من عقائد الشيعة
رسالة لطيفة مختصرة في بيان عقائد الشيعة وتاريخ ظهورها، ويكشف عن دور عبد الله بن سبأ في تأسيس الفكر الشيعي وترويجه لعقائد الشرك والبدع. توضح الرسالة معتقدات الشيعة حول تحريف القرآن، وسب الصحابة، والبداء، والإمامة، والتقية، وتعرض أمثلة من النصوص الشيعية التي تثبت هذه العقائد. كما تنتقد الرسالة عقيدة المتعة والرجعة وأثرها السلبي على الإسلام، وتشير الرسالة إلى معادة الشيعة لأهل السنة واستباحة دمائهم وأموالهم، مع التأكيد على أهمية الحذر من هذه العقائد الباطلة واجتنابها.
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
شیعہ کے عقائد
تالیف : عبد اللہ بن محمد السلفی
اختصار، نشر واشاعت اور ترجمہ :
مرکز رواد الترجمہ
سب تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے اور درود و سلام ہو نبیوں اور رسولوں میں سب سے افضل واشرف ہمارے نبی محمد ﷺ پر اور آپ کے آل پر اور آپ کے تمام صحابہ پر۔
فرقہ رافضہ کا ظہور کب ہوا ؟
فرقہ رافضہ کا ظہور اس وقت ہوا جب ایک یہودی شخص (عبد الله بن سبا) نے اسلام لانے کا دعوی کیا اور آلِ بیت کی محبت کا بے حقیقت دعوی کر کے حضرت على رضی الله عنہ کے بارے میں غلو اور مبالغہ کیا یہاں تک کہ ان کی خلافت کی وصیت کا دعوی کر بيٹها اور پھر انھیں رتبہ الوہیت تک پہنچادیا، یہ وہ حقائق ہیں جن کی شیعہ کی کتابیں خود اعتراف کررہی ہیں۔
چناںچہ القمی اپنی کتاب ’’المقالات والفرق‘‘ [1] میں عبد اللہ بن سبا کے وجود کو تسليم کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ وه (عبد اللہ بن سبا) پہلا شخص ہے جس نے حضرت على رضی الله عنہ کی امامت ورجعت کا دعوی کیا اور حضرت ابو بکر وعمر وعثمان اور بقیہ صحابہ پر طعن وتشنیع کی، جیسا کہ نوبختی نے اپنی کتاب ’’فرق الشیعہ‘‘ [2] میں اور الکشی نے اپنی كتاب ’’رجال الکشی‘‘ [3] میں اس کا ذکر کیا ہے۔ عصر حاضر کے شیعوں میں سے محمد علی المعلم نے اپنی کتاب : ’عبدالله بن سبأ الحقيقة المجهولة‘ میں عبد اللہ بن سبا کے وجود کا اقرار کیا ہے ۔ [4] اور اعتراف سب سى بڑى اور مضبوط دلیل ہے اور یہ تمام اشخاص رافضہ کے بڑے علماء اور مشائخ میں سے ہیں۔ [1] دیکھیے : المقالات والفرق للقمي ص : 10 - 21۔ [2] دیکھیے : فرق الشيعة، للنوبختي، ص : 19 - 20۔ [3] دیکھیے : الکشی نے کئی روایات میں ابن سبا اور اس کے عقائد کو ذکر کیا ہے، اور دیکھیے روایت نمبر : 170،171،172،173،174 ص : 106- 108۔ [4] در اصل یہ کتاب، مرتضی عسکری شیعی کی کتاب : ’’عبد الله بن سبأ وأساطير أخرى‘‘ کا رد ہے جس میں اس نے عبدالله بن سبأ کی شخصیت کا انکار کیا ہے۔
شیعہ کا نام رافضہ کیوں کر پڑا ؟
ان کا نام رافضہ اس لیے پڑا کہ : وہ سب زید بن علی بن حسین کے پاس آئے اور کہا کہ ابو بکر اور عمر سے براءت کرو تو ہم تمھارے ساتھ رہیں گے، انھوں نے جوابََا کہا کہ : وہ دونوں ہمارے نانا کے ساتھی ہیں ہم ان سے براءت نہیں محبت کرتے ہیں، تو شیعوں نے کہا : ’’إذاً نرفضك‘‘ (اگر ایسى بات ہے تو ہم تمھارا ساتھ چھوڑتے ہیں) یہیں سے ان کا نام ’رافضہ‘ پڑ گیا، اور جن لوگوں نے زید بن علی کی موافقت وبیعت کی تو ان کا نام زیدیہ پڑ گیا۔ [5] [5] التعليقات على متن لمعة الاعتقاد، علامہ عبد الله الجبرين رحمه الله تعالى ص : 108۔
رافضہ پر ’امامیہ‘، ’اثنا عشریہ‘ اور ’جعفریہ‘ کا بھی اطلاق ہوتا ہے۔ [6] [6] كشف الحقائق، علي آل المحسن ص : 24، والمراجعات، عبد الحسين شرف الدين ص : 12۔
عقیدۂ بداء کیا ہے جس پر رافضہ ایمان رکھتے ہیں؟
’بَداء‘ : جس کا معنی ’’مخفی ہونے کے بعد ظاہر ہونا‘‘۔ یا پھر "نئی رائے سامنے آنا‘‘ ہے۔ بداء اپنے دونوں معنوں میں جہالت کے پہلے ہونے اور پھر علم کے ظاہر ہونے کو مستلزم ہے اور یہ دونوں چیزیں اللہ پر محال ہیں لیکن رافضہ بداء کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
ریان بن صلت سے مروی ہے اس نے کہا ((میں نے رضا کو کہتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالی نے کوئی نبى ایسا نہیں بھیجا جس نے شراب کو حرام قرار نہ دیا ہو اور نہ اللہ تعالی کے لیے ’’بداء‘‘ کا اقرارکیا ہو))۔ [7] اور ابو عبد اللہ سے مروی ہے ان کا کہنا ہے : ’’کسی بھی چیز سے اللہ کی عبادت اس طرح نہیں کی گئی جس طرح بداء کا عقیدہ مان کر کی گئی۔‘‘ [8] [7] أصول الكافي ( ص : 240 ) [8] أصول الكافي للكليني في كتاب التوحيد (1/331)۔
مالک جہنی نے کہا ((میں نے ابو عبد اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ بداء کے قائل ہونے میں کس قدر اجروثواب ہے تو وہ کبھی اس کے بارے میں گفتگو کرنا نہ چھوڑیں۔‘‘ [9] [9] الكافي ( 1/ 148 )
اے مرے مسلم بھائى! دیکھیے کہ یہ حضرات کس طرح جہالت کی نسبت اللہ کی طرف کر رہے ہیں جب کہ اللہ اپنے متعلق فرماتا ہے : ’’کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘
موجودہ قرآن جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے لے رکھی ہے اس کے بارے میں رافضہ کا کیا عقیدہ ہے ؟
رافضہ جو موجودہ زمانہ میں شیعہ کے نام سے مشہور ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ قرآن جو ہمارے پاس موجود ہے یہ وہ قرآن نہیں ہے جو محمد ﷺ پر اللہ تعالی نے نازل کیا تھا بلکہ اس میں رد و بدل اور حذف واضافہ کر دیا گیا ہے۔ اور شیعہ کے جمہور محدثین قرآن میں تحریف کا اعتقاد رکھتے ہیں جیسا کہ نوری طبرسی نے اپنی کتاب ’’فصل الخطاب في تحريف كتاب رب الأرباب‘‘ [10]۔ [10] فصل الخطاب، حسين بن محمد تقي النوري الطبرسي، ص 32۔
اور محمد بن یعقوب کلینی نے ’’اصول الکافی‘‘ میں ایک باب باندھا ہے کہ ’’قرآن کو ائمہ کے علاوہ کسی نے مکمل جمع نہیں کیا ہے‘‘ اس باب کے تحت جابر جعفی کی ایک روایت ذکر کرتا ہے کہ اس نے کہا: ’’میں نے ابو جعفر کو کہتے سنا ہے کہ ’’اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ اس نے اللہ کی طرف سے نازل کردہ مکمل قرآن جمع کیا ہے تو وہ کذاب ہے، اور مکمل قرآن جس طرح اللہ تعالی نے نازل کیا ہے عین اسی طرح علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد کے ائمہ کے سوا کسی نے جمع اور حفظ نہیں کیا ہے۔‘‘ [11] [11] أصول الكافي، للكليني (1/ 228)
ہشام بن سالم نے ابو عبد اللہ سے روایت کیا ہے کہ : ’’وہ قرآن جو جبرئیل علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تھے اس کی سترہ ہزار آیات تھیں‘‘ [12] اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس قرآن کا دعوی رافضہ کر رہے ہیں وہ اس قرآن سے زیادہ ہے جو ہمارے پاس موجود ہے اور جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے اٹھایا ہے!! ان (شیعوں) سے اللہ کی پناہ۔ [12] أصول الكافي، للكليني (2/ 634). شیعوں کے شیخ مجلسی نے اس روایت کو معتمد علیہ بتایا ہے، اپنی کتاب ’’مرآة العقول‘‘ 12 / 525: میں لکھتا ہے ’’والحديث موثق‘‘ حدیث قابلِ اعتماد ہے۔ پھر کہتا ہے چنانچہ مذکورہ خبر صحیح ہے اور اس حدیث اور اس طرح کی دیگر بہت سارى احادیث یہ بات صراحت کے ساتھ ثابت ہوتى ہے کہ قرآن نامکمل ہے اور اس میں تبدیلی کی گئی ہے اور میرے نزدیک یہ احادیث اس حوالے سے تواترِ معنوی کا فائدہ دیتی ہیں۔
شیعہ تقیہ کے عقیدہ کو بروئے کار لا تے ہوئے النوری الطبرسی کی کتاب سے جتنا بھى براءت کا اظہار کریں لیکن کتاب ایسے سیکڑوں نصوص پر مشتمل ہے جو ان کے علماء سے ان کی معتبر کتابوں میں منقول ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جزم کے ساتھ قرآن میں تحریف پر اعتقاد اور یقین رکھتے ہیں لیکن یہ نہیں چاہتے ہیں کہ قرآن کے بارے میں ان کے اس عقیدہ پر مسئلہ کھڑا ہو۔
امامت کے متعلق رافضہ کا کیا عقیدہ ہے ؟
شیعوں کے لیے مسئلہ امامت ایک ایسی بنیاد ہے جس پر ان کی احادیث گھومتی ہیں اور ان کے عقائد اسی طرف لوٹتے ہیں، اور ان کی فقہ، ان کے اصول، ان کی تفاسیر اور ان کے تمام علوم پر اس کے اثرات بخوبى واضح ہیں۔
محمد حسین کاشف غطاء نے امامت کی تعریف یوں کی ہے : امامت نبوت کی طرح ایک منصبِ الٰہی ہے، جس طرح اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نبوت ورسالت کے لیے منتخب فرماتا ہے اور معجزات کے ساتھ اس کی تائید کرتا ہے جو اللہ کی طرف سے ایک کھلی دلیل (نشانی) کی طرح ہے، اسی طرح وہ جسے چاہتا ہے امامت کے لیے منتخب فرماتا ہے اور اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کى امامت کو نصا بیان کرے اور اسے اپنے بعد لوگوں کا امام بنائے۔ [13] [13] أصل الشيعة وأصولها (ص 58)
نعمت اللہ جزائری کہتا ہے : ’’عمومى امامت کا درجہ نبوت ورسالت کے درجہ سے برتر و بالاتر ہے‘‘ [14] [14] زهر الربيع، ص : 12۔
ہادی طہرانی کہتا ہے کہ : ’’امامت نبوت سے بہتر ہے کیوں کہ یہ تیسرا درجہ ہے جسے اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو نبوت اور خلت (مبحت ودوستى کا سب سے اونچا درجہ) کے بعد عطا کیا تھا۔‘‘ [15] [15] ودائع النبوة ، ص : 114۔
بلکہ شیعہ امامیہ نے ان دو شہادتوں کو ہى حذف ہی کر دیا جن پر دین کی بنیاد اور قبولیتِ عمل کا دارومدار ہے، اور انھوں نے اس مزعومہ امامت کو ان (شہادتین) کی جگہ پر رکھ دیا۔
کلینی ابو جعفر سے روایت کرتا ہے کہ: اسلام پانچ چیزوں پر قائم ہے: نماز، زکاۃ، روزہ، حج اور ولایت، اور کسی چیز کے لیے ولایت جتنی تاکید نہیں ہوئی، اور لوگوں نے چار چیزوں کو اپنالیا اور ولایت کو چھوڑ دیا۔[16] [16] أصول الكافي (2/18)۔
شیعہ اثنا عشریہ کے یہاں ولایت کی بڑی قدر ومنزلت ہے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کو قبولیتِ عمل کے لیے شرط قرار دے دیا اور یہ حکم لگایا کہ منکرِ امامت کافر ہے اور وہ خلود فی النار کا مستحق ہے۔
مجلسی نے اپنی کتاب ’’بحار الأنوار‘‘ [27/166] میں ایک باب باندھا جس کے اندر یہ ذکر کیا ہے کہ : امامت (کے اقرار) کے بغیر اعمال قبول نہیں ہوتے۔
ابن بابویہ قمی کہتا ہے : ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جس نے امیر المومنین اور ان کے بعد کے ائمہ کی امامت کا انکار کیا تو وہ اس شخص کے حکم میں ہے جس نے تمام انبیاء کی نبوّت کا انکار کیا۔ پھر کہتا ہے کہ : ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس نے امیر المومنین کا اقرار کیا اور ان کے بعد کے ائمہ میں سے کسی ایک کا انکار کیا تو وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے تمام انبیاء کی نبوت کا اقرار کیا پھر اس نے محمد ﷺ کی نبوّت کا انکار کردیا۔ [17] [17] الاعتقادات ، ص : 111۔
شیعوں کا شیخ طوسى امامت کا اقرار نہ کرنے والے مسلم فرقوں کی تکفیر میں ان کے عقیدہ کی تائید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ : امامت کا انکار کرنا اسی طرح کفر ہے جس طرح نبوت کا انکار کرنا کفر ہے، کیوںکہ ان دونوں سے ناواقفیت اورلا علمی ایک ہی درجے کى چیز ہے۔ [18] [18] تلخيص الشافي( 4/131)۔
بلکہ ان کے شیخ مفید نے شیعہ امامیہ کے علماء کا منکر امامہ کى تکفیر اور اس کے خلود نار کا مستحق ہو نے پر اتفاق نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ : ’’شیعہ امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ : جس نے کسی ایک امام کا انکار کیا اور ان ائمہ کے تئیں اللہ تعالیٰ نے اس پر جو اطاعت فرض کی ہے اس کا انکار کیا تو وہ کافر اور گمراہ ہے، اور خلود فی النار کا مستحق ہے۔‘‘[19] [19] حق اليقين في معرفة أصول الدين/ عبدالله شبّر : 2/189۔
اس رسالہ کو پڑھنے والے میرے بھائی غور کرو کہ کس طرح شیعہ امامیہ امامت اور ولایت کے منکر کی تکفیر کرتے ہیں جو کہ سب سے چھوٹا معاملہ ہے اور ان لوگوں کی تکفیر نہیں کرتے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں تحریف کی گئی ہے حالاں کہ یہ ان کے پاس سب سے بڑا معاملہ ہے۔
رافضہ کا اپنے ائمہ کے متعلق کیا عقیدہ ہے ؟
رافضہ کا دعوی ہے کہ تمام ائمہ معصوم ہیں اور وہ علمِ غیب کے جاننے والے ہیں، جیساکہ کلینی نے ’’أصول الكافي‘‘ میں نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ : ’’ہم سب اللہ کے علم کا خزانہ رکھنے والے ہیں اور اس کے حکم کے ترجمان ہیں، ہم معصوم لوگ ہیں ہماری اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور ہماری نافرمانی سے منع کیا گیا ہے، ہم زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے اللہ کی واضح حجت ہیں۔‘‘ [20] [20] أصول الكافي، للكليني ( 1/ 165)۔
اور کلینی نے ’’الکافی‘‘ میں ایک باب باندھا ہے کہ : (ائمہ جب کسی چیز کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو جان لیتے ہیں)، جعفر سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : ’’امام جب چاہے کہ اسے معلومات ہوجائے تو اسے معلومات ہوجاتی ہیں، اور ائمہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی وفات کب ہوگی اور وہ اپنے اختیار ومرضی سے ہی انتقال کرتے ہیں۔‘‘ [21] [21] أصول الكافي، للكليني ( 1/ 258))۔
اور خمینی نے اپنی کتاب ’’تحریر الوسیلة‘‘ میں اس مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ : ’’بے شک امام کے لیے مقام محمود، بلند درجہ اور ایسی تکوینی خلافت ہوتی ہے جس کی ولایت اور تسلط و سطوت کے لیے دنیا کے تمام ذرّے تابع ہوتے ہیں۔‘‘ اور مزید کہا کہ : ’’ہمارے (یعنی ائمہ اثنا عشریہ) کے اللہ کے ساتھ ایسے حالات ہیں جہاں تک کسی مقرّب فرشتہ اور نبی مرسل کی پہنچ نہیں ہوسکتی ہے۔‘‘ [22] [22] تحرير الوسيلة، للخميني (ص : 52، 94 )۔
اس رسالہ کو پڑھنے والے میرے بھائی اگر آپ رافضہ کے کفر، شرک اور غلو کو دیکھنا چاہتے ہو ـ اللہ کی پناہ ـ تو ان اشعار کو پڑھو جنھیں ان کے دورِ حاضر کے عالم ابراہیم عاملی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ کے بارے میں کہا ہے، ان اشعار کا ترجمہ پیش خدمت ہے :
اے ابو الحسن آپ تو عین معبود اور اس کی بلند وبالا قدرت کے شاہکار ہیں
آپ علمِ غیب کا احاطہ کیے ہوئے ہیں کوئی بھی چیز آپ سے اوجھل نہیں ہے
آپ کائنات کی چکی کے کرتا دھرتا ہیں اور اس کے بڑے بڑے سمندر بھی آپ کے قبضے میں ہیں
معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے اگر آپ چاہیں تو دنیا کل رہیگی اور اگر آپ چاہیں تو اسے پیشانى کے بل گھسیٹ لائیں
عقیدۂ رجعت کیا ہے جس پر رافضہ ایمان رکھتے ہیں ؟
رجعت کی بدعت رافضہ کی ایجاد کردہ ہے چناںچہ المفید کہتا ہے کہ : ’’اماميہ کا بہت سارے اموات کی رجعت کے وجوب پر اتفاق ہے۔‘‘ [23] اور رجعت کے معنی یہ ہیں کہ آخری زمانہ میں ان کے ائمہ میں سے آخری امام کا ظہور ہوگا یعنی وه دنیا میں واپس آجائے گا جس کا نام ’’القائم‘‘ ہوگا وه سرنگ سے باہر آئے گا اور اپنے تمام سیاسی مخالفین کو قتل کر دے گا، اور شیعہ کے وه حقوق انھیں واپس دلائے گا جسے دوسری جماعتوں نے گذشتہ زمانہ میں غصب کرلیا تھا۔ [24] [23] أوائل المقالات للمفيد، ص: 51 ۔ [24] الخطوط العريضة، لمحب الدين الخطيب، ص : 80۔
سید المرتضی اپنی کتاب ’’المسائل الناصرية‘‘ میں کہتا ہے کہ : اس وقت ابو بکر وعمر کو مہدی کے زمانہ میں ایک درخت پر سولی دی جائے گی ـ مهدی سے مراد ان کے بارہواں امام ہے ـ جس کو یہ لوگ ’’قائم آل محمد‘‘ کا نام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وه درخت سولی دئے جانے سے قبل ہرا بھرا ہوگا لیکن اس پر سولی دیے جانے کے بعد وه خشک ہوجائے گا۔ [25] [25] أوائل المقالات للمفيد، ص : 95 ۔
اور مجلسی نے اپنی کتاب ’’حق اليقين‘‘ میں محمد الباقر سے نقل کیا ہے کہ : ’’جب مهدی کا ظہور ہوگا تو وه ام المومنین حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو زنده کرے گا اور ان پر حد قائم کرے گا۔‘‘[26] [26] حق اليقين، لمحمد الباقر المجلسي، ص : 347۔
عقیدۂ رجعت سے مراد وہ انتقام ہے جو شیعہ اپنے مخالفین سے لیں گے، لیکن شیعہ کے مخالفین سے کون لوگ مراد ہیں؟ اے میرے مسلمان بھائی ! آنے والی روایت رافضہ کی اہلِ سنت و الجماعت کے لیے بغض و حسد اور یہود و نصاری کے لیے دوستی کو واضح طور پر بیان کرتی ہے،مجلسی اپنی کتاب ’’بحار الأنوار‘‘ میں ابی بصیر سے نقل کرتا ہے کہ ابو عبد اللہ نے کہا : مجھ سے کہا : اے ابو محمد میں تو ’القائم‘ (بارہویں امام) کا نزول مع اہل و عیال سہلہ کی مسجد میں ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ وہ اہلِ ذمہ کے ساتھ کیا کرے گا؟ فرمایا : ان کے ساتھ صلح کرے گا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا، اور وہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں گے، میں نے پوچھا (ان لوگوں کا کیا ہوگا) جو لوگ آپ کی عداوت پر قائم رہیں گے؟ فرمایا : نہیں ابو محمد جو ہماری حکومت میں ہمارے مخالف ہوں گے ان کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، ہمارے ’قائم‘ (بارہویں امام) کے ظہور کے ساتھ ہی ان کا خون اللہ نے ہمارے لیے حلال کردیا ہے، آج ان کے خون ہم تم سب پر حرام ہیں کوئی تمھیں (اس حوالے سے) دھوکہ نہ دے، جب امام ’قائم‘ کا ظہور ہوگا تو وہ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور ہم سب کے لیے ان سے انتقام لے گا۔ [27] [27] بحار الأنوار، للمجلسي (52/376 )۔
اے میرے مسلمان بھائی ! آپ نے دیکھا کہ کس طرح شیعہ کا مہدی، یہود و نصاری سے تو صلح کر رہا ہے جب کہ اپنے مخالفین اہلِ سنت والجماعت سے لڑائی کی بات کر رہا ہے۔
صحابہ کرام کے متعلق رافضہ کا کیا عقیدہ ہے ؟
رافضہ صحابہ کرام کی تکفیر و سب وشتم کا عقیدہ رکھتے ہیں، چناںچہ کلینی نے ’’فروع الكافي‘‘ میں جعفر سے نقل کیا ہے کہ : ’’نبی کے بعد تین افراد کے علاوہ سب مرتد ہوگئے تھے، میں نے پوچھا کہ وہ تین افراد کون ہیں ؟ تو فرمایا : مقداد بن اسود، ابو ذر غفاری اور سلمان فارسی ہیں۔‘‘ [28] [28] فروع الكافي، للكليني، ص 115۔
اور مجلسی نے ’’بحار الأنوار‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ علی بن حسین کے خادم نے کہا کہ : میں ان کے ساتھ ایک دفعہ تنہائی میں تھا، تو میں نے عرض کیا کہ : یقینََا میرا آپ پر حق بنتا ہے کہ آپ مجھے ان دونوں یعنی ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) کے متعلق بتائیں؟ تو انھوں نے کہا کہ : ’’وہ دونوں کافر ہیں اور جو شخص ان دونوں سے محبّت کرے گا وہ بھی کافر ہے۔‘‘ ابو حمزہ ثمالی نے علی بن حسین سے ان دونوں (ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما) کے متعلق پوچھا تو کہا : ’’وہ دونوں کافر ہیں، اور جو ان دونوں سے دوستی رکھے وہ بھی کافر ہے۔‘‘ [29] [29] بحار الأنوار، للمجلسي ( 69/ 137، 138)، یہاں پر یہ اشارہ ضروری ہے کہ علی بن حسین اور تمام اہلِ بیت ان عقائد سے مبرا ہیں جسے رافضہ نے ان پر گھڑ لیا ہے، اللہ انھیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں!
اور قمی کی تفسیر میں اللہ تعالی کے قول : [النحل:90] {وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ} ’’(اللہ تعالی) بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔‘‘ کے تحت (شیعہ) نے کہا کہ ’’الفحشاء‘‘ سے مراد ابو بکر (رضی اللہ عنہ)، ’’المنکر‘‘ سے مراد عمر (رضی اللہ عنہ)، اور ’’البغی‘‘ سے مراد عثمان (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ [30] [30] تفسير القمي، ( 1 / 390)۔
مجلسی نے’’بحار الأنوار‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ : وہ احادیث جو کہ ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) اور ان دونوں کى طرح کے لوگوں کے کفر اور ان پر لعنت کرنے اور ان سے براءت کا اظہار کرنے کے ثواب پر دلالت کرتی ہیں، اور جو ان کے کی بدعات کو بیان کرتى ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ انہیں اس ایک جلد والى کتاب میں، یا کئی جلدوں میں ذکر کیا جائے، اور ہم نے یہاں جو ذکر کیا ہے اس شخص کے جسے اللہ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینا چاہے کافی ہے۔ [31] بحار الأنوار، للمجلسي(30/230)۔
اور عاشورہ کے دن یہ ایک کتا لاتے ہیں اور اس کا نام عمر رکھتے ہیں پھر اس پر ڈنڈوں اور پتھروں کی بارش کرنا شروع کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہے، پھر ایک کم عمر بکری لاتے ہیں اور اس کا نام عائشہ رکھتے ہیں پھر اس کے بال نوچنا اور جوتوں سے اسے مارنا شروع کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ مرجاتى ہے۔[32] اسی طرح یہ اس دن پر جشن مناتے ہیں جس دن حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کو شہید کیا گیا تھا اور ان کے قاتل ابو لؤلؤة مجوسی کو بابا شجاع الدین کا نام دیتے ہیں۔[33] [32] تبديد الظلام للشيخ إبراهيم الجبهان، ص : 27۔ [33] عباس القمي، (الكنى والألقاب) (2/55)۔
اے میرے مسلمان بھائی دیکھو! کس قدر اس بے دین جماعت کے اندر بغض وعداوت اور خباثت بھری ہوئی ہے، اور انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل اشخاص یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کے بارے میں یہ کیا کہتے ہیں جن کی اللہ تعالی اور اس کے رسول نے تعریف کی ہے، اور امت ان کی عدالت اور فضیلت پر متفق ہے اور تاریخ و واقعات ان کی فضیلت وسابقیت اور جہاد فی سبیل اللہ پر گواہ ہیں۔
اہل سنَّت کے متعلق رافضہ کا کیا عقیدہ ہے ؟
رافضہ کے عقیدہ کے اعتبار سے اہل سنَّت کا خون ومال حلال ہے۔ الصدوق نے ’’العلل‘‘ میں داود بن فرقد کی سند سے روایت کیا ہے،اس نے کہا کہ : میں نے ابو عبد اللہ سے پوچھا کہ وہ ناصبی کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ تو انھوں نے کہا کہ : ’’ناصبی کا خون حلال ہے، لیکن میں تجھے تقیہ اختیار کرنے کو کہوں گا، ہاں اگر تم اس ناصبی (مسلم) پر کوئی دیوار گرانے یا اسے کسی دریا میں ڈبونے کی طاقت رکھتے ہو تو اسے کرگزرو تاکہ وہ تمھارے خلاف کوئی گواہی نہ دے سکے۔ میں نے پوچھا : آپ کا اس کے مال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فرمایا : تم (اس کا) جتنا مال لے سکتے ہو لے لو۔‘‘[34] [34] المحاسن النفسانية، ص : 166۔
اور شیعہ کا خیال یہ بھی ہے کہ اہلِ سنَّت کا کفر یہود ونصاری کے کفر سے سخت ہے، اس لیے کہ یہود ونصاری اصلی کافر ہیں اور اہل سنَّت مرتد ہیں، اور کفر وارتداد کا معاملہ سخت ہونے پر اجماع ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرتے ہیں جیساکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ [35] [35] دیکھیے : كتاب ’’كيف دخل التتر بلاد المسلمين‘‘ د. سليمان العودة۔
کتاب ’’وسائل الشيعة‘‘ میں فضیل بن یسار سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا کہ : میں نے ابو جعفر سے پوچھا کہ : کیا میں رافضہ عورت کا نکاح ناصبی سے کردوں ؟ تو کہا کہ : ’’نہیں، کیوں کہ ناصبی کافر ہے۔‘‘ [36] [36] وسائل الشيعة، للحر العاملي (7/ 431)، التهذيب (7 303)۔
اور اہلِ سنَّت کے یہاں ’’نواصب‘‘ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرتے ہیں، جب کہ رافضہ اہلِ سنَّت کو ’’نواصب‘‘ کہتے ہیں، اس لیے کہ وہ ابو بکر اور عمر و عثمان (رضی اللہ عنہم) کی امامت اور خلافت کو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی امامت اور خلافت پر مقدم سمجھتے ہیں، حالانکہ حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نبی ﷺ کے زمانے سے ہی مسلم ہے۔
رافضہ کے یہاں عقیدۂ تقیہ کیا ہے ؟
ان کے معاصرین علماء میں سے ایک عالم نے ’تقیہ‘ کی تعریف یوں کی ہے کہ : ’’تو ایسی بات کہے یا ایسا کام کرے جس کا تو اعتقاد نہیں رکھتا ہے تاکہ اپنے نفس یا مال سے تکلیف دہ چیز کو دور کرسکے یا اپنی کرامت کی حفاظت کرسکے۔۔‘‘[37] [37] الشيعة في الميزان، لمحمد جواد مغنية ص : 47۔
کلینی نے ’’أصول الكافي‘‘ میں نقل کیا ہے کہ : ابو عبد اللہ نے کہا کہ : ’’اے ابو عمر دین کے دس حصوں میں سے نو حصّے تقیّہ میں ہیں، اور جس کے پاس تقیّہ نہیں اس کا کوئی دین نہیں (وہ بے دین ہے)۔ اور سوائے نبیذ اور موزہ پر مسح کے ہر چیز میں تقیّہ ہے۔‘‘ کلینی ابو عبد اللہ سے نقل کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ : ابو عبد اللہ نے کہا : ’’اپنے دین کی حفاظت کرو اور اسے تقیّہ سے چھپائے رکھو اس لیے کہ جس کے پاس تقیّہ نہیں ہوتا اس کے پاس ایمان نہیں ہوتا۔‘‘[38] [38] أصول الكافي، ص : 482-483۔
بلکہ رافضہ کا حال تو یہ ہو چکا ہے کہ وہ تقیہ کے طور پر غیر اللہ کی قسم کھانے کو جائز قرار دیتے ہیں (اللہ کی پناہ)!! الحر العاملی نے اپنی کتاب : ’’وسائل الشيعة‘‘ میں ابو جعفر کا قول نقل کیا ہے جسے ابن بکیر نے زرارہ سے اور زرارہ نے ابو جعفر سے روایت کیا ہے کہ : میں نے ابو جعفر سے کہا : ہم ان لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو یہ ہم سے ہمارے اموال کے بارے میں ہم سے یہ قسم لیتے ہیں کہ ’ہم نے اس کی زکوۃ ادا کردی ہے، تو ابو جعفر نے کہا : اے زرارہ! جب تمھیں ان کا خوف ہو تو جس چیز کی وہ کہیں تم قسم کھالو، تو میں نے پوچھا : کیا طلاق دینے اور آزاد کرنے کی بھی؟ فرمایا : جو کچھ بھی وہ چاہیں۔‘‘ سماعۃ ابو عبد اللہ سے روایت کرتا ہے کہ : ’’جب کوئی شخص تقیہ کے طور پر مجبورََا یا اضطراری حالت میں قسم کھالے تو اسے اس کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔‘‘ [39] [39] وسائل الشيعة، للحر العاملي ( 16/ 136، 137)۔
چنانچہ رافضہ ’تقیّہ‘ کو واجب سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے بغیر دین ومذہب قائم نہیں ہوسکتا، اور وہ ظاہری و باطنی طور پر اس کا سبق لیتے اور اس کا استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر وہ مشکلات اور پیچیدہ حالات میں تقیّہ سے کام لیتے ہیں، اس لیے رافضہ سے مسلمانوں کو بہت ہوشیار اور محتاط رہنا چاہیے۔
نجف اور کربلا کے متعلق رافضہ کا کیا عقیدہ ہے؟ ان کی زیارت کرنے کی ان کے یہاں کیا فضیلت ہے؟
شیعہ اپنے ائمہ کے قبور، خواہ وہ حقیقی ہوں یا فرضی مقدس حرم مانتے ہیں، اسی لیے ان کے یہاں کوفہ، کربلا اور قم سب حرم ہیں۔ اور وہ الصادق سے روایت کرتے ہیں کہ : اللہ تعالی کا حرم مکہ، اس کے رسول کا حرم مدینہ، امیر المؤمنین کا حرم کوفہ اور ہمارا حرم قم ہے۔
کربلا ان کے نزدیک کعبہ سے افضل ہے جیساکہ کتاب ’’بحار الأنوار‘‘ میں ابو عبد اللہ سے منقول ہے کہ : ’’اللہ تعالی نے کعبہ کے پاس وحی کی کہ اگر کربلا کی تربت نہ ہوتی تو تجھے کوئی فضیلت حاصل نہ ہوتی، اور اگر وہ شخص نہ ہوتا جسے کربلا کی سرزمین نے ضم کیا ہوا ہے تو تیری تخلیق میں نہ کرتا اور اس گھر کو بھی پیدا نہ کرتا جس پر کہ تجھے فخر ہے، اس لیے چپ چاپ اپنی جگہ پر سراپا گنہگار بنکر عاجزی وانکساری اور سہل پسندی کے ساتھ رہا کر اور کربلا کی سرزمین کے آگے غرور وگھمنڈ اور تکبر نہ کیا کر ورنہ میں تجھ سے ناراض ہوجاؤں گا اور تجھے جہنم میں پھینک دوںگا۔‘‘ [40] [40] كتاب البحار (10/107)۔
بلکہ رافضہ کربلا میں واقع حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کو حجِ بیت اللہ سے افضل سمجھتے ہیں، مجلسی نے اپنی کتاب ’’بحار الأنوار‘‘ میں بشیر الدھان سے نقل کیا ہے ، وہ کہتا ہے کہ : ’’میں نے ابو عبد اللہ سے پوچھا : ’’ہو سکتا ہے کہ مجھ سے حج چھوٹ جائے تو کیا میں یومِ عرفہ قبرِ حسین (رضی اللہ عنہ) کے پاس گزاروں؟ تو ابو عبد اللہ نے کہا : بہت خوب اے بشیر! جو کوئی مومن قبرِ حسین پر اس کے حق کو پہچانتے ہوئے عید کے علاوہ کسی بھی دن آئے تو اسے دس مقبول حج، بیس مبرور ومقبول عمروں اور نبی یا امامِ عادل کے ساتھ بیس غزوات میں شرکت کرنے کا ثواب ملے گا، اور جو قبرِ حسین پر عرفہ کے دن اس کے حق کو پہچانتے ہوئے آئے اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار مقبول ومبرور حج اور ایک ہزار مقبول ومبرور عمروں نیز نبی یا امامِ عادل کے ساتھ ایک ہزار غزوات میں شرکت کا ثواب لکھا جائے گا۔‘‘
بلکہ رافضہ کے شیخ عباس الکاشانی نے اپنی کتاب ’’مصابيح الجنان‘‘ میں کربلا کے حوالے سے غلو میں حد درجہ مبالغہ سے کام لیا ہے، کہتا ہے : ’’ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ارضِ کربلا اسلام میں مقدس ترین جگہ ہے۔ اس حوالے سے وارد نصوص میں جو اہمیت اور شرف اسے حاصل ہے وہ کسی اور جگہ کو نہیں، پس وہ اللہ کی مقدس ومبارک اور متواضع سر زمین ہے اور کربلا اللہ کی پسندیدہ زمین اور اس کے رسول کا مبارک اور امن والا حرم ہے، کربلا ان جگہوں میں سے ہے جسے اللہ تعالی اپنی عبادت اور دعا کے لیے پسند کرتا ہے، کربلا اللہ کی ایسی زمین ہے جس کی مٹی میں شفا ہے، مذکورہ اوصاف اور اس جیسی خوبیاں صرف کربلا کے ساتھ خاص ہیں، اور کسی سر زمین میں یہ صفات وخوبیاں نہیں پائی جاتی ہیں حتٰی کہ کعبہ میں بھی یہ صفات نہیں پائی جاتی ہیں۔‘‘ [41] [41] مصابيح الجنان، لعباس الكاشاني ص : 360۔
یوم عاشورہ (دس محرم) کے متعلق رافضہ کا کیا عقیدہ ہے؟ اور ان کے یہاں اس دن کی کیا فضیلت ہے؟
رافضہ ہر سال محرم کے پہلے عشرہ میں محافل ومجالس اور نوحہ وماتم کا اہتمام کرتے ہیں، سڑکوں اور عام میدانوں میں مظاہرے کرتے ہیں، شہادتِ حسین کی یاد میں رنج وحزن کے اظہار کے لیے سیاہ پوشاک زیب تن کرتے ہیں اور ان تمام چیزوں کو اہم عبادت سمجھتے ہیں، ساتھ ہی رخسار پیٹنا، سینہ کوبی کرنا، کندھوں اور پٹھوں پر ضرب لگانا، گریبان چاک کرنا اور یا حسین یا حسین کے نعرے لگانا ان کا شعار ہے، خاص طور سے یہ تمام کام ہر محرم کی دسویں تاریخ کو کرتے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ خود وہ اپنے اوپر تلواروں اور زنجیروں سے ضرب لگاتے ہیں اور یہ ان ممالک میں جہاں رافضہ آباد ہیں جیسے ایران وغیرہ عام ہے۔
اوران کے شیوخ ان کے ان مضحکہ خیز باتوں پر جن کى وجہ سے یہ دیگر امتوں کے لیے ہنسی ومذاق کا ذریعہ بن گئے ہیں انھیں ترغیب دلاتے ہیں اور ابھارتے ہیں، ایک دفعہ محمد حسن آل کاشف الغطا جسے رافضہ کے یہاں مرجع خیال کیا جاتا ہے، اس سے پوچھا گیا کہ اس کے گروہ کے لوگ جو سینہ کوبی کرتے ہیں، رخسار پیٹتے اور گریبان چاک کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ان کے متعلق اس کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا کہ : یہ اللہ کے شعائر کی تعظیم ہے۔ ’’اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے تو فی الحقیقت یہ دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے۔‘‘ [الحَجّ: 32]
ان مضحکہ خیز باتوں کا وہ ہر سال اہتمام کرتے ہیں، جب کہ نبی ﷺ نے صحیح حدیث میں رخسار پیٹنے، گریبان چاک کرنے وغیرہ سے منع فرمایا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر : 103) لیکن رافضہ (اللہ انھیں رسوا کرے) نبی ﷺ کی حدیث کو دیوار پر مارتے ہیں، کیونکہ یہ تمام فرقوں میں نبی ﷺ پر سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا فرقہ ہے۔
عقیدۂ طینہ کیا ہے جس پر رافضہ ایمان رکھتے ہیں؟
رافضہ کے یہاں طینہ سے مراد حسین رضی اللہ عنہ کے قبر کی مٹی ہے جس کے متعلق رافضہ کا ایک گمراہ شخص جس کا نام محمد نعمان حارثی اور لقب ’’شیخ مفید‘‘ ہے وہ اپنی کتاب ’’المزار‘‘ میں ابو عبد اللہ سے روایت کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ انھوں نے فرمایا : ’’حسین (رضی اللہ عنہ) کی قبر کی مٹی ہر مرض کے لیے شفا ہے اور یہی سب سے عمدہ دوا ہے۔‘‘
اسی طرح رافضہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ شیعہ کی تخلیق ایک خاص مٹی سے ہوئی ہے اور سنی کی تخلیق دوسری مٹی سے ہوئی ہے، اور بعد ازاں ان دونوں میں ایک خاص طریقہ سے اختلاط ہوگیا، پس شیعی میں جو جرائم اور معصیتیں دیکھنے میں آرہی ہیں وہ سنی کی مٹی کے اثر سے ہے، اور سنی میں جو اچھائی وامانت داری پائی جاتی ہے وہ شیعی مٹی کے اثر سے ہے، بناء بریں بروز قیامت شیعہ کے گناہ وجرائم کو اہلِ سنت کے سر پر تھوپ دیا جائے گا اور اہلِ سنت کی نیکیوں کو شیعہ کے حوالے کردیا جائے گا۔ [42] [42] علل الشرائع ص : 490 ـ 491، بحار الأنوار 5 /247 ـ 248َ۔
متعہ کے متعلق رافضہ کا کیا عقیدہ ہے؟ اور ان کے یہاں اس (متعہ) کی کیا فضیلت ہے؟
نکاحِ متعہ ان کے یہاں یہ ہے کہ : ’’عورت خود سے کچھ معین وقت کے لیے متعین مہر کے عوض نکاح کرے یا اگر عورت کم سن ہو تو اس کا ولی یا وکیل اس کا نکاح کرائے کسى ایسے شخص کے ساتھ جو اس کے لیے حلال ہو، اور اس نکاح میں كوئى شرعی مانع نہ ہو جیسے نسب یا سبب یا رضاعت یا عدت یا پاکیزگی‘‘ [43] [43] معالم المدرستين، السيد مرتضى العسكري (2/242و243)، من لا يحضره الفقيه لابن بابويه القمي (3/149). والتهذيب للطوسي (2/189)۔
رافضہ کے یہاں متعہ کی بڑی فضیلت ہے ـ معاذ الله ـ چناںچہ فتح اللہ کاشانی کی کتاب ’’منهج الصادقين‘‘ میں الصادق سے مروی ہے کہ : متعہ میرے آباء واجداد کا دین ہے جو اس پر عمل کرتا ہے وہ ہمارے دین پر عمل کرتا ہے، جو اس کا انکار کرتا ہے وہ ہمارے دین کا انکار کرتا ہے، بلکہ وہ ہمارے دین کو چھوڑ کر کسی اور دین پر عمل کرتا ہے اور متعہ سے حاصل اولاد دائمی بیوی کی اولاد سے افضل ہوتی ہے اور متعہ کا منکر کافر ومرتد ہے۔ [44] [44] منهج الصادقين، للملا فتح الله الكاشاني، (2/495)۔
قمی نے کتاب ’’من لا يحضره الفقيه‘‘ میں عبد اللہ بن سنان سے نقل کیا ہے کہ ابو عبد اللہ نے کہا کہ : ’’اللہ تعالی نے ہماری شیعہ جماعت پر تمام نشہ آور پینے والی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے عوض انھیں متعہ عنایت کیا ہے۔‘‘ [45] [45] من لا يحضره الفقيه لابن بابويه القمي، (ص : 330)۔
