Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 13 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے"۔
صحیح اسے احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔
”جس نے دن میں سو بار ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھا، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
صحیح متفق علیہ
”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر اور تمھارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمھارا مقابلہ تمھارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمھاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“
صحیح اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ جنت ایک چٹیل میدان ہے اور اس میں شجرکاری ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ سے ہوتی ہے“۔
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! شیطان میرے، میری نماز اور میری تلاوت کے بیچ حائل ہو جاتا ہے اور مجھے الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ چناں چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو۔" ان کا کہنا ہے کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا، تو اللہ نے میری اس پریشانی کو دور کر دیا۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘
صحیح اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے رب تبارک و تعالی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: "ایک بندے نے گناہ کیا اور پھر بول اٹھا : اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا اور پھر اس کے اس یقین نے انگڑائی لی کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ اس بندے نے پھر دوبارہ گناہ کیا اور بول پڑا کہ اے میرے رب! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا اور پھر اس کے اس یقین نے انگڑائی لی کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو بخش بھی دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ تم جو چاہے کرو، میں نے تم کو معاف کر دیا۔"
صحیح متفق علیہ
بات یہ ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے صحابہ کے ایک حلقے کے پاس آئے اور پوچھا : "تم کس لیے بیٹھے ہو؟" صحابہ نے جواب دیا : ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کر ر ہے ہیں کہ اس نے ہمیں دین اسلام کی راہ دکھائی اور ہمیں اپنے فضل وکرم سے یہ دین عطا کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "قسم کھاؤ کہ تم اسی غرض سے بیٹھے ہو"۔ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ہم اسی غرض سے بیٹھے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کر تا ہے۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے