کی چیزوں سے اجتناب کا جذبہ ماند پڑتا جارہا ہے، ایک اجنبی عورت سے لطف اندوز ہونے اور لذت حاصل کرنے کا یہ ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ با رہا ہم کو بتلایا جا چکا ہے کہ عوام میں بعض لوگ اپنی سالیوں (بیویوں کی بہنوں) کو منہ سے منہ ملا کر بوسہ دیتے ہیں، اور اس کو اسلام کا نام دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے اپنی سالی کو سلام کیا ہے، ان کی مراد ہوتی ہے کہ اس کا بوسہ لیا ہے، جبکہ اس کی حرمت پر علماء کا اجماع ہے، لہٰذا حق بات جس میں شک وشبہ کی ادنیٰ گنجائش نہیں ہے یہ ہے کہ فتنوں اور شکوک وشبہات کی چیزوں اور ان کے اسباب وعوامل سے دوری اختیار کی جائے، اور فتنوں کے بڑے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ایک مرج اجنبی عورت کے جسم کے کسی حصہ کا لمس کرے اور چھوئے، جو حرام کاری کا ایک راستہ اور ذریعہ ہے، چنانچہ اس راستے کا بند کرنا بہت ضروری ہے۔
اخیر میں
مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اللہ تعالی کی اس وصیت کی یاد دہانی کراے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں، اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: - ((قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ، وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)) النور: 30-31 ”مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت کریں۔ یہی ان کے لئے زیادہ پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہ کی حفاﻇت کریں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔“
والحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم علی نبينا محمد، وآله وصحبه۔
Related books
All books
طہارت، نماز اور جنازے کے فقہی احکام14 زبانیںطہارت، نماز اور جنازے کے فقہی احکام
کتاب "طہارت، نماز اور جنازے کے بعض فقہی احکام" فضیلۃ الشیخ علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کی تالیف ہے، جو کتاب وسنت کی روشنی میں طہارت، نماز اور جنازے کی عبادات کو وضاحت سے بیان کرتی ہے، اس کا مقصد مسلمان کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بصیرت کے ساتھ اپنی عبادات کو نبی ﷺ کے طریقے پر انجام دے سکے، جو آسانی اور پابندی کا مجموعہ ہے اور اخلاص واتباع کی ترغیب دیتا ہے تاکہ قبولیت اور اللہ کی قربت حاصل ہو۔
مؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب36 زبانیںمؤذن، امام، خطیب اور مساجد کے احکام سے متعلق ایک مختصر اور مفید کتاب
یہ کتاب اذان، اقامت، امامت اور خطبۂ جمعہ سے متعلق احکام اور مسجد کے آداب کا ایک جامع گلدستہ پیش کرتی ہے، مؤذنوں، اماموں اور خطیبوں کی ذمے داریوں پر بحث کرتی ہے اور ان کی صحیح ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ان سے متعلق شرعی احکام سیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اسی طرح اس میں نبی ﷺ سے وارد نصوص اور ان کی تشریح بھی شامل کی گئی ہے، تاکہ ان کی درست تطبیق عمل میں آسکے۔
مجھے کس نے پیدا کیا؟ اور کیوں؟75 زبانیںمجھے کس نے پیدا کیا؟ اور کیوں؟
ہر ایک چیز خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے آسمان وزمین اور ان دونوں کے اندر جو نا قابل احاطہ عظیم مخلوقات ہیں، انہیں کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان وزمین کے اس پختہ اور باریک نظام کو تخلیق کیا؟ کس نے انسان کو پیدا کیا، اسے کان، آنکھ اور عقل سے نوازا اور اسے اس قابل بنایا کہ وہ علوم ومعارف حاصل کر سکے اور حقائق کی تہہ تک پہنچ سکے؟ تمہارے جسم اور دیگر زندہ مخلوقات کے جسموں کے نظام میں جو باریک کاری گری ہے، اس کو تم کیا معنى دے سکتے ہو؟ کس نے اس انوکھے نظام کو وجود بخشا؟ یہ عظیم کائنات اپنے ان قوانین کے ساتھ کس طرح منظم اور مستحکم ہے جن قوانین نے سالہا سال سے اسے نہایت باریکی کے ساتھ منظم کر رکھا ہے۔
اسلام کا مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں71 زبانیںاسلام کا مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں
اسلام یہ اسلام کے مختصر تعارف پر مشتمل ایک انتہائی اہم کتاب ہے جو اسلام کے اصول وتعلیمات اور محاسن کو اس کے اصلی مصادر یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی کے سرچشمہ سے کشید کر کے واضح انداز میں پیش کرتی ہے،اس کتاب کے مخاطبین احوال و ظروف اور زبان و بولی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ہر مکلف مسلم و غیر مسلم افراد ہیں۔ یہ قرآن کریم اور سنت نبوی سے ماخوذ دلائل سے آراستہ نسحہ ہے۔ 1- اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے نام اللہ کا آخری و ابدی پیغام ہے۔ اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے نام اللہ تعالی کا پیغام ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ…