اعتقاد الأئمة الأربعة
ائمہ اربعہ ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد کا عقیدہ مقدمہ إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستهديه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله. ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُون)) (آل عمران: 102) ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ…
This PDF is generated automatically from the book's text; its layout may differ from the printed edition.
ائمہ اربعہ ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد کا عقیدہ
مقدمہ
إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستهديه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله. ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُون)) (آل عمران: 102) ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا)) (النساء: 1) ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا)) (الأحزاب: 70 تا 71) اما بعد: میں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک اصولِ دین کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ایک مفصل بحث تیار کی تھی، اور مقدمہ میں ائمہ ثلاثہ مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کے عقیدے کی تلخیص بھی شامل کر دی تھی، اب پر بعض فضلاء نے مجھ سے طلب کیا کہ ان تینوں ائمہ کا عقیدہ الگ سے ذکر کردوں، لیکن میں نے ائمہ اربعہ کے عقیدہ کے ذکر کی تکمیل کے پیشِ نظر یہ بات مناسب سمجھی کہ اپنی کتاب کے مقدمہ میں جو کچھ میں نے ذکر کیا تھا اس کے ساتھ اس بحث کی بھی تلخیص شامل کردوں جس میں میں نے توحید وتقدیر اور ایمان وصحابہ کے بارے میں امام ابو حنیفہ کے عقیدے اور علم کلام کے بارے میں ان کے موقف کو بسط سے بیان کیا ہے۔
اللہ سے سوال ہے کہ وہ اس عمل کو اپنی ذات کے لئے خالص بنائے اور ہم سب کو اپنی کتاب اور اپنے رسولﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے، اور اللہ قصد کے پیچھے ہے، اور وہی ہمارے لئے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
محمد بن عبدالرحمن الخمیس
پہلا مبحث
اس بات کا بیان کہ ایمان کے علاوہ اصول دین کے باقی مسائل میں ائمہ اربعہ کا عقیدہ ایک ہے۔
-
چاروں ائمہ -ابو حنیفہ، مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ- کا عقیدہ وہی ہے جسے کتاب وسنت نے بیان کیا ہے اور جس پر صحابہ اور ان کے تابعین کرام تھے، الحمد للہ ان ائمہ اربعہ کے درمیان اصول دین میں کوئی نزاع نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ رب تعالی کی صفات پر ایمان لانے میں متفق ہیں، اور اس پر بھی کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے، اور اس پر بھی کہ ایمان میں دل اور زبان کی تصدیق ضروری ہے، اور یہ لوگ اہل کلام جہمیہ وغیرہ پر نکیر کرتے تھے جو یونانی فلسفہ اور کلامی مذاہب سے متاثر تھے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ کہتے ہیں: ”... لیکن بندوں پر اللہ کی یہ رحمت ہے کہ جن ائمہ کیلئے امت کے اندر زبان صدق ہے۔ جیسے ائمہ اربعہ وغیرہ ... یہ ائمہ اہل کلام یعنی جہمیہ پر قرآن وایمان اور صفات رب کے بارے میں ان کے اعتقادات پر تنقید کرتے تھے اور سلف کی اس بات بر متفق تھے کہ اللہ آخرت میں دیکھا جائے گا، اور قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے، اور ایمان میں دل اور زبان کی تصدیق ضروری ہے۔“ اور یہ بھی کہتے ہیں: مشہور ائمہ سب کے سب اللہ تعالی کی صفات کو ثابت مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے، اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کو آخرت میں دیکھا جائے گا، یہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مذہب ہے، اور یہی ان کے تابعین رحمہم اللہ، یعنی اہل بیت وغیرہ کا مذہب ہے، اور یہی ائمہ متبوعین مثلاً مالک بن انس، ثوری، لیث بن سعد، اوزاعی، ابو حنیفہ، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا مذہب ہے۔ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے امام شافعی رحمہ اللہ کے عقیدہ کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ جواب دیا: ”امام شافعی رضی اللہ عنہ کا عقیدہ اور سلف امت جیسے مالک، ثوری، اوزاعی، ابن مبارک، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کا عقیدہ وہی ہے جو ان لوگوں کا عقیدہ ہے جنکی اقتدا کی جاتی ہے مثلاً فضیل بن عیاض، ابو سلیمان دارانی اور سہل بن عبداللہ تستری وغیرہ، کیونکہ ان ائمہ میں اور ان جیسے اہل علم میں اصول دین کے اندر کوئی نزاع نہیں ہے،
اور یہی معاملہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی ہے، کیونکہ توحید اور تقدیر وغیرہ میں ان سے جو عقیدہ ثابت ہے وہ ان لوگوں کے عقیدے کے موافق ہے، اور ان لوگوں کا عقیدہ وہی ہے جس پر صحابہ اور ان کے تابعین باحسان تھے، اور وہی عقیدہ ہے جس کو کتاب وسنت نے بیان کیا ہے۔“
یہی بات علامہ صدیق حسن خان نے بھی اختیار کی ہے، وہ کہتے ہیں: ”ہمارا مذہب اور سلف کا مذہب یہ ہے کہ بلا تشبیہ اور تنزیہ بلا تعطیل۔ اور یہی ائمہ اسلام مثلاً مالک، شافعی، ثوری، ابن مبارک اور امام احمد وغیرہ کا مذہب ہے، ان ائمہ کے درمیان اصول دین کے بارے میں کوئی نزاع نہیں ہے، اور اسی طرح ابو حنیفہ -رضی اللہ عنہ- کیونکہ ان سے جو عقیدہ ثابت ہے وہ ان لوگوں کے عقیدے کے موافق ہے، اور یہ وہی عقیدہ ہے جسے کتاب وسنت نے بیان کیا ہے۔“
لیجئے! چاروں ائمہ متبوعین: ابو حنیفہ، مالک، شافعی اور احمد اصول دین کے مسائل میں عقیدہ رکھتے ہیں، اور اہل علم کے بارے میں ان کا جو موقف ہے ان کے تعلق سے ان کے اقوال کا ایک مجموعہ ملاحظہ فرمائیے۔!
دوسری مبحث
امام ابو حنیفہ کا عقیدہ
الف: توحید کے بارے میں امام ابو حنیفہ کے اقوال:
اولاً: اللہ تعالی کی توحید، شرعی توسل کے بیان اور بدعی توسل کے ابطال کے بارے میں ان کا عقیدہ:
(1) ابو حنیفہ نے کہا: ”کسی کیلئے درست نہیں کہ وہ اللہ سے دعا کرے مگر اسی کے واسطے سے، اور جس دعا کی اجازت ہے اور جس کا حکم ہے وہ وہی ہے جو اللہ تعالی کے اس قول سے مستفاد ہے:
((وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)) ”اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں، انہیں جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کا جلد ہی بدلہ دیا جائے گا۔“ (الأعراف: 180)
(2) ابو حنیفہ نے کہا: ”مکروہ ہے کہ دعا کرنے والا یوں کہے کہ میں بحق فلاں، یا بحق انبیاء ورسل تیرے، یا بحق بیت حرام ومشعر حرام تجھ سے سوال کرتا ہوں۔
(3) اور ابو حنیفہ نے کہا: ”کسی کیلئے درست نہیں کہ وہ اللہ سے دعا کرے مگر اسی کے واسطے سے، اور میں یہ بھی مکروہ سمجھتا ہوں کہ دعا کرنے والا یوں کہے کہ تریے عرش کی عزت کی بندش گاہ کے واسطے سے یا بحق تیری مخلوق کے۔“
ثانیاً: صفات کے اثبات اور جہمیہ کے رد میں ان کا قول:
(4) اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالی کو مخلوقین کی صفات سے متصف نہیں کیا جاسکتا، اسکا غضب اور اس کی رضا بلا کیف اسکی صفات میں دو صفتیں ہیں، اور یہی اہل السنۃ والجماعۃ کا قول ہے۔ وہ غضبناک ہوتا ہے اور راضی ہوتا ہے، لیکن یہ نہیں کہا جائیگا کہ اس کا غضب اس کی عقوبت ہے، اور اسکی رضا اس کا ثواب ہے۔ اور ہم اس کو ویسے ہی متصف کریں گے جیسے اس نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے۔ وہ ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ اس نے جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے، اور نہ اسکا کوئی ہمسر ہے۔ وہ زندہ ہے، قادر ہے، سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے، عالم ہےو اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، اور اس کی مخلوق کے ہاتھ جیسا نہیں۔ اور اسکا چہرہ اس کی مخلوق کے چہرے جیسا نہیں ہے۔
(5) اور کہا کہ: ”اس کے لیے ہاتھ اور چہرہ اور نفس ہے، جیسا کہ اللہ نے اسے قرآن میں ذکر کیا ہے، اور جس چیز کو اللہ نے قرآن میں ذکر کیا ہے یعنی چہرہ اور ہاتھ اور نفس کا ذکر تو وہ بلا کیف اسکی صفات ہیں۔ اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اسکی قدرت یا نعمت ہے، کیونکہ اس میں صفت کا ابطال ہے، او ریہ منکرین تقدیر اور معتزلہ کا قول ہے۔“
(6) اور کہا کہ: ”کسی کیلئے درست نہیں ہے کہ اللہ کی ذات کے بارے میں کچھ بھی بولے، بلکہ اس کو اسی وصف سے متصف کرے جس سے اس نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے، اور اس کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ نہ کہے، اللہ رب العالمین بابرکت اور بلند ہے۔“
(7) اور جب نزول الٰہی کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”وہ بلا کیف نازل ہوتا ہے۔“
(8) اور ابو حنیفہ نے کہا: ”اللہ تعالی اوپر کی جانب (توجہ کر کے) پکارا جائے گا، نیچے سے نہیں، کیونکہ (نیچے) ہونا ربوبیت اور الوہیت کے وصف سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔“
(9) اور کہا کہ: ”وہ غصہ ہوتا ہے اور راضی ہوتا ہے، مگر یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا غصہ اس کی عقوبت ہے، اور اسکی رضا اس کا ثواب ہے۔“
(10) اور کہا کہ: ”وہ اپنی مخلوق کی چیزوں میں سے کسی بھی چیز کے مشابہ نہیں، اور اپنی مخلوق کے بھی مشابہ نہیں۔ وہ اپنے ناموں اور صفات کے ساتھ ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔“
(11) اور کہا کہ: ”اسکی صفات مخلوق کی صفات کے برخلاف ہیں۔ جانتا ہے مگر ہمارے جاننے کی طرح نہیں، وہ قدرت رکھتا ہے مگر ہمارے قدرت رکھنے کی طرح نہیں۔ وہ دیکھتا ہے “گر ہمارے دیکھنے کی طرح نہیں۔ سنتا ہے مگر ہمارے سننے کی طرح نہیں۔ وہ بولتا ہے مگر ہمارے بولنے کی طرح نہیں۔“
(12) اور کہا کہ: ”اللہ تعالی کو مخلوقین کی صافت کے ساتھ متصف نہیں کیا جائے گا۔“
(13) اور کہا کہ: ”جس نے اللہ کو بشر کے معنوں میں سے کسی معنی کے ساتھ متصف کیا اس نے کفر کیا۔“
(14) اور کہا کہ: ”اللہ کی ذاتی اور فعلی صفت ہیں۔ ذاتی صفات حیات، قدرت، علم، کلام، سمع، بصر اور ارادہ ہیں۔ اور فعلی صفات یہ ہیں: پیدا کرنا، روزی دینا، موجود کرنا، بغیر سابقہ مادہ اور نمونہ کے کسی چیز کو وجود میں لانا، بنانا اور دیگر صفات فعل۔ اور وہ اپنے اسماء وصفات کے ساتھ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔“
(15) اور کہا: ”وہ اپنے فعل کے ہمیشہ سے کرنے والا رہا ہے، اور فعل ازلی صفت ہے، اور فاعل اللہ تعالی ہے۔ اور فعل ازلی صفت ہے، اور مفعول مخلوق ہے اور اللہ تعالی کا فعل مخلوق نہیں ہے۔“
(16) اور کہا کہ: ”جو شخص یہ کہے کہ میں اپنے رب کے بارے میں نہین جانتا کہ وہ آسمان میں ہے یا زمین میں، اس نے کفر کیا، اور ایسے ہی وہ شخص بھی جو یہ کہے کہ وہ عرش پر ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ عرش آسمان میں ہے یا زمین میں۔“
(17) اور ایک عورت نے ان سے پوچھا کہ جس رب کی آپ عبادت کرتے ہیں وہ کہا ہے؟ و انہوں نے کہا کہ: ”اللہ سبحانہ وتعالی زمین میں نہیں آسمان میں ہے۔“ اس پر ان سے ایک آدمی نے کہا کہ تو اللہ کا یہ قول کہ ((وَهُوَ مَعَكُمْ)) (وہ تمہارے ساتھ ہے) (الحدید: 4) تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ہی ہے جیسے تم کسی آدمی کو لکھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، حالانکہ تم اس سے غائب ہوتے ہو۔“
(18) اور کہا کہھ ”اسی طرح اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے، لیکن اس کی مخلوق کے ہاتھوں کی طرح نہیں ہے۔“
(19) اور کہا کہ: ”بیشک اللہ سبحانہ وتعالی زمین میں نہیں، آسمان میں ہے۔ اس پر ان سے ایک آدمی نے کہا تو اللہ کا جو قول ہے کہ ((وَهُوَ مَعَكُمْ)) (وہ تمہارے ساتھ ہے) (الحدید: 4) تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ہی ہے جیسے تم کسی آدمی کو لکھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، حالانکہ تم اس سے غائب ہوتے ہو۔“
(20) اور کہا کہ: ”اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں کیا تھا تب بھی وہ متکل تھا۔“
(21) اور کہا کہ: ”وہ اپنے کلام کے ساتھ متکلم تھا اور کلام اسکی ازلی صفت ہے۔“
(22) اور کہا کہ: ”وہ کلام کرتا ہے، مگر ہمارے کلام کی طرح نہیں۔“
(23) اور کہا کہ: ”موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالی کا کلام سنا جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ((وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا)) (اور اللہ تعالی نے موسیٰ سے کلام کیا) (النساء: 164)
اور جب اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں کیا تھا تب بھی وہ متکل تھا۔“
(24) اور کہا کہ: ”قرآن اللہ کا کلام ہے، مصاحف میں لکھا ہوا ہے دلوں میں محفوظ ہے، زبانوں سے پڑھا جاتا ہے، اور نبیﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔“
(25) اور کہا کہ: ”قرآن غیر مخلوق ہے۔“
ب: تقدیر کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال: -
(1) ایک آدمی امام ابو حنیفہ کے پاس آکر تقدیر کے بارے میں ان سے مجادلہ کرنے لگا، انہوں نے کہا: ”تم کو معلوم نہیں کہ تقدیر میں غور وخوض کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے کوئی سورج کی آنکھوں میں نظر کر رہا ہو، وہ جس قدر زیادہ نظر کرے گا اس کی حیرت زیادہ ہو گی۔“
(2) امام ابو حنیفہ کہتے ہیں: ”اللہ تعالی ازل میں اشیاء کو ان کے ہونے سے پہلے جانتا تھا۔“
(3) اور کہا کہ: ”اللہ تعالی معدوم کو اس کي عدم کی حالت میں بحیثیت معدوم جانتا ہے، اور یہ بھی جانتا ہے کہ جب وہ اسکو موجود کرے گا تو کیسے ہوگا۔ اور اللہ تعالی موجود کو اس کے وجود کی حالت میں موجود جانتا ہے، اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا فنا کیسے ہوگا۔“
(4) اور امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ: ”اس کی (مقررہ) تقدیر لوح محفوظ میں ہے۔“
(5) اور کہا کہ: ”ہم اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قلم کو حکم دیا ہے کہ وہ لکھے، قلم نے کہا: اے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالی نے کہا: قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب لکھ۔ کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ، وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ)) (اور ہر چیز جو انہوں نے کی ہے صحیفوں کے اندر ہے۔ اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔“ (القمر: 52،53)
(6) اور امام ابو حنیفہ نے کہا: ”دنیا اور آخرت میں کوئی بھی چیز اللہ کی مشیئت کے بغیر نہ ہوگی۔“
(7) اور امام ابو حنیفہ نے کہا کہ: ”اللہ نے چیزیں بغیر کسی چیز کے پیدا کیں۔“
(8) اور کہا کہ: ”اللہ تعالی پیدا کرنے سے پہلے بھی خالق تھا۔“
(9) اور کہا کہ: ”ہم اقرار کرتے ہیں کہ بندہ اپنے اعمال، اقرار اور معرفت کے ساتھ مخلوق ہے، چنانچہ جب فاعل مخلوق ہے تو اس کے افعال بدرجہ اولی مخلوق ہیں۔“
(10) اور کہا کہ: ”حرکت وسکون وغیرہ بندوں کے تمام افعال ان کا کسب ہیں، اور اللہ تعالی ان کا خالق ہے، اور یہ کل کے کل اس کی مشیئت، اس کے علم، اس کے فیصلے اور اسکی تقدیر سے ہیں۔“
(11) اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: ”حرکت وسکون وغیرہ بندوں کے تمام افعال حقیقۃً ان کا کسب ہیں، اور اللہ تعالی نے انہیں پیدا کیا ہے، اور یہ کل کے کل اللہ تعالی کی مشیئت، اس کے علم، اس کے فیصلے اور اس کی تقدیر سے ہیں۔ اور طاعتیں کل کی کل اللہ کے حکم، اس کی پسند، اسکی رضا، اس کے علم، اس کی مشیئت، اس کے فیصلے اور اس کی تقدیر سے واجب تھیں۔ اور معاصی کل کی کل اللہ کے علم، اس کے فیصلے، اس کی تقدیر اور اس کی مشیئت سے ہیں، لیکن اسکی پسند، اس کی رضا اور اس کے حکم سے نہیں ہیں۔“
(12) اور کہا کہ: ” اللہ تعالی نے مخلوق کو کفر اور ایمان سے سالم پیدا کیا پھر انہیں مخاطب کیا اور حکم دیا اور منع کیا۔ پھر جس نے کفر کیا اس نے اپنے فعل اور انکار اور حق کو نہ ماننے کے سبب اللہ تعالی کی طرف سے بے توفیقی کے نتیجہ میں کفر کیا۔ اور جو ایمان لے آیا وہ اپنے فعل اور اقرار اور تصدیق کے سبب اللہ تعالی کی توفیق اور اسکی نصرت سے ایمان لے آیا۔“
(13) اور کہا کہ: ”اس نے آدم ی ذریت کو ان کی پست سے چیونٹیوں کی صورت میں نکالا اور انہیں عقلمند بنایا، پھر ان کو مخاطب کیا، اور انہیں ایمان کا حکم دیا، اور کفر سے منع کیا، اس پر انہوں نے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کیا، چنانچہ یہ ان کی طرف سے ایمان تھا، اور وہ اسی فطرت پر پیدا کئے جاتے ہیں، اب جو کفر کرتا ہے تو اسکے بعد کفر کرتا ہے اور تغیر وتبدیلی کرتا ہے اور جو ایمان لاتا اور تصدیق کرتا ہے تو وہ اس پر ثابت اور برقرار رہتا ہے۔“
(14) اور کہا کہ: ”وہی ہے جس نے چیزیں مقدر کیں اور ان کا فیصلہ کیا، اور دنیا اور آخرت میں کوئی بھی چیز اسکی مشیئت، اس کے علم، اس کے فیصلے اور اسکی تقدیر کے بغیر نہیں ہوتی، اور اسے اس نے لوح محفوظ میں لکھا رکھا ہے۔“
(15) اور کہا کہ: ”اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو کفر یا ایمان پر مجبور نہیں کیا ہے، بلکہ انہیں اشخاص پیدا کیا ہے، اور ایمان اور کفر بندوں کا فعل ہے، اور جو کفر کرتا ہے اللہ تعالی اس کو حالت کفر میں کافر جانتا ہے، پھر اس کے بعد جب وہ ایمان لاتا ہے تو جب اس کو مومن جانتا ہے تو اس سے محبت کرتا ہے، مگر اس کے بغیر کہ اس کے علم میں کوئی تبدیلی ہو۔“
5: ایمان کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال: -
(1) اور کہا کہ: ”ایمان اقرار اور تصدیق ہے۔“
(2) اور کہا کہ: ”ایمان، زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق ہے، تنہا اقرار ایمان نہیں۔“ اسے طحاوی نے ابو حنیفہ اور صاحبین رحمہم اللہ اجمعین سے نقل کیا ہے۔
(3) اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: ”ایمان نہ زیادہ ہوتا ہے نہ کم ہوتا ہے۔“
میں کہتا ہوں کہ انہوں نے ایمان کے زیادہ اور کم نہ ہونے کی جو بات کہی ہے اور ایمان کے مسمی کے باري میں جو بات کہی ہے کہ وہ دل کی تصدیق اور زبان کا اقرار ہے، اور عمل حقیقت ایمان سے خارج ہے۔ تو ان کی یہی بات ایمان کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے عقیدے اور بقیہ تمام ائمہ اسلام مثلاً مالک، شافعی، احمد، اسحاق، بخاری وغیرہ رحمہم اللہ اجمعین کے عقیدے کے درمیان وجہ فرق ہے، اور حق انہیں ائمہ کے ساتھ ہے،
اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قوق حق سے الگ تھلگ ہے، لیکن دونوں حالتوں میں انہیں اجر ہے۔ اور ابن عبدالبر اور ابن العز نے کچھ ایسی بات ذکر کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔ واللہ اعلم۔
د - صحابہ کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول: -
(1) امام ابو حنیفہ نے کہا: ”ہم صحابہ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کو بھی ذکر نہیں کرتے مگر خیر کے ساتھ۔“
(2) اور کہا: ”ہم صحابہ رسول ﷺ میں سے کسی سے بھی براءت اختیار نہیں کرتے، اور کسی کو چھوڑ کر کسی سے موالات نہیں کرتے۔“
(3) اور کہا کہ: ”رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان میں سے کسی ایک کا ایک ساعت کے لیے قیامو ہم میں سے ایک کی تمام عمر کے عمل سے بہتر ہے، چاہے عمر لمبی ہی کیوں نہ ہو۔“
(4) اور کہا کہ: ”ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے نبی محمدﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ ہیں پھر علی رضیاللہ عنہ ہیں، ان سب پر اللہ کی رضا ہو۔“
(5) اور کہا کہ: ”رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر وعمر اور عثمان وعلی رضی اللہ عنہم ہیں، اس کے بعد ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام اصحاب سے رک جاتے ہیںو اور صرف اچھائی کے ساتھ ان کا ذکر کرتے ہیں۔“
ھ - دین میں کلام وخصومات سے ان کی ممانعت:
(1) امام ابن حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: ”بصرہ میں اہواء والے بہت ہیں، میں وہاں بیس سے زیادہ مرتبہ گیا، اور بسا اوقات یہ سمجھ کر ایک سال یا اس سے کچھ کم وبیش ٹھرا رہا کہ علم کلام بڑا جلیل علم ہے۔“
(2) اور کہا کہ: ”میں علم کلام میں نظر رکھتا تھا، یہاں تک کہ اس درجے کو پہنچ گیا کہ اس فن میں میری طرف انگلیوں سے اشارے کئے جانے لگے، اور ہم حماد بن ابی سلیمان کے حلقے کے قریب بیٹھا کرتے تھے، ایک دن میرے پاس ایک عورت نے آکر کہا کہ ایک آدمی ہے، اسکی ایک بیوی ہے جو لونڈی ہے، اور اسے سنت کے مطابق طلاق دینا چاہتا ہے، کتنی طلاق دے؟
مجھے سمجھ نہ آیا کہ میں کیا کہوں، میں نے اسے حکم دیا کہ وہ حماد سے پوچھے، پھر پلٹ کر آئے اور مجھے بتائے۔ اس نے حماد سے پوچھا، حماد نے کہا: اسے حیض اور جماع سے پاکی کی حالت میں ایک طلاق دے، پھر اسے چھوڑ رکھے یہاں تک کہ اسے دو حیض آجائیں، پھر جب وہ غسل کر لے تو نکاح کرنے والوں کے لیے حلال ہوگئی۔ اس نے واپس آکر مجھے خبر دی، میں نے کہا: مجھے علم کلام کی کوئی ضرورت نہیں، میں نے اپنا جوتا لیا، اور حماد کے پاس آبیٹھا۔“
(3) اور وہ کہتے ہیں: ”اللہ عمرو بن عبید پر لعنت کرے، کیوںکہ علم کلام میں جو چیز مفید نہیں اس کی بابت گفتگو کا دروازہ اسی شخص نے کھولا ہے۔“
اور ان سے ایک آدمی نے پوچھا اور کہا کہ اعراض واجساد کے متعلق گفتگو کے بارے میں لوگوں نے جو کچھ ایجاد کر لیا ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ”وہ تو فلاسفہ کے مقالات ہیں، تم اثر اور طریق سلف کو لازم پکڑو، اور اپنے آپ کو ہر ایجاد کردہ چیز سے بچاؤ، کیونکہ وہ بدعت ہے۔“
(4) حماد بن ابی حنیفہ کہتے ہیں کہ ایک دن میرے پاس میرے والد رحمہ اللہ داخل ہوئے۔ اور میرے پاس اہل کلام کی ایک جماعت تھی، اور ہم ایک باب میں بحث کر رہے تھے، اور ہماری آوازیں اونچی ہوگئی تھیں، جب میں نے گھر میں ان کی آہٹ سنی تو ان کی جانب نکلا، انہوں نے کہا: اے حماد! تمہارے پاس کون ہیں؟ میں نے کہا: فلان، فلان اور فلان۔ میرے پاس جو لوگ تھے میں نے ان کا نام لیا۔ انہوں نے کہا اے حماد! علم کلام چھوڑ دو۔
(حماد کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ کو خلط ملط کرنے والا نہیں پایا تھا، اور نہ ان میں سے پایا تھا جو کسی بات کا حکم دیتے ہوں، پھر اس سے منع کرتے ہوں، اس لیئے میں نے ان سے کہا: ابا جان! کیا آپ مجھے اس کا حکم نہیں دیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: بیٹے! کیوں نہیں۔ لیکن آج تم کو اس سے منع کرتا ہوں۔ میں نے کہا: کیوں؟ انہوں نے کہا: اے بیٹے! یہ لوگ جو علم کے ابواب میں اختلاف کئے بیٹھے ہیں، جنہیں تم دیکھ رہے ہو، یہ ایک ہی قول اور ایک ہی دین پر تھے، یہاں تک کہ شیطان نے ان کے درمیان کچوکا مارا، اور ان میں عداوت واختلاف ڈال دیا، اور وہ ایک دوسرے سے الگ ہوگئے...۔“
(5) ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ابو یوسف رحمہ اللہ سے کہا: ”تم اصول دین یعنی کلام کے بارے میں عام لوگوں سے گفتگو کرنے سے بچ کر رہنا، کیونکہ یہ لوگ تمہاری تقلید کریں گے، اور اسی میں پھنس جائیں گے۔“
اصول دین کے مسائل میں ان -رحمہ اللہ- کا جو عقیدہ تھا اور علم کلام اور متکلمین کے بارے میں ان کا جو موقف تھا، ان کے بارے میں موصوف کے اقوال کا یہ ایک مجموعہ ہے۔
تیسرا مبحث
امام مالک بن انس رحمہ اللہ کا عقیدہ
الف: توحید کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) ہروی رحمہ اللہ نے شافعی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ سے کلام وتوحید کے بارے میں پوچھا گیا تو امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”محال ہے کہ نبی ﷺ کے بارے میں یہ گمان کیا جائے کہ آپ نے اپنی امت کو استنجاء تو سیکھا دیا، توحید نہیں سکھائی، توحید وہی ہے جسے نبیﷺ نے فرمایا: "أُمِرْتُ أَن أُقاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لا إِلهَ إِلاَّ اللَّه". ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں۔ لہذا جس سے مال اور خون کی حفاظت ہوتی ہو اور وہی توحید کی حقیقت ہے۔“
(2) دارقطنی نے ولید بن مسلم سے روایت کیا ہے، کہا کہ ”میں نے مالک، ثوری، اوزاعی اور لیث بن سعد رحمہم اللہ سے صفات سے متعلق احادیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا جیسے آئی ہیں ویسے ہی گزار دو۔“
(3) ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا اللہ کو قیامت کے دن دیکھا جائے گا؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ عز وجل فرماتا ہے: ((وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ)) ”بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہوں گے۔“ (القیامۃ: 22) اور ایک دوسری قوم کے بارے میں فرمایا: ((كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ)) ”ہرگز نہیں، بے شک وہ لوگ اس دن اپنے پروردگار سے پردے میں ڈال دئے گئے ہوں گے۔“ (المطففین: 15) اور قاضی عیاض رحمہ اللہ نے ترتیب المدارک میں ابن نافع اور اشہب رحمہما اللہ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا۔ اور ایک دوسرے پر اضافہ کرتے ہیں کہ اے ابوعبداللہ! ((وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ)) ”بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہوں گے۔“ تو کیا وہ اللہ کو دیکھیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں، انہی دونوں آنکھوں سے۔ میں نے کہا: ایک قوم کہتی ہے کہ اللہ کو نہیں جیکھا جائے گا۔ اور ناظرہ کا معنی یہ ہے کہ وہ ثواب کے منتظر ہوں گے۔ انہوں نے کہا: وہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں، بلکہ اللہ کو دیکھا جائے گا، کیا تم نے موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول نہیں سنا کہ ((رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ)) ”اے میرے رب! مجھے دکھلا کہ میں تجھے دیکھوں۔“ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے محال چیز کا سوال کیا تھا۔ پھر اللہ تعالی نے فرمایا تھا: ((لَنْ تَرَانِي)) ”تم مجھے ہر گز نہ دیکھ سکو گے۔“ (الاعراف: 143) یعنی دنیا میں، کیونکہ یہ دار فناء ہے، اور باقی رہنے والی چیز فنا ہونے والی چیز سے نہیں دیکھی جاسکتی ہے۔ البتہ جب لوگ دار البقاء میں چلے جائیں گے تو باقی رہنے والی چیز سے باقی رہنے والی چیز دیکھیں گے۔ اور الہ تعالی نے فرمایا ہے: ((كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ)) ”ہرگز نہیں، بے شک وہ لوگ اس دن اپنے پروردگار سے پردے میں ڈال دئے گئے ہوں گے۔“ (المطففین: 15)
(4) اور ابونعیم نے جعفر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہا کہ ہم لوگ مالک بن انس رحمہ اللہ کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے آکر کہا: اے ابو عبداللہ ((الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى)) ”رحمٰن عرش پر مستوی ہے“ کیسے مستوی ہوا؟
تو مالک رحمہ اللہ کو کسی بات پر اتنا غصہ نہیں آیا تھا جتنا کہ کہ اس سوال سے آیا۔ انہوں نے زمین کی طرف دیکھا اور ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی جس سے کریدنے لگے، یہاں تک کہ ان پر پسینہ چھا گیا، پھر سر اٹھایا، لکڑی پھینک دیو اور فرمایا: اس کی کیفیت سمجھ سے بالا ہے، اور اس کا استواء مجہول نہیں ہےو اور اس پر ایمان واجب ہے، اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے، اور میں تمہیں صاحب بدعت سمجھتا ہوں، اور اس کے متعلق حکم دیا اور وہ نکال دیا گیا۔
(5) اور ابونعیم نے یحیی بن ربیع سے روایت کی ہے کہا میں نے مالک بن انس رحمہ اللہ کے پاس تھےو اور ان پر ایک آدمی داخل ہوا اور بولا: اے ابو عبداللہ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہین جو کہتا ہے کہ قرآن مخلوق ہے؟
مالک رحمہ اللہ نے کہا: زندیق ہے، اسے قتل کردو۔ اس نے کہا: اپ ابو عبداللہ! میں تو محض ایک کلام نقل کر رہا ہوں جسے میں نے سنا ہے۔ مالک رحمہ اللہ نے کہا میں نے تو اسے کسی سے نہیں سنا، میں نے تو اسے تم ہی سے سنا ہے، اور اس قول کو سنگین قرار دیا۔
(6) اور ابن عبدالبر نے عبداللہ بن نافع سے روایت کی ہے کہا کہ ”مالک بن انس رحمہ اللہ کہتے تھے کہ جو شخص کہے کہ قرآن مخلوق ہے، اسے تکلیف دہ مار ماری جائے، اور قید کر دیا جائے، یہاں تک کہ وہ توبہ کرے۔“
(7) ابو داؤد نے عبداللہ بن نافع سے روایت کی ہے کہ مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”اللہ آسمان میں ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔“
ب: تقدیر کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) ابو نعیم نے ابن وہب سے روایت کی ہے کہا کہ میں نے مالک رحمہ اللہ کو سنا وہ ایک آدمی سے کہہ رہے تھے: کل تم نے مجھ سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تھا؟ اس نے کہا: ہاں۔ مالک رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالی فرماتا ہے: ((وَلَوْ شِئْنَا لَآَتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ)) ”اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دیدیتے، لیکن میرا یہ قول برحق ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور بھر دوں گا۔“ (السجدۃ: 13)
اور اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے ضروری ہے کہ وہ ہوکر رہے۔
(2) قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”امام مالک رحمہ اللہ سے منکرین تقدیر کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ تو کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے برائیاں نہیں بیدا کی ہیں۔ ایسے ہی منکرین تقدیر کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا کہ یہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ استطاعت ان کے ہاتھ میں ہے اگر وہ چاہیں تو اطاعت کریں اور چاہیں تو معصیت کریں۔“
(3) اور ابن ابی عاصم نے عبد الجبار سے روایت کی ہے کہ ”میں نے مالک بن انس رحمہ اللہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میری رائے ان کے بارے میں یہ ہے کہ ان سے توبہ کرائی جائے، اگر توبہ کریں تو ٹھیک، ورنہ قتل کردئے جائیں، یعنی منکرین تقدیر۔“
(4) ابن عبدالبر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مالک رحمہ اللہ نے کہ: میں نے کسی منکر تقدیر کو نہیں دیکھا مگر سخافت، طیش اور ہلکے پن والا۔“
(5) اور ابن ابی عاصم نے مروان بن محمد طاطر سے روایت کی ہے کہا کہ: ”میں نے مالک بن انس رحمہ اللہ سے سنا ان سے منکر تقدیر سے شادی کئے جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی: ((وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ)) ”یقیناً مومن غلام مشرک سے بہتر ہے۔“ (البقرۃ: 221)
(6) قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”منکر تقدیر کی جو (اپنی اس بدعت کا) داعی ہو اور خارجی اور رافضی کی گواہی جائز نہیں۔“
(7) اور قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا کہ: ”مالک رحمہ اللہ سے منکرین تقدیر کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ہم ان سے بات چیت کرنے سے رک جائیں؟ کہا: ہاں جب کہ وہ جس بات پر اسکی معرفت رکھا ہو۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے، اور ان سے حدیث قبول نہ کی جائے، اور اگر تم انہیں سرحد پر پاؤ تو انہیں وہاں سے نکال دو۔“
ج: ایمان کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے عبدالرزاق بن ھمام رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہا کہ: ”میں نے ابن جریج، سفیان ثوری، معمر بن راشد، سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس رحمہم اللہ کو سنا وہ کہ رہے تھے: ایمان قول وعمل ہے، بڑھتا اور گھٹتا ہے۔“
(2) اور نیم نے عبداللہ بن نافع رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ: ”مالک بن انس رحمہ اللہ کہتے تھے: ایمان قول وعمل ہے۔“
(3) اور ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے اشہب بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ: ”مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ لوگ بیت المقدس کی طرف سولہ مہینہ نماز پڑھتے رہے، پھر انہیں بیت الحرام کا حکم دیا گیا تو اللہ نے فرمایا: ((وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ)) (البقرۃ: 143) ”اللہ تمارے ایمان کو -یعنی بیت المقدس کی طرف تمہاری نماز کو- برباد کرنے والا نہیں ہے۔“ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اس پر مرجئہ کا یہ قول ذکر کرتا ہوں کہ نماز ایمان سے نہیں ہے۔“
د: صحابہ کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) ابو نعیم نے عبداللہ عنبری سے روایت کی ہے کہا کہ مالک بن انس رحمہ اللہ نے کہا کہ: ”جو شخص رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کسی کی تنقیص کرے یا اس کے دل میں ان کے خلاف کینہ ہو تو اس کے لئے مسلمانوں کے مال فئ میں کوئی حق نہیں، پھر اللہ تعالی کا یہ قول تلاوت کیا: ((وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا)) ”اور مال فئ (ان کے لئے بھی ہے) جو ان (مہاجرین وانصار صحابہ) کے بعد آئیں۔ جو کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں، اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ نہ ڈال۔“ (الحشر: 10)
لہذا جو ان کی تنقیص کرے، یا اس کے دل مین ان کے خلاف کینہ ہو اس کے لیئے مال فئ میں کوئی حق نہیں۔“
(2) ابو نعیم نے اولاد زبیر میں سے ایک شخص سے روایت کی ہے کہا کہ ہم لوگ مالک رحمہ اللہ کے پاس تھے، لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو اصحاب رسولﷺ کی تنقیص کرتا تھا، مالک رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی: ((مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ... یہاں تک کہ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ)) تک پہنچے۔ ”یعنی محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کفار پر سخت اور آپس میں رحم وکرم کرنے والے ہیں۔ تم ان کو رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھو گے جس سے وہ اللہ کا فضل اور رضا چاہتا ہیں۔ ان کی علامت یعنی سجدي کا اثر ان کے چہروں پر ہے۔ توریت میں ان کی مثل (صفت) ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثل یہ ہے کہ جیسے کھیتی جس نے اپنی سوئی نکالی، پھر اسے قوت بخشی، پھر وہ موٹی ہو گئی اور اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی، کھیتی کرنے والوں کو بھلی لگتی ہے تاکہ کفار کو ان سے غیظ وغضب میں ڈالے۔ (الفتح: 29)
اس کے بعد مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”جس کے دل میں اصحاب رسولﷺ میں سے کسی کے بارے میں بھی غیظ ہو اس کو یہ آیت جالگی۔“
(3) اور قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اشہب بن عبدالعزیز سے ذکر کیا ہے کہا کہ ہم لوگ مالک رحمہ اللہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس علویوں میں سے ایک شخص آکھڑا ہوا۔ اور لوگ ان کی مجلس میں آیا کرتے تھے اس نے پکارا: اے ابو عبداللہ!۔ مالک رحمہ اللہ اس کیلئے سر اٹھادیا۔ اور انہیں جب کوئی پکارتا تھا تو وہ اس سي زیادہ اس کا جواب نہیں دیتے تھے کہ اس کیلئے اپنا سر اٹھا دیتے۔ ان سے طالبی نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اپنے اور اللہ کے درمیان حجت بناؤں کہ جب میں اس کے پاس جاؤں اور وہ مجھ سے پوچھے تو میں اس سے کہوں کہ مجھ سے مالک نے یہ بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہو۔ اس نے کہا: رسول اللہﷺ کے بعد سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ علوی نے کہا: پھر کون؟ مالک رحمہ اللہ نے کہا: پھر عمر رضی اللہ عنہ۔ علوی نے کہا پھر کون؟ انہوں نے کہا: ظلماً قتل کئے گئے خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ۔ علوی نے کہا: واللہ آپ کے ساتھ ہرگز نہ بیٹھوں گا۔ مالک نے کہا: تجھے اختیار ہے۔
ھ - دین میں کلام وخصومات سے ان کی ممانعت:
(1) ابن عبدالبر نے مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت کی ہے کہا کہ مالک بن انس رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ ”میں دین میں کلام کو ناپسند کرتا ہوں، اور ہمارے شہر کے لوگ برابر اسکو ناپسند کرتے اور اس سے روکتے رہے ہیں۔ جیسے جہم کی رائے، انکا تقدیر اور اس جیسی کسی بھی چیز میں کلام کرنا۔ اور وہ صرف اسی چیز میں کلام ناپسند کرتے تھے جس کے تحت کوئی عمل ہو۔ باقی رہا اللہ کے دین کے بارے میں اور اللہ عزوجل کے بارے میں کلام کرنا تو سکوت مریے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، کیونکہ میں نے اپنے شہر والوں کو دیکھا ہے کہ وہ دین کے بارے میں کلام کرنے سے روکتے ہیں، سوائے اس کے جس کے تحت کوئی عمل ہو۔“
(2) اور ابو نعیم نے عبداللہ بن نافع سے روایت کی ہے کہا کہ: ” میں نے مالک رحمہ اللہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی آدمی -اس کے بعد کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرے- سارے کبائر کا ارتکاب کر بیٹھے، پھر وہ ان اہواء اور بدعتوں سے خالی ہو -اور انہوں نے کلام کا ذکر کیا- تو وہ جنت میں جائے گا۔“
(3) اور ہروی نے اسحاق بن عیسیٰ سے روایت کی ہے کہ مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ: ”جو شخص علم کلام کے ذریعہ دین طلب کرے گا وہ زندیق ہو جائے گا۔ اور جو کیمیاء کے ذریعہ مال طلب کرے گا وہ مفلس ہو جائے گا۔ اور جو غریب الحدیث طلب کرے گا وہ چھوٹ بولے گا۔
(4) خطیب نے اسحاق بن عیسیٰ سے روایت کی ہے: ”میں نے مالک بن انس رحمہ اللہ کو سنا وہ دین مین جدال کو معیوب قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جب ہمارے پاس کوئی آدمی آیا جو دوسرے آدمی سے زیادہ جدال والا تھا تو اس نے ہم سے یہی چاہا کہ حضرت جبریل، نبیﷺ کے پاس جو کچھ لے کر آئے تھے ہم اسے رد کردیں۔“
(5) اور ہروی نے عبدالرحمن بن مہدی سے روایت کی ہے کہ کہا کہ میں مالک رحمہ اللہ پر داخل ہوا، اور ان کے پاس ایک آدمی تھا جو ان سے سوال کر رہا تھا، انہوں نے کا: غالباً تو عمرو بن عبید کے ساتھیوں میں سے ہے، اللہ عمرو بن عبید پر لعنت کرے، کیونکہ اسی نے کلام کی یہ بدعت ایجاد کی ہے، اور اگر کلام بھی کوئی علم ہوتا تو صحابہ اور تابعین اس کے بارے میں گفتگو کرتے، جیسے کہ انہوں احکام وشرائع کے بارے میں گفتگو کیا۔
(6) اور ہروی نے اشہب بن عبدالعزیز سے روایت کی ہے کہا کہ میں نے مالک کو سنا وہ کہہ رہے تھے: ”تم لوگ بدعتوں سے بچو“۔ کہا گۃت کہ اے ابو عبداللہ! بدعتیں کیا ہیں؟ کہا ”اہل بدعت وہ لوگ ہیں جو اللہ کے اسماء وصفات، اسکے کلام اور علم وقدرت کے بارے میں کلام کرتے ہیں، اور اس بات سے خاموش نہیں رہتے جس سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد تابعین کرام (بھلے پیروکار) خاموش رہے۔“
(7) اور ابو نعیم نے شافعی رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ: ”مالک بن انس رحمہ اللہ کے پاس جب بعض اہل اہواء آتے تو وہ کہا کرتے تھے کہ میں ابنے رب اور اپنے دین کی طرف سے بَیّنہ (واضح دلیل) پر ہوں، اور تم محض مبتلائے شک ہو، لٰہذا اپنے جیسے شکی کے پاس جاؤ اور اسی سے لڑو جھگڑو۔“
(8) ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے محمد بن احمد بن خویزمنداد مصری مالکی سے روایت کی ہے اس نے اپنی کتاب الخلاف کی کتاب الاجارات میں کہا ہے کہ: ”مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ اہواءو بدعات اور تنجیم والوں کی کسی بھی کتاب میں اجارے جائز نہیں ہیں۔ انہوں نے کئی کتابیں ذکر کیں۔ پھر کہا کہ ہمارے اصحاب کے نزدیک اہل اہواء وبدعات کی کتابیں اصحاب کلام معتزلہ وغیرہ کی کتابیں ہیں، اور ان کے اندر اجارہ فسخ ہو جائے گا۔“
یہ توحید وصحابہ اور ایمان وعمل کلام وغیرہ کے سلسلہ میں امام مالک رحمہ اللہ کے موقف اور اقوال کی چند جھلکیاں ہیں۔
چوتھی مبحث
امام شافعی رحمہ اللہ کا عقیدہ
الف: توحید کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) بیہقی نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہا کہ: ”امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: جو اللہ یا اس کے ناموں میں سے کسی نام کی قسم کھائے، پھر قسم توڑ دے تو اس پر کفارہ ہے۔ اور جو کسی غیر اللہ کی قسم کھائے، مثلاً آدمی یوں کہے کہ کعبہ کی قسم، مریے باپ کی قسمو اور ایسے اور ایسے کی قسم کہ یہ نہیں ہوا، اور قسم میں حانث ہو تو اس پر کفارہ نہیں ہے، اور یہ غیر اللہ کی قسم ہے۔ لہذا یہ رسول اللہ ﷺ کے اس قول کی رو سے مکروہ اور منع کردہ ہے: ”إن الله عزّ وجل نهاكم أن تحلفوا بآبائكم، فمن كان حالفًا فليحلف بالله أو ليسكت“ (اللہ عزوجل نے تمہیں اپنے اباء کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، لہذا جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے)۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی وجہ بیان کی ہے کہ اللہ کے نام غیر مخلوق ہیں، لہذا جو اللہ کے نام کی قسم کھائے اور اسے توڑ بیٹھے تو اس پر کفارہ ہے۔
(2) اور امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اجتماع الجیوش الاسلاميہ میں شافعی رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ سنت جس پر میں ہوں اور جس پر میں نے اپنے اصحاب اہل الحدیث کو دیکھا ہے، جنہیں کہ میں نے دیکھا اور جن سے علم حالصل کیا ہے، جیسے سفیان ثوری اور امام مالک رحمہما اللہ وغیرہ۔ اس سنت کے بارے میں قول یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ کا اقرار ہو، اور اس بات کا اقرار ہو کہ اللہ اپنے عرش پر اپنے آسمان میں ہے، اپنی مخلوق سے جیسے چاہتا ہے قریب ہوتا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف جیسے چاہتا ہے اترتا ہے۔“
(3) اور ذہبی رحمہ اللہ نے مزنی سے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ توحید کے تعلق سے اگر کوئی شخص میرے ضمیر کی بات اور میرے دل کے ساتھ لگی ہوئی چیز نکال سکتا ہے تو وہ شافعی رحمہ اللہ ہیں، لہذا میں ان کے باس گیا، وہ مصر کی مسجد میں تھے، جب میں ان کے سامنے بیٹھا تو میں نے کہا: میرے دل میں توحید کے متعلق ایک مسئلہ کٹھکا ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ جیسا علم کسی اور کو نہیں تو آپ کے پاس کیا ہے۔ اس پر وہ بگڑ گئے اور کہا: تمہیں معلوم ہے تم کہاں ہو، میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا یہ وہ جگہ ہے جس میں اللہ نے فرعون کو غرق کیا۔ کیا تمہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق سوال کرنے کا حکم دیا۔ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا اس بارے میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کلام کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا: تم جانتے ہو آسمان میں کتنے تارے ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا تو ان میں سے کسی ایک ستارے کی جنس، اس کا طلوع، اس کا غروب اور وہ کس سے پیدا کیا گیا ہے، اسے تم جانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا: تو مخلوق میں سے ایک چیز جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اسے نہیں جانتے تو اس کے خالق کے علم کے بارے میں سوال کرتے ہو؟
پھر مجھ سے وضوء کے ایک مسئلہ کے بارے میں سوال کیا، میں نے اس میں غلطی کر دی۔ پھر انہوں نے چار وجہوں پر اس کی تفریع کی اور میں نے کسی میں بھی صحیح جواب نہ دے سکا۔ انہوں نے کہا کہ ایک چیز جس کے تم دن مین پانچ مرتبہ محتاج ہو اسکا علم تو تم چھوڑ رہے ہو، اور خالق کے علم کا تکلف کر رہے ہو۔ جب تمہارے دل میں ایسی کوئی بات کھٹکے تو اللہ کے اس قول کی طرف رجوع کرو: ((وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)) ”اور تمہارا معبود ایک معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ وہ رحمٰن ورحیم ہے۔ بیشک آسمان وزمین کی پیدائش میں...عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ (البقرۃ: 163،164) پس مخلوق سے خالق پر استدلال کرو، اور جس چیز تک تمہاری عقل نہیں پہنچتی ہے اس کا تکلف نہ کرو۔
(4) اور ابن عبدالبر نے یونس بن عبدالاعلی سے روایت کی ہے کہا کہ میں نے شافعی رحمہ اللہ سے سنا کہہ رہے تھے کہ ”جب تم آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ اسم غیر مسمّی ہےو یا شئی یا غیر شئی ہے تو اس کے زندیق ہونے کی گواہی دو۔“
(5) اور شافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الرسالہ میں کہا ہے کہ ”حمد ہے اللہ کی...جو ویسے ہی ہے جیسے کہ اس نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے، اور اس سے بڑھ کر ہے جس سے اسکی خلق نے اس کو متصف کیا ہے۔“
(6) اور ذہبی رحمہ اللہ نے سیر میں شافعی رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی ہے کہ: ”یہ صفات جنہیں قرآن لے کر آیا ہے، یا جن کے ساتھ سنت وارد ہے ہم انہیں ثابت مانتے ہیں اور اس سے تشبیہ کی نفی کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس نے خود اپنے آپ سے نفی کی ہے۔ اور فرمایا: ((لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ)) ”اس کے مثل کوئی چیز نہیں۔“ (الشوریٰ:11) (7) اور ابن عبدالبر نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہا کہ: ”میں نے شافعی رحمہ اللہ سے سنا وہ اللہ عزوجل کے اس قول کے بارے میں کہ ((كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ)) ”ہرگز نہیں، وہ لوگ اس دن اپنے رب سے پردہ میں رکھے جائیں گے۔“ (المطففین: 15)
کہہ رہے تھے کہ اللہ نے ہمیں اس کے ذریعہ یہ بتایا کہ وہاں ایک قوم ہوگی جو پردہ میں نہیں رکھی جائے گی، بلکہ وہ لوگ اللہ کو دیکھ رہے ہوں گے، اور اس کے دیکھنے میں وہ ایک دوسرے کے لئے آڑ نہ بنیں گے۔“
(8) اور لالکائی نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہا کہ: ”میں محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ کے پاس حاضر تھا ان کے پاس صعید (بالائی مصر) سے ایک رقعہ آیا، اس میں یہ تھا کہ آپ اللہ تعالی کے اس قول کے باري میں کیا کہتے ہیں: ((كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ)) ”ہرگز نہیں، وہ لوگ اس دن اپنے رب سے پردے میں رکھے جائیں گے۔“
شافعی رحمہ اللہ نے کہا جب یہ لوگ ناراضگی کے سبب پردہ میں کردئے جائیں گے تو یہ دلیل ہے کہ رضا کی صورت میں لوگ اسے دیکھیں گے۔ ربیع کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ اس کے قائل ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں، اللہ کے ساتھ میرا یہی دین ہے۔“
(9) اور ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے جاوردی سے روایت کی ہے کہا کہ شافعی رحمہ اللہ کے پاس ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ کا ذکر کیا گیا۔ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: ”میں ہر چیز میں اس کا مخالف ہوں، لا الہ الا اللہ کہنے میں بھی اس کا مخالف ہوں، ویسے نہیں کہتا ہوں جیسے وہ کہتا ہے، میں کہتا ہوں اس اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں جس نے موسیٰ علیہ السلام سے پردے کے پیچھے کلام کیا، اور وہ کہتا ہے کہ اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہین جس نے کلام پیدا کر کے پیچھے سے موسی کو سنا دیا۔“
(10) اور لالکائی نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہ شافعی نے کہا: ”جو شخص یہ کہے کہ قرآن مخلوق ہے وہ کافر ہے۔“
(11) اور بیہقی نے ابو محمد زبیری سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ مجھے قرآن کے بارے میں بتائیے کہ کیا وہ خالق ہے؟ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: یا اللہ -نہیں- اس نے کہا: وہ مخلوق ہے؟ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: یا اللہ -نہیں- اس نے کہا غیر مخلوق ہے؟ شافعی رحمہ اللہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: تم اقرار کرتے ہو کہ قرآن اللہ کا کلام ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: تم اس بات میں مسبوق ہو، اللہ تعالی فرماتا ہے: ((وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ)) ”اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے کوئی پناہ چاہے تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔“ (التوبۃ: 6) ((وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا)) ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا۔“ (النساء: 164)
شافعی رحمہ اللہ نے کہا تو تم اقرار کرتے ہو کہ اللہ تھا اور اس کا کلام تھا؟ یا اللہ تھا اور اس کا کلام نہیں تھا؟ اس آدمی نے کہا کہ بلکہ اللہ تھا اور اس کا کلام بھی تھا۔ اس پر شافعی رحمہ اللہ مسکرائے اور کہا کہ او کوفیو! جب تم یہ اقرار کرتے ہو کہ اللہ پہلے سے بھی پہلے تھا اور اس کا کلام بھی تھا تو تم لوگ ایک بڑی بات لاتے ہو، اب تم یہ بات کہاں سے کہتے ہو کہ کلام یا تو اللہ ہے، یا ما سوی اللہ ہے، یا غیرہ اللہ ہے، یا دون اللہ۔ کہا کہ اس پر وہ آدمی چپ چاپ نکل گیا۔
(12) اور ابو طالب عشاری کی روایت سے شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب جزء الاعتقاد میں یہ عبارت ہے، کہا کہ ان سے اللہ عزوجل کی صفات کے بارے میں اور جس پر ایمان ہونا چاہئے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ تبارک وتعالی کے بہت سے نام اور صفات ہیں جن کے ساتھ اس کی کتاب آئی ہے، اور جس کی خبر اس کے نبی ﷺ نے اپنی امت کو دی ہے۔ اللہ عزوجل کی مخلوق میں سے کسی کے لئے بھی -جس کے نزدیک یہ حجت قائم ہو چکی ہو کہ قرآن اس کو لیکر اترا ہے، اور جس کے نزدیک عادل کی روایت سے نبی ﷺ کا قول صحیح ہو چکا ہو- اس کے خلاف گنجائش نہیں، اگر وہ حجت ثابت ہو جانے کے بعد بھی اس کی مخالفت کرے تو وہ اللہ عزوجل کے ساتھ کفر کر رہا ہے، کیونکہ اس کے علم کا ادراک نہ عقل سے کیا جاسکتا ہے نہ درایت وفکر سے،
اور اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے یہ خبر دی ہے کہ وہ سمیع ہے، اس کے دو ہاتھ ہیں، اس عزوجل کا قول ہے: ((بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ)) ”بلکہ اس کے دونوں ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں۔“ (المائدۃ: 64) اور یہ کہ اس کے لئے داہنا ہے، اللہ عزوجل کا قول ہے: ((وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ)) ”اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔“ (الزمر: 67) اور یہ کہ اللہ کے لئے چہرہ ہے، اس عزوجل کا ارشاد ہے: ((كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ)) ”ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے۔“ (القصص: 88) اور اس کا قول ہے: ((وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ)) ”تیرے رب کا جلال واکرام والا چہرہ باقی رہے گا۔“ (الرحمن: 27) اور یہ کہ اس کے لئے قدم ہے، نبیﷺ کا قول ہے: ((حَتَّى يَضَعَ رَبُّ عزّ وجلّ فِيهَا قَدَمَهُ)) ”یہاں تک کہ رب عزوجل اس میں (جہنم میں) اپنا قدم رکھ دے گا۔“ اور اللہ عز وجل ہنستا ہے کیونکہ جو شخص اللہ عزوجل کے راستے میں قتل ہو، اس کے باري میں نبی ﷺ کا قول ہے: ((لقي الله عز وجل وهو يضحك إليه)) ”وہ اللہ عزوجل سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس کی طرف ہنس رہا ہوگا۔“ اور یہ کہ ہر رات آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی خبر دی ہے۔ اور یہ کہ وہ کانا نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے جب دجال کا ذکر کیا تو فرمایا کہ: ((لقي الله عز وجل وهو يضحك إليه)) ”وہ کانا ہے، اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔“ اور یہ کہ مومنین اپنے رب عزوجل کو قیامت کے دن اپنی نگاہوں سے دیکھیں گے جس طرح چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہیں۔ اور یہ کہ اس کیلئے انگلی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: ((مَا مِنْ قَلْبٍ إِلاَّ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عزّ وجَلّ)) ”کوئی بھی دل نہیں مگر وہ رحمن عزوجل کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے۔“ اور یہ معانی جن کے ساتھ اللہ عزوجل نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے، اور جن کے ساتھ اس کے رسول ﷺ نے اس کو متصف کیا ہے ان کی حقیقت فکر ودرایت سے نہین جانی جاسکتی، اور ان کے نہ جاننے کی وجہ سے کسی کو اس وقت تک کافر نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ اس شخص تک اس کی خبر پہنچ نہ جائے، اور جب وہ خبر ایسی ہو کہ اس کا سننا فہم میں مشاہدہ کے قائم مقام ہو تو سننے والے پر اس کی حقیقت کو تسلیم کرنا اور اس کی گواہی دینا ویسے ہی ضروری ہے جیسے اس نے خود رسول اللہ ﷺ سے دیکھا اور سنا ہو۔ البتہ ہم ان صافت کو ثابت مانتے ہیں، اور تشبیہ کی نفی کرتے ہیں، جیسا کہ خود اس اللہ تعالی نے اپنے آپ اس کی نفی کی ہے، چنانچہ فرمایا: ((لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ)) ”اس کے جیسی کوئی شے نہیں اور وہ سننے والا‘ دیکھنے والا ہے۔“ (الشوریٰ:11) -
ب: تقدیر کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) بیہقی نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہا کہ شافعی رحمہ اللہ سے تقدیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:
مَا شِئْتَ كَانَ، وإنْ لم أشَأْ وَمَا شِئْتُ إن لَمْ تَشأْ لَمْ يكنْ تو نے جو چاہا ہوا اگرچہ میں نے نہیں چانا۔ اور میں نے جو چاہا، اگر تو نے نہیں چاہا تو نہیں ہوا۔
خَلقْتَ العِبَادَ لِمَا قَدْ عَلِمْتَ فَفِي العِلْمِ يَجري الفَتَى وَالْمُسِنْ تو نے اپنے علم کے مطابق بندوں کو پیدا کیا، چنانچہ جوان بوڑھے سب (تیرے) علم ہی کے اندر چلتے ہیں۔
عَلَى ذَا مَنَنْتَ، وَهَذا خَذلْتَ، وذاكَ أعنتَ، وذَا لمْ تُعِنْ اس پر تو نے احسان کیا، اور اس کو بے یار ومددگار چھوڑا، اس کی اعانت کی اور اس کی اعانت نہیں کی۔
فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ، وَمِنْهُمْ سَعِيد وَمِنْهُمْ قَبِيحٌ، وَمِنْهُمْ حَسَنْ تو ان میں سے کوئی بدبخت اور کوئی نیک بخت ہے، کوئی برا ہے، کوئی اچھا ہے۔
(2) بیہقی رحمہ اللہ نے مناقب الشافعی رحمہ اللہ میں ذکر کیا ہے کہ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: ”بندوں کی مشیئت اللہ تعالی کی طرف ہے۔ بندے اس وقت تک نہیں چاہیں گے جب تک کہ اللہ رب العالمین نہ چاہے، کیونکہ لوگوں نے اپنے اعمال پیدا نہیں کئے ہیں، بکلہ بندوں کے افعال اللہ کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہیں، اور اچھی اور بری تقدیر اللہ عزوجل کی طرف سے ہے، اور عذاب قبر حق ہے، اور اہل قبور سے پوچھ گچھ کی جانی حق ہے، اور مرنے کے بعد اٹھایا جانا حق ہے، اور حساب حق ہے، اور جنت اور جہنم حق ہیں، اور اس کے علاوہ ساری باتیں بھی جن کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔“
(3) اور لالکائی نے مزنی سے روایت کی ہے، کہا کہ: ”شافعی رحمہ اللہ نے کہا: تم جانتے ہو قدری (منکر تقدیر) کیا ہے؟ وہ جو کہتا ہے اللہ نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا یہاں تک کہ وہ زیر عمل آگئی۔“
(4) بیہقی نے شافعی رحمہ اللہ سے ذکر کیا ہے کہا کہ: ”قدریہ (منکر تقدیر) جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ((هم مجوس هذه الأمة)) ”وہ لوگ اس امت کے مجوس ہیں۔“ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالی معاصی کو نہیں جانتا یہاں تک کہ وہ ہو جاتی ہے۔
(5) اور بیہقی رحمہ اللہ نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے وہ شافعی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قدری (منکر تقدیر) کے پیچھے نماز کو مکروہ کہتے تھے۔
ج: ایمان کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے ربیع سے روایت کی ہے کہا کہ میں نے شافعی رحمہ اللہ کو سنا کہہ رہے تھے: ”ایمان قول وعمل اور دل کا اعتقاد ہے، اللہ عزوجل کا یہ قول نہیں دیکھتے: ((وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ)) ”اللہ تمہارے ایمان کو -یعنی بیت المقدس کی طرف نماز کو- ضائع کرنے والا نہیں ہے۔“ (البقرۃ: 143) تو یہاں نماز کا نام ایمان رکھا اور یہ قول وعمل اور دل کا ارادہ ہے۔
(2) اور بیہقی نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہا کہ میں نے شافعی رحمہ اللہ کو سنا کہہ رہے تھے کہ: ”ایمان قول وعمل ہے، زیادہ اور کم ہوتا ہے۔“
(3) اور بیہقی رحمہ اللہ نے ابو محمد زبیری سے روایت کی ہے کہ کہ ایک آدمی نے شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک افضل ہے؟ شافعی رحمہ اللہ نے کہ جس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں کیا جاتا-کہا وہ کیا ہے؟ کہا: اللہ پر ایمان جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، یہ درجہ میں سارے اعمال سے اعلی، مرتبہ میں سارے اعمال سے اشرف اور نصیب میں سب سے روشن ہے۔
اس آدمی نے کہا: آپ مجھے ایمان کے بارے میں کیوں نہ بتائیں کہ وہ قول وعمل ہے۔ یا قول بلا عمل؟ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: ایمان اللہ کے لئے عمل ہے اور قول اس عمل کا حصہ ہے۔ اس آدمی نے کہا: مجھ سے اسے بیان کیجئے یہاں تک کہ میں اسے سمجھ لوں۔ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: ایمان کے حالات ودرجات اور طبقات ہیں، ان مین سے ایک تام ہے جو اپنے تمام کی منتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ اور ایک ناقص ہے جس کا ناقص ہونا واضح ہے۔ اور ایک راجح ہے جس کا رجحان زائد ہے۔ اس آدمی نے کہا اچھا تو ایمان پورا نہیں بھی ہوتا اور کم بیش بھی ہوتا ہے؟ شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہاں۔ اس نے کہا اس کی دلیل کیا ہے؟ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: اللہ جل ذکرہ نے ایمان کو بنی آدم کے اعضاء پر فرض کیا ہے اور ان کے درمیان تقسیم کردیا اور ان پر بکھیر دیا ہے، چنانچہ اس کے اعضاء میں سے کوئی بھی عضو نہیں ہے مگر اسے ایمان کا وہ حصہ سونپا گیا ہے جو دوسرے عضو کو سونپے گئے حصہ کے علاوہ ہے، اور اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ ان اعضاء میں سے اہم عضو دل ہے، جس کے ذریعہ انسان سمجھتا بوجھتا اور فہم رکھتا ہے، اور یہ اس کے جسم کا امیر ہے جس کی رائے اور امر کے بغیر باقی اعضاء نہ پیش قدمی کرتے ہیں نہ پلٹے ہیں۔ اور اس کے اعضاء میں دونوں آنکھیں ہیں جن سے دیکھتا ہے۔ اور دونوں کان ہیں جن سے سنتا ہے۔ اور دونوں ہاتھ ہیں جن سے پکڑتا ہے۔ اور دونوں پاؤں ہیں جن سے چلتا ہے۔ اور اس کی شرمگاہ ہے جس کی طرف سے قوت باہ ہے۔ اور اس کی زبان ہے جس سے بولتا ہے۔ اور اس کا سر ہے جس میں اس کا چہرہ ہے۔ دل پر وہ چیز فرض کی ہے جو زبان پر فرض کردہ چیز سے مختلف ہے۔ اور کانوں پر وہ چیز فرض کی ہے جو آنکھوں پر فرض کردہ چیز سے مختلف ہے۔ اور ہاتھوں پر وہ چیز فرض کی ہے جو پیروں پر فرض کردہ چیز کے ماسوا ہے۔ اور شرمگاہ پر وہ چیز فرض کی ہے جو چہرے پر فرض کردہ چیز کے ماسوا ہے۔ اللہ نے دل پر ایمان کا جو حصہ فرض کیا ہے وہ اقرار ومعرفت ہے، عزم اور رضا وتسلیم ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی لائق عبادت نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے نہ بیوی اختیار کی نہ بچہ، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور اللہ کے پاس سے جو بھی نبی یا کتاب آئی ہے اس کا اقرار تو یہ چیز ہے جو اللہ جل ثناؤہ نے دل پر فرض کی ہے، اور یہی اس کا عمل ہے: ((إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا)) ”مگر جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن تھا۔ لیکن جس نے کفر کے ساتھ سینہ کھول دیا (تو ان پر اللہ کا غضب ہے الخ)۔“ (الرعد: 28) اور فرمایا: ((مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آَمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُهُمْ)) ”لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے منہ سے کہا ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہین لائے ہیں۔“ (المائدۃ: 41) اور فرمایا: ((وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ)) ”تمہارے نفسوں میں جو کچھ ہے اس کو تم ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔“ (البقرۃ: 284) تو یہ وہ ایمان ہے جو اللہ نے دل پر فرض کیا ہے، اور یہی دل کا عمل ہے، اور یہی راس الایمان ہے۔ اور زبان پر یہ فرض کیا ہے کہ دل میں جو بات باندھ رکھی ہے اور جس کا اقرار کیا ہے اسے کہے اور اس کی تعبیر کرے، چنانچہ اس بارے میں فرمایا: ((قُولُوا آَمَنَّا بِاللَّهِ)) ”تم لوگ کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔“ (البقرۃ: 136) اور فرمایا: ((وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا)) ”لوگوں سے اچھی بات کہو۔“ (البقرۃ: 839 تو یہ وہ چیز ہے جو اللہ نے زبان پر فرض کی ہے، یعنی دل کی بات کہنا اور اس کی تعبیر کرنا، اور یہی زبان کا عمل ہے اور یہی وہ ایمان ہے جو اس پر فرض ہے۔ اور اللہ نے کان پر یہ فرض کیا ہے کہ اللہ کی حرام کردہ چیز سننے سے منزہ رہے، اور اس کی منع کردہ چیز سے اسے دور رکھا جائے، چنانچہ اس بارے میں فرمایا: ((وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذاً مِثْلُهُمْ)) ”اور تم پر اللہ نے کتاب میں یہ بات اتاری ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو سنو کہ ان کے ساتھ کفر اور استہزاء کیا جارہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو یہاںتک کہ وه دوسری بات میں لگ جائیں، (ورنہ) تب تم لوگ بھی اس وقت انہی جیسے ہوگے۔“ (النساء: 140) پھر بھول کی جگہ کا استثناء کیا چنانچہ فرمایا: ((وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ)) ”اور اگر تم شیطان بھلوا دےو اور تم ان کے ساتھ بیٹھ جاؤ، تو یاد آجانے کے بعد اس ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھنا۔“ - - (الانعام: 68) اور فرمایا: - ((فَبَشِّرْ عِبَادِ، الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ)) ”میرے ان بندوں کو بشارت دے دو جو بات سنتے ہیں تو اس کا جو اچھا پہلو ہے اس کی پیروی کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے، اور یہی لوگ ہیں جو عقل والے ہیں۔“ (الزمر: 17،18) اور فرمایا: ((قَدْ أَفْلَحَ الْـمُؤْمِنُونَ، الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ -الی قولہ:- هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ)) ”مومنین کامیاب ہوئے۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ اور جو لغو سے اعراض کرتے ہیں۔ اور زکٰوی ادا کرتے ہیں۔“ (المؤمنون: 1-4) اور فرمایا: ((وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ)) ”اور جب لغو سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں۔“ (القصص: 55) اور فرمایا: ((وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا)) ”اور جب لغو کے پاس سے گزرتے ہیں تو بزرگانہ طور پر گزر جاتے ہیں۔“ (الفرقان: 72) تو یہ وہ چیز ہے جسے اللہ جل ذکرہ نے کان پر فرض کیا ہے، یعنی جو چیز حلال نہیں اس سے منزہ رکھنا۔ اور یہ کان کا عمل ہے اور ایمان کا حصہ ہے۔ اور اللہ نے آنکھوں پر یہ فرض کیا ہے کہ ان سي حرام چیز نہ دیکھیں، اور جس سے منع کیا ہے اس سے جھکائے رکھیں، چنانچہ اللہ تبارک وتعالی نے اس بارے میں فرمایا: ((قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ)) الآیتین ”مومنین سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں...اور مومنات سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں۔“ (النور: 30-31) یعنی اس بات سے محفوظ رکھیں کہ کوئی دوسرے کی شرمگاہ کی طر ف نہ دیکھے، یا خود اس کی شرمگاہ کی طرف دیکھا جائے،
اور کہا کہ کتاب اللہ میں جو بھی شرمگاہ کی حفاظت ہے تو وہ زنا سے ہے، مگر یہ آیت کہ یہ نظر سے ہے۔
تو یہ وہ بات ہے جو اللہ نے دونوں آنکھوں پر فرض کی ہے، یعنی اسے پست رکھنا، اور یہ آنکھ کا عمل ہے اور ایمان میں سے ہے۔
پھر دل، کان اور نظر پر جو فرض ہے اس کی خبر صرف ایک آیت میں دی ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اس بارے میں فرمایا ہے: ((وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا)) ”اور جس بات کا تمہیں علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑو۔ بیشک کان، اور آنکھ اور دل ان سب سے اس بارے میں پوچھا جائے گا۔“ (الاسراء: 369 امام شافعی نے کہا کہ اور شرمگاہ پر یہ فرض کیا ہے کہ اسے اللہ کی حرام کردہ چیز کے ساتھ چاک نہ کرے، ((وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ)) ”اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔“ (المؤمنون: 5) اور فرمایا: ((وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ)) الآیۃ ”اور تم اس بات سے نہیں چھپ سکتے تھے کہ تم پر تمہاے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری چمڑی گواہی دیں۔“ (فصلت: 22) - چمڑیوں سے مراد شرمگاہیں اور ران ہیں۔ تو یہ وہ چیز ہے جو اللہ نے شرمگاہوں پر فرض کی ہے، یعنی جو چیز حلال نہیں اس سے ان کی حفاظت، اور یہ ان کا عمل ہے۔ کہا کہ اور ہاتھوں پر یہ فرض ہے کہ اللہ تعالی نے جو چیز حرام کر رکھی ہے اس کو ان سے نہ پکڑے، بلکہ وہ چیز پکڑے جس کا اس نے حکم دیا ہے، یعنی صدقہ، صلہ رحمی، جہاد فی سبیل الہ، اور نمازون کے لئے پاکی، چنانچہ اس بارے میں فرماتا ہے: ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ)) الی آخر الآیۃ ”اے ایمان والو! جب تم نماز کی جانب اٹھو تو اپنے چہرے اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو۔“ (المائدۃ: 6) ((فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً)) ”تو جب تم کافروں سے ٹکراؤ تو (پہلا کام) گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب کچل لو تو مضبوطی کے ساتھ باندھو، اس کے بعد یا تو احسان کرنا یا فدیہ لینا ہے۔“ (محمد: 4) کیونکہ مار دھاڑو صلح رحمی اور صدقہ ہاتھوں سے انجام پانے والي کام ہیں۔ اور دونوں پاؤں پر فرض کیا ہے کہ ان سے اللہ جل ذکرہ کی حرام کردہ چیز کی طرف نہ چلیں، چنانچہ اس بارے میں فرمایا: ((وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا)) ”تو زمین میں اکڑ کر نہ چل، نہ تو تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑ کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے۔“ (الاسراء:37 اور چہرے پر یہ فرض کیا ہے کہ اللہ کو رات اور دن میں اور نماز کے اوقات میں سجدہ کرےو چنانچہ اس بارے میں فرمایا: ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)) ”اے ایمان والو! رکوع کرو اور سجدہ کرو، اور اپنے رب کی عبادت کروو اور بھلائی کرو تاکہ تم لوگ کامیاب ہو جاؤ۔“ (الحج: 77) اور فرمایا: ((وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا)) ”اور مسجدیں اللہ کے لئے ہیںو پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔“ (الجن: 18) مساجد سے مراد پیشانی وغیرہ وہ اعضاء ہین جن بر ابن آدم سجدہ کرتا ہے۔ (امام شافعی رحمہ اللہ نے) کہا کہ تو یہ وہہ چیزیں ہیں جنہیں اللہ نے ان اعضاء پر فرض کیا ہے۔ اور اللہ کی پاکی اور نماز کو اپنی کتاب میں ایمان کہا ہے، اور یہ اس وقت جب اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کا رخ بیت المقدس کی جانب نماز پڑھنے سے پھیرا، اور آپ کو کعبہ کی جانب نماز پڑھنے کا حکم دیا، اور مسلمان سولہ مہینہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھ چکے تھے، تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! یہ فرمائیے کہ ہم نے بیت المقدس کی طرف جو نماز پڑھی ہے تو اس کا حال اور ہمارا حال کیا ہوگا؟ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ((وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ)) ”اللہتعالی تمہارے ایمان کو برباد کرنے والا نہیں، بے شک اللہ تعالی لوگوں کے ساتھ رؤف ورحیم ہے۔“ (البقرۃ: 143)
یہاں اللہ نے نماز کا نام ایمان رکھا، لہذا جو اللہ سے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتا ہواو اپنے اعضاء کی حفاظت کرتا ہوا، اعضاء مین ہر عضو سے اللہ کا حکم اور اس کے مقرر کردہ فرض کو ادا کرتا ہوا، کامل الایمان ہو کر ملے وہ اہل جنت میں سے ہے۔ اور جو اللہ کے حکم میں سے کسی چیز کو قصداً چھوڑتا رہا ہو وہ اللہ سے ناقص الایمان ہوتا ہوتا ملے گا۔
کہا کہ اب تم نے ایمان کے نقصان واتمام کو جان لیا، لیکن اس کی زیادتی کہاں سے آئی؟ شافعی کہتے ہیں کہ اللہ جل ذکرہ نے فرمایا: ((وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آَمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ، وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَى رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ)) ”جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ تم میں سے کس کو اس سورت نے ایمان میں زیادہ کرتی ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے تو ان کو ان کی گندگی کے ساتھ گندگی میں بڑھاتی ہے اور وہ اس حال میں مرتے ہیں کہ کافر ہوتے ہیں۔“ (التوبۃ: 124،125) اور فرمایا: ((إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آَمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى)) ”یہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، اور ہم نے ان کو ہدایت میں اور زیادہ کیا۔“ (الکہف: 13)
شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں اگر ایمان کل کا کل ایک ہی ہوتا، اس میں کمی زیادتی نہ ہوتی تو اس میں کسی کو فضیلت نہ ہوتیو سارے لوگ برابر ہوتے، اور تفضیل باطل ہوتیز لیکن ایمان کے پورے ہونے سے مومنین جنت میں داخل ہوئےو اور ایمان مین زیادتی کی وجہ سے اللہ کے نزدیک جنت کے اندر درجات مین مومنین متفاضل ہوئے۔ اور ایمان میں کمی کی وجہ سي کوتاہی والے جہنم میں داخل ہوئے۔
شافعی کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کے درمیان مسابقہ کرایا ہے جیسے کہ گھڑ دوڑ کے دن گھوڑوں کے درمیان مسابقہ کرایا جاتا ہے، پھر یہ لوگ اپنی سبقت کے حساب سے اپنے درجات پر ہیں، چنانچہ ہر آدمی کو اس کی سبقت کے درجہ پر رکھا ہے اور اس میں اس کا حق کم نہیں کیا ہے، نہ کسی مسبوق کو سابق پر مقدم کیا ہے، اور نہ کسی مفضول کو فاضل پر، اور اسی وجہ سے اس امت کے اول کو آخر پر فضیلت دی ہے۔ اور اگر ایمان کی طرف سبقت کرنے والے کو اس سے مؤخر رہ جانے والے پر فضیلت نہ ہوتی تو اس امت کا آخر اس کے اول کے ساتھ لاحق ہوجاتا۔
د: صحابہ کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) بیہقی نے شافعی رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ” اللہ تبارک وتعالی نے قرآن، توریت اور انجیل میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی ثنا کی ہے، اور خود رسول اللہ ﷺ کی زبان سے بھی ان کے لئے ایسی فضیلت سبقت کرچکی ہے جو ان کے بعد کسی اور کے لئے نہین ہے، پس اللہ ان پر رحم کرے، اور انہیں صدقین، شہداء اور صالحین کی اعلی منازل تک پہنچا کر اس بارے میں آئے ہوئے فضل سے شاد کام کرے، انہوں نے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنتیں پہہنچائیں اور آپ کا اس حالت میں مشاہدہ کیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی، پس انہوں رسول اللہ ﷺ کی مراد کو جانا کہ آپ کہ ارشاد کا مقصود عام ہے یا خاص، عزیمت ہے یا ارشاد، اور ان کو آپ کی وہ سنتیں معلوم ہوئیں جو ہمیں معلوم ہوئیں اور جو نہیں بھی معلوم ہوئیں، وہ ہر علم اور اجتہاد میں، ورع وعقل میں اور ہر اس معاملے میں جس سے کسی علم کا استدراک اور استنباط کیا جائے ہم سے بڑھ کر ہیں، ان کی رائیں ہماری لئے زیادہ لائق حمد اور ہمارے نزدیک ہماری اپنی رایوں سے زیادہ بہتر ہیں۔ واللہ اعلم۔
(2) اور بیہقی نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہا کہ ”میں نے شافعی کو سنا وہ تفضیل صحابہ کے سلسلہ میں یوں کہہ رہے تھے: ابوبکر اور عمر اور عثمان اور علی۔“
(3) اور بیہقی نے محمد بن عبداللہ بن عبدالحکیم سے روایت کی ہے کہا کہ ”میں نے شافعی کو سنا کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی رضی اللہ عنہم۔“
(4) اور ہروی نے یوسف بن یحیی بویطی سے روایت کی ہے کہا کہ ”میں نے شافعی سے پوچھا کہ کیا مین رافضی کے پیچھے نماز پڑھوں؟ انہوں نے کہا: رافضی اور قدری (منکر تقدیر) اور مرجی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ میں نے کہا کہ آپ ہم سے ان کے اوصاف بتائیے، انہوں نے کہا: جو کہے کہ ایمان قول ہے وہ مرجئ ہے، اور جو کہے کہ ابوبکر وعمر امام نہیں ہیں وہ رافضی ہے، اور جو کہے مشیئت کو اپنی طرف قراردے وہ قدری ہے۔“
ھ - دین میں کلام وجھگڑے سے ان کی ممانعت:
(1) ہروی نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہا کہ ”میں نے شافعی کو سنا کہہ رہے تھے...اگر آدمی اپنی علم کی کتابوں کی وصیت دوسرے کو کر جائے، اور اسی میں کلام کی کتابیں بھی ہوں تو وہ وصیت میں داخل نہ ہوں گی، کیونکہ وہ علم نہیں ہے۔“
(2) اور ہروی نے حسن زعفرانی سے روایت کی ہے کہا کہ ”میں نے شافعی کو سنا کہہ رہے تھے کہ میں نے کلام میں کسی سے مناظرہ نہیں کیا مگر صرف ایک مرتبہ، اور میں اس سے بھی اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں۔“
(3) اور ہروی نے ربیع بن سلیمان سے روایت کی ہے کہا کہ ”شافعی نے کہ کہ اگر میں چاہوں کہ ہر مخالف پر ایک بڑی کتاب تیار کردوں تو کر سکتا ہوں، لیکن کلام میری شان سے نہیں ہے، اور میں پسند نہیں کرتا ہوں کہ اس کی کوئی چیز میری طرف منسوب ہو۔“
(4) اور ابن بطہ نے ابو ثور سے روایت کی ہے کہ ”مجھ سے شافعی نے کہا: ”میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے کچھ بھی کلام کی چادر اوڑھی ہو پھر کامیاب رہا ہو۔“
(5) اور ہروی نے یونس المصری سے روایت کی ہے کہا کہ شافعی رحمہ اللہ نے کہا: ”اللہ آدم کو شرک کے سوا اپنی ہر منع کردہ چیز میں مبتلا کردے یہ اس کے لئے بہتر ہے کہ کلام میں مبتلا کرے۔“
اصول دین کے مسائل میں یہ ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے اقوال، اور علم کلام کے تعلق سے ان کا موقف۔
پانچواں مبحث
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا عقیدہ
الف: توحید کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) طبقات الحنابلہ میں ہے کہ ”امام احمد سے توکل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: لوگوں سے مایوس ہو کر ان سے حرص وطمع رکھنا چھوڑ دینا۔“
(2) اور حنبل کی کتاب المحنہ میں ہے کہ امام احمد نے کہا کہ ”اللہ تعالی ہمیشہ متکل رہا اور قرآن عزوجل کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے اور ہر جہت پر ہے اور اللہ عزوجل نے خود اپنے آپ کو جس چیز کے ساتھ متصف کیا ہے اسے اس سے زیادہ کسی چیز سے متصف نہیں کیا جائے گا۔
(3) اور ابن ابی یعلی نے ابو بکر مروزی سے ذکر کیا ہے کہ میں نے احمد بن حنبل سے ان احادیث کے بارے میں پوچھا جنہیں جہمیہ، صفات اور رؤیت اور اسراء اور عرش کے قصے کے سلسلے میں مسترد کرتے ہیں تو انہوں نے ان احادیث کو صحیح کہا، اور کہا کہ امت نے انہیں قبول کیا ہے، اور یہ خبریں جیسے آئیں ہیں ویسے ہی گزاری جائیں گی۔“
(4) اور عبداللہ بن احمد نے کتاب السنۃ میں کہا کہ احمد نے کہا: ”جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ کلام نہیں کرتا وہ کافر ہے، البتہ ان احادیث کو ویسے ہی روایت کرتے ہین جیسے وہ آئی ہیں۔“
(5) اور لالکائی نے حنبل سے روایت کی ہے کہ انہوں نے امام احمد سے رؤیت کے متعلق پوچھا تو احمد نے کہا: ”صحیح احادیث پر ہم ایمان رکھتے اور ان کا اقرار کرتے ہیں، اور جو کچھ نبی ﷺ سے عمدہ سند سے مروی ہے ہم اس پر ایمان لاتے اور اقرار کرتے ہیں۔“
(6) اور ابن جوزی نے مناقب مین مسدد کے نام احمد بن حنبل کا مکتوب ذکر کیا ہے، اور اس میں ہے کہ: ”اللہ کو اسی چیز کے ساتھ متصف کرو جس سے اس نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے، اور اللہ سے اس چیز کی نفی کرو جس کی اس نے خود اپنے آپ سے نفی کی ہے۔“
(7) اور امام احمد کی کتاب الرد علی الجہمیہ میں ان کا یہ قول آیا ہے کہ: ”جہم بن صفوان نے یہ سمجھا ہے کہ جو شخص اللہ کو کسی ایسی چیز سے متصف کرے جس سے اس نے خود اپنے آپ کو اپنی کتاب میں متصف کیا ہے، یا جس کو اس کے رسول نے بیان کیا ہے تو وہ کافر ہو جائے گا، مشبہ میں ہوگا۔“
(8) اور امام ابن تیمیہ نے (اپنی کتاب) درء مین امام احمد کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ: ”ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ عرش پر ہے جیسے اس نے چاہا اور جس طرح چاہا، بغیر کسی حد اور بغیر ایسی صفت کے جہاں کوئی بیان کرنے والا پہنچ سکتا ہے یا کوئی حد مقرر کرنے والا حد مقرر کر سکتا ہے، پس اللہ کی صفات اسی سے ہیں اور اسی کے لئے ہیں، اور وہ ویسا ہی ہے جیسا کہ اس نے آپنے آپ کو متصف کیا ہے، اس کو نگاہیں نہیں پاسکتیں۔“
(9) اور ابن ابی یعلی نے احمد سے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہوں نے کہا: ”جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ آخرت میں نہیں دیکھا جائے گا وہ کافر ہے، قرآن کو جھٹلانے والا ہے۔“
(10) اور ابن ابی یعلی نے عبداللہ بن احمد سے ذکر کیا ہے کہ مین نے اپنے والد سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جو کہتے ہیں کہ جب اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا تو کسی آواز کے ساتھ کلام نہین کیا، تو میرے والد نے کہا: ”اس نے آواز کے ساتھ کلام کیا، اور ان احادیث کو ہم ویسے ہی روایت کرتے ہیں جیسے وہ آئی ہیں۔“
(11) اور لالکائی نے عبدوس بن مالک العطار سے روایت کی ہے کہا کہ میں نے ابو عبداللہ احمد بن حنبل کو سنا وہ کہہ رہے تھے: ”...اور قرآن اللہ کا کلام ہےو مخلوق نہیں ہےو اور تم یہ کہنے سے کمزور نہ پڑو کہ وہ مخلوق نہیں ہے، کیونکہ اللہ کا کلام اسی سے ہے، اور کوئی چیز جو اس سے ہو وہ مخلوق نہیں ہے۔“
ب: تقدیر کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) ابن جوزی نے مناقب مین مسدد کے نام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا جو مکتوب ذکر کیا ہے، اس میں کہا کہ: ”اچھی اور بری، میٹھی اور کڑوی تقدیر پر ایمان رکھے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔“
(2) اور خلال نے ابوبکر مروزی سے روایت کی ہے کہا کہ ابو عبداللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”خیر اور شر بندوں پر مقدر ہے۔“ ان سے کہا گیا: اللہ نے خیر وشر پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ نے اس کو مقدر کیا ہے۔
(3) اور امام احمد رحمہ اللہ کی کتاب السنہ میں ان کا یہ قول آیا ہے کہ: ”اچھی اور بری، تھوڑی اور زیادہ، ظاہر اور باطن، میٹھی اور کڑوی، پسندیدہ اور ناپسندیدہ، خوب اور ناخوب، اول اور آخر ساری تقدیر اللہ کی طرف سے ایک فیصلہ ہے جسے اس نے اپنے بندوں پر نافذ کیا ہے، اور ایک تقدیر ہے جو اس نے مقدر کی ہے، کوئی اللہ کی مشیئت سے آگے نہیں جاسکتا، اور نہ اس کے فیصلے سے تجاوز کر سکتا ہے۔“
(4) اور خلال نے محمد بن ابی ہارون سے اور انہوں نے ابو الحارث سے روایت کی ہے کہ مین نے ابو عبداللہ رحمہ اللہ سے سمنا کہہ رہے تھے: ”پس اللہ عزوجل نے طاعت اور معاصی مقدر کی ہیں، اور خیر وشر مقدر کیا ہے، اور جسے نیک بخت لکھا ہے وہ نیک بخت ہے اور جسے بد بخت لکھا ہے وہ بد بخت ہے۔“
(5) عبداللہ بن احمد کہتے ہیں میں نے اپنے والد کو سنا، اور ان سے علی بن جہم نے اس شخص کے بارے میں سوال کیا تھا جو انکار تقدیر کا قائل ہے کہ آیا وہ کافر ہوگا؟ تو انہوں نے کہا کہ: ”جب وہ علم کا انکار کرے، جب یہ کہے کہ اللہ جانا نہیں تھا یہاں تک کہ اس نے علم پیدا کیا تب جانا تو اس نے اللہ کے علم کا انکار کیا ہے، لہذا یہ کافر ہے۔“
(6) عبداللہ بن احمد کہتے ہیں: ”ایک بار میں اپنے والد سے قدری (منکر تقدیر) کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اگر وہ اس بارے میں مخاصمہ کرتا ہے اور اس کی طرف بلاتا تو تو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
ج: ایمان کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) ابن ابی یعلی نے احمد رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہوں نے کہا: ”ایمان کی افضل ترین خصلتوں میں سے اللہ کی راہ میں محبت اور اللہ کی راہ میں بغض ہے۔“
(2) اور ابن جوزی نے امام احمد رحمہ اللہ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے: ((أَكْمَلُ المُؤمِنِينَ إِيمَاناً أَحسَنُهُم خُلُقاً)) ”مومنین میں سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔“
(3) اور خلال نے سلیمان بن اشعث سے روایت کی ہے کہا کہ ابو عبداللہ رحمہ اللہ نے کہا: ”نماز اور زکوۃ اور حج اور نیکی ایمان سے ہے، اور معصیتیں ایمان کو کم کردیتی ہیں۔“
(4) عبداللہ بن احمد نے کہا میں نے اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو کہتا ہے کہ ایمان قول وعمل ہے اور بڑھتا اور گھٹتا ہے، لیکن وہ استثناء (ان شاء اللہ) نہیں کہتا کیا وہ مرجئ ہے؟ انہوں نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ وہ مرجئ نہ ہوگا...میں نے اپنے والد کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ استثناء نہ کرنے والے کے خلاف حجت اہل قبور کے لئے رسول اللہ ﷺ کا یہ قول ہے: ((وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ)) ”ہم تمہارے ساتھ ان شاء اللہ لاحق ہونے والے ہیں۔“
(5) عبداللہ بن احمد نے کہا میں نے اپنے والد رحمہ اللہ کو سنا ان سے ارجاء کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”ہم کہتے ہیں کہ ایمان قول وعمل ہے، زیادہ اور کم ہوتا ہے، جب آدمی زنا کرے اور شراب پئے تو اس کا ایمان کم ہو جاتا ہے۔“
د: صحابہ کے بارے میں ان کے اقوال:
(1) امام احمد رحمہ اللہ کی کتاب السنہ میں حسب ذیل بات آئی ہے: ”سنت سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تمام اصحاب کے محاسن ذکر کئے جائیں، اور ان کی خامیوں کے ذکر سے رک جایا جائے، اور اس اختلاف کے ذکر سے بھی رک جایا جائے جو ان کے درمیان پیدا ہو گیا تھا۔ لہذا اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو یا ان میں سے کسی ایک کو برا بھلا کہے تو وہ بدعتی ہے، رافضی ہے، خبیث ہے، جفا کار ہے، اللہ اس کے فرض ونفل قبول نہیں کرے گا، بلکہ ان کی محبت سنت ہے، ان کے لئے دعا قربت ہے، ان کی اقتداء وسیلہ ہے اور ان کے آثار کو اختیار کرنا فضیلت ہے۔“
پھر کہا کہ: ”پھر رسول اللہ ﷺ کے اصحاب چار کے بعد سب سے بہتر لوگ ہیںو کسی کے لئے جائز نہین کہ ان کی خامیوں میں سے کچھی ذکر کرے، اور نہ یہ درست ہے کہ ان میں سے کسی پر بھی عیب یا نقص کی طعنہ زنی کرے، اگر کوئی ایسا کرے تو سلطان پر ضروری ہے کہ اس کی تادیب کرے اور اسے سزا دے، یہ نہیں کہ اسے معاف کردے۔“
(2) اور ابن جوزی نے مسدد کے نام احمد رحمہ اللہ کا جو رسالہ ذکر کیا ہے اس میں ہے: ”اور یہ کہ تم عشرہ کے لئے یہ شہادت دو کہ وہ جنت میں ہیں: یعنی ابو بکر وعمر، عثمان وعلی، طلحہ اور زبیر، سعد اور سعیدو عبدالرحمن بن عوف اور ابو عبیدہ بن جراح۔ اور جن کے لئے نبیﷺ نے شہادت دی ہے ان کے لئے ہم بھی جن کی شہادت دیں گے۔“
(3) عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے ائمہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ”ابو بکر، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی۔
(4) اور عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جو کہتے ہیں کہ علی خلیفہ نہ تھے، انہوں نے کہا کہ :”یہ برا، ردی قول ہے۔“
(5) اور ابن جوزی نے احمد رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ: ”جو علی رضی اللہ عنہ کے لئے خلافت ثابت نہ مانے وہ اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔“
(6) اور ابن ابی یعلی نے احمد رحمہ اللہ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ”جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو چوتھا نا مانے اس سے بات نہ کرو، اور اس سے مناکحت بھی نہ کرو۔“
ھ - دین میں کلام وخصومات سے ان کی ممانعت:
(1) ابن بطہ نے ابوبکر مروزی سے روایت کی ہے کہا کہ میں نے ابو عبداللہ رحمہ اللہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے: ”جو کلام کو لے گا کامیاب نہ ہوگا، اور جو کلام کو لے گا وہ جہمی ہونے سے نہ بچے گا۔“
(2) اور ابن عبدالبر نے جامع بیان العلم میں احمد رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہوں نے کہا: ”صاحب کلام کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، اور قریب نہیں کہ تم کوئی ایسا آدمی دیکھو جو کلام میں نظر کرتا ہو مگر اس کے دل میں فساد ہوگا۔“
(3) اور ہروی نے عبداللہ بن احمد سے روایت کی ہے کہا کہ: ”میرے والد نے عبید اللہ بن یحیی بن خاقان کو لکھا کہ میں صاحب کلام نہیں ہوں، اور ان میں سے کسی بھی چیز میں میں کلام کو درست نہیں سمجھتا، مگر جو اللہ کی کتاب میں ہو، یا رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہو، اور جو اس کے علاوہ ہو تو اس میں کلام محمود نہیں ہے۔“
(4) ابن جوزی نے موسی بن عبداللہ طرسوسی سے روایت کی ہے کہا کہ میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا کہہ رہے تھے کہ: ”اہل کلام کے ساتھ مجالست نہ کرو، اگرچہ وہ سنت کی مدافعت کریں۔“
(5) اور ابن بطہ نے ابو الحارث صائغ سے روایت کی ہے کہا کہ (احمد رحمہ اللہ نے کہا:) ”جو کلام کو پسند کرے وہ اس کے دل سے نہ نکلے گا، اور تم صاحب کلام کو نہیں دیکھو گے کہ وہ کامیاب ہوتا ہو۔“
(6) اور ابن بطہ نے عبید اللہ بن حنبل سے روایت کی ہے کہ کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے ابو عبداللہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ: ”تم لوگ سنت اور حدیث کو لازم پکڑو، اللہ تم کو اس سے نفع دے گا، اور تم لوگ خوض اور جدال اور جھگڑے سے دور رہو، کیونکہ جو شخص کلام کو پسند کرے وہ کامیاب نہیں ہو سکتا، اور جو کلام ایجاد کرے اس کا آخری معاملہ بدعت کی طرف ہوگا، کیونکہ کلام خیر کی دعوت نہیں دیتا، اور میں کلام اور خوض وجدال کو پسند نہیں کرتا، اور تم لوگ سنت اور آثار اور فقہ کو پکڑو، جس سے تم نفع اٹھا سکو، اور جدال اور کجرؤں کے کلام سے کنارہ کش رہو، اور کلام کا انجام خیر کی طرف نہیں پلٹتا، اللہ ہمیں تمہین فتنوں سے بچائے، اور ہمیں اور تمہیں ہر ہلاکت سے سالم رکھے۔“
(7) اور ابن بطہ نے الابانہ میں احمد رحمہ اللہ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ: ”جب تم آدمی کو دیکھو کہ وہ کلام کو پسند کرتا ہے تو اس سے بچو۔“
تو یہ ہیں اصول دین کے مسائل مین امام احمد رحمہ اللہ کے اقوال، اور یہ ہے علم کلام کے بارے میں ان کا موقف۔
خاتمہ
گزشتہ بحث سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ائمہ اربعہ کے اقوال ایک دوسرے کے مطابق اور متفق ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ایک ہے، سوائے مسئلہ ایمان کے کہ اس میں امام ابو حنیفہ منفرد ہیں تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا تھا۔
پس یہی عقیدہ ہے جو اس لائق ہے کہ مسلمانوں کو ایک برابر کلمہ پر اکٹھا کر دے اور انہیں دین میں تفرقہ سے بچا لے، کیونکہ یہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت سے حاصل کیا گیا ہے، لیکن تھوڑے ہی لوگ ہیں جو ان ائمہ کے عقیدے کو سمجھتے ہیں اور اسے اس طرح پہچانتے ہین جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے، اور اس کا ویسا فہم رکھتے ہیں جیسا کہ فہم رکھنے کا حق ہے، کیونکہ یہ بات لوگوں میں مشہور ہے کہ یہ ائمہ تفویض کے قائل تھے، نص کو پڑھ لینے کے سوا کچھ نہیں جانتے تھےو گویا اللہ نے وحی کو محض عبث اتاردیا تھا،
حالانکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ((كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ)) ”یہ کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے، بابرکت ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں، اور تاکہ عقل والے نصیحت پکڑیں۔“ (ص: 29) اور فرماتا ہے: ((وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ)) ”یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔ اسے روح امین نے آپ کے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں۔ واضح عربی زبان میں ہے۔“ (الشعراء: 192 -195) اور فرماتا ہے: ((إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآَنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ)) ”ہم نے اسے عربی قرآن نازل کیا ہے تاکہ تم لوگ سمجھو۔“ (یوسف: 2)
پس اللہ تعالی نے کتاب کو اس کی آیات میں تدبر کرنے اور اس سے نصیحت پکڑنے کے لئے اتارا ہے اور بتلایا ہے کہ وہ واضح عربی زبان میں ہے تاکہ لوگ اس کے معنی کو جانیں اور سمجھیں۔ اور جب اللہ نے اس کو اس کی آیات میں تدبر کرنے کے لئے واضح عربی زبان میں نازل کیا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ جنکی طرف یہ کتاب نازل کی گئی ہے ان کے لئے اس زبان کے مقتضی کے مطابق اس کے معنی کو جاننا آسان ہو۔ پھر اگر اس کے معنی کا جاننا ممکن نہ ہوتا تو اس کو نازل کرنا عبث ہوتا، اس لئے کہ ان کلمات کا کوئی فائدہ نہیں جو کسی قوم پر نازل ہوں اور اس کے نزدیک ان حروف مہملہ کے درجے میں ہوں جن کا کوئی معنی نہیں۔
لہذا یہ قول صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد کے ائمہ کے عقیدے پر ظلم ہے اور ان پر ایسی تہمت ہے جس سے وہ بری ہیں، وہ وحی کی نصوص کے معانی کو جانتے اور سمجھتے تھے، کیونکہ وہ عہد نبوت سے قریب تھے، بلکہ وہ سب سے زیادہ اس کے سمجھنے کے اہل تھے، وہ اللہ تعالی کی ایسی عبادت کرتے تھے جیسی کہ انہوں نے کتاب وسنت کی دلالت سے سمجھی تھی، اور اللہ کی طرف سے جس کے حق اور شریعت ہونے کا عقیدہ رکھا تھا۔ پس انہوں نے اپنے معبود تک پہنچانے والے راستے کو سمجھا تو وہ اپنے معبود کو صفات کمال کے ذریعہ کیوں نہ پہنچانہیں گے، اور ان نصوص کے معانی کو کیوں نہ سمجھیں گے جن کے ذریعہ اللہ نے اپنے آپ کو اپنے بندوں سے پہچنوایا ہے۔
حاصل یہ ہے کہ ان ائمہ اربعہ کا عقیدہ ہی صحیح عقیدہ ہے جو کتاب وسنت کے اندر ایک صاف ستھرے چشمہ سے آیا ہے جس میں تاویل وتعطیل یا تشبیہ وتمثیل کا کوئی شائبہ نہیں۔ تعطیل کرنے والے تشبیہ دینے والے نے صفات الٰہیہ سے صرف اتنا ہی سمجھا ہے جتنا مخلوق کے لائق ہے، اور اس بات کے خلاف ہے جس پر اللہ نے بندوں کو پیدا کیا ہے کا اس کے مثل کوئی چیز نہیں، نہ اس کی ذات میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔
اور اللہ ہی سے میرا سوال ہے کہ وہ اس رسالہ سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے اور انہیں ایک عقیدے اور ایک راستے پر یعنی کتاب وسنت کے عقیدے پر اور نبیﷺ کے طریقے اور سنت پر جمع کردے۔ اور اللہ قصد کے پیچھے ہے، اور وہی ہمارے لئے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
وصلی اللہ علی نبینا محمد۔
Related books
All books
ایمان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جیسا کہ کتاب وسنت میں وارد ہے۔9 زبانیںایمان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جیسا کہ کتاب وسنت میں وارد ہے۔
عقیدہ کے تمام بنیادی اور اہم معلومات اور مسائل کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا جس کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں اعتقادی مسائل کو قرآن کریم اور سنت نبویہ سے جوڑ کر واضح کیا گیا ہے‘ ساتھ ہی عقیدہ کو اختصار اور جامع انداز میں لوگوں کے دلوں میں راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ اعتقادی مسائل کی وضاحت کے دوران آسان اور سہل عبارتیں اختیار کی گئی ہیں، نیز انسائیکلو پیڈیا کو علم کلام اور فلسفیانہ مباحث سے پاک رکھا گیا ہے، اور اس کا مقصد عقائد کے موضوعات کو اس طرح پیش کرنا ہے کہ تمام علمی طبقوں کے لیے ان کا سمجھنا آسان ہو سکے۔
القواعد الأربع
نماز کى شرطیں، ارکان اور واجبات11 زبانیںنماز کى شرطیں، ارکان اور واجبات
تالیف: شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہّاب رحمه الله 1115- 1206 هـ تحقیق و اہتمام اور تخریج احادیث ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی بسم اللہ الرحمن الرحیم
تین بنیادی باتیں اور ان کے دلائل65 زبانیںتین بنیادی باتیں اور ان کے دلائل
یہ کتاب ان بنیادی اصول کو بیان کرتی ہے جن کا سیکھنا مسلمان پر واجب ہے: اللہ کی معرفت، دینِ اسلام کی معرفت، اور نبی محمد ﷺ کی معرفت، اور یہ قرآن وحدیث کے دلائل کی بنیاد پر ایمان اور نیک اعمال کی تشکیل میں ان اصول کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