Skip to content

”تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہے؛

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

”تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہے؛ چنانچہ لوگوں کا امیر ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کى ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمے دار ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس طرح تم میں سے ہر شخص ذمے دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا“۔

«كُلُّكُمْ رَاعٍ فَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَالعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ».

متفق علیہ
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سماج میں رہنے والے ہر مسلمان کی کچھ ذمے داریاں ہيں، جو اسے اٹھانی ہی ہوں گی۔ امام اور امیر اپنے ماتحت لوگوں کا ذمے دار ہے۔ اس کا کام ان کے دين وشريعت کی حفاظت کرنا، ظالموں سے ان کی حفاظت کرنا، ان کے دشمنوں سے جہاد کرنا اور ان کے حقوق کو محفوظ رکھنا ہے۔ ہر شخص اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنے، ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے، ان کو تعلیم سے آراستہ کرنے اور ادب سکھانے کا مکلف ہے۔ ایک عورت پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کو اچھے سے سنبھالے اور بچوں کی بہتر تربیت کرے۔ خادم اور مزدور پر یہ ذمے دار عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود اپنے آقا کے مال کی حفاظت کرے اور اس کی خدمت کرے۔ اس طرح ہر شخص اپنے ماتحت موجود لوگوں اور چیزوں کا ذمے دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پرسش ہوگی۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

مسلم سماج کے ہر فرد پر اس کی طاقت اور بساط کے مطابق ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

عورت کے سر پر بڑی ذمے داری ہے۔ اسے اپنے شوہر کا گھر بھی سنبھالنا ہے اور بچوں کے تئیں اپنی ذمے داریاں بھی ادا کرنی ہے۔

حوالہ جات
مزید (6)

صحیح بخاری (3/ 150) (2554).

صحیح مسلم (3/ 1459) (1829).

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.

لسليم الهلالي (1/ 369).

إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري.

القسطلاني (4/ 326).