فضل المدينة وآداب سكناها وزيارتها
زائرِ مدینہ کی خدمت میں مدینہ کی فضیلت اور اس میں سکونت اور اس کی زیارت کے آداب اعداد فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ الحمدُ لله نحمدُه ونستعينُه ونستغفرُه، ونعوذ بالله من شرورِ أنفسنا ومن سيِّئاتِ أعمالِنا، مَن يهدِه الله فلا مُضلَّ له، ومَن يُضلل فلا هادي له، وأشهدُ أن لا إله إلاَّ الله وحده لا شريكَ له، وأشهدُ أنَّ محمداً عبدُه ورسولُه، وخليلُه وخِيرتُه من خلقِه، أَرسلَه الله بين يدي الساعة بشيراً ونذيراً، وداعياً إلى الله بإذنِه وسراجاً منيراً، فدلَّ أُمَّتَه على كلِّ خيرٍ، وحذَّرها من كلِّ شرٍّ، اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارِك عليه وعلى آله وأصحابِه ومَن سَلَكَ سبيلَه…
زائرِ مدینہ کی خدمت میں مدینہ کی فضیلت اور اس میں سکونت اور اس کی زیارت کے آداب
اعداد فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ
الحمدُ لله نحمدُه ونستعينُه ونستغفرُه، ونعوذ بالله من شرورِ أنفسنا ومن سيِّئاتِ أعمالِنا، مَن يهدِه الله فلا مُضلَّ له، ومَن يُضلل فلا هادي له، وأشهدُ أن لا إله إلاَّ الله وحده لا شريكَ له، وأشهدُ أنَّ محمداً عبدُه ورسولُه، وخليلُه وخِيرتُه من خلقِه، أَرسلَه الله بين يدي الساعة بشيراً ونذيراً، وداعياً إلى الله بإذنِه وسراجاً منيراً، فدلَّ أُمَّتَه على كلِّ خيرٍ، وحذَّرها من كلِّ شرٍّ، اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارِك عليه وعلى آله وأصحابِه ومَن سَلَكَ سبيلَه واهتدى بهديِه إلى يوم الدِّين، أمَّا بعدُ:
رسول کریم ﷺ کا شہر طیبۂ طیِّبہ، مہبط وحی (وحی نازل ہونے کی جگہ) اور رسول کریم ﷺ پر جبریل امین کے اترنے کی جگہ ہے، یہی ایمان کا ملجا وماویٰ، مہاجرین اور انصار کا سنگم اور ان لوگوں کا جائے وطن ہے جنہوں نے اس گھر (مدینہ) میں اور ایمان میں جگہ بنالی تھی (یعنی انصار) اور یہ مسلمانوں کی پہلی دار السلطنت ہے، اسی شہر میں اللہ کے رساتے میں جہاد کے جھنڈے تیار کئے گئے اور لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالنے کے لیے حق کے قافلے روانہ ہوئے، اور یہیں سے نور کی کرن پھوٹی اور زمین نور ہدایت سے منور ہو گئی یہ مصطفیٰ ﷺ کی دار ہجرت ہے جس کی طرف آپ نے ہجرت کی، یہیں پر آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے اور یہیں وفات پائی، یہیں آپ دفن ہوئے اور یہیں سے آپ اٹھائے جائیں گے اور آپ ہی کی قبر سب سے پہلے پھٹے گی، اور آپﷺ کی قبر کی جگہ کے علاوہ کسی اور نبی کی قبر کی جگہ کے متعلق کوئی قطعی بات نہیں کہی جاسکتی۔
اس مبارک شہر کو اللہ تعالی نے شرف وفضیلت بخشا ہے اور مکہ کے بعد اسے سب سے بہترین جگہ قرار دیا ہے، اور مدینہ پر مکہ کی فضیلت پر رسول کریم ﷺ کا وہ فرمان دلالت کرتا ہے جو آپ نے مکہ کو مخاطب کر کے اس وقت فرمایا تھا جب کفار نے آپ کو وہاں سے نکال دیا تھا اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کا رخ کیا تھا: ((وَاَللَّهِ إنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ)) ”اللہ کی قسم تو (یعنی شہر مکہ) اللہ تعالی کی سب سے بہتر سرزمین اور اللہ کے نزدیک اللہ کی سب سے محبوب سرزمین ہے، اگر میں تجھ سے نکال نہ دیا گیا ہوتا تو نہ نکلتا۔“ (اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے)
اس مبارک شہر کو اللہ تعالی نے شرف وفضیلت بخشا ہے اور مکہ کے بعد اسے سب سے بہترین جگہ قرار دیا ہے، اور مدینہ پر مکہ کی فضیلت پر رسول کریم ﷺ کا وہ فرمان دلالت کرتا ہے جو آپ نے مکہ کو مخاطب کر کے اس وقت فرمایا تھا جب کفار نے آپ کو وہاں سے نکال دیا تھا اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کا رخ کیا تھا: ((وَاَللَّهِ إنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ)) ”اللہ کی قسم تو (یعنی شہر مکہ) اللہ تعالی کی سب سے بہتر سرزمین اور اللہ کے نزدیک اللہ کی سب سے محبوب سرزمین ہے، اگر میں تجھ سے نکال نہ دیا گیا ہوتا تو نہ نکلتا۔“ (اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے) البتہ جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے جو رسولﷺ کی طرف منسوب کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ نبیﷺ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: ((اللَّهمَّ إنَّكَ أخْرَجْتَنِي مِن أَحَبِّ البلادِ إلَيَّ ـيعني مكَّةَـ فَأَسْكِنِّي في أحبِّ البلادِ إليك ـيعني المدينةَ-)) ”اے اللہ تو نے مجھے میرے نزدیک محبوب ترین شہر -یعنی مکہ- سے نکال دیا ہے سو مجھے اپنے نزدیک سب سے محبوب شہر -یعنی مدینہ- میں سکونت عطا کر۔“ تو یہ حدیث موضوع (من گڑھت) ہے اور اس کا معنی درست نہیں ہے، کیونکہ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو چیز اللہ کے نزدیک محبوب ترین ہے وہ رسولﷺ کے نزدیک محبوب ترین نہیں ہے اور جو چیز رسول کے نزدیک محبوب ترین ہے وہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین نہیں ہے، حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ رسول کریم ﷺ کی محبت اللہ سبحانہ وتعالی کی محبت کے تابع ہے، لہٰذا جو چیز اللہ کے نزدیک محبوب ترین ہے وہ رسول کریم ﷺ کے نزدیک غیر محبوب ترین نہیں ہو سکتی۔
میں نے اس رسالہ کو اس مبارک شہر کی فضیلت، اس میں سکونت پذیر ہونے اور اس کی زیارت کرنے کے آداب کے بیان میں لکھنا مناسب سمجھا، جس کے اندر میں اس کے منجملہ فضائل، پھر اس میں بود وباش اختیار کرنے کے منجملہ آداب اور اس کے بعد اس کی زیارت کے منجملہ آداب کاتذکرہ کر رہا ہوں:
[مدینہ طیبہ کے فضائل] اس مبارک شہر کے منجملہ فضائل میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسے امن وامان والا حرم (حرمت والا اور قابل احترام) بنایا ہے جس طرح کہ مکہ کو با امن حرم بنایا ہےو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ((إنَّ إبراهيمَ حرَّمَ مكَّةَ، وإنِّي حرَّمتُ المدينةَ)) ”ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو محترم اور حرمت والا قرار دیا تھا اور میں مدینہ کو محترم اور حرم والا قرار دیتا ہوں۔“ (مسلم) یہ تحریم جو محمدﷺ اور ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب ہے اس سے مقصود تحریم کا اظہار اور اعلان کرنا ہے، ورنہ تحریم تو اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور اسی نے اِس کو محترم اور حرمت والا قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے (دنیا کے) تمام شہروں کو چھوڑ کر صرف انہی دونوں شہروں کو اس صفت -یعنی حرمت- کے ساتھ مخصوص کیا ہے، اور کوئی ایسی مستند دلیل وارد نہیں ہوئی ہے جو مکہ اور مدینہ کے علاوہ کسی اور جگہ کی حرمت پر دلالت کرتی ہو، بہت سے لوگوں کی زبانوں پر جو یہ بات عام ہے کہ مسجد اقصی تیسرا حرم ہے تو یہ منتشر اور پھیلی ہوئی غلطیوں میں سے ہے؛ اس لئے کہ حرمین کا کوئی ثالث نہیں ہے، لیکن صحیح تعبیر یہ ہے کہ اسے تیسری مسجد -یعنی دو مشرف اور معظم مسجدوں کی ثالث- کہا جائے، نبیﷺ سے ایسی حدیث وارد ہے جو ان تینوں مسجدوں کی فضیلت پر اور ان میں نماز پڑھنے کے لیے ان کی طرف قصد کرنے پر دلالت کرتی ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِد: المَسْجِدِ الحَرَام وَمَسْجِدِي هَذَا وَالمَسْجِدِ الأَقْصَى)) ”تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کا (اس سے برکت حاصل کرنے اور اس میں نماز پڑھنے کے لیے) رخت سفر نہ باندھا جائے: مسجد حرام، میری مسجد اور مسجد اقصی۔“ (بخاری ومسلم) مکہ اور مدینہ میں حرم سے مقصود وہ حدود ہیں جو ان میں سے ہر ایک کو گھیرے ہوئے ہیں، یہی حرم کا مطلب ہےو اور لوگوں کے مابین جو یہ بات عام ہے کہ حرم کا اطلاق صرف مسجد نبوی پر ہوتا ہے تو یہ منتشر اور پھیلی ہوئی غلطیوں میں سے ہے؛ اس لئے کہ صرف مسجد نبوی ہی حرم نہیں ہے، بلکہ مدینہ پورا کا پورا جو کچھ عَیر اور ثور کے مابین، اور جو کچھ اس کے دونوں حَرُّوں [یعنی دونوں کالے پتھروں والی زمینوں] کے مابین ہے وہ حرم ہے، آپﷺ کا فرمان ہے: ((الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ)) ”عیر اور ثور کے مابین مدینہ کا حرم ہے۔“ (بخاری ومسلم) نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ((إنَّي حرَّمتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِّ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا)) ”میں نے مدینہ کے دونوں لابہ (یعنی اس کے مشرق ومغرب میں واقع دونوں کالے پتھروں والی زمینوں) کے درمیان حرام قرار دیا ہے کہ اس کے کانٹے دار درختوں کو کاٹا جائے، یا اس کے شکار کو قتل کیا جائے۔“ (مسلم)
یہ بات معلوم ہے کہ اس وقت مدینہ وسیع ہو گیا ہے، یہاں تک کہ اس کا ایک حصہ حرم سے باہر ہو گیا ہے، لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ: مدینہ کے اندر موجود تمام عمارتیں حرم میں داخل ہیں، لیکن جو عمارتیں حرم کے حدود کے اندر ہیں وہ حرم ہے، اور جو حرم کے حدود کے باہر ہے اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ وہ مدینہ کا حصہ ہے، لیکن یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ حرم میں داخل ہے۔
نبی کریم ﷺ سے مدینہ کے حرم کے حدود کے بیان میں وارد ہے کہ: دو لابہ (مشرق ومغرب میں کالے پتھروں والی زمین) کے مابین ہے، یا دو حرۃ (حرۃ الوبرۃ اور حرۃ الواقم) کے درمیان ہے، یا دو پہاڑوں کے درمیان ہے، یا عیر اور ثور (نامی پہاڑوں) کے درمیان ہے، لیکن ان الفاظ کے مابین کوئی اضطراب اور منافات نہیں ہے؛ کیونکہ چھوڑا بڑے مین داخل ہے، لہٰذا جو لابتین (لابہ شرقیہ اور لابہ غربیہ) کے درمیان ہے وہ حرم ہے، اور جو دونوں حرون کے درمیان ہے وہ حرم ہے اور جو عیر اور ثور کے مابین ہے وہ حرم ہے، اور ا“ر کسی چیز کے بارے میں معاملہ مشتبہ ہو جائے -یعنی احتمال ہو کہ وہ حرم کا حصہ ہے اور یہ بھی احتمال ہو کہ وہ حرم کے باہر ہے- تو ایسی صورت میں سب سے بہترین بات جو کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ: وہ مشتبہ امور میں سے ہے، اور مشتبہ امور کے سلسلہ میں جو طریقہ اختیار کرنا چائے اسے نبی کریمﷺ نے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس مین احتیاط سے کام لیا جائے، جیسا کہ آپﷺ نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ حدیث میں بیان فرمایا ہے: ((فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وعِرْضِهِ، ومَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ)) ”جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت وآبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات مین واقع ہو گیا وہ حرام میں پڑ گیا۔“
اس مبارک شہر کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ: نبیﷺ نے اس کا نام ”طیبہ“ اور ”طابہ“ رکھا ہے، بلکہ صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے اس کا نام ”طابہ“ رکھا ہے، نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: ((إِنَّ اللهَ سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ)) ”اللہ تعالی نے مدینہ کا نام ”طابہ“ رکھا ہے۔“ اور یہ دونوں لفظ ”طیب“ (بمعنی عمدہ وبہترین) سے مشتق ہیں اور طیب (عمدہ وبہترین معنی) پر دلالت کرتے ہیں، پس وہ دونوں دو طیب (عمدہ وبہترین) الفاظ ہیں جن کا اطلاق ایک طیب (عمدہ وبہترین) جگہ پر کیا گیا ہے۔ مدینہ کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ: ایمان اس کی طرف سمٹ کر واپس لوٹ آئے گا، جیسا کہ آپﷺ کا فرمان ہے: ((إِنَّ الإيمانَ لَيَأْرِزُ إلى المدينة كما تَأْرِزُ الحَيَّةُ إلى جُحرِها)) ”ایمان مدینہ کی طرف اسی طرح واپس لوٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں واپس لوٹ آتا ہے۔“ (بخاری ومسلم)
اس کا معنی یہ ہے کہ مدینہ کی طرف پلٹ آئے گا اور وہیں مرکوز ہو جائے گا، اور مسلمان اس کا رخ اور قصد کریں گے، انہیں ایمان اور اس مبارک جگہ کی محبت اپنی طرف کھینچ رہی ہو گی جسے اللہ عزوجل نے محترم اور حرمت والا قرار دیا ہے۔
مدینہ کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ: نبیﷺ نے اس کی یہ وصف بیان کی ہے کہ وہ (مدینہ) ایسی بستی ہے جو بستیوں کا کھا جائے گی، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: (((أُمِرْتُ بقَرْيَةٍ تَأكُلُ القُرَى، يَقُولُونَ لَها: يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ)) ”مجھے ایک ایسی بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو بستویوں کو کھا جائیگی، جسے یثرب کہتے ہیں، حالانکہ وہ مدینہ ہے۔“ (بخاری ومسلم) آپﷺ کے فرمان: ((تأکل القری)) یعنی وہ بستیوں کو کھا جانے والی ہےو کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اسے دیگر بستیوں پر غلبہ اور فتح حاصل ہوگا، اور دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ میں حاصل ہونے والے غنیمت کے اموال اس کی طرف لائے جائیں گے۔ اور ان دونوں میں سے ہر ایک امر حاصل اور وقوع پذیر ہو چکا ہے، چنانچہ اس شہر (مدینہ) کو اس کے علاوہ دیگر شہروں پر غلبہ حاصل ہو چکا ہے، اور وہ اس طرح کہ اس شہر سے مصلحین رہبروں اور فاتحین غازیوں کی جماعت نکلی اور انہوں نے لوگوں کو اپنے رب کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لا کھڑا کیا اور لوگ اللہ عزوجل کے دین میں داخل ہو گئے، اور ہر بھلائی جو زمین والوں کو حاصل ہوئی ہے وہ اس مبارک شہر مدینۃ الرسولﷺ سے ہی نکلی ہے، لہٰذا اس شہر کا دیگر بستیوں کو کھاجانا اس معنی پر صادق آتا ہے کہ اسے دیگر شہروں پر غلبہ اور فتح حاصل ہوگا، جیسا کہ ابتدائے اسلام میں صحابۂ رسولﷺ کی پہلی جماعت اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم وارضاہم کے ساتھ حاصل ہو چکا ہے، اسی طرح اموال غنیمت کا حاصل ہونا اور اسے مدینہ لایا جانا بھی واقع ہو چکا ہے، نبیﷺ نے یہ خبر دی تھی کہ قیصر وکسریٰ کے خزانے اللہ عزوجل کے راستے میں خرچ کئے جائیں گے اور یہ پیش آچکا ہےو چنانچہ ان خزانوں کو مدینہ مبارکہ لایا گیا اور فاروق رضی اللہ عنہ وارضاہ کے ہاتھوں سے تقسیم کیا گیا۔ مدینہ کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ: نبیﷺ نے اس شہر کی مشقت وپریشانی، رنج وغم اور تنگدستی پر صبر کرنے پر زور دیا ہے، اور فرمایا: ((مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے۔)) نبیﷺ نے یہ ان لوگوں کے بارے میں فرمایا تھا جنہوں نے مدینہ چھوڑ کر ان اماکن کی طرف منتقل ہونے کے بارے میں سوچا تھا جہاں خوشحالی، رزق کی کشادگی اور مال کی فراوانی تھی، اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا: ((الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) ”مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے ، جو شخص اس سے بے رغبتی اختیار کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے گا تو اللہ تعالی اس کے بدلے یہاں ایسے شخص کو لائے گا جو اس سے بہتر ہوگا، اور جو شخص اس کی سختیوں، تنگیوں اور مشقتوں پر ثابت قدم رہے گا تو قیامت کے دن میں اس کے لئے شفارشی یا گواہ ہوں گا۔“ (مسلم)
یہ حدیث ہمیں اس شہر کی فضیلت اور اس کے اندر پیش آنے والی سختی، پریشانی، مشقت اور تنگی پر صبر کرنے کی فضیلت بتلاتی ہےو لہٰذا یہ چیز آدمی کے لئے کہیں اس بات کا محرک (سبب) نہ بنے کہ وہ خوش حالی اور کشادگئ رزق کی تلاش میں اس شہر کو چھوڑ کر دوسرے شہر میں منتقل ہو جائے، بلکہ اس کے اندر جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کرے اور اس کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے اس اجر عظیم اور بڑے ثواب کا وعدہ ہے۔
مدینہ کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ: نبیﷺ نے اس کی حرمت کو بیان کرتے وقت اس کی عظمت شان اور اس کے اندر بدعت ایجاد کرنے کی خطورت اور سنگینی کی نشاندہی کی ہے، آپ نے فرمایا: ((الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا)) ”مدینہ عیر سے لے کر ثور تک کے درمیان حرم ہے، جس نے اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو پناہ دیا، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالی اس کے کسی فرض اور نفلی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔“ (بخارى ومسلم)
مدینہ کی فضائل مین سے یہ بھی ہے کہ نبیﷺ نے اس کے لئے برکت کی دعا کی ہے، اسی سلسلے میں آپﷺ کا یہ فرمان ہے: ((اللَّهمَّ بارِك لَنا في ثَمَرِنا، وبارِك لَنا في مدينَتِنا، وبارِك لنا في صاعِنا، وبارِك لَنا في مُدِّنا)) ”الے اللہ تعالی ہماري پھلوں میں برکت عطا کر، ہمارے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما، ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اور ہمارے مُد مین برکت عطا کر۔“ (مسلم) مدینہ کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں طاعون کی بیماری اور دجال نہیں دالہ ہونگے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ((عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ)) ”مدینہ کے راستوں پر فرشتے مامور ہیں، اس میں طاعون اور جدال داخل نہیں ہو سکتے۔“ (بخاری ومسلم) مدینہ کی فضیلت میں بہت زیادہ حدیثیں وارد ہیں اور میں نے جو یہ حدیثیں ذکر کی ہیں وہ ان میں سے چند ایک ہیں جو صحیحین یا ان میں سے کسی ایک کے اندر وارد ہوئی ہیں۔
فضائل مدینہ کے سلسلے میں بہترین تالیفات میں سے وہ کتاب ہے جسے شیخ ڈاکٹر صالح بن حامد الرفاعی نے مدینہ اسلامک یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے بعنوان: ”فضائل مدینہ کے بارے میں وارد احادیث کا جمع ودراسہ“ تیار کیا ہے، میں طلبہ علم کو اس کی طرف رجوع کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
اس شہر مدینہ کے اندر دو عظیم مسجدیں بھی ہیں اور وہ یہ ہیں: • رسول کریم ﷺ کی مسجد • مسجد قبا
[مسجد رسول ﷺ کی فضیلت] رسول کریم ﷺ کی مسجد کی فضیلت کے بارے میں کئی حدیثیں وارد ہیں، انہی میں سے آپﷺ کا یہ فرمان ہے: ((لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِد: المَسْجِدِ الحَرَام وَمَسْجِدِي هَذَا وَالمَسْجِدِ الأَقْصَى))”تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کا (اس سے برکت حاصل کرنے اور اس میں نماز پڑھنے کے لیے) رخت سفر نہ باندھا جائے: مسجد حرام، میری مسجد اور مسجد اقصی۔“ (بخاری ومسلم) چنانچہ اس شہر مدینہ کے اندر تین مساجد میں سے ایک مسجد ہے جنہیں انبیائے کرام نے بنایا ہے اور صرف انہیں مسجدوں کی طرف رخت سفر باندھنا جائز ہے۔
نیز اس مسجد کے اندر نماز کی فضیلت کے بارے میں بھی حدیث وارد ہے اور وہ (نماز) ایک ہزار نماز سے بہتر ہے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ((صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ)) ”میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے ما سوا دیگر مسجدوں مین ایک ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔“ (بخاری ومسلم) یہ ایک عظیم فضل اور آخرت کے موسموں میں سے ایک موسم ہے، جس کے اندر منافع وفوائد کئی گنا ہیں، دس گنا اور سو گنا نہیں بلکہ ایک ہزار سے زائد گنا ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ دنیاوی تجارت والے لوگوں کو اگر یہ پتہ چل جائے کہ کسی جگہ کسی خاص وقت میں ان کا سامان زیادہ بکتا ہے، تو وہ لوگ اس موسم کے لئے بھر پور استعداد اور تیاری کرتے ہیں، اگر فائدہ آدھا یا دو گنا ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس وقت کیا ہونا چاہئے جبکہ یہاں پر آخرت کے اندر فائدہ نہ دس گنا نہ سو گنا، نہ پانچ سو گنا نہ چھ سو گنا ہے بلکہ ایک ہزار سے زیادہ گنا ہے؟!!
مسجد نبوی کے متعلق چند قابل تنبیہ امور:
اول: اس مسجد کے اندر نماز پڑھنے کا اجر وثواب ایک ہزار سے زائد گنا ہونا نفل کو چھوڑ کر صرف فرض کے ساتھ مقید نہیں ہے اور نہ فرض کو چھوڑ کر صرف نفل کے ساتھ مقید ہے، بلکہ فرض ونفل دونوں کے لئے ہے؛ اس لئے کہ نبیﷺ کا فرمان ”صلاۃ“ (نماز) مطلق ہے، لہٰذا فرض ایک ہزار فرض کے برابر اور نفل ایک ہزار نفل کے برابر ہے۔
دوم: حدیث کے اندر وارد کئی گنا اجر وثواب صرف ایک جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جس میں آپﷺ کے زامہ میں مسجد تھی، بلکہ یہ اجر وثواب کی زیادتی اس جگہ کے لئے تو ہے ہی اور ہر اس جگہ کے لئے بھی ہے جو (بعد میں) مسجد نبوی کے اندر توسیع اور اضافہ کیا گیا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ خلفاے راشدین میں سے عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما نے مسجد نبوی کے اندر اس کے سامنے کی جہت سے اضافہ کیا، اور یہ بات معلوم ہے کہ (اِس وقت) امام اور اس سے متصل صفیں مسجد کے اُس حصہ سے باہر ہیں جہاں نبیﷺ کے زمانہ میں مسجد تھی، لہٰذا اگر اضافہ (توسیع) کا بھی وہی حکم نہ ہوتا جو حکم اس چیز کا ہے جس کے اندر اضافہ اور توسیع کی گئی ہے، تو یہ دونوں خلیفہ سامنے کی طرف سے مسجد کے اندر اضافہ نہ کرتے، جبکہ ان کے عہد میں صحابہ کرام بکثر موجود تھے اور کسی ایک صحابی نے بھی ان کے اس فعل پر اعتراض نہیں کیا، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اجر وثواب کی زیادتی صرف اسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جہاں پر نبیﷺ کے زمانے میں مسجد قائم تھی۔
سوم: مسجد کے اندر ایک جگہ ایسی ہے جس کی صفت رسول کریم ﷺ نے یہ بیان کی ہے کہ وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، اور وہ آپﷺ کے اس فرمان میں ہے: ((ما بين بَيتِي ومِنبَري رَوضةٌ من رياض الجَنَّة)) ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باعوں میں سے ایک باغ ہے۔“ (بخاری ومسلم) مسجد کے دیگر حصوں کو چھوڑ کر صرف اسی جگہ کو اس صفت سے مخصوص کرنا اس جگہ کی فضیلت اور امتیاز پر دلالت کرتا ہے، یہ فضیلت اس کے اندر نوافل کی ادائیگی، نیز اللہ تعالی کے ذکر واذکار اور قرآن کی تلاوت کرنے میں ہے بشرطیکہ اس کے اندر یا وہاں تک پہنچنے میں کسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے، البتہ جہاں تک فرض نماز کا تعلق ہے تو اگلی صفوں مین اس کی ادائیگی (روضہ سے) افضل ہے؛ اس لئے کہ آپﷺ کا فرمان ہے: ((خيرُ صفوفِ الرِّجال أوَّلُها وشرُّها آخرُها)) ”مردوں کی صفوں میں بہترین صف پہلی صف ہے اور بدترین صف آخری صف ہے۔“ (مسلم) اور آپﷺ کا یہ فرمان ہے: ((لو يَعلمُ الناسُ ما في النِّداءِ والصفِّ الأولِ، ثمَّ لَم يَجِدوا إلاَّ أن يسْتَهِموا عليه لاسْتهَموا عليه)) ”اگر لوگوں کو اذان اور پہلی صف کی فضیلت اور اجر وثواب معلوم ہو جائے، پھر وہ اس پر قرعہ اندازی کرنے کے علاوہ کوئی اور چارۂ کار نہ پاشیں تو وہ اس پر ضرور قرعہ اندازی کریں۔“ (بخاری ومسلم)
چوتھا: جب مسجد نبوی نمازیوں سے بھر جائے، تو تاخیر سے آنے والے کے لئے جائز ہے کہ وہ سامنے کی سمت کو چھوڑ کر باقی تینوں طرف سڑکوں پر امام کی اقتدا میں نماز پڑھے، اور اسے جماعت سے نماز پڑھنے کا اجر وثواب حاصل ہو جائے گا، لیکن ایک ہزار سے زائد گنا کا اجر وثواب اس شخص کے لئے مخصوص ہے جو مسجد کے (حدود) کے اندر پڑھے، اس لئے کہ نبیﷺ کا فرمان ہے: ((صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ)) ”میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے ما سوا دیگر مسجدوں مین ایک ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔“ (بخاری ومسلم) اور جو شخص سڑکوں پر نماز پڑھے وہ مسجد میں نماز پڑھنے والا نہیں سمجھا جائے گا، لہٰذا اسے یہ اجر وثواب کی زیادتی حاصل نہیں ہوگی۔
پانچواں: بہت سے لوگوں کے مابین یہ بات منتشر اور پھیلی ہوئی ہے کہ جو شخص مدینہ آئے اس پر واجب ہے کہ وہ مسجد رسول ﷺ مین چالیس نمازیں ادا کرے، اس لئے کہ ”مسند احمد“ میں ایک حدیث ہے جسے انس رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ((مَن صلَّى في مسجدي أربعين صلاةً لا تفوتُه صلاةٌ كُتبت له براءةٌ من النار ونَجاةٌ من العذابِ، وبَرِئَ من النفاق)) ”جس شخص نے میری مسجد مین چالیس نمازیں اس طرح پڑھی کہ اس کی کوئی نماز فوت نہیں ہوئی تو اس کے لئے جہنم سے براءت (سبکدوشی) اور عذاب سے نجاب لکھ دی جاتی ہے اور نفاق سے بری ہو جاتا ہے۔“ لیکن یہ ایک ضعیف حدیث ہے جو قابل احتجاج نہیں ہے، بلکہ (صحیح بات یہ ہے کہ) اس سلسلے میں معاملہ کے اندر وسعت ہے، مدینہ آنے والا شخص مسجد نبویﷺ کے اندر کچھ معین نمازوں کا پابند نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر ہر نماز ایک ہزار نماز سے بہتر ہے کوئی حد بندی یا کچھ معین نمازوں کی قید نہین ہے۔
چھٹا: بہت سے اسلامی خطوں میں بہت سے مسلمان قبروں پر مسجدوں کی تعمیر یا مسجدوں میں مُردوں کو دفن کرنے کی مرض میں مبتلا ہیں، اور بعض لوگ اس عمل کو جائز قرار دینے کے لئے نبیﷺ کی قبر کے آپ کی مسجد میں موجود ہونے سے دلیل پکڑتے ہیں۔ اس شبہ کا جواب اس طرح دیا جائے گا کہ مدینہ آتے ہی خود نبی ﷺ نے مسجد کی تعمیر کی اور آپ نے اپنے نے اپنے ان گھروں کو جس میں امہات المومنین رہتی تھیں اسے اپنی مسجد کے پاس بنایا، انہی میں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی گھر تھا جس میں آپﷺ دفن کیے گئے، اور یہ گھر جس طرح تھے اسی طرح خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور ان کے بعد دوسرے خلفاء کے زمانے میں مسجد کے باہر ہی باقی رہے، بنی امیہ کی خلافت کے دوران مسجد کی توسیع کی گئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر جس کے اندر آپﷺ کی قبر ہے مسجد کے اندر داخل کر دیا گیا، حالانکہ نبیﷺ سے ایسی محکم احادیث وارد ہیں جن کے اندر نسخ کی گنجائش نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قبروں کو مسجدیں بنانا حرام ہے، انہی میں سے جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کی وفات سے پانچ رات پہلے سنا تھا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کی وفات سے پانچ رات پہلے فرماتے ہوئے سنا: ((إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللهِ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ، فَإِنَّ اللهِ تَعَالَى قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا، كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ)) ”میں اللہ کی طرف اس بات سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی مریا خلیل (دوست) ہے، کیوں کہ اللہ تعالی نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے جس طرح کہ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا، اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو اپنا خلیل بناتا، سنو! تم سے پہلے لوگ تھے وہ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا کرتے تھے، لہٰذا خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا؛ میں تمہیں اس سے روکتا ہوں۔“ (صحیح مسلم)
بلکہ جب نبیﷺ پر نزع کی حالت کا آغاز ہوا تو اس وقت بھی آپ نے قبروں کو مساجد بنانے سے ڈرایا جیسا کہ صحیحین مین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سب روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب آپﷺ پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ اپنے چہرے پر ایک چادر ڈالنے لگے اور جب سانس پھولنے لگتا تو اسے چہرہ سے ہٹا لیتے، چنانچہ آپﷺ نے اسی حالت میں ارشاد فرمایا: ”یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت، انہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو مسجدیں بنا لیں۔“ آپ ان کے فعل سے لوگوں کو ڈرا رہے تھے۔
عائشہ، ابن عباس اور جندب رضی اللہ عنہم کی یہ احادیث محکم ہیں، ان میں کسی بھی صورت میں نسخ کی گنجائش نہیں ہے؛ اس لئے کہ جندب رضی اللہ عنہ کی حدیث آپﷺ کی زندگی کے آخری ایام کی ہے اور عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث آپﷺ کی زندگی کے آخری لمحات کی ہے، لہٰذا کسی مسلمن -خواہ فرد ہو یا جماعت- کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو ترک کردے جس پر یہ صحیح اور محکم حدیثیں دلالت کرتی ہیں، اور ایسے عمل پر اعتماد کرے جو بنی امیہ کے عہد کے دوران پیش آیا یعنی قبر کو آپﷺ کی مسجد میں داخل کیا جانا، اور اس سے اس بات کی دلیل پکڑے کہ قبروں پر مسجدیں بنانا، یا مسجدوں کے اندر مُردوں کو دفن کرنا جائز ہے۔
[مسجد قبا کی فضیلت] مسجد قبا: یہ ان دو مسجدوں میں سے دوسری مسجد ہے جسے اس شہر مدینہ مین فضیلت ومرتبہ حاصل ہے اور اس کی تاسیس پہلے ہی دن سے تقویٰ کی بنیاد پر ہوئی ہے، نبیﷺ کے قول وفعل سے ایسی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جو مسجد قبا میں نماز کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔
فعلی حدیث: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں: ”نبیﷺ ہر سنیچر کو (کبھی) پیدل اور (کبھی) سوار مسجد قبا آتے تھے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔“ (بخاری ومسلم) قولی حدیث: سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: ((مَن تطهَّرَ في بيتِه ثمَّ أتى مسجدَ قُباء فصلَّى فيه صلاةً كان له أجر عُمرة)) ”جس نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر مسجد قبا آیا اور اس میں کوئی نماز پڑھی تو اس کے لئے ایک عمرہ کا اجر وثواب ہے۔“ (ابن ماجہ وغیرہ) اس حدیث کے اندر آپ کا قول: ”فصلی فيہ صلاۃ“ (اس کے اندر کوئی نماز پڑھی) فرض اور نفل دونوں نمازوں کو شامل ہے۔
ذخیر ۂ احادیث کے اندر کوئی ایسی روایت وارد نہیں ہوئی ہے جو مدینہ کے اندر ان دونوں مسجدوں کے علاوہ کسی دوسری مسجد کی فضیلت پر دلالت کرتی ہو۔
-
[مدینہ میں سکونت پذیر ہونے کے آداب]
جس شخص کو اللہ تعالی اس مبارک شہر طیبۂ طیِّبہ میں سکونت پذیر ہونے کی توفیق بخشے اس کے اوپر واجب ہے کہ اس کے اندر یہ شعور واحساس جاگزیں ہو کہ وہ ایک بڑی نعمت اور عظیم احسان سے بہرہ ور ہوا ہے، لہٰذا وہ اس نعمت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے اور اس فضل واحسان پر اس کی حمد وثنا کرے، نیز اس پر واجب ہے کہ اس کے اندر یہ شعور واحساس بھی پیدا ہو کہ بہت سے باشندگانِ عالم کے دلوں میں اس بات کی بے پایاں شوق موجزن ہوتا ہے کہ انہیں مکہ اور مدینہ تک پہنچنے اور وہاں قیام کرنے کی سعادت حاصل ہو جائے خواہ تھوڑی مددت ہی کے لئے سہی، کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس آرزو کی تکمیل کے لئے کئی لمبے سالوں تک تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرتے ہیں، مجھے یاد آرہا ہے کہ ایک ہندوستانی عالم نے ذکر کیا تھا کہ -زمانۂ ماضی میں- ہندوستانی حجاج بادبانی کشتیوں پر آتے تھے اور مکہ ومدینہ آتے ہوئے اپنے راستے میں ایک لمبی مدت سمندر میں ٹھہرتے تھے، چنانچہ ان کی ایک جماعت کشتی میں سفر کر رہی تھی اور جب انہوں نے اس خشکی کی جگہ کو دیکھا جس میں مکہ اور مدینہ واقع ہے تو وہ کشتی ہی پر اللہ کی شکر گزاری میں سجدہ ریز ہو گئے۔
اس شہر مدینہ میں سکونت اختیار کرنے کے چند آداب ہیں:
پہلا: مسلمان اس شہر مدینہ سے، اس کی فضیلت کی وجہ سے اور نبیﷺ کے اس شہر سے محبت رکھنے کی وجہ سے، محبت رکھے۔ امام بخاری نے اپنی ”صحیح“ کے اندر انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبیﷺ کسی سفر سے واپس لوٹتے وقت جب مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اس کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے اور اگر کسی چوپائے پر ہوتے تو اسے حرکت دیتے۔
دوسرا: مسلمان کو اس بات کا حریص ہونا چاہئے کہ وہ اس شہر مدینہ کے اندر اللہ تعالی کے حکم پر استقامت اختیار کرنےوالا ہو، اللہ کی فرماں برداری اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو اور بدعتوں اور گناہوں میں پڑنے سے سخت احتراز کرنے والا ہو، کیونکہ جس طرح اس شہر میں نیکیوں کا بڑا مقام ومرتبہ ہے، اسی طرح اس کے اندر بدعتوں اور معصیتوں کا ارتکاب کرنا بہت خطرناک ہے، اس لئے کہ جو حرم کے اندر اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے اس کا گناہ اس شخص سے بڑھ کر ہے جو غیر حرم میں اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے، اس کے اندر گناہوں کی مقدار میں اضافہ تو نہیں ہوتا لیکن حرم کے اندر کرنے کی وجہ سے وہ سنگین اور بڑا ہو جاتا ہے۔
تیسرا: اس شہر مدینہ کے اندر مسلمان اس بات کا حریص ہو کہ اسے آخرت کی تجارت کا ایک بڑا حصہ حاصل ہو جس کے اندر فائدہ گئی گنا ہوتا ہے، بایں طور کہ اس سے جتنا ہو سکے رسول کریم ﷺ کی مسجد میں نمازیں ادا کري تاکہ وہ اس اجر عظیم سے سرفراز ہو جس کا آپ ﷺ نے اپنے اس فرمان میں وعدہ فرمایا ہے: ((صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْر مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ)) ”میری اس مسجد کے اندر ایک مسجد حرام کو چھوڑ کر اس کے ماسوا مسجدوں میں ایک ہزار نماز سے بہتر ہے۔“ (بخاری ومسلم)
چوتھا: مسلمان اس مبارک شہر میں خیر وبھلائی کے اندر بہترین قدوہ اور نمونہ ہو؛ اس لئے کہ وہ ایک ایسے شہر میں قیام پذیر ہے جہاں سے نور کی کرن پھوٹی اور جہاں سے مصلحین رہبروں کا قافلہ جہار دانگ عالم میں روانہ ہوا۔ تاکہ جو شخص اس شہر میں آئے وہ اس کے باشندوں میں بہترین قدوہ ونمونہ اور انہیں کریمانہ صفات اور عظیم اخلاق سے آراستہ وپیراستہ پائے، اور وہ جس خیر وبھلائی اور اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت پر محافظت اور پابندی کا مشاہدہ کرے اس سے متاثر اور مستفید ہو کر اپنے ملک واپس لوٹے۔ نیز جس طرح اس شہر مدینہ میں آنے والا اس مبارک شہر میں بہترین قدوہ ونمونہ کا مشاہدہ کر کے خیر وصلاح سے مستفید ہوتا ہے، اسی طرح معاملہ بالکل اس کے برعکس ہوتا ہے جب وہ اس شہر مین ایسے لوگوں کا مشاہدہ کرتا ہے جو اس کے برخلاف ہوتے ہیں، لہٰذا بجائے اس کے کہ وہ استفادہ کرنے والا اور ثنا خواں ہوتا وہ نقصان اٹھانے والا اور مذمت وبرائی کرنے والا ہو جاتا ہے۔
پانچواں: اس شہر میں مسلمان اس بات کو پیش نظر رکھے کہ وہ ایک پاک سرزمین میں ہے جو مہبطِ وحی، ایمان کا ماویٰ ومرکز اور رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام مہاجرین وانصار کے چلنے پھرنے کی جگہ ہے، اس سرزمین پر وہ لوگ خیر وبھلائی، دین پر استقامت اور حق وہدایت کی پابندی کے ساتھ چلے پھرے ہیں۔ لہٰذا وہ اس سرزمین پر کوئی ایسی حرکت کرنے سے احتراز کرے جو ان کی حرکت کے مخالف ہو، بایں طور کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھائے جو اللہ تعالی کی ناراضگی کا باعث ہو اور دنیا وآخرت میں اسے نقصان اور برے انجام سے دو چار ہونا پڑے۔
چھٹا: جس شخص کو اللہ تعالی نے مدینہ میں بود وباش کی توفیق بخشی ہے اسے چائے کہ وہ اس کے اندر کسی بدعت کے ایجاد کرنے یا کسی بدعتی کی پشت پناہی کرنے سے پرہیز کرے تاکہ وہ لعنت اور پھٹکار سے دوچار نہ ہو؛ اس لئے کہ رسولﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ((المدينة حَرَمٌ ما بين عَيْرٍ إلى ثَوْرٍ،فمن أحدث فيها حَدَثًا، أو آوى مُحْدِثًا؛ فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صَرْفًا ولا عَدْلًا)) مدینہ حرمت والا اور قابل احترام ہے، جس شخص نے اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کی یا کسی بدعتی کو پناہ دیا تو اس پر اللہ تعالی کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفلی عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔“ اس حدیث کو امام مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ورایت کیا ہے اور صحیحین میں یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ساتواں: وہ مدینہ کے اندر کوئی درخت نہ کاٹے یا کوئی شکار نہ کرے؛ اس لیے کہ اس کے بارے میں رسولﷺ سے کئی حدیثیں وارد ہوئی ہیں، مثلاً آپﷺ کا یہ فرمان ہے: ((إنَّ إبراهيمَ حرَّم مكَّةَ، وإنِّي حرَّمتُ المدينةَ ما بين لابتيها، لا يُقطَع عِضاهُها، ولا يُصادُ صيدُها)) ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو قابل احترام اور حرمت والا قرار دیا تھا اور میں مدینہ کو اس کے دونوں کالپ پتھروں والی زمیونوں کے مابین حرمت والا اور قابل احترام قرار دے رہا ہوں، اس کے کانٹے دار درخت کو نہ کاٹا جائے اور نہ اس کے جانوروں کا شکار کیا جائے۔“ (اس حدیث کو امام مسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کیا ہے) امام مسلم نے ہی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: ((إنِّي أُحرِّم ما بين لابَتَي المدينة أن يُقطَع عِضاهُها، أو يُقتل صيدُها)) ”میں مدینہ کے دونوں کالے پتھروں والی زمینوں (یعنی جونوں حروں) کے درمیان اس کے درختوں کو کاٹنا اور اس کے شکار کو مارنا حرام قرار دیتا ہوں۔“ اور صحیحین میں عاصم بن سلیمان الاحوال سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کا حرم مقرر فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، فرں جگہ سے لیکر فلاں جگہ تک اس کے درخت کو نہیں کاٹا جائے گا، جس نے اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کی، اس پر اللہ تعالی کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ - صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ وہ کہا کرتے تھے: اگر میں ہرنیوں کو مدینہ میں چرتے ہوئے دیکھوں تو انہیں نہیں بھڑکاؤں گا، (کیونکہ) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس کے دونوں حروں (کالے پتھروں والی زمینوں) کے درمیان کا حصہ قابل احترام اور حرمت والا ہے۔“ اس درخت سے مراد جس کا کاٹنا حرام ہے وہ درخت ہے جسے اللہ عزوجل نے اگایا ہے، البتہ جس کی زراعت اور شجرکاری خود لوگوں نے کی ہے اسے وہ کاٹ سکتے ہیں۔ آٹھواں: اس کے اندر جو تنگ عیشی یا بلا ومصیبت یا مشقت وپریشانی پیش آتی ہے مسلمان کو اس پر صبر کرنا چاہئے؛ اس لئے کے ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپﷺ کا فرمان ہے: ((لا يصبِرُ على لأواءِ المدينة وشِدَّتِها أَحدٌ من أُمَّتي، إلاَّ كنتُ له شفيعاً يوم القيامة أو شهيداً)) ”میری امت کا جو بھی فرد مدینہ کی مشقت وپریشانی اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کاسفارشی یا گواہ ہوں گا۔“ (مسلم)
نیز صحیح مسلم ہی میں ہے کہ ابو سعید مولی المہری‘ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرۃ کی راتوں میں آئے اور ان سے مدینہ سے ترک وطن کرنے کے بارے میں مشورہ کیا، اس کی قیمتوں کی گرانی اور بال بچوں کی کثرت کا ان سے شکوہ کیا اور ان سي بتلایا کہ وہ مدینہ کی مشقت وپریشانی اور اس کی سختیوں پر صبر کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں، تو ابوسعید خدری نے انہیں جواب دیا: تیرا برا ہو، میں تجھے اس کا حکم نہیں دیتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ((لا يَصبِرُ أَحدٌ على لأوائها فيموت إلاَّ كنتُ له شفيعاً يوم القيامة، إذا كان مسلماً)) ”جو بھی شخص مدینہ کی سختیوں اور پریشانیوں پر صبر کرتے ہوئے مرجاتا ہے تو میں قیامت کے دن اس کی سفارشی ہوں گا، اگر وہ مسلمان ہے۔“
نواں: اس کے باشندوں کو ایذا وتکلیف پہنچانے سے باز رہے، کیونکہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا ہر جگہ حرام ہے، لیکن مقدس شہر میں ایذا رسانی کرنا بہت سخت اور سنگین ہے، امام بخاری نے اپنی ”صحیح“ کے اندر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ((لا يَكيدُ أهلَ المدينة أحدٌ إلاَّ انْمَاعَ كما يَنماعُ المِلحُ في الماءِ)) ”جو بھی شخص اہل مدینہ کے ساتھ مکر وفریب کرے گا وہ اسی طرح گل پگھل کر ختم ہو جائے گا جس طرح نمک پانی میں گل جاتا ہے۔“ نیز امام مسلم نے اپنی”صحیح“ میں ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((مَن أراد أهلَ هذه البلدة بسوءٍ ـ يعني المدينةَ ـ أذابَه اللهُ كما يذوبُ المِلحُ في الماء)) ”جو شخص بھی اس شہر -یعنی مدینہ- کے باشندوں کے ساتھ برائی کا رادہ کرے گا، اللہ تعالی اسے پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“ دسواں: مدینہ کا باشندہ اس بات سے غرور اور دھوکہ میں مبتلا نہ ہو کہ وہ مدینہ کا باشندہ ہے، اور یہ کہے کہ: میں مدینہ کا باسی ہوں، اس لئے میں خیر وبھلائی پر ہوں! کیونکہ محض مدینہ کا باشندہ ہونا اگر اس کے ساتھ عمل صالح اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت پر استقامت نیز گناہوں اور نافرمانیوں سے دوری اور کنارہ کشی نہ ہو تو اسي کچھ فائدہ نہیں دے گا، بلکہ اس کے لئے ضرر ونقصان کا باعث ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیشک زمین کسی آدمی کو مقدس (پارسا) نہین بناتی ہے، بلکہ انسان کو اس کا عمل مقدس وپارسا بناتا ہے۔“ اس کی سند کے اندر انقطاع ہے، لیکن اس کا معنی صحیح ہے اور یہ خبر حقیقتِ واقعہ کے عین مطابق ہے، خود اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ((إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ)) ”اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔“ (سورۃ الحجرات: 13) یہ بات معلوم ہے کہ مدینہ کے اندر مختلف زمانوں میں نیک لوگ بھی رہے ہیں اور بد لوگ بھی، چنانچہ نیک لوگوں کو ان کے اعمال فائدہ پہنچائیں گے، اور برے لوگوں کو مدینہ پارسا اور مقدس نہیں بنادے گا اور نہ ہی ان کے شان ومرتبہ کو بلند کرے گا، یہ بلکل حسب ونسب کی طرح ہے، انسان کا بنا عمل صالح کے محض حسب ونسب والا ہونا اللہ کے نزدیک اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا؛ اس لئے کہ آپﷺ کافرمان ہے: ((ومَن بَطَّأَ به عملُه لَم يُسرِع به نسبُه)) ”جس کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا اسے اس کا حسب ونسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔“ (مسلم) لہٰذا جس شخص کو اس کے عمل نے جنت میں داخل ہونے سے پیچھے چھوڑ دیا تو محض اس کا حسب ونسب اسے جنت میں نہیں پہنچا سکتا۔ گیارھواں: مسلمان اس شہر مدینہ میں رہتے ہوئے اپنے اندر یہ شعور واحساس پیدا کرے کہ وہ ایک ایسے شہر میں ہے جہاں سے نور کی کرن پھوٹی اور وہاں سے نفع بخش علم چہار دانگ عالم میں منتشر ہوا، لہٰذا وہ شرعی علم حاصل کرنے کا حریص ہو جس کے ذریعہ وہ بصیرت وآ گہی کے ساتھ اللہ کے دین پر گامزن ہو سکے اور دوسروں کو بھی بصیرت کے ساتھ اس کی دعوت دے، خاص طور سے جب یہ طلب علم رسول اللہ ﷺ کی مسجدکے اندر انجام پائے؛ اس لئے کہ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ((مَن دخل مسجدَنا هذا يتعلَّمُ خيراً أو يُعلِّمه كان كالمجاهدِ في سبيلِ الله، ومَن دخلَه لغير ذلك كان كالنَّاظرِ إلى ما ليس له)) ”جو شخص ہماری اس مسجد میں داخل ہوا تاکہ خیر وبھلائی کی تعلیم حاصل کرے یا دوسروں کو اس کی تعلیم دے تو وہ اللہ کے راستے میں مجاہد کی طرح ہے، اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے داخل ہوا تو وہ ایسی چیز کی طرف دیکھنے والا ہے جو اس کے لئے نہیں ہے۔“ اس حدیث کو امام احمد اور ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے، اور طبرانی میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کی ایک شاہد بھی ہے۔ [زیارت مدینہ کے آداب] جس طرح مدینہ میں سکونت اختیار کرنے کے آداب ہیں اسی طرح اس کی زیارت کے بھی آداب ہیں، اور مدینہ کی زیارت کرنے والے پر مدینہ میں بود وباش اختیار کرنے کے ان منجملہ آداب کی رعایت کرنا واجب ہے جو گذشتہ صفحات میں گذر چکے ہیں، نیز اس بات سے روشناس ہونا مناسب ہے کہ مدینہ آنے والے شخص کے حق میں مشروع یہ ہے کہ وہ اپنے سفر سے رسول کریم ﷺ کی مسجد کی زیارت اور اس کی طرف رخت سفر باندھنے کا قصد کرے؛ اس لئے کہ نبیﷺ کا فرمان ہے: ((لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِد: المَسْجِدِ الحَرَام وَمَسْجِدِي هَذَا وَالمَسْجِدِ الأَقْصَى)) ”تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کا (اس سے برکت حاصل کرنے اور اس میں نماز پڑھنے کے لیے) رخت سفر نہ باندھا جائے: مسجد حرام، میری مسجد اور مسجد اقصی۔“ (بخاری ومسلم) یہ حدیث کسی بھی جگہ کا -خواہ مسجد ہو یا کوئی اور جگہ- اس جگہ میں جس کی طرف وہ سفر کر رہا ہے اللہ تعالی کے تقرب کے لئے رخت سفر باندھنے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے؛ اس لئے کہ ”سنن نسائی“ میں ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے بَصرۃ بن ابی بصرۃ الغفاری رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا: تم کہاں سے آ رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: طور سے؟۔ انہوں نے کہا: اگر تم سے میری ملاقات تمہارے وہاں جانے سے پہلے ہو جاتی تو تم وہاں نہ جاتے۔ میں نے کہا: وہ کیوں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ((لا تُعمَلُ المَطِيُّ إلاَّ إلى ثلاثةِ مساجد: المسجد الحرام، ومسجدي، ومسجد بيت المقدس)) ”تین مسجدوں کے علاوہ کہیں اور کے لئے سفر نہ کیا جائے: مسجد حرام، میری مسجد اور بیت المقدس کی مسجد۔“ یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کے اندر بصرۃ بن ابی بصرۃ غفاری رضی اللہ عنہ کا ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد یا کسی دوسرے مقام کی زیارت کے لئے رخت سفر باندھنے کی ممانعت پر استدلال موجود ہے۔
[مدینہ میں قابل زیارت اماکن] جو شخص اس مبارک شہر میں پہنچے اس کے لئے دو مسجدوں اور تین قبرستانوں کی زیارت مشروع ہے۔
وہ دونوں مسجدیں یہ ہیں: * رسولﷺ کی مسجد۔ * مسجد قباء۔ ان دونوں مسجدوں میں نماز پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں بعض دلیلیں گزر چکی ہیں۔
وہ تین قبرستان جن کی زیارت کرنا مشروع ہے‘ یہ ہیں: 1. رسولﷺ کی قبر مبارک اور آپ کے دونوں ساتھیوں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبریں۔ 2. بقیع کا قبرستان۔ 3. شہدائے احد کا قبرستان۔
جب زیارت کرنے والا رسولﷺ کی قبر اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی قبروں کے پاس آئے تو سامنے کی سمت سے آئے اور قبر کی طرف منہ کرے اور شرعی طریقہ کے مطابق زیارت کرےو بدعی زیارت سے احتراز کرے، شرعی زیارت یہ ہے کہ وہ ادب کے ساتھ پست آواز میں نبیﷺ پر سلا پڑھے اور آپ کے لئے دعا کرے، وہ کہے: ((لسلامُ عليكَ يا رسول الله ورحمةُ الله وبركاتُه صلّى اللهُ وسلَّم وبارك عليكَ، وجزاك أفضلَ ما جَزَى نَبِياًّ عن أُمَّته)) ”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، اللہ تعالی آپ پر صلاۃ وسلام اوربرکت نازل فرمائے، اور آپ کو اس سے افضل جزاء عطا فرمائے جو اس نے کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے دیا ہے۔ پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ پر سلام بھیجے اور آپ کے لئے دعا کرے، پھڑ عمر رضی اللہ عنہ پر سلام پڑھے اور آپ کے لیے دعا کرے۔
اس بات سے واقفیت حاصل کرنا مناسب ہے کہ ان دونوں مرد عظیم اور خلیفۂ راشد کو اللہ کی طرف سے وہ عزت واکرام حاصل ہے جو ان کے علاوہ کسی اور کوحاصل نہیں ہے، چنانچہ جب اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کو حق وہدایت کے ساتھ مبعوث فرمایا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ مردوں میں سب سے پہلے وہ شخص ہیں جو آپ پر ایمان لائے اور بعثت کے بعد تیرہ سال ہمیشہ آپ کی صحبت میں رہے، اور جب اللہ تعالی نے آپنے رسول کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائی تو آپ رضی اللہ عنہ آپﷺ کے رفیق سفر تھے اور اس بارے میں اللہ تعالی نے قرآن نازل فرمایا جس کی تلاوت کی جاتی ہے، اور وہ اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ((إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ العُلْيَا وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ)) ” اگر تم ان (نبیﷺ) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وه دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند وعزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے، اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔“ (سورۃ التوبۃ: 40) اور مدینہ میں دس سال آپﷺ کی صحبت کو لازم پکڑے رہے، اور تمام غزوات میں آپﷺ کے ساتھ حاضر رہے، جب رسول اکرم ﷺ کی وفات ہو گئی تو آپ کے بعد خلاف کی باگ ڈور سنبھالی اور کار خلافت کو بہترین طریقے پر انجام دیا، اور جب اللہ تعالی نے آپ رضی اللہ عنہ کو وفات دی تو آپ کو رسول اللہ ﷺ کے بغل میں دفن ہونے کے شرف سے نوازا، اور جب آپﷺ مرنے کے بعد اٹھائے جائیں گے تو جنت میں آپﷺ کے ساتھ ہوں گے، یہ اللہ تعالی کا فضل وکرم ہے اور اللہ تعالی اپنے فضل سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ البتہ جہاں تک عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا معاملہ ہے تو آپ سے پہلے تقریباً چالیس لوگ مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے، اور مسلمانوں کے خلاف آپ کا رویہ سخت گیر تھا، لیکن جب اللہ تعالی نے آپ کو اسلام کی طرف ہدایت کی نعمت سے سرفراز کیا تو آپ کی قوت وطاقت اور شدت وسخت گیری کافروں کے خلاف مرکوز ہو گئی اور آپ کا حلقہ بگوش اسلام ہونا مسلمانوں کے لئے باعث عزت وسربلندی ثابت ہوا، جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ”جب سے عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ہم مسلسل عزت سب بہرہور ہیں۔ اس قول کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے۔
مکہ میں نبیﷺ کی صحبت کو لازم پکڑے رہے، آب کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کیا، اور تمام مشاہد (غزوات) میں آپ کے ساتھ شریک رہے اور جب آپﷺ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری سنھالی تو ان کا دایاں ہاتھ تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی باگ ڈور سنبھالی اور دس سال سے زیادہ عرصہ تک خلیفہ رہے، جس کے دوران بہت سی فتوحات ہوئیں، اسلامی مملکت کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا اور اس زمانہ کی دو عظیم سلطنتوں یعنی روم وفارس کی سلطنتوں کا خاتمہ ہو گیا، اور قیصر وکسریٰ کے خزانے اللہ کے راستے (جہاد) مین خرچ کئے گئے جیسا کہ صادق ومصدوقﷺ نے اس کی خبر دی تھی، یہ سارا کارنامہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سر انجام پایا، اور جب آپ کی وفات ہوئی تو اللہ تعالی نے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے بغل میں دفن ہونے کا شرف بخشا، اور جب آپ دوبارہ اٹھائے جائیں گے تو آپﷺ کے ساتھ جنت میں ہوں گے، یہ اللہ تعالی کا فضل وکرم ہے اور اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔
کیا ان دونوں عظیم شخصیتوں سے جن کی یہ عظمت شان ہے اور جن کا یہ فضل ومرتبہ ہے کوئی خاقد اور کینہ پرور‘ کینہ وکپٹ رکھے گا، یا کوئی مذمت گر ان کی مذمت وبرائی کرے گا؟ نعوذ باللہ من الخذلان۔
((ربَّنا اغفِر لنا ولإخوانِنا الذين سَبقونا بالإيمانِ ولا تَجعلْ في قلوبِنا غِلاًّ للَّذين آمنوا ربَّنا إنَّك رؤوفٌ رحيم)) ” اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ اور دشمنی نہ ڈال، اے ہمارے رب! بیشک تو شفقت ومہربانی کرنے والا ہے“۔
((ربَّنا لا تُزِغ قلوبَنا بعد إذْ هديتَنا وهَبْ لنا من لَدُنْك رحْمَةً إنَّك أنتَ الوهَّاب)) ” اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے“۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر کے اندر اللہ تعالی کے فرمان: ((إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلاً كَرِيمًا )) ” اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔“ (سورۃ النساء: 31) کی تفسیر میں ابن ابی حاتم سے مغیرۃ بن مقسم تک ان کی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: یہ بات کہی جاتی ہے کہ: ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو سب وشتم کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ پھر علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتےہیں: میں کہتا ہوں: علماء کا ایک گروہ اس بات کی طرف گیا ہے کہ صحابہ کرام کو سب وشتم کرنے والا کافر ہے، مالک بن انس رحمہ اللہ کی ایک روایت یہی ہے، اور محمد بن سیرین کا قول ہے: میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنے والا کوئی شخص ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے بغض وعناد رکھے گا۔ (ترمذی)
[بدعی زیارت اور اس پر مشتمل امور] بدعی زیارت وہ ہے جو درج ذیل چند امور پر مشتمل ہو:
اول: رسول اللہ ﷺ کو پکارنا، آپ سے فریاد طلب کرنا اور آپ سے ضرورتوں کی تکمیل اور مشکلات اور پریشانیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کرنا، یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز مانگنا جسے صرف اللہ تعالی سے طلب کیا جاسکتا ہے، کیونکہ دعا (پکارنا) عبادت ہے، اور عبادت صرف تنہا اللہ ہی کی کی جاتی ہے، آپﷺ کا فرمان ہے: ((الدُّعاءُ هو العِبادةُ)) دعا ہی عبادت ہے۔ یہ ایک صحیح حدیث ہے جس کی تخریج ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے کی ہے، اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عبادت اللہ تعالی کا حق ہے اور اللہ تعالی کے حق میں سے کسی بھی چیز کو غیر اللہ کے لئے کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے، لہٰذا اللہ تعالی ہی سے امید وابستہ رکھی جائے گی اور اسی کو پکارا جائے گا، اور رسولﷺ سے دعا نہیں مانگی جائے گی بلکہ آپ کے حق میں دعا کی جائے گی، اسی طرح دیگر قبر والوں کے حق مین دعا کی جائے گی ان سے دعا نہیں مانگی جائے گی۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ رسولﷺ اپنی قبر کے اندر با حیات ہیں اور یہ حیاب برزخی ہے جو شہداء کے حیات سے زیادہ کامل ہے، اور اس حیات کی کیفیت اور حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ حیات موت سے پہلے کی زندگی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اٹھائے جانے کے بعد کی زندگی سے مختلف ہے، لہٰذا آپﷺ سے دعا مانگنا اور آب سے فریاد طلب کرنا جائز نہیں؛ اس لئے کہ یہ عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ تعالی ہی کی جائز ہےو جیسا کہ گزر چکا ہے۔
دوم: اپنے دونوں ہاتھوں کو نماز کی کیفیت کی طرح اپنے سینے پر رکھنا۔ ایسا کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ یہ اللہ تعالی کے سامنے عاجزی وانکساری اختیار کرنے کی ہیئت اور کیفیت ہے جو نماز کے اندر مشروع قرار دی گئی ہے جس میں مسلمان کھڑے ہو کر اللہ تعالی سے مناجات اور سرگوشی کرتا ہے، جبکہ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی زندگی میں جب آپ کے پاس پہنچتے تو آپ سے سلام کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو اپنے سینے پر نہیں رکھتے تھے، اگر یہ کوئی نیکی کا کام ہوتا تو وہ اس کی طرف سبقت کر چکے ہوتے۔
سوم: آپﷺ کی قبر کے ارد گرد کی دیواروں اور کھڑکیوں پر ہاتھ پھیرنا، اسی طرح مسجد کی کسی جگہ یا اس کے علاوہ کہیں اور (ہاتھ پھیرنا)۔ ایسا کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ یہ حدیث میں وارد نہیں ہے اور نہ ہی یہ سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے، بلکہ یہ شرک کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا کرنے والا یہ کہے کہ: میں ایسا نبیﷺ کی محبت میں کرتا ہوں!!! ہم ایسے شخص سے کہیں گے: ہر مسلمان کے دل میں نبیﷺ کی محبت اس کے اپنے والدین، بال بچوں اور تمام لوگوں کی محبت سے بڑھ کر ہونا واجب اور ضروری ہے، جیسا کہ آپﷺ کا فرمان ہے: ((لا يؤمِنُ أحدُكم حتى أَكونَ أَحَبَّ إليه من والِدِه ووَلَدِه والناس أَجْمَعِين)) ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اس کے بال بچوں اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ (بخاری ومسلم)
بلکہ واجب ہے کہ یہ محبت آدمی کے آپنے جان کی محبت سے بھی بڑھ کر ہو جیسا کہ صحیح بخاری میں عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ثابت ہے، اور آپ ﷺ کی محبت کا جان، والدین اور بال بچوں کی محبت سے بڑھ کر ہونا اس لئے واجب ہے کیونکہ وہ نعمت جس سے اللہ تعالی نے آپ کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو سرفراز کیا ہے -اور وہ ہے اسلام کی نعمت، صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی نعمت، تاریکیوں سے روشنی کی طرف نلکنے کی نعمت- وہ سب سے عظیم اور سب سے گرانقدر نعمت ہےو جس کے مساوی اور جس کے مانند کوئی اور نعمت نہیں ہے۔
لیکن اس کی محبت کی نشانی دیواروں اور کھڑکیوں پر ہاتھ پھیرنا نہیں ہےو بلکہ اس کی نشانی رسولﷺ کی اتباع اور آپ کی سنت پر عمل پیرا ہونا ہے، کیونکہ دین اسلام دو عظیم امور پر مشتمل ہے:
اول: عبادت صرف اللہ تعالی کی ہی کی جائے۔
دوم: اللہ کی عبادت صرف رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق کی جائے، اور یہی لا إلہ إلا اللہ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں) کی شہادت اور محمد رسول الہ (محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں) کی شہادت کا تقاضا بھی ہے۔
قرآن کریم کے اندر ایک آیت ہے جسے بعض علماء ”آیت امتحان“ سے موسوم کرتے ہیں، اور وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: ((قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ )) ” کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔“ (سورۃ آل عمران: 31) حسن بصری اور ان کے علاوہ دیگر سلف کا قول ہے: کچھ لوگوں کا گمان تھا کہ وہ اللہ تعالی سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالی نے اس آیت کے ذریعہ ان کی ابتلا وآزمائش کی۔
اور ابتلا کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کا امتحان لیا اور جانچا پرکھا ہے تا کہ سچے اور جھوٹے کے درمیان تمیز ہو جائے، کیونکہ جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دعویٰ پر دلیل قائم کرے، اور وہ دلیل رسولﷺ کی اتباع ہے۔
ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یہ آیت کریمہ ہر اس شخص کے خلاف حاکم اور فیصل ہے جو اللہ تعالی سے محبت کا دعویٰ کرے لیکن وہ طریقۂ محمدی کا پیروکار نہ ہو، ایسا شخص در حقیقت جھوٹا ہے یہاں تک کہ وہ شریعت محمدی اور دین نبوی کا اپنے تمام اقوال اور افعال میں اتباع کرے، جیسا کہ صحیح بخاری میں رسول الہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ((مَن عَمِلَ عَملاً ليس عليه أمْرُنا فهو ردٌّ)) ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے امر (شریعت) کے مطابق نہیں ہے تو وہ مردود (ناقابل قبول) ہے۔“ اسی لئے اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ)) ” اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔“ (سورۃ آل عمران: 31) یعنی تم جو اللہ تعالی سے محبت کے طلب گار ہو تمہیں اس سے بڑھ کر چیز حاصل ہو گی اور وہ یہ کہ خود اللہ تم سے محبت کرے گا، اور یہ پہلے سے عظیم تر ہے، جیسا کہ بعض دانشور علماء کا قول ہے: عزت وشان کی بات یہ نہیں ہے کہ تم کسی سے محبت کرو، عزت وشان اس میں ہے کہ تم سے محبت کی جائے۔ پھر علامہ ابن کثیر نے حسن بصری اور ان کے علاوہ دیگر سلف رحمہم اللہ کا سابقہ قول ذکر کیا ہے۔ امام نووی ”المجموع شرح المھذب“ کے اندر نبیﷺ کی قبر کی دیواروں کو چومنے اور اس پر ہاتھ پھیرنے کے بارے میں رقم طراز ہیں: ”بہت سے عوام کی مخالفت اور ان کے اس فعل سے دھوکہ میں نہیں پڑنا چاہئے، کیونکہ اقتدا اور عمل کی بنیاد احادیث اور علما کے اقوال ہیں، عوام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کی خودساختہ باتوں اور جہالتوں کی طرف نظر التفات نہیں کیا جائے گا“۔ صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: ((مَن أحدَثَ في دِينِنا هذا ما لَيس منه فهو ردٌّ)) ”جس نے ہمارے اس امر (شریعت)میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جس کا تعلق اس سے نہیں ہے تو وہ مردود (ناقابل قبول) ہے۔“ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ((مَن عَمِلَ عَملاً ليس عليه أمْرُنا فهو ردٌّ)) ”جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے امر (شریعت) کے موافق نہیں ہے تو وہ مردو ہے۔“ اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((لا تَجعَلوا قَبْرِي عيداً، وصلُّوا عليَّ، فإنَّ صلاتَكم تَبلُغُنِي حَيثمَا كنتم)) ”میری قبر کو عید نہ بناؤ، اور میرے اوپر درود بھیجتے رہے، کیونکہ تم کہیں بھی رہو مجھ تک تمہارا درود پہنچتا رہتا ہے۔“ (اس حدیث کو ابوداؤد نے اسناد حسن کے ساتھ روایت کیا ہے) فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے جس کا مفہوم یہ ہے: ہدایت کے راستوں کی پیروی کر، تجھے اس پر چلنے والوں کی قلت نقصان نہیں پہنچائے گی، اور گمراہی کے راستوں سے اجتناب کر اور ہلاک ہونے والوں کی کثرت سے دھوکہ نہ کھا۔ جس کے دل میں یہ بات آئے کہ ہاتھ پھیرنا وغیرہ برکت کا زیادہ باعث ہے تو یہ اس کی نادانی اور غفلت کا آئنہ دار ہے؛ اس لئے کہ برکت تو صرف اس چیز کے اندر ہے جو شریعت کے موافق ہو، صحیح اور درست چیز کی مخالفتت کے اندر فضیلت کو تلاش کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟! امام نووی رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔ چوتھا: زیارت کرنے والے کا آپﷺ کی قبر کا طواف کرنا۔ ایسا کرنا حرام وناجائز ہے؛ اس لئے کہ اللہ تعالی نے صرف کعبۂ مشرفہ کے گرد طواف کرنا مشروع کیا ہے، اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ((وَلْيَطَّوَفُوا بِالبَيْتِ العَتِيقِ )) ”اور لوگ اللہ کے قدیم گھڑ کا طواف کریں۔“ (سورۃ الحج: 29) لہٰذا کعبہ مشرفہ کے علاوہ کسی اور جگہ کا طواف نہیں کیا جائے گا، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ: ہر جگہ اللہ تعالی کے لئے کتنے ہی نماز پڑھنے والے ہیں، اسی طرح کہا جاتا ہے: کتنی ہی اللہ کے لئے صدقہ کرنے والے ہیں، کتنی ہی اللہ کے لئے روزہ رکھنے والے ہیں اور کتنی ہی اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں، لیکن یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ: ہر جگہ کتنی ہی لوگ اللہ کے لئے طواف کرنے والے ہیں؛ اس لئے کہ طواف صرف بیت عتیق کے ساتھ مخصوص ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صرف بیت معمور کا طواف مشروع ہے، لہٰذا نہ بیت المقدس کے چٹان (قبۃ الصخرۃ) کا طواف جائز ہے، نہ نبی -ﷺ- کے حجرہ کا، نہ جبل عرفات کے قبہ کا اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی اور جگہ کا۔ پانچواںھ آپﷺ کی قبر کے پاس آواز بلند کرنا۔ ایسا کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ اللہ تعالی نے مومنوں کو اسی وقت (نبیﷺ کے ساتھ) ادب واحترام کو ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی جب آپﷺ ان کے درمیان موجود تھے، چنانچہ ارشاد فرمایا: ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلاَ تَجْهَرُوا لَهُ بِالقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تَشْعُرُونَ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ)) ” اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ۔ بیشک جو لوگ رسول اللہ (ﷺ) کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وه لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا ثواب ہے۔“ (سورۃ الحجرات: 2،3)
اور آپﷺ جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام ہیں اسی طرح اپنی وفات کے بعد بھی قابل احترام ہیں۔
چھٹا: دور ہی سے قبر کی طرف رخ کر کے خواہ مسجد کے اندر ہو یا اس کے باہر آپﷺ پر سلام بھیجنا۔ ہمارے استاذ شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ اپنی کتاب ”حج وعمرہ کے مناسک“ میں رقم طراز ہیں: ایسا شخص اپنے اس عمل کے ذریعہ محبت اور صدق وصفا کے بجائے جفا اور گستاخی کے زیادہ قریب ہے۔
یہ بات قابل تنبیہ ہے کہ مدینہ آنے والے بعض لوگوں کو ان کے بعض اہل یا دوسرے لوگ یہ وصیت کرتے ہیں کہ وہ رسول کریم ﷺ کو ان کا سلام پہنچا دیں گے۔ چونکہ حدیث کے اندر اس چیز کی کوئی دلیل وارد نہیں ہوئی ہے اس لئے جس شخص سے یہ مطالبہ کیا جائے، اسے چاہیے کہ ایسے شخص سے کہے کہ: تم زیادہ سے زیادہ آپﷺ پر درود وسلام بھیجو، فرشتے اسے رسولﷺ تک پہنچاتے ہیں۔ اس لئے کہ آپﷺ کا فرمان ہے: ”اللہ تعالی کے ایسے فرشتے ہین جو زمین میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور وہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں۔“ یہ ایک صحیح حدیث ہے جسے نسائی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔ اور اس لئے بھی کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ((لا تَجعلُوا بيوتَكم قبوراً، ولا تَتَّخِذوا قبري عيدًا، وصَلُّوا عليَّ فإنَّ صلاتَكم تَبلغنِي حيث كنتم)) ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، اور میری قبر کو عید نہ بناؤو اور میرے اوپر درود بھیجتے رہو، کیونکہ تم کہیں بھی رہو مجھ تک تمہارا درود پہنچتا رہتا ہے۔“ یہ ایک صحیح حدیث ہے جسے ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
یہاں پر یہ جان لینا مناسب ہے کہ حج وعمرہ کے درمیان اور زیارت مدینہ کے درمیان کوئی تلازم نہیں ہے، لہٰذا جو شخص حج یا عمرہ کرنے کے لئے آیا ہے اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ مدینہ آئے بغیر اپنے ملک واپس لوٹ جائے، اور جو شخص اپنے ملک سے مدینہ کی زیارت کے لئے آیا ہے اس کے لئے جائز ہے کہ وہ بغیر حج یا عمرہ کئے ہوئے واپس لوٹ جائے، اور اس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ حج وعمرہ اور زیارت مدینہ کو ایک ہی سفر میں جمع کرے۔
البتہ جہان تک ان احادیث کا تعلق ہے جو آپﷺ کی قبر کی زیارت کے سلسلے میں بیان کی جاتی ہیں، مثلاً یہ حدیث: ((مَن حَجَّ ولَم يَزُرْنِي فقد جَفانِي)) ”جس نے حج کیا اور میری زیارت نہیں کی اس نے میرے ساتھ جفا کیا۔“ اور یہ حدیث: ((مَن زارني بعد مَمَاتي فكأنَّمَا زارَني في حياتي)) ”جس نے میرے مرنے کے بعد میری زیارت کی تو گویا اس نے میری زندکی میں میری زیارت کی۔“ اور یہ حدیث: ((مَن زارني وزارَ أبي إبراهيم في عامٍ واحد ضَمِنْتُ له على الله الجَنَّةَ)) ”جس نے ایک ہی سال میری زیارت کی اور میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی زیارت کی تو مین اس کے لئے اللہ تعالی پر جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ اور یہ حدیث: ((مَن زار قَبري وَجَبتْ له شفاعَتِي)) ”جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔“ تو یہ احادیث اور ان کے مشابہ دیگر حدیثیں حجت اور دلیل نہیں بن سکتیں؛ اس لئے کہ یہ حدیثیں موضوع (من گڑھت) ہیں یا بہت زیادہ ضعیف ہیں جیسا کہ حفاظِ حدیث مثلاً دارقطنی، عقیلی، بیہقی، ابن تیمیہ اور ابن حجر رحمہم اللہ نے اس پر تنبیہ کی ہے۔ البتہ جہان تک اللہ تعالی کے اس فرمان کا تعلق ہے: ((وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِيمًا )) ”اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا تھا، تیرے پاس آ جاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتے، تو یقیناً یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔“ (سورۃ النساءھ 64) تو معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ نفس پر ظلم کرنے کے وقت آپﷺ کی قبر کا قصد کرنا چاہیے اور نبیﷺ سے استغفار طلب کرنا چاہیے؛ اس لئے کہ آیت کا سیاق وسباق منافقین کے بارے میں ہے، اور آپﷺ کے پاس آنا یہ صرف آپ کی زندگی میں ہے؛ اس لئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وارضاہم استغفار کرتے ہوئے استغفار کے طلب گار بن کر آپﷺ کی قبر کے پاس نہیں آتے تھے، اسی بنا پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خشک سالی پڑنے کے وقت عباس رضی اللہ عنہ کی دعا کا وسیلہ پکڑا اور کہا: ((اللَّهمَّ إنَّا كنَّا إذا أَجْدَبْنَا تَوَسَّلْنَا إليكَ بِنَبيِّنا فتَسْقِينَا، وإنَّا نَتَوسَّلُ إليكَ بِعَمِّ نبيِّنا فاسْقِنَا)) ”اے اللہ! جب ہم قحط سالی کے شکار ہوتے تھے تو تیری طرف اپنے نبیﷺ کی دعا کا وسیلہ پکڑتے تھے اور تو ہمیں بارش سے سیراب کرتا تھا، آج ہم تیری طرف اپنے نبیﷺ کے چچا کی دعا کا وسیلہ پکڑتے ہیںو لہٰذا تو ہمین بارش سے سیراب کر۔“ راوی کا کہنا ہے کہ: وہ سیراب کیے جاتے تھے۔ (صحیح بخاری) اگر آپﷺ کی وفات کے بعد آپ کا وسیلہ پکڑنا جائز ہوتا تو عمر رضی اللہ عنہ آپ سے اعراض کر کے عباس رضی اللہ عنہ کا وسیلہ نہ پکڑتے۔ اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جسے امام بخاری نے اپنی صحیح کے اندر ”کتاب المرضی“ مین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ہائے سر! تو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ اگر میری زندگی میں ہوتا (یعنی اگر تو میری زندگی میں مرجاتی) تو میں تیرے لئے دعا واستغفار کرتا۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے مصیبت! اللہ کی قسم میرا گمان ہے کہ آپ میری موت چاہتے ہیں ...الحدیث
اگر آپﷺ کی وفات کے بعد آپ سے دعا اور استغفار ممکن ہوتا تو کوئی فرق نہیں تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ سے پہلے ہوتی یا آپﷺ کی وفات ان سي پہلے ہوتی۔
آپﷺ کی قبر کی زیارت کرنے پر وہی حدیثیں دلالت کرتی ہین جو عام قبروں کی زیارت پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً آپﷺ کا فرمان: ((زُورُوا القبورَ؛ فإنَّها تذكِّرُكم الآخرةَ)) ”قبروں کی زیارت کرو؛ کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی۔“ (صحیح مسلم) لیکن آپﷺ کی قبر کے پاس زیادہ دیر تک ٹھہرنا مناسب نہیں ہے اور نہ ہی بکثرت زیارت کرنا؛ کیونکہ یہ آدمی کو غلو میں مبتلا کر دیتی ہے، جبکہ اللہ تعالی نے اپنے نبیﷺ کو آپ کی امت کے درمیان یہ خصوصیت عطا فرمائی ہے کہ فرشتے ہر جگہ آب تک سلام پہنچاتے ہیں؛ جیسا کہ آپﷺ کا فرمان ہے: ”اللہ تعالی کے ایسے فرشتے ہین جو زمین میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور وہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں۔“ نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ((لا تَجعلُوا بيوتَكم قبوراً، ولا تَتَّخِذوا قبري عيدًا، وصَلُّوا عليَّ فإنَّ صلاتَكم تَبلغنِي حيث كنتم)) ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، اور میری قبر کو عید نہ بناؤو اور میرے اوپر درود بھیجتے رہو، کیونکہ تم کہیں بھی رہو تمہارا درود (فرشتوں کے واسطے سے) مجھ تک پہنچتا رہتا ہے۔“ چنانچہ جب نبیﷺ نے اپنی قبر کو عید بنانے سے منع فرما دیا تو اپنے اس فرمان کے ذریعہ: ”اور میرے اوپر درود بھیجتے رہو، کیونکہ تم کہیں بھی رہو تمہارا درود (فرشتوں کے واسطے سے) مجھ تک پہنچتا رہتا ہے۔“ اس چیز کی طرف رہنمائی کردی جو اس کے قائم مقام ہے۔ -
البتہ بقیع کی قبروں کی زیارت اور شہدائے احد کی قبروں کی زیارت اگر مشروع طریقے پر ہو تو وہ مستحب ہي اور اگر بدعت کے طریقہ پر ہو تو وہ زیارت حرام ہے۔
شرعی زیارت وہ ہے جو ایسے طریقہ پر انجام دی جائے جو رسول کریم ﷺ سے وارد ہے اور وہ زیارت کرنے والے شخص کے انتفاع (فائدہ اٹھانے) اور جس کی زیارت کی جاتی ہے اس کے انتفاع (فائدہ) پر مشتمل ہے۔
زیارت کرنے والا باحیات شخص قبر کی زیارت سے تین فائدے حاصل کرتا ہے:
پہلا فائدہ: موت کو یاد کرنا؛ جس کے نتیجہ میں وہ نیک اعمال کے ذریعہ اس کے لئے تیاری کرتا ہے؛ اس لئے کہ آپﷺ کا فرمان ہے: ((زوروا القبور ، فإنها تذكركم الآخرة)) ”قبروں کی زیارت کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی۔“ (صحیح مسلم)
دوسرا فائدہ: فعل زیارت، اور یہ سنت ہے جسے رسول کریم ﷺ نے مسنون قرار دیا ہے، جس پر اسے اجر ملتا ہے۔
تیسرا فائدہ: وفات شدہ مسلمانوں پر ان کے لئے دعا کر کے احسان کرناو اور ا احسان پر اسے اجر ملتا ہے۔
البتہ وہ میت جس کی زیارت کی جا رہی ہے وہ شرعی زیارت سے اپنے لئے دعا اور احسان کا فائدہ اٹھاتا ہے؛ اس لئے کہ مردے زندہ لوگوں کی دعا سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
قبروں کی زیارت کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ قبر والوں کے لئے وہ دعا کرے جو رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں ثابت ہے، اسی میں سے بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسولﷺ انہیں قبرستان کی طرف نکلتے وقت دعا سکھاتے تھے، چنانچہ ان کا کہنے والا کہتا تھا: ((السَّلامُ عليكم أهلَ الدِّيارِ مِن المؤمنين والمسلمين، وإنَّا إن شاء الله بكم لَلاَحِقونَ، أسأل اللهَ لنا ولكم العافِيةَ)) ”اے مومنوں اور مسلمانوں کے گھرانے والے! تم پر سلامتی ہو، ان شاء اللہ ہم تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ تعالی سے اپنے لئے اور تمہارے لئے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“ (مسلم) قبروں کی زیارت مَردوں کے حق میں مستحب ہے، البتہ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، کچھ لوگوں نے اسے جائز قرار دیا ہے اور کچھ لوگوں نے اس سے روکا ہے، دونوں قولوں میں سب سے ظاہر قول ممانعت کا ہے؛ اس لئے کہ آپﷺ کا فرمان ہے: ((لَعنَ الله زَوَّاراتِ القُبُورِ)) ”قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔“ اس حدیث کی تخریج ترمذی وغیرہ نے کی ہے، اور ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ((زُوّارَات)) کے لفظ میں سب سے ظاہر بات یہ ہے کہ وہ نسبت کے لئے ہےو یعنی ان کی طرف زیارت کی نسبت کی گئی ہے، یا اس کا معنی ہے: زیارت کرنے والیاں، اس کی نظیر اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: ((وَمَا رَبُّكَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِيدِ)) ”تمہارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔“ (فصلت: 46) یعنی ظلم والا نہیں ہے، یا اس کی طرف ظلم کی نسبت نہیں ہےو اس طرح ”زُوَّارَات“ کا لفظ زیارت کے اندر مبالغہ کے لئے نہیں ہے، جیسا کہ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت جائز قرار دینے والے کچھ لوگوں نے ذکر کیا ہے۔ اور اس لئے بھی کہ عورتیں کمزور دل ہوتی ہیں اور رونے دھونے اور نوحہ خوانی کرنے سے بہت کم صبر کر پاتی ہیں۔
نیز منع کا قول ہی ازروئے احتیاط بہتر ہے؛ اس لئے کہ عورت اگر زیارت ترک کردے تو اس سے ایک مستحب چیز کے علاوہ کوئی اور چیز فوت نہیں ہوگی، اور اگر وہ زیارت کرتی ہے تو وہ لعنتکی سزاوار ہوگی۔
بدعی زیارت وہ ہے جو غیر شرعی طریقہ پر کیا جائے، مثلاً قبر والوں سے دعا مانگنےو ان سے فریاد طلب کرنے اور ان سے ضرورتوں کو پورا کرنے کا سوال کرنے وغیرہ کے لئے قبروں کا قصد کیا جائے، ایسی زیارت سے میت کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے اور خود زندہ شخص کو اس سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے، زندہ شخص نقصان ٹھاتا ہے؛ کیونکہ اس نے ایسا کام کیا ہے جو جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ یہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے، اور میت کو بھی فائدہ نہیں پہنچتا ہے؛ کیونکہ اس کے لئے دعا نہیں کی گئی ہےو بلکہ اللہ کو چھوڑ کر خود اسی سے دعا مانگی گئی ہے۔ ہمارے استاذ شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ اپنی کتاب ”حج وعمرہ کے مناسک“ میں فرماتے ہیں:
”البتہ ان کی قبروں کے پاس دعا کرنے، یا اس کے پاس ٹھہرنے کے مقصد سے، یا ان سے قضائے حاجت، یا بیماری کی شفایابی کا سوال کرنے، یا ان کے واسطے یا ان کے جاہ ومنصب کے ذریعہ اللہ تعالی سے سوال کرنے وغیرہ کے قصد سے ان کی زیارت کرنا بدعت اور منکر ہے، جسے نہ اللہ نے مشروع قرار دیا ہے اور نہ اس کے رسول نے، اور نہ ہی اسے سلف صالحین رضی اللہ عنہم نے کیا ہے، بلکہ یہ اس لغو اور بیہودہ باتوں میں سے ہے جس سے رسولﷺ نے منع فرمایا ہے، چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ((زُورُوا القبورَ ولا تقولوا هُجرًا)) ”قبروں کی زیارت کرو اور بیہودہ بات نہ کہو۔“ مذکورہ بالا امور بدعت ہونے میں ایک ہیں، لیکن ان کے مراتب مختلف ہیں، چنانچہ ان میں سے بعض بدعت ہیں شرک نہیں ہیں، مثلاً قبروں کے پاس اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا مانگنا، اور میت کے حق اور جاہ کے ذریعہ اللہ تعالی سے سوال کرنا...وغیرہ، اور بعض امور شرک اکبر میں سے ہیں مثلاً مُردوں کو پکارنا اور ان سے مدد طلب کرنا...وغیرہ۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا بیان کرنا میرا مقصد تھا، اللہ عزوجل سے میں دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں، اس شہر مدینہ کے باشندگان، اس کے زائرین اور تمام مسلمانوں کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائے جس کا انجام دنیا وآخرت میں بہتر ہو، اور ہمیں اس پاک شہر میں بہترین اقامت اور حسنِ ادب سے نواز دے۔ اور ہمارا حسن خاتمہ فرمائے۔ (آمین) وصلّى الله وسلَّم وبارَك على عبده ورسوله نبيِّنا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔
Related books
All books
دعا کی فضلیت، آداب اور مُستحب اوقات9 زبانیںدعا کی فضلیت، آداب اور مُستحب اوقات
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے سزاوار ہیں۔ درود وسلام ہو اللہ کے رسول ﷺ پر۔ امّابعد: ’دعا‘ بندے کو اپنے رب سے قریب کرنے والی ایک اہم چیز ہونے کے ساتھ ہی یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بندہ اپنے رب کے آگے جھکنے اور اس کے سامنے اپنی کمزوری، فقیری اور لاچاری کو رکھنا پسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دعا نہ کرنے والے کو اپنے اس فرمان میں گھمنڈی سے متصف کیا ہے۔ فرمایا: اور تمہارے رب کا فرمان (صادر ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ (سورہ غافر: 60) اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے…
فضائلِ اسلام11 زبانیںفضائلِ اسلام
امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ باب: اسلام کا وجوب ... اور ارشادِ باری تعالٰی : {جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔} [1] (سورۂ آل عمران: 85)۔ اور یہ فرمان الہی: {اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے، سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔} [2] (سورۂ انعام: 153)۔ [2] سورہ انعام آیت: 153۔ [1] سورۂ آل عمران آیت: 185۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’سُبُل‘ سے مراد ’بدعات اور شبہات‘ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : "جس نے…
(کتاب: نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب)11 زبانیں(کتاب: نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب)
تالیف: شیخ الاسلام، فريد عصر, امام ومجدد، شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمه الله تعالىٰ سعودی لائبریری میں موجود قلمی نسخہ نمبر 269 /86 اور دیگر مطبوعہ نسخوں سے تقابل وتصحیح کاکام شیخ عبد الكريم بن محمد اللاحم، شیخ ناصر بن عبد الله الطريم اور شیخ سعود بن محمد البشر نے انجام دیا ہے . بسم اللہ الرّحمن الرّحیم (باب: نماز کی طرف جانے کے آداب) نماز کے لیے باوضو ہوکر خشوع کے ساتھ نکلنا مسنون ہے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : "جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کے ارادے سے نکلے، تو وہ اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے، کیونکہ وہ حالت نماز میں ہے۔" جب وہ گھر سے نکلے-اگرچہ نماز…
سفر کے آداب واحکام52 زبانیںسفر کے آداب واحکام
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔ اما بعد: یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں سفر کے آداب اور احکام بیان کیے گئے ہیں، ہم نے اس میں ان امور کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے جن کی مسافر کو عام طور پر ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس عمل کو خالص اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائے اور اس سے تمام مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔ اول: سفر کے آداب