اور رافضہ کے یہاں متعہ کے لیے کوئی عدد شرط نہیں ہے جیساکہ ’’فروع الكافي‘‘، ’’التهذيب‘‘ اور ’’الاستبصار‘‘ میں زرارہ سے مروی ہے وہ ابو عبد اللہ سے روایت کرتا ہے کہ : میں نے ان سے متعہ کے بارے میں پوچھا کہ : کیا متعہ چار عورتوں سے کی جانی چاہیے ؟ تو انھوں نے کہا کہ : ہزار عورتوں سے متعہ کرو، اس لیے کہ یہ سب کرایہ کی عورتیں ہیں۔ اور محمد بن مسلم ابو جعفر سے روایت کرتا ہے کہ انھون نے متعہ کے متعلق فرمایا کہ : ’’متعہ شدہ عورت چار (بیویوں) میں سے نہیں ہے، کیوں کہ نہ اس کی طلاق ہوتی ہے اور نہ وارث ہوتی ہے، بلکہ یہ کرایہ پر لی ہوئی چیز ہوتی ہے۔‘‘ [46] [46] الفروع من الكافي للكليني، ( 5/ 451 )، والتهذيب (2/188)۔
یہ سب کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ”اور (وہ اہلِ ایمان کامیاب ہیں) جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ ’’بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ ’’اس کے سوا جو اور ڈھونڈیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں۔‘‘ [المؤمنون: 5-7] ان آیات کریمہ سے صرف دو ہی چیزوں کے مباح ہونے کا ثبوت ملتا ہے ایک بیوی دوسری لونڈی، علاوہ ازیں تمام طریقے حرام ہیں اور متعہ والی عورت کرایہ کی ہوتی ہے نہ وہ وراثت کی حقدار ہوتی ہے نہ ہی اس کے لیے طلاق ہے، اس لیے وہ بیوی نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ زانیہ ہے العياذ بالله۔
اسی لیے شیخ طوسی اپنی کتاب ’’تهذيب الأحكام‘‘ میں نکاح متعہ کی قباحت بیان کرتے ہوئے اور اس کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ : ’’اگر عورت عزت دار گھرانے سے ہو تو اس کے گھر والوں کو پہنچنے والی شرمندگی اور اس کی رسوائی کی وجہ سے اس سے لطف اندوز ہونا جائز نہیں ہے۔‘‘[47] [47] تهذيب الأحكام، للطوسي(7/227)۔
بیعت کے متعلق رافضہ کا کیا عقیدہ ہے ؟
شیعہ رافضی حکومت کے علاوہ تمام حکومتوں کو باطل قرار دیتے ہیں چناںچہ ’’الكافي بشرح المازندراني‘‘ اور ’’الغيبة للنعماني‘‘ میں جعفر سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا : ’’رافضہ کے مہدی ’القائم‘ کے عَلَمْ سے پہلے جو بھی عَلَمْ بلند کیا جائے اس کے بلند کرنے والا طاغوت ہے۔‘‘[48] [48] الكافي بشرح المازندراني (12/ 371)، اور دیکھیے : كتاب البحار (25/113)۔
جو حاکم اللہ کی طرف سے نہ ہو اس کی اطاعت صرف تقیہ کے طور پر ہوگی، اس لیے کہ اس کی اطاعت جائز نہیں ہے، بلکہ وہ ظالم و جابر اور امامت کے قابل نہیں ہے, رافضہ مذکورہ تمام اوصاف کا اطلاق اپنے اماموں کو چھوڑ کر تمام مسلمان حکام پر کرتے ہیں، جن میں سرِ فہرست خلفاء راشدین ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ہیں۔
رافضی المجلسی جو کہ ان کا ایک گمراہ کن شیخ اور کتاب ’بحار الأنوار‘ کا مؤلف ہے، وہ تین خلفاء راشدین کے متعلق یہ کہتا ہے کہ : ’’وہ سب کے سب غاصب، ظالم اور دین سے مرتد تھے، ان پر اور اہلِ بیت پر ظلم کرنے میں اولین و آخرین میں سے جنھوں نے بھی ان کی اتباع کی ان سب پر اللہ کی لعنت ہو۔‘‘ [49] [49] كتاب البحار للمجلسي (4 / 385)۔
یہ فرمان ہے ان کے امام المجلسی کا، جس کی کتاب ان کے یہاں حدیث کے اہم بنیادی مصادر میں شمار ہوتی ہے، ان لوگون کے بارے میں جو انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ والسلام کے بعد سب سے افضل لوگ ہیں۔
مسلمان خلفاء کے بارے میں اپنے بنائے ہوئے اصول کی بنا پر وہ ان تمام لوگوں کو طاغوت اور ظالم شمار کرتے ہیں جو ان کا تعاون کرتے ہیں، چناںچہ کلینی نے اپنی سند سے عمر بن حنظلہ سے روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے کہا کہ : ’’میں نے ابو عبد اللہ سے اپنے ان دو ساتھیوں کے بارے میں پوچھا جن کے مابین قرض یا میراث کے بارے میں جھگڑا وتنازع تھا اور ان دونوں نے اپنا معاملہ حاکمِ وقت یا موجودہ عدالت میں پیش کیا، تو کیا ایسا کرنا حلال ہے؟ اس پر انھوں نے جوابََا فرمایا : جس نے حق یا باطل کا معاملہ ان کے سپرد کیا گویا کہ اس نے اپنا معاملہ طاغوت کے سپرد کیا اور جو فیصلہ اس کے لیے ان کی طرف سے ہوگا اس کا لینا اس کے لیے حرام ہے اگرچہ اس کے لیے حق ثابت ہو اس لیے کہ وہ طاغوت کے حکم کو اپنا رہا ہے۔[50]. [50] الكافي للكليني (1/ 67)، والتهذيب (6 /301)، ومن لا يحضره الفقيه (3/ 5)۔
رافضہ رافضی حکومتوں کی ہی اطاعت کرتے ہیں اور وہ جہاں بھی کام کرتے ہیں وہاں اپنے لوگوں کو ہی جگہ دیتے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اہلِ سنت کو وہاں سے دور کیا جائے تاکہ تمام چیزوں پر ان کا مکمل کنٹرول ہو!! اللہ تعالی مسلمانوں کو ان کے شر سے بچائے۔
رافضہ اور اہلِ سنت کے ما بین اختلاف کے اسباب و وجوہ کیا ہیں ؟
مولانا نظام الدين محمد اعظمی اپني کتاب ’’الشیعہ والمتعہ‘‘ کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں کہ : ’’ہمارے اور رافضہ کے مابین جو اختلاف ہیں وہ اختلافات صرف فقهی وفروعی اختلاف پر ہی مرتگز نہیں ہیں جیسے کہ صرف متعہ کا مسئلہ ہو، برگز نہیں؛ اس لیے کہ ایک اصل میں اختلاف کے پائے جانے سے مختلف اصول میں اختلاف کا پایا جانا بدیہی ہے، البتہ عقیده میں جو اختلافات ہیں وہ ان نقاط پر مشتمل ہیں :
1 : رافضہ کا کہنا ہے کہ قرآن محرف اور ناقص ہے۔ اور ہم کہتے ہیں کہ قرآن الله کا کلام ہے، کامل اور مکمل ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں ہے اب تک قرآن میں کسی قسم کا کوئی رد وبدل اور نقص نہیں ہوا ہے اور جب تک الله تعالی اس روئے زمین اور اس پر بسنے والی مخلوقات کا مالک رہے گا اس وقت تک کوئی رد وبدل نہیں ہوسکتا ہے جیسا کہ الله کا ارشاد ہے : ’’ ہم ہی نے اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘
2 : رافضہ کہتے ہیں کہ رسول الله ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے چند صحابہ کو چهوڑ کر باقی سب مرتد ہو کر اپنی پرانی روش پر لوٹ گئے تھے، اور انھوں نے امانت ودیانت میں خیانت کی تهی خاص طور پر خلفاء ثلاثہ، الصديق، الفاروق اور ذو النورین نے؛ اس لیے رافضہ انھیں دیگر لوگوں سے زیاده گمراه، بھٹکے ہوئےاور کافر سمجهتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ انبیاء علیہ السلام کے بعد سب افضل انسان ہیں اور وه سب کے سب انصاف پرور ہیں۔ نبی ﷺ پر عمدا وقصدا جھوٹ نہیں بول سکتے، اور نبي ﷺ کے اقوال اور افعال کو نقل کرنے میں قابل اعتماد اور ثقہ ہیں۔
3. رافضہ کا کہنا ہے کہ ان کے باره امام ہیں اور سب کے سب معصوم ہیں، وه علم غیب سے واقف ہیں، نیز وه تمام علوم جو انبیاء و رسل اور فرشتوں کی طرف صادر ہوتے ہیں اسے بهی جانتے ہیں جو کچھ ہو چکا ہے اور ہونے والا ہے سب ان کے علم میں ہے کوئی بهی چیز ان سے پوشیده نہیں ہے، وه دنیا کی تمام لغات و زبانیں بهی جانتے ہیں اور پوری روئے زمین انھیں کے لیے ہے۔
اور ہم کہتے ہیں کہ وه دیگر انسانوں کی طرح انسان ہیں ان میں کوئی فرق نہیں، ان میں فقہاء، علماء اور خلفاء ہیں لیکن ہم ان کی طرف وه باتیں منسوب نہیں کرتے جن کا وه اپنے لیے دعوی نہیں کرتے بلکہ وه اس سے منع کرتے ہیں اور براءت کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘ [51] [51] مقدمة نظام الدين محمد الأعظمي لكتاب الشيعة والمتعة، ص : 6۔
موحدین اہلِ سنت اور مشرک رافضہ کے درمیان قربت اور ہم آہنگی پیدا کرنے کا کیا حکم ہے ؟
شيخ عبد العزيز بن عبدالله بن باز رحمہ اللہ اہلِ سنت اور رافضہ کے درمیان قربت کے متعلق فرماتے ہیں کہ : ’’رافضہ اور اہلِ سنت کے درمیان قربت ممکن نہیں ہے کیوں کہ (دونوں کا ) عقیدہ مختلف ہے، اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ توحید اور خالص اللہ سبحانہ وتعالی کی عبادت ہے، اس کے ساتھ نہ تو کوئی مقرب فرشتہ کو بلایا جاتا ہے اور نہ ہی کسی نبی مرسل کو، اللہ تعالی کے علاوہ کوئی علم غیب نہیں جانتا، اور اہلِ سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کی جائے اور یہ ایمان رکھاجائے کہ انبیاء کے بعد صحابہ افضل الخلق ہیں اور ان میں سب سے افضل ابو بکر صدیق پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، حالاںکہ رافضہ اس عقیدہ کے برخلاف ہیں، رافضہ اور اہلِ سنت کے درمیان قربت ناممکن ہے، جس طرح اہل سنت اور یہود و نصارى و بت پرستوں کے درمیان قربت ممکن نہیں اسی طرح اہل سنت اور رافضہ کےدرمیان ممکن نہیں، اس عقیدہ کے اختلاف کے سبب جس کی ہم نے وضاحت کی ہے۔‘‘ [52] [52] مجموع فتاوى ومقالات متنوعة جزء خامس ص : 156۔
رافضہ کے بارے میں ائمہ سلف وخلف کے کیا اقوال ہیں ؟
اشہب بن عبد العزیز کا بیان ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ سے رافضہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ : ’’ان سے بات نہ کرو اور نہ ہی ان سے روایت کرو اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘ اور امام مالک نے یہ بھی فرمایا کہ : ’’جو لوگ صحابہ کرام کو گالی دیں ان کا اسلام میں کوئی نام نہیں، یا فرمایا کہ : ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘
ابو حاتم فرماتے ہیں کہ ہم سے حرملہ نے بیان کیا کہ میں نے شافعی رحمہ اللہ کو کہتے سنا ہے کہ : ’’میں نے رافضہ سے زیادہ جھوٹی گواہی دینے والا کسی اور کو نہیں دیکھا ہے۔‘‘ [53] [53] آداب الشافعي ومناقبه لابن أبي حاتم الرازي ص : 144، ومناقب الشافعي للبيهقي (ج/1 468)۔
عبد اللہ بن احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والدِ محترم سے رافضہ کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ : ’’وہ جو ابو بکر و عمر (رضی اللہ عنہما) پر سب وشتم کرتے ہیں۔‘‘ اور امام احمد رحمہ اللہ سے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ : ’’ان پر رحمت کی دعا کرو اور جو ان سے بغض و عداوت رکھتے ہیں ان سے براءت کا اظہار کرو۔‘‘ [54] [54] المسائل والرسائل المروية عن الإمام أحمد بن حنبل، لعبد الإلـه بن سليمان الأحمدي (2 /357)۔
خلال نے ابو بکر المروزی سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : ’’میں نے ابو عبد اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ابو بکر و عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کو گالی دیتا ہے، تو انھوں نے فرمایا کہ : ’’میں اسے دائرہ اسلام میں ہی نہیں سمجھتا۔‘‘[55] [55] السنة، للخلاّل (3 /493). اور یہ رافضہ کی تکفیر میں امام احمد کی صراحت ہے ۔
ان تمام باتوں کے بعد اے میرے مسلمان بھائی :
آپ پر ضروری ہے کہ آپ ان سے ہوشیار رہیں اور ان کے ساتھ معاملات میں بھی پرہیز کریں اور ان کے ان خبیث معتقدات سے بھی ہوشیار رہیں جو ہر اس مسلمان موحد کی دشمنی پر مبنی ہیں جو اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ اللہ ہى رب ہے، اسلام ہى دین ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی و رسول ہیں ۔