Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 42 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا، تو جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، تو جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گیا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب پھر جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا تو پایا کہ جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گيا ہے۔ چناں چہ واپس آکر کہا : تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: ”جاؤ جہنم اور اس کے اندر میں نے اہل جہنم کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے دیکھو۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو آگ کے شعلے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ چناں چہ واپس آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، تو اسے خواہشات سے گھیر دیا گیا۔ پھر فرمایا: اب جا کر دیکھو۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو پایا کہ اسے خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے۔ لہذا واپس آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ہر شخص اس میں داخل ہوگا"۔
حَسَنْ اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
"جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے دوں"۔
اس حديث کی سند حَسَنْ ہے اسے ابوداود اور احمد نے روایت کیا ہے
"سب سے افضل ذکر "لا الہ الا اللہ" اور سب سے افضل دعا "الحمد للہ" ہے۔"
حَسَنْ اسے ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے بلندی کے برابر ہو جائيں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہيں ہے۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر گناہ لے کر اس حال میں آئے کہ تونے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس زمین کے برابر بخشش لے کر آؤں گا۔"
حَسَنْ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
اے اللہ کے رسول! سعد کی ماں مر چکی ہے۔ اب آپ بتائيں کہ اس کے حق میں کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: "پانی پلا نا۔" راوی کہتے ہيں: یہ سننے کے بعد انھوں نے ایک کنوا کھدوا دیا اور کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لیے۔
یہ حدیث اپنے تمام طرق کی بنا پر حسن ہے اسے ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ جنت ایک چٹیل میدان ہے اور اس میں شجرکاری ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ سے ہوتی ہے“۔
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“۔ (میں اللہ عظیم کی، جود وسخا والے اس کے چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ چاہتا ہوں، مردود شیطان سے)۔ (عقبہ نے) کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے (حدیث مکمل کرتے ہوئے) کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ ہو گیا۔
حَسَنْ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے
"اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جب ان کی عمر سات سال ہو جائے اور انھیں اس کے لیے مارو، جب ان کی عمر دس سال ہو جائے اور ان کے بستر الگ الگ کر دو۔"
حَسَنْ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے