احناف اور توحید کی اشاعت
فهد بن ناصر إبراهيم الجديد
الرياض ، 1442هـ
مقدمہ
قرون مفضلہ میں مسلمانوں نے کتاب اللہ و سنتِ رسول ﷺ سے حاصل شدہ صحیح عقیدے کے مطابق اپنی زندگی گزاری اور انہیں اس عقیدہ کی تعریفات مدون کرنے کی کوئی ضرورت نہیں پڑی۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا، جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔" [رواه البخاري]
قرون ثلاثہ کے بعد جب اہلِ باطل کا ظہور ہوا، تو انھوں نے صحیح عقیدے میں تحریف وتبدیل کرنا شروع کردیا۔ شیطان نے ان کے بدعتی اعمال کو خوش نما بناکر پیش کیا تو انھوں نے انہی اعمال کو اچھے اعمال سمجھا اور اپنے صالحین کے قبروں پر قبے تعمیر کر لیے۔ پھر ان کے بعد ایسی قومیں آئیں، جنھوں نے صالحین کی قبروں کے پاس اللہ کی بندگی کرنا شروع کیا اور اللہ کو پکارنے لگے۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ ان کے بعد ایسی قومیں آئیں جنھوں نے یہ دعوی کیا کہ مصائب و آلام میں انہی صالحین کو پکارا جائے۔ اس طرح امت میں شرک داخل ہوگیا۔ اس کی پیشین گوئی خود نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک حدیث مبارکہ میں کی ہے، جس کے راوی ثوبان رضی اللہ عنہ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف گمراہ ائمہ کا ہے۔ عنقریب میری امت کے بعض قبائل بتوں کی پرستش کریں گے اور عنقریب میری امت کے بعض قبیلے مشرکوں سے مل جائیں گے۔‘‘ [صحيح ابن ماجه]
امت میں شرک پھیلانے والے گمراہ ائمہ اور پیشواؤون کی موجودگی کے باوجود کچھ ایسے صالح علما و ائمہ بھی موجود رہے، جنھوں نے احکامِ دین کو شرک سے محفوظ رکھا اور اللہ کی رضا مندی کی خاطر توحیدِ خالص کو پھیلایا۔ انہی صالح علما و سربراہوں میں وہ علماے احناف بھی داخل ہیں، جنھوں نے لوگوں میں توحید کو پھیلانے میں پوری جد وجہد کی اور لوگوں کو شرک اور اس تک پہنچنے کے تمام راستوں سے روکا۔ ڈاکٹر شمس الدین سلفی افغانی رحمہ اللہ نے اپنی ڈاکٹریٹ کے رسالہ میں اس طرح کے تمام علما کا ذکر کیا اور اپنے رسالہ کا نام ’’جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية‘‘ رکھا۔
اللہ تعالی نے ان سطور کے کاتب کو بھی اس بات کی توفیق بخشی کہ قارئین کرام کی خدمت میں علماء احناف کی خدمات کو پیش کرے، جو انھوں نے عقیدہ صحیحہ کو پھیلانے اور لوگوں کو شرک وبدعت سے ڈرانے کے سلسلے میں انجام دی ہیں۔
1442/04/01هـ
فصلِ اول : بنیادی تعریفات : توحید، عبادت اور شرک
توحید اور عبادت یہ دونوں مصطلحات مترادف (ہم معنی) ہیں، جن سے مراد ایک اللہ کی عبادت ہے۔ لہذا ایک مسلمان پر ان دونوں کی معرفت اور ان پر ایمان لانا واجب ہے۔ شرک, توحید اور عبادت دونوں کی ضد ہے۔ لہذا ایک مسلمان پر اس کی بھی معرفت واجب ہے، تاکہ اپنے آپ کو اس سے بچائے رکھے۔ اس فصل میں توحید، عبادت اور شرک کی تعریف اہل قبور کے مطابق پیش کی جائے گی اور اس کے بعد ان کی تردید اور صحیح بات کو علماے احناف کے اقوال, جو انبیاے کرام کی تعلیمات کے عین مطابق ہیں, کی روشنی میں پیش کیا جائے گا ۔
مبحث اول : توحید
اہلِ لغت کے نزیدک توحید کی تعریف ہے : کسی چیز کو ایک قرار دینا۔ [1]
[1] دیکھیے کتاب جهود علماء الحنفية : 84۔
قبرپرستوں کے نزدیک توحید کی تعریف :
قبرپرستوں کے دعاۃ و مبلغین نے توحید کی تعریف میں صرف اللہ کے افعال کا ذکر کیا ہے اور بندوں کے افعال کا ذکر نہیں کیا ہے۔ قبرپرستوں نے توحید کی جو تعریفات پیش کی ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں :
توحید کا مطلب ہے یہ اعتقاد رکھنا کہ صرف اللہ تعالی تنہا خالق و مدبر ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی کارساز نہیں ہے۔[2]
[2] دیکھیے کتاب جهود علماء الحنفية :95۔ نیز دیکھیے: إحياء المقبور از أحمد الغماري : 29۔
توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی ذات میں تنہا ہے اور اس کا کوئی حصہ دار نہیں ہے، وہ اپنی صفات میں یکتا ہے اور اس کا کوئی شبیہ نہیں ہے اور وہ اپنے افعال میں اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ [3]
[3] دیکھیے کتاب جهود علماء الحنفية :95۔ نیز دیکھیے : براءة الأشعريين از ابن مرزوق : 164۔ التوسل : 95۔
توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی ذات، صفات اور میں تنہا ہے, نیز اپنى مصنوعات کا خالق ہے۔ [4]
[4] دیکھیے کتاب جهود علماء الحنفية :95۔ نیز دیکھیے : ضوء المعالي للقارئ : 13۔ شرح بابرتي كى شرح طحاويہ : 29۔ اور نعيمي كى شرح طحاويہ : 47 ۔
توحید اس بات کو ثابت کرنے کا نام ہے کہ اللہ تعالی اپنی ذات اور کائنات کی تخلیق کے عمل میں اکیلا ہے اور کائنات کی ہر چیز کا مرجع او رہر قصد کا منتہى ہے۔ اسی کی وضاحت کرنا بعثتِ نبی ﷺ کا مقصد تھا۔ [5]
[5] دیکھیے کتاب جهود علماء الحنفية :95۔ نیز دیکھیے : رسالة التوحيد، از شيخ محمد عبده : 43۔
علماے احناف کے نزدیک توحید کی تعریف :
جب کہ علماے احناف نے بھر پور کوشش کے بعد توحید کی ایک جامع تعریف پیش کی ہے، جو اللہ تعالی کے افعال جیسے پیدا کرنا، رزق دینا، تدبیر کرنا، موت و حیات دینا اور نفع و نقصان پہنچانا کو شامل ہے, اور اسی طرح بندوں کے افعال جیسے دعا کرنا، سجدہ کرنا، رکوع کرنا، مدد طلب کرنا, فریاد رسى کرنا, ذبح کرنا اور نذر ماننا کو شامل ہے۔ یعنی اللہ تعالی کو اس کے افعال میں تنہا ماننا، سو یہ اعتقاد رکہنا کہ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں، اسکے علاوہ کوئی رازق نہیں، اس کے علاوہ کوئی تدبیر کرنے والا نہیں اور اس کے علاوہ کوئی موت و حیات کا مالک نہیں۔ اسی طرح بندوں کے افعال میں بھی اس کى وحدانیت کو ثابت کرنا پس صرف اسی کو پکارا جائے ، اسی کے لیے سجدہ و رکوع کیا جائے، اسی سے مدد طلب کی جائے،اسى سے فریاد رسی کیا جائے, اسی کے لیے ذبح کیا جائے اور اسی کے لیے نذر مانی جائے۔ مذکورہ تعریف کرنے والے کچھ علما اس طرح ہیں :
امام طحاوی (متوفی 321هـ-933ء) احنا ف کے ائمہ ثلاثہ؛ امام ابو حنیفہ (متوفی 150هـ-767ء)، امام ابو یوسف (1متوفی 82هـ-798ء) اور محمد بن حسن شیبانی (متوفی 189هـ-805ء) رحمہم اللہ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے توحید کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں : "اللہ کی توفیق کے ساتھ توحید باری سے متعلق ہم اس اعتقاد کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے، کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی اور اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔"[6]
[6] جهود علماء الحنفية : 88، نیز دیکھیے الطحاوية : 17، النور اللامح شرح الناصري : 18۔ شرح البابرتي : 28۔ شرح الغنيمي : 47۔ شرح محمد طيب : 30۔ شرح خالص : 3۔
امام ولی اللہ دہلوی (متوفی 1176هـ-1762ء) اور ان کی پیروی کرتے ہوئے پٹنی کہتے ہیں : "توحید نام ہے صرف اللہ تعالی کو واجب الوجود ماننے، اسی کو آسمان، زمین اور دیگر جواہر کا خالق ماننے، اسی کو آسمانوں، زمین اور ان دونوں کے درمیان موجود ساری چیزوں کا مدبر ماننے اور اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے عبادت کا مستحق نہ ہونے کا اعتقاد رکھنے کا"۔[7]
[7] جهود علماء الحنفية : 89۔ دیکھیے: حجة الله البالغة : 1/59۔ وفيض الرحمن : 15۔
ناصری (متوفی 652هـ-1254ء)، ابن العز (متوفی 792هـ-1390ء) اور قاري (متوفی 1014هـ-1605ء) نے بیان کیا ہے کہ توحید میں تین چیزیں شامل ہیں : اللہ کی ربوبیت، اس کى صفات اور اس کى عبودیت۔ [8]
[8] جهود علماء الحنفية :90. دیکھیے :النور اللامع : 18،23، وشرح الطحاوية: 74۔ ومنح الأزهر: 14۔ وضوء المعاني: 10۔
ابو الاعلی مودودی (متوفی 1399هـ-1979ء) [9] فرماتے ہیں : ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اس لائق نہیں ہے کہ لوگ اس کی عبادت کریں اور اس کے لیے اطاعت وبندگى کے ساتھ سجدہ کریں ۔ کیوں کہ اس جہاں کا مالک و حاکم بس ایک اللہ ہے، ہر چیز اس کی محتاج ہے اور اس سے مدد چاہنے پر مجبور ہے۔" [10]
[9] ابو الاعلی بن احمد برصغیر ہند و پاک میں جماعت اسلامی کے بانی و مؤسس ہیں۔ مسلکََا حنفی تھے، لیکن حنفی مسلک کے پیروکاروں کے تعصب اور مذموم تقلید کی وجہ سے ان سے عداوت رکھتے اور صوفیوں کے سخت مخالف تھے۔ مسائل میں ماتردیہ کی طرف مائل تھے۔
[10] جهود علماء الحنفية : 91۔ دیکھیے : مبادئ الإسلام : 80۔
مبحث دوم : عبادت
علماے لغت عبادت کے پانچ معانی بیان کرتے ہیں : عاجزی، انکساری، اطاعت، مملوکیت اور بندگی۔[11]
[11] جهود علماء الحنفية : 311۔
قبرپرستوں کے نزدیک عبادت کی تعریف :
عبادت کے متعلق قضاعی (متوفی 1336هـ-1918ء) کا قول : "عبادت کی شرعی تعریف میں وسیلہ اور مدد طلب کرنا وغیرہ جیسی چیزیں شامل نہیں ہیں۔ اس طرح کی چیزیں عبادت سے بالکل مماثلت نہیں رکھتیں۔ ہر وہ چیزٰ جو تعظیم پر دلالت کرتی ہو، وہ عبادت میں اس وقت تک شامل نہیں ہوتی، جب تک اس کے ساتھ تعظیم کردہ شخصیت کی ربوبیت کا عقیدہ یا ربوبیت کے مخصوص اوصاف میں سے کوئی وصف ملا ہوا نہ ہو۔" [12]
[12] جهود علماء الحنفية : 290۔ دیکھیے : البراهين الساطعة : 381۔ الفرقان : 111۔ الرد على بعض المبتد عة از فاسی : 10، حاشیہ كتاب إظهار العقوق وبراءة الأشعريين از ابن مرزوق : 89۔ التوسل از فقی : 16۔ وكشف النقاب از نقوی : 45۔ وجواز التوسل از دحلان : 52۔ وقوة الدفاع : 53۔
فقی کا قول ہے : "مشکرین کافر اور دین حنیف سے خارج اس لیے ہوگئے کہ انھوں نے اپنے اصنام و اوثان کو سجدہ ان کی ربوبیت کے عقیدے کے ساتھ کیا، ان کو مستقل طور پر نفع و ضرر کا مالک سمجھا اور اللہ کے ساتھ ان کی مشیئت کے نافذ العمل ہونے کا عقیدہ رکھا۔ چنانچہ اللہ کے نیک بندووں کی تعظیم ان کے آگے جھکنے کا عمل مذکورہ اعتقاد سے خالی ہو، تو اس کو شرعی لحاظ سے عبادت نہیں کہا جا سکتا"۔ [14]
[13] محمد فقی علماے ازہر میں سے ہیں اور ان کی یہ کتاب قبوریوں کی بدترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ دیکھیے :جهود علماء الحنفية : 1547۔
[14] جهود علماء الحنفية : 294۔ دیکھیے : التوسل والزيارة للفقي : 16۔
نقوی [15] (متوفی 1289هـ-1872ء) کہتے ہيں : "یقینََا وہ مسلمان جو انبیا وصالحین کی قبروں کی زیارت کرتے ہیں، ان کی تعظیم کرتے ہیں، انھیں چومتے ہیں، ان کے گرد چکر لگاتے ہیں اور انھیں چھوتے ہیں، ان میں سے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ انبیا اور صالحین یا ان کی قبریں معبود ہیں اور ان کی عبادت ضروری ہے یا وہ اللہ کے شریک یا اللہ کے علاوہ رب ہیں، بلکہ وہ محض اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے معزز بندے ہیں، جنھوں نے اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل کی اور اعلاے کلمۃ اللہ کى خاطر اپنی جان و مال کو قربان کیا، جس کے سبب اللہ تعالی نے انھیں اپنی جنت سے نوازا اور اپنی جارِ اقدس میں جگہ دی، اس لیے وہ ہماری تعظیم کے مستحق ہیں اور اس لائق ہیں کہ ہم ان کے سامنے جھکیں اور اپنی بے چارگی کا اظہار کریں۔ بلکہ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ ان کی اطاعت و عبادت، اتباع سنت اور جہاد فی سبیلِ اللہ کے سبب اللہ تعالی کے ہاں ان کی خاص قدر و منزلت ہے اور اس کی بنیاد پر ہم ان سے فریاد کریں کہ وہ ہمارے لیے اللہ تعالی سے دعا کریں اور ان کی دعا کے واسطے سے اللہ ہماری ضرورتیں پوری کر دے، تو اس میں کفر و شرک جیسی کوئی بات نہیں ہے۔"[16]
[15] علی نقی بن ابراہیم نقوی عراقی نجفی رافضی وثنی۔ یہ البیت المعمور فی عمارۃ القبور نامی کتاب کا مصنف ہے۔ [دیکھیے : جهود علماء الحنفية : 1818]۔
[16] جهود علماء الحنفية : 293۔ دیکھیے: كشف النقاب : 44۔
عبادت کى تعریف علماے حنفیہ کے نزدیک:
علماے احناف نے عبادت کی کئی تعریفیں کی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں :
عبادت : یہ اعتقاد اور شعور کہ معبود کو علم اور تصرف میں اسباب سے ماورا ایک غیبی تسلط حاصل ہے، جس کی بنا پر وہ نفع ونقصان پر قادر ہے۔ لہذا ہر وہ دعا، ثنا اور تعظیم جو اس اعتقاد کے سرچشمے سے پھوٹتا ہو، وہ عبادت ہے۔[17]
[17] جهود علماء الحنفية : 318۔ دیکھیے : إمداد المفتين از تھانوی : 6/88۔
عبادت نام ہے حد درجہ اطاعت وفرماں برداری کا، جو دلوں میں معبود برحق کی عظمت کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔
[18] جهود علماء الحنفية : 312۔ دیکھیے : مفتاح الجنة از خجندي : 65۔
عبادت : اللہ کی رضامندی اور آخرت کے حصول کے لیے ہر اس فعل کو بجا لانا، جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہو، اور ہر اس فعل سے رک جانا، جس سے اللہ اور اس کے رسول نے رکنے کا حکم دیا ہو۔[19]
[19] جهود علماء الحنفية : 319۔ دیکھیے : فتح المنان ك 442۔
عبادت، ایک ایسا جامع لفظ ہے، جس کے اندر کمالِ محبت، خضوع، خوف، امید اور اطاعت شامل ہیں۔[20]
[20] جهود علماء الحنفية : 321۔ دیکھیے: البصائر : 78۔ اور سمط الدرر : 20۔
عبادت، عابد کی اپنے معبود سے عاجزی و انکساری کے ساتھ حد درجہ محبت کو کہتے ہیں۔[20]
[20] جهود علماء الحنفية : 321۔ دیکھیے : البصائر : 78۔ اور سمط الدرر : 20۔
مذکورہ تعریفوں کی روشنی میں علماے احناف اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ عبادت تین بنیادی چیزوں پر مبنی ہے اور وہ ہیں : محبت، امید اور خوف۔ جب کہ قبرپرست اپنی دعاؤں میں مردوں کو پکارتے ہیں اور ان سے مدد مانگتے ہوئے یا علی، یا حسین، یاغوث، یا شیخ وغیرہ الفاظ استعمال کرتے ہيں۔ حالاں کہ ایسا کرنا صرف اللہ واحد کا حق ہے۔ اس کے علاوہ انبیا وصالحین وغیرہ کو پکارنا دراصل اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا ہے۔
مبحث سوم : شرک
علماے لغت نے شرک کی لغوی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا : دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا کسی معاملے میں دوسرے کے ساتھ جڑا ہونا اور خلط ملط ہونا۔ چاہے وہ معاملہ حسی ہو یا معنوی۔
قبرپرستوں کے نزدیک شرک کی تعریف :
قبرپرستوں نے شرک کی تعریف میں اسی طرح انحراف سے کام لیا ہے، جس طرح انھوں نے توحید کی تعریف میں اںحراف سے کام لیا ہے۔ قبرپرستی کے حامیوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ شرک محض ربوبیت کے اندر شریک ٹھہرانے میں محصور ہے۔ ان کے مطابق شرک یہ ہے کہ بندہ پیدا کرنے، روزی دینے، کائنات کو چلانے اور زندگی و موت دینے میں کسی کو اللہ کا ساجھی مانے اور کسی کے مستقل طور پر نفع و نقصان کے مالک ہونے کا عقیدہ رکھے۔
لہذا غیر اللہ کے ساتھ ہر وہ معاملہ، جس میں اس طرح کا عقیدہ شامل نہ ہو، نہ تو عبادت ہے اور نہ شرک، حتی کہ سجدہ کرنا، مدد مانگنا، نذر ماننا اور ذبح کرنا وغیرہ بھی نہیں۔ قبرپرستوں کے نزدیک شرک کی تعریف کا خلاصہ یہی ہے۔ [22]
[22] جهود علماء الحنفية : 360۔ دیکھیے قبرپرستوں کی تصنیفات : كشف الارتياب از عاملی : 105۔ وكشف النقاب از نقوی : 44۔ كشف الأسرار از خمینی 27۔ ومنهج الرشاد از نجفی : 29۔ البراهين الجلية از طباطبائي : 32۔ البراهين الساطعة از قضاعي : 375۔ التوسل از ابن مرزوق : 20۔ مقالات الدجوي : 1/162۔ حقيقة التوسل از موسى : 141۔ المفاهيم از مالكي : 49۔ الإفهام والإفحام از محمد زكي : 33۔ الرد المحكم از رفاعي : 90۔
علماے احناف کے نزدیک شرک کی تعریف :
جب کہ علماے احناف نے شرک کی تعریف اس سے الگ کی ہے۔ اب ذرا ان کی کی ہوئی تعریف بھی ملاحظہ ہو :
امام ابن أبو العز حنفی (متوفی 792هـ-1390ء) – رحمه الله - فرماتے ہیں : "شرک نام ہے نیک بندوں کو اللہ کے یہاں سفارشی ماننے، انھیں اللہ کے یہاں رسائی کا وسیلہ بنانے اور اس بنا پر ان کی عبادت کرنے کا۔ یہی اہل عرب کا اصل شرک تھا۔ کیوں کہ وہ بتوں کے متعلق یہ اعتقاد نہیں رکھتے تھے کہ وہ خلق اور تدبیر میں اللہ تعالی کے شریک ہیں، بلکہ وہ بھی توحید ربوبیت کے قائل تھے اور اللہ ہی کو اپنا رب مانتے تھے۔" [23]
[23] جهود علماء الحنفية : 361۔ دیکھیے : شرح الطحاوية : 20۔
امام ولی اللہ دہلوی (متوفی 1176هـ 1763ء) - رحمه الله – فرماتے ہیں : "شرک کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی قابل تعظیم آدمی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے کہ اس سے صادر ہوئے آثار عجیبہ (کرامات و کثرت عبادات وغیرہ) صرف اس وجہ سے صادر ہوئے ہیں کہ وہ ان اوصاف کمال میں سے کسی وصف سے متصف ہے، جو انسانوں کے اندر پائے نہیں جاتے اور واجب الوجوب ذات کے ساتھ خاص ہیں۔ دوسرے کے اندر ان اوصاف کے پائے جانے کی بس ایک صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ الوہیت کی پوشاک اتار کر کسی اور کو پہنا دے۔ یہ اور اس طرح کی دوسری بے بنیاد باتوں کا عقیدہ رکھے۔ جیساکہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ مشرکین حج کا تلبیہ اس طرح پڑھتے تھے : ’’اے اللہ! ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں، ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، مگر ایک شریک جو تیرا ہے، تو اس کا اور اس کی ملکیت کا مالک ہے۔‘‘ پھر، اپنی اس قابل تعظیم شخصیت کے سامنے غایت درجہ عاجزی کرے اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے، جو بندے اللہ تعالی کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔"[24]
[24] جهود علماء الحنفية : 362۔ دیکھیے : حجة الله : 1/61۔
شاہ عبد القادر دہلوی (متوفی 1230هـ-1815ء) فرماتے ہیں : "شرک یہ ہے کہ آدمی حق تعالی کی صفات میں سے کسی صفت کو کسی غیر اللہ کے اندر مانے۔ مثلََا یوں کہے کہ فلاں ہر چیز جانتا ہے، فلاں جو چاہے کر سکتا ہے یا فلان کے ہاتھ میں میرا سارا بھلا و برا ہے، یا پھر غیر اللہ کی ایسی تعظیم کرے جو صرف اللہ تعالی کے ہی شایان شان ہے۔ مثلََا کسی کو سجدہ کرے، اس سے اپنی کوئی ضرورت طلب کرے یا اس کے بارے میں اعتقاد رکھے کہ وہ حاجت روائی کرسکتا ہے۔"[25]
[25] جهود علماء الحنفية : 364۔ دیکھیے : موضع القرآن : 1/105۔
امام محمد اسماعیل دہلوی (متوفی 1246هـ1830ء) اور ان کی عبارت کا ترجمہ کرتے ہوئے مولانا ابو الحسن ندوی فرماتے ہیں : "شرک اس پر موقوف نہیں ہے کہ انسان کسی کو اللہ کا ہمسر قرار دے اور دونوں کو بغیر کسی فرق وامتیاز کے برابر سمجھے، بلکہ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ جن چیزوں اور کاموں کو اللہ تعالی نے اپنی ذات عالی کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے اور ان کو عبودیت کا شعار بنایا ہے انسان ان کو انسانوں میں سے کسی فرد کے لیے انجام دے، مثلََا کسی کے لیے سجدہ کرنا اور کسی کے نام سے جانور ذبح کرنا، کسی کو خوش کرنے کے لیے جانور ذبح کرنا، پریشانیوں میں اس سے مدد طلب کرنا اور اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، موجود اور دیکھنے والا ہے اور اس کے لیے کائنات میں تصرفات کوماننا۔ ان ساری باتوں کی وجہ سے شرک ثابت ہوتا ہے اور ان کی وجہ سے آدمی مشرک قرار پاتا ہے۔"[26]
[26] جهود علماء الحنفية : 365۔ دیکھیے : رسالة التوحيد للندوي : 32۔
یہاں اس بات کو واضح کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علماے اہل و سنت و جماعت اور ان کے اندر شامل حنفی علما کسی انسان کے کسی اسلام کے دائرے سے باہر نکال دینے والا کام کرنے پر اسے اس وقت تک کافر نہیں کہتے، جب اس پر حجت قائم نہ ہوجائے۔
علامہ محمود شکری آلوسی (متوفی 1342هـ- 1924ء) فرماتے ہیں : "ایک مسلمان بلکہ پڑھا لکھا شخص بھی غیر شعوری طور پر شرک میں مبتلا ہوسکتا ہے، لہذا اسے متنبہ کردینا اور حقیقت حال سے واقف کردینا ضروری ہے، تاکہ توبہ کر لے۔ اس کے جہل کے سبب اس کے کافر ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ تاکہ حجت قائم ہو جائے اور حق کا راستہ واضح ہو جائے"۔ [27]
[27] جهود علماء الحنفية : 535۔ دیکھیے : غاية الأماني : 1/298۔
انھوں نے مزید فرمایا ہے : اہلِ توحید اس شخص کے علاوہ کسی کو کافر نہيں کہتے، جس کے کافر ہونے کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کردیا ہے۔" [28]
[28] جهود علماء الحنفية : 536۔ دیکھیے : فتح المنان 494۔
موجودہ دور کے قبرپرست پہلے دور کے بت پرستوں سے زیادہ شرک میں ملوث ہیں
بغداد کے احناف کے مفتی امام محمود آلوسی (متوفی 1170هـ-1757ء) سورہ یونس کی آیت :22 کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ پہلے کے مشرکین پریشانیوں میں اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو نہیں پکارتے تھے، لیکن آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آج کے قبرپرستوں کو اگر بحر و بر میں کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے، تو ایسے بے دست و پا کو پکارتے ہیں جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے۔ کوئی خضر کو تو کوئی الیاس کو پکارتا ہے اور کوئی کسی شیخ سے التجا کرتا ہے۔ آپ کو ایک بھی آدمی نہيں ملے گا جو صرف اللہ کو پکارتا اور اس سے التجا کرتا ہو۔ اسے یہ خیال نہیں آتا کہ اگر وہ صرف اللہ تعالی کو پکارتا تو اسے ان پریشانیوں سے نجات مل جاتی۔ اب میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے سوال کرتا ہوں کہ پریشانیوں کے وقت فریاد کرنے کے معاملے میں اہل قبور زیادہ راہ راست پر ہیں یا عہد رسول کے بت پرست؟ نیز بتائیں کہ پریشانیوں میں اللہ تعالی سے مدد طلب کرنے والے مشرک کا طریقہ زیادہ صحیح ہے یا اس قبرپرست کا طریقہ، جو پریشانیوں میں مُردوں سے مدد طلب کرتا ہے؟ ان ناگفبہ بہ حالات کی شکایت ہم اللہ ہی کے دربار میں کرتے ہیں!! اب جہالت کی آندھی چل رہی ہے، ہر طرف گمراہی کی موجیں ہیں، شریعت کے سفینے میں شگاف پڑ چکا ہے، غیراللہ سے فریاد کو نجات کا ذریعہ کا سمجھ لیا گیا ہے، جانکاروں کے لیے بھلائی کا حکم دینا دشوار ہو گیا ہے اور برائی سے روکنے کی راہ میں سینکڑوں دیواریں قائم ہو چکی ہیں۔"[29]
[29] جهود علماء الحنفية : 1172۔ دیکھیے : روح المعاني : 11/98۔
علامہ سہسوانی [30] (متوفی 1326هـ-1908ء) - رحمه الله - فرماتے ہیں : "جب تم نے یہ جان لیا، تو مزید یہ بھی جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں جو مشرکین تھے وہ ہمارے زمانے کے مشرکین کے مقابلے کہیں کم شرک میں ملوث تھے، کیوں کہ وہ مصائب و مشکلات میں صرف اللہ تعالی کو پکارتے تھے اور یہ تنگی و خوش حالی دونوں مٰیں اپنے مشائخ کو پکارتے ہیں۔ والله المستعان۔"[31]
[30] محمد بشير بن بدر الدين بن صدر الدين عمري هندی, معقول ومنقول میں امامت کے درجے پر فائز تھے,اور محدث و فقیہ تھے نیز ان کا شمار کبار علماے حنفیہ تھا۔
[31] جهود علماء الحنفية : 1179۔ دیکھیے : صيانة الإنسان : 419۔
علامہ محمد سلطان معصومی خجندی (متوفی 1379هـ-1959ء) - رحمه الله - فرماتے ہیں : "یہ قبر پرست اپنےمردوں کے متعلق جو اعتقاد رکھتے ہیں وہ اعتقاد مشرکین اپنے بتوں کے متعلق نہیں رکھتے تھے، کیوں کے اہلِ جاہلیت کو جب کوئی تکلیف پہنچتی تو وہ صرف ایک اللہ کو پکارتے تھے، جس کا ذکر اللہ تعالی نے متعدد آیتوں میں کیا ہے۔ جب کہ ان کے بر عکس مُردوں میں اعتقاد رکھنے والے جب بھی انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو وہ مُردوں سے مدد طلب کرتے ہیں، ان کی نذر مانتے ہیں اور ان حالات میں صرف اللہ سے مدد مانگنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔"[32]
[32] جهود علماء الحنفية : 1186۔ دیکھیے : حكم الله الواحد الصمد : 23۔
فصل دوم : توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کے درمیان فرق :
ایک مسلمان پر توحید ربوبیت (اللہ کے افعال) اور توحید الوہیت (بندوں کے افعال) کے درمیان کیا فرق ہے، اس کا علم رکھنا ضروری ہے، تاکہ وہ اللہ کی صحیح معنی میں بندگی کر سکے۔
مبحث اول : علماے احناف کے نزدیک توحید الوہیت کی اہمیت :
امام ابن ابو العز (متوفی 792هـ-1390ء) فرماتے ہیں : جان لیجیے کہ توحید [توحید عبادت] :
پیغمبروں کی اولین دعوت ہے،
ان کے بتائے ہوئے راستے کی پہلی منزل ہے
اور اللہ کی جانب چلنے والے کے کھڑا ہونے کا پہلا مقام ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، تو انھوں نے فرمایا : اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمھارا معبود ہونے کے قابل نہیں۔‘‘ [الأعراف: 59]
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا : ’’تم الله کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمھارا معبود نہیں‘‘۔ [الأعراف : 65]
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا : ’’تم الله کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمھارا معبود نہیں‘‘۔ [الأعراف : 73]
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : ’’تم الله کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمھارا معبود نہیں‘‘۔ [الأعراف : 85]
ارشادِ باری تعالی ہے : ”ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔“ [النحل : 36]
ارشادِ باری تعالی ہے : ’’تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔‘‘ [الأنبياء: 25]
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک کہ صرف اللہ کے معبود برحق ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی نہ دے دیں۔۔‘‘ [صحیح بخاري:1/17 اور صحیح مسلم: 1/53] [33]
[33] جهود علماء الحنفية : 122۔ دیکھیے : شرح الطحاوية : 15-17۔
امام ابو سعود عمادی [34] (ت 982هـ-1574م) فرماتے ہیں : "(وَمَا أُمِرُوا) یعنی ان کافروں کو ان کی کتابوں میں یہ حکم دیا گیا کہ (إِلاَّ لِيَعْبُدُوا إِلَهاً وَاحِداً) بلند شان والے اللہ سبحانہ و تعالی کی عبادت کریں اور اس کے احکامات کی پابندی کریں اور اس کے خلاف کسی اور کے حکم کی اطاعت نہ کریں۔ کیوں کہ اس سے اس کی عبادت میں خلل پڑتا ہے۔ یقینا تمام آسمانی کتابیں اسی بات پر متفق ہیں۔" [35]
[34] ان كا نام محمد بن محمد ہے جو ایک عظیم ترک عالم دين، سلطنت عثمانیہ کے عہد کے ایک عظیم حنفی عالم، بڑے بڑے حكومتي عہدوں پر فائز اور ماتریدی منطقي و فلسفي تھے۔
[35] جهود علماء الحنفية : 126۔ دیکھیے إرشاد العقل السليم : 4/60۔
شیخ غلام [36] (متوفی 1400هـ- 1980ء) فرماتے ہیں : "یقینا یہود و نصاری نے اپنے بزرگوں اور اماموں کو رب بنا لیا اور اللہ تعالی کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرنے لگے، جب کہ تورات و انجیل میں ان کو صرف اللہ سبحانہ و تعالی کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا تھا، کیوں کہ سارے عالم کا متصرف اور حاجات کو پورا کرنے والا وہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے کہ اس سے مدد طلب کی جائے اور مشکلات میں پکارا جائے۔"[37]
[36] شیخ القرآن غلام اللہ خان راولپنڈی ، دیوبندی فرقے کے مشہور و معروف علما میں سے تھے۔ یہ قبرپرستوں پربڑے سخت حملے کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کے اندر نقشبندی صوفی مشائخ کی کئی بے بنیاد عقیدے بچے ہوئے تھے۔
[37] جهود علماء الحنفية : 126۔ دیکھیے جواهر القرآن : 1/435-436۔
انور شاہ کشمیری [38] (متوفی 1352ه-1933ء) فرماتے ہیں : "کلمۂ اخلاص (لا الہ الا اللہ) شرک فی العبادۃ کے استیصال کے لیے ہے, اور اس کا مقصود شرک فی الذات کی نفی نہیں ہے، اور توحید عبادت پر ہی تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت و تبلیغ مبنی ہے، کیوں کہ منکرین ربوبیت یا مشرکین فی الذات ہر زمانہ میں بہت ہی کم تعداد میں رہے ہیں، لہذا اس کلمہ سے مقصود شرک فی العبادۃ ہی کا رد تھا، جیساکہ اللہ تعالی نے ان مشرکین کا قول نقل فرمایا ہے : ’’(وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔‘‘ [الزمر : 3] یعنی اللہ کو تو واحد مانتے تھے، مگر ساتھ ہی یہ سمجھتے تھے کہ معبودان باطل کی عبادت سے اللہ کا تقرب حاصل ہوگا۔ اللہ کی پناہ۔ مزید ارشاد باری تعالی ہے : ’’پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ ہی کو پکار تے ہیں اس کے لیے عبادت کو خالص کر کے۔‘‘ [العنكبوت : 65] ارشادِ باری تعالی ہے : ’’یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے۔‘‘ [الصافات : 35] اللہ تعالی نے "یجحدون" کی بجائے "یستکبرون" کہا۔ معلوم ہوا کہ یہ استکبار تھا، جحود نہیں تھا۔ یعنی اس کلمہ کا سرے سے انکار نہ تھا، کیوں کہ استکبار علم کے بعد ہوتا ہے۔ اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ کفر کے مقابلے کے لیے بھیجے گئے پہلے رسول نوح علیہ السلام تھے۔ ان سے پہلے ایمان کا دور دورہ تھا۔ پھر ان کے بعد ابراہیم علیہ السلام آئے اور قوم نمرود کا مقابلہ کیا۔ یہ لوگ شرک فی العبادۃ میں مبتلا تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تفصیلی دلائل کے ساتھ ان کا زبردست رد کیا۔ اسی بنا پر ملت ابراہیمی سے مراد شرک فی العبادۃ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے"۔[39]
[38] انور شاہ بن معظم شاہ ایک محدث وفقیہ تھے۔ اہل دیوبند کے یہاں انھیں امام العصر کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ جب کہ اہل سنت و جماعت کے نزدیک وہ مسلکا حنفی اور عقیدہ میں ماتریدی نقشبندی تھے۔
[39] جهود علماء الحنفية : 134۔ دیکھیے فيض الباري : 1/104۔
مبحث دوم : قبرپرستوں کا یہ عقیدہ کہ توحید الوہیت اور توحید ربوبیت دونوں بیک وقت ایک ہی ہیں
قبر پرستی کے حامیوں کا دعوی ہے کہ توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ الوہیت ایک ہی ہے اور دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن یہ توحید کی حقیقت سے واضح طور پر ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کی جانب سے جو توحید لائے تھے، وہ توحید الوہیت ہے۔
قبرپرستوں کے چند اقوال اس طرح ہیں : رب اور الٰہ دونوں کے معنی ایک ہیں اور الٰہ ہی رب ہے۔
جن لوگوں نے اس شبہ کو پیش کیا ان میں سے چند لوگ اس طرح ہیں [40] :
[40] دیکھیے کتاب جهود علماء الحنفية :177۔
ابن جرجیس کہتا ہے [41] (متوفی 1299هـ-1882ء) : "رب اور الٰہ دونوں کا معنی اور مفاد ایک ہے۔" نیز اس کا کہنا ہے : "الٰہ اور رب ایک ہے۔" اور "الٰہ ہی رب ہے۔" [42]
[41] داود بن سلیمان حنفی عراق کے قبرپرستوں کا ایک امام۔ اس نے خود کو شرک، بت پرستی اور قبر پرستی کی ترویج کے لیے وقف کر رکھا تھا۔
[42] دیکھیے : جهود علماء الحنفية : 180. نیز دیکھیے : صلح الأخوان : 124،127۔ اور سعادة الدارين : 2/23۔
دحلان [43] (متوفی 1304هـ - 1887ء) نے علماے توحید پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے : "توحید کی دو قسمیں، توحید ربوبیت اور توحید الوہیت بنانا باطل ہے، کیوں کہ توحید ربوبیت ہی توحید الوہیت ہے۔"
[43] احمد زینی دحلان مکہ میں شافعیوں کا مفتی، قبرپرستوں کا امام اور بڑا ہی جھوٹا شخص تھا۔
آگے کہتا ہے : "یہ کہتے ہیں کہ توحید کی دو قسمیں ہیں : توحید ربوبیت اور توحید الوہیت۔ اس کے ذریعہ ان لوگوں نے مسلمانوں کی تکفیر کی ہے۔" [44]
[44] دیکھیے جهود علماء الحنفية : 181۔ اور : الدرر السنية : 40، 41۔
قضاعی کا قول ہے [45] (متوفی 1336هـ-1918ء) : "توحید ربوبیت اور توحید الوہیت لازم ملزوم ہیں۔ وجود اور اعتقاد میں دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے۔"
[45] اس کا شمار قبرپرستوں کے بڑے علما میں ہوتا ہے۔ اس نے بت پرستی کی کھلی دعوت دی۔
اس نے ایک اور جگہ کہا ہے : "لا إله إلا الله" کہنے والا توحیدِ الوہیت اور توحید ِربوبیت دونوں کا بہ یک وقت معترف ہوتا ہے۔" [46]
[46] جهود علماء الحنفية : 185۔ مزید دیکھیے : البراهين الساطعة : 375۔
دجوی [47] (متوفی 1365هـ- 1946ء) کہتا ہے : "توحید الوہیت اور توحید ربوبیت، ان دونوں کے درمیان کس نے فرق کیا ؟ اس فرق کو پیش کرنے والے ابن تیمیہ ہے۔" [48]
[47] یوسف بن احمد مصری کا شمار ازہر کے کبار علما میں ہوتا ہے۔ اس نے بت پرستی کی ترویج کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر رکھا تھا اور توحید اور سلفیت کی دشمنی میں ہمیشہ آگے آگے رہا۔
[48] جهود علماء الحنفية : 182۔ دیکھیے : مقالات الدجوي : 1/248۔ التوسل از ابن مرزوق : 97۔
مبحث سوم : توحیدِ الوہیت اور ربوبیت کے اتحاد کے دعوے داروں پر علماے احناف کا رد
علماے احناف نے اس لا علمی و جہالت کا منہ توڑ جواب دیا اور توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ الوہیت کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کیا۔ اس طرح کے چند علما یہ ہیں :
امام طحاوی (متوفی 321هـ-933ء) حنفیہ کے ائمہ ثلاثہ، امام ابو حنیفہ (متوفی 150هـ-767ء)، امام ابو یوسف (متوفی 182هـ-798ء) اور محمد بن حسن شیبانی (متوفی 189هـ-805ء) رحمہم اللہ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "اللہ کی توفیق کا اعتقاد رکھتے ہوئے, توحید باری سے متعلق ہم اس اعتقاد کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے، کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی اور اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔"[49]
[49] جهود علماء الحنفية : 219۔ دیکھیے عقیدۃ الطحاوية : 17، النور اللامح : 18. شرح ابن آبي العز : 15، 42، 52۔
ان ائمہ کے کلام پر غور کریں۔ ان کے اس قول سے کہ ’’اللہ تنہا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے‘‘ اجمالی توحید کا اثبات اور شرک کی نفی ہوتی ہے۔ ان کے اس قول سے کہ ’’اس جیسا کوئی نہیں ہے‘‘ توحید اسما و صفات کا اثبات ہوتا ہے۔ جب کہ ان کے اس قول سے کہ ’’کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی‘‘ توحید ربوبیت کا اثبات ہوتا ہے اور ان کے اس قول سے کہ ’’اس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے‘‘ توحید الوہیت کا اثبات ہوتا ہے۔ [50]
[50] جهود علماء الحنفية : 219۔
امام ابن ابر العز (متوفی 792هـ-1390ء) – رحمه الله – آخری جملہ کی شرح میں, یہ تحقیق فرماتے ہوئے کہ یہی توحید عبادت ہے, فرماتے ہیں : " طحاوی کا قول: "ولا إله غيره" (اس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے) یہی وہ کلمۂ توحید ہے جس کی دعوت تمام انبیا و رسل علیہم الصلاۃ والسلام نے دی تھی۔" [51]
[51] جهود علماء الحنفية : 220۔ دیکھیے : شرح الطحاوية : 55۔
ابو منصور ماتریدی (متوفی 333هـ-945ء) ارشاد باری تعالى: (مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ) [الأعراف : 59] کی تفسیر میں کہتے ہیں : "یعنی اللہ کے علاوہ کوئی ایسا معبود نہيں ہے، جس کی الوہیت و ربوبیت دلیلوں, حجتوں اور براہین سے ثابت ہوتی ہو۔"[52] ناصری (متوفی 652هـ-1254ء) [53] نے ان کی اس بات کو نقل کیا ہے اور اس سے اتفاق کیا ہے۔
[52] جهود علماء الحنفية : 221. دیکھیے : تأويلات الماتريدي تفسير سورة الأعراف آية 59۔
[53] جهود علماء الحنفية : 221. دیکھیے : النور اللامع : 19۔
محل استشہاد : ماتریدی اور ناصری دونوں کا شمار احناف کے کبار علما میں ہوتا ہے اور دونوں نے توحید الوہیت اور ربوبیت کا صراحتا ذکر کیا ہے اور دوسرے کو پہلے پر عطف کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ربوبیت اور الوہیت دونوں ایک نہیں ہیں۔ [54]
[54] جهود علماء الحنفية : 221۔
شیخ محمود شکری آلوسی (متوفی 1342هـ- 1924ء) فرماتے ہیں : "توحید ربوبیت کا اقرار تمام کفار نے کیا ہے اور بت پرستوں و مجوسیوں کے علاوہ کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی ہے۔ ان دونوں کے علاوہ تمام کافر و مشرک فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ سارے جہاں کا خالق، رازق، مدبر، نفع و نقصان کا مالک اور پناہ دینے والا صرف اللہ واحد ہے۔ اس کے علاوہ کوئی خالق، رازق، مدبر، نفع و نقصان کا مالک اور پناہ دینے والا نہیں ہے، جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے : ’’اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ۔‘‘ [لقمان : 25]
جب آپ نے اس بات کو جان لیا، تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اہلِ توحید اور مشرکین کے مابین اختلاف صرف الوہیت کے مسئلہ کو لے کر تھا اور اول تا آخر سارے رسولوں نے لوگوں کو اللہ کو ایک ماننے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دی ہے۔" [55]
[55] جهود علماء الحنفية : 206۔ دیکھیے : فتح المنان 451۔
مبحث چہارم : کلمۂ توحید ’لا إله إلا الله‘ کا کفر اور اسلام کے درمیان حدِ فاصل ہونا
علامہ خجندی [56] (متوفی 1379هـ-1959ء) رحمہ الله فرماتے ہیں : "آپ جان لیں کہ کلمۂ توحید "لا إله إلا الله" کفر اور اسلام کے درمیان حد فاصل ہے۔ سو جس شخص نے اس کو, اس کے معانی کو جان کر اور اس کا عقیدہ رکھتے ہوے, ادا کیا، وہ مسلمان اور اہلِ جنت میں سے ہے، اور جو یہ کہتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے، اللہ کے علاوہ کوئی رازق نہیں ہے، اللہ کے علاوہ کوئی رب نہیں ہے، اللہ کے علاوہ کوئی موجود نہیں ہے یا اس طرح کے دیگر کلمات کہتا ہے تو وہ نہ تو مسلمان ہے اور نہ اہلِ جنت میں سے۔ یہ کلمات گرچہ صحہح اور برحق ہیں [57]، لیکن انھیں تو مشرکین، مجوس، نصاری اور یہود وغیرہ سارے لوگ کہتے ہیں۔ سوائے مادہ پرست دہریہ لوگوں کے۔ خود قرآن اس کی گواہی دیتا ہے۔ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کے عذاب سے نجات دینے والا، نفع بخش ذکر "لا إله إلا الله" ہے۔ "لا إله إلا الله" کلمۂ اخلاص ہے اور شرک کے منافی ہے۔ یہ کلمۂ تقوی بھی ہے، جو اپنے اقرار کرنے والے کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے بچاتا ہے۔" [58]
[56] خجندی سے یہاں مراد: علامہ محمد سلطان بن اورونا معصومی خجندی ہیںں ان کا شمار احناف کے کبار علما میں ہوتا ہے۔ نقلی اور عقلی علوم میں علامہ تھے۔ بعد میں حدیث سے لگاؤ ہوا۔ روس کی دین دشمنی سے تنگ آکر اپنے دین کو بچانے کے لیے ماوراء النھر کے علاقے سے حرمین کی جانب ہجرت کر لی۔ انھوں نی کئی کتابیں لکھیں، جن میں سے ایک کا نام "حكم الله الواحد الصمد في حكم الطالب من الميت المدد" ہے۔
[57] سوائے "لا موجود إلا الله" کے، کیوں کہ یہ حلول و اتحاد جیسے کفریہ عقیدے کی ترجمانی کرتا ہے۔
[58] جهود علماء الحنفية : 143۔ دیکھیے : مفتاح الجنة : 40، 41، 62۔
علامہ قاری [59] (متوفی 1014هـ-1605ء) - رحمه الله – اس بات کو ثابت کرتے ہوئے کہ کلمۂ اسلام "لا إله إلا الله" ہے، اس کے علاوہ کوئی اور کلمہ نہیں، کہتے ہيں : "انبیا علیہم السلام توحید کی وضاحت کے لیے آئے تھے۔ لہذا سب نے اسی کی دعوت دی اور "لا إله إلا الله" کے اثبات کے لیے دلائل پیش کیے۔ ان کو اس بات کا حکم نہیں ملا تھا کہ اپنی قوموں سے "اللہ موجود" کہیں۔ انھیں اس بات کو واضح کرنے کی پوری کوشش کی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ یہ دراصل ان کے وہم و گمان کا رد تھا، جو کہا کرتے تھے "یہ اللہ کے پاس ہمارے شفارشی ہیں‘‘ [يونس : 18] اور ’’ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب اچھی طرح قریب کردیں۔‘‘ [الزمر : 3] ) [60]۔
[59] علامہ علی بن سلطان محمد ابو الحسن ہروی مکی کا شمار احناف کے کبار علما میں سے ہوتا ہے، جو حدیث اور فقہ کے اچھے عالم تھے۔
[60] جهود علماء الحنفية : 147۔ دیکھیے : منح الأزهر : 7۔
فصل ثالث : فوت شدگان سے مدد چاہنے میں قبرپرستوں کا انحراف اور ان پر رد
قبرپرستوں کا خیال ہے کہ مشکلات کو دور کرنے اور منافع کو حاصل کرنے کے لیے فوت شدگان سے مدد مانگنا ضروری ہے۔ اس چیز کو ثابت کرنے کے لیے ان کے نام نہاد علما نے اس موضوع پر بہت ساری کتابیں لکھی ہیں، جن میں چند یہ ہیں :
مصباح الظلام في المستغيثين بخير الأنام في اليقظة والمنام۔
شواهد الحق في الاستغاثة بسيد الخلق۔
أنوار الانتباه بحل النداء بيا رسول الله۔
بركات الاستمداد۔
تحريض الأغبياء في الاستغاثة بالأنبياء والأولياء۔
نفحات القرب الاتصال بإثبات التصرف للأولياء بعد الانتقال۔
قبر پرستوں کی فوت شدہ لوگوں سے فریاد رسى کرنے کی کچھ مثالیں :
پہلی مثال : احمد رضا خان افغانی (متوفی 1340هـ-1922ء)، جسے عبدالمصطفی کے لقب سے جانا جاتا ہے، نے لکھا ہے : "سید الطائفہ جنید بغدادی (متوفی 298هـ-911ء) دجلہ پر تشریف لائے اور ’یا اللہ‘ کہتے ہوئے اس پر زمین کی طرح چلنا شروع کردیا۔ بعد میں ایک شخص آیا۔ اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی۔ کوئی کشتی اس وقت موجود نہ تھی۔ جب اس نے جنید بغدادی کو جاتے دیکھا تو عرض کیا : میں بھی اس کو پار کرنا چاہتاہوں۔ میں کس طرح آؤں؟ فرمایا : یا جنید یا جنید! کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کہا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا۔ جب بیچ دریا میں پہنچا تو شیطانِ لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ (خود تو ’’یا اللہ‘‘ کہتے ہیں اور مجھ سے ’’یا جنید‘‘ کہلواتے ہیں۔ میں بھی ’’یا اللہ‘‘ کیوں نہ کہوں؟) اس نے ’’یا اللہ‘‘ کہنا شروع کیا تو ڈوبنے لگا۔ چنانچہ وہ چلانے لگا اور جنید کو پکارنے لگا۔ کہنے لگا : "حضرت! میں ڈوب گیا۔" فرمایا : ’’یا جنید یا جنید کہہ۔‘‘ دوبارہ "یا جنید یا جنید" کہنے لگا اور ڈوبنے سے بچ گیا اور ساحل تک پہنچ گیا۔ پھر اس نے جنید سے کہا : اس کا راز کیا ہے کہ آپ ’’یا اللہ‘‘ کہیں تو پارہو جائیں اور میں کہوں تو غوطہ کھاؤں؟ فرمایا : اے نادان! ابھی تو جنید تک تو پہنچا نہیں اور اللہ تک رسائی کی ہوس رکھتا ہے! اللہ اکبر!" [61]
[61] جهود علماء الحنفية : 1057، نیز دیکھیے : الملفوظات : 1/131۔
دوسری مثال : یہاں ایک واقعہ درج کر رہا ہوں، جس سے نبہانی (متوفی 1350هـ-1931ء) نے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے : "میرے آقا محمد حنفی [62] نے اپنا سجادہ سمندر پر بچھایا اور اپنے مرید سے کہا : ’’یا حنفی‘‘ کہو اور چلنے لگو۔ چنانچہ مرید آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ اچانک اس کے ذہن میں آیا کہ میں ’’یا حنفی‘‘ کی بجائے ’’یا اللہ‘‘ کیوں نہ کہوں؟ چنانچہ جیسے ہی ’’یا اللہ‘‘ کہا ڈوبنے لگا۔ یہ دیکھ شیخ نے اس کا ہاتھ تھاما اور اس سے فرمایا : تم حنفی ہو اس بات کو تو تم جانتے ہو، لیکن کیا تم اللہ کو جانتے ہو؟ جب تم اللہ کو جاننے لگو تو اس وقت ’’یا اللہ‘‘ کہنا۔ ان کا شارہ اس بات کی طرف تھا کہ وسیلہ لوگوں کے لیے ضروری ہے۔" [63]
[62] محمد حنفی کا لقب شمس الدین ہے اور ’سلطان‘ سے مشہور ہیں۔ فروعات میں حنفی تھے اور عقیدے کی رو سے وثنى تھے۔ ان کی وفات (متوفی 847هـ-1443ء) میں ہوئی۔ لوگوں نے انھیں غوث اور قطب کا درجہ دے رکھا ہے۔
[63] جهود علماء الحنفية : 1058۔ دیکھیے: شواهد الحق : 447۔
تیسری مثال : امام آلوسی (متوفی 1270هـ-1854ء) نے آیت کریمہ : ’"ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ" [النحل : 54] (اور جہاں اس نے وه مصیبت تم سے دفع کر دی تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں)۔ [النحل : 54] کی تفسیر میں لکھتے ہيں : "یہ آیت اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ آج کل بہت سے لوگوں کا مصیبت کے وقت اللہ کو پکارنے سے گریز کرنا اور ایسے لوگوں پکارنا، جو ان کے تو کجا خود اپنے بھی نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں، ایک بہت بڑی بے وقوفی اور ایک نئی گمراہی ہے، جو قدیم گمراہی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ایسی گمراہی ہے، جس سے آخرت پر ایمان رکھنے والوں کے تو کیا بلکہ خندقوں والے کافروں کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور ان کے چہرے جھک جائیں۔ بچپن میں مجھ سے کسی شیخ نے کہا تھا کہ جب تمھیں کوئی تکلیف پہنچے تو تم ہرگز اللہ تعالی سے مدد طلب نہ کرنا، کیونکہ اللہ تعالی تمھاری جلد مدد نہیں کرے گا اور نہ ہی اللہ تعالی کو تمھارے برے حال کی فکر ہوتی ہے۔ تم گزرے ہوئے اولیا سے مدد مانگنا، کیونکہ وہ تمہاری جلد تکلیف دور کریں گے اور تمہارے برے حال کی انھیں فکر ہوتی ہے۔ ان کی اس بات کو میرے کانوں نے میرے ارادے نے اور میرے آنسوؤں نے ٹھکرا دیا اور میں نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ وہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو اس طرح کی کھلی گمراہی سے محفوظ رکھے۔ [64]
[64] جهود علماء الحنفية : 1059۔ دیکھیے: روح المعاني : 14/166۔
چوتھی مثال : اسے نابلسی حنفی [65] (متوفی 1143هـ-1731ء) نے پیش کیا ہے اور اس سے استدلال کیا ہے : "معروف کرخی اپنے ساتھیوں سے کہا کرتے تھے کہ جب تمہیں اللہ تعالی سے کوئی ضرورت ہو، تو اللہ تعالی کو میری قسم دو اور خود اللہ کو اس کی قسم نہ دو۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ اللہ تعالی کو جانتے نہیں ہیں، لہذا اللہ ان کی دعا قبول نہیں کرے گا۔ ہاں، اگر یہ اللہ تعالی کو جان لیں تو ان کی دعا قبول کرے گا۔"[67]
[65] عبد الغنی بن اسماعیل بن عبد الغنی فلسطینی۔ ایک بڑے صوفی قبوری بزرگ، جو فقہیات میں حنفی تھے۔
[66] یہ: ابو محفوظ معروف بن فیروز بغدادی ہیں۔ صوفیت کے علم برداروں میں سے ایک تھے۔ سنہ (متوفی 200هـ816ء) میں وفات پائی۔
[67] جهود علماء الحنفية : 1063۔ دیکھیے : كشف النور : 20۔
مبحث اول : قرآنی آیات سے دلیل پکڑتے ہوئے قبر پرستوں کا رد
علماے احناف [68] نے قرآن مجید کی بہت سی آیات اور بہت سی احادیث رسول ﷺ سے قبرپرستی کا رد کیا ہے۔ یہاں قرآن کی کچھ آیتیں ملاحظہ ہوں :
[68] دیکھیے : شرح الطحاویہ از امام ابو العز، حجۃ اللہ البالغۃ، ازامام ولی اللہ الدہلوی، سیف اللہ از امام صنع اللہ حلبی، البلاغ المبین از امام محمود نعمان آلوسی، غایۃ الامانی از شکری الوسی، حکم اللہ الواحد الصمد از خجندی، مقدمۃ جواہر القرآن از غلام اللہ وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں“۔ [الفاتحة : 5]۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں، ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں، اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔‘‘ [البقرة: 186]۔
مزید ارشاد ہے: ”اور تمھارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمھاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وه عن قریب ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے“۔ [غافر : 60]۔
مزید ارشاد ہے: ’’جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بےشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔‘‘ [المؤمنون : 117]۔
مزید ارشاد ہے: ’’جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بےشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔‘‘ [المؤمنون : 117]۔
اللہ تعالی نے ان لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے، جو اس کے علاوہ اورروں کو پکارتے ہیں: ’’اگر تم انھیں پکارو تو وه تمھاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے، بلکہ قیامت کے دن تمھارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا۔‘‘ [فاطر : 14]۔
مزید ارشادِ باری تعالی ہے : ’’اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کی ہیں، پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘ [الجن : 18]۔
مزید ارشادِ باری تعالی ہے : ’’پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا کے قابل بن جائے۔‘‘ [الشعراء : 213]۔
مزید ارشاد ہے : ’’اسی کو پکارنا حق ہے۔ جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں، وه ان کی پکار کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں پڑ جائے، حاﻻنکہ وه پانی اس کے منہ میں پہنچنے واﻻ نہیں، ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے۔‘‘ [الرعد: 14]۔
مبحث دوم : احادیث مبارکہ سے دلیل پکڑتے ہوئے قبرپرستی کا رد
وہ احادیث مبارکہ جو صرف اللہ سے دعا کرنے کی تاکید کرتی ہیں، ان کے توسط سے بھی علماے احناف نے قبر پرستی کا رد کیا ہے۔ اس طرح کی کچھ حدیثیں ملاحظہ ہوں :
نبیﷺ کا ارشاد ہے : ”دعا ہی عبادت ہے۔“[69]
[69] سنن أبو داود : 2\161۔ سنن ترمذي : 5/211۔ اور سنن ابن ماجة : 2/1258۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے: کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں؟ کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں؟‘‘[70]۔
[70] صحیح بخاری : 1/384 اور صحیح مسلم : 1/521۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔‘‘[71]
[71] صحیح بخاری : 6/2517 اور صحیح مسلم : 1/91۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ بنو۔‘‘[72]
[72] صحیح مسلم : 4/2052۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ اسی درمیان آپ نے فرمایا : ’’اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھاتا ہوں؛ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو ، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو، تو اللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔‘‘ علماے احناف نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے قبر پرستوں کے عقیدے اور ان کے غیر اللہ سے مدد طلب کرنے کا رد کیا ہے۔[73]
[73] جهود علماء الحنفية : 1107-1115، مزید دیکھیے روح المعاني : 6/128، فتح المنان : 473۔ وغاية الأماني : 2/299، حكم الله الواحد الصمد : 28، مفتاح الجنة : 46، ومفتاح الجنة : 46، وتنشيط الأذهان : 43، والتبيان : 126۔
’’جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس اللہ کا کہ اگر تمھیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے پکارو تو وہ تمھاری تکلیف و مصیبت کو دور کرے، اگر تمھیں قحط سالی اپنی لپیٹ میں لے لے اور تم اسے پکارو تو وہ تمھارے لیے سبزہ (غلہ وغیرہ) اگادے۔‘‘[74]
[74] سنن أبو داود : 4/344۔
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ”بے شک تمھارا رب با حیا اور سخی ہے۔ وہ اپنے بندے کے اپنی بارگاہ میں اٹھے ہوئے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے ہوئے حیا کرتا ہے“۔[75]
[75] سنن ابو داود : 2/156۔
مبحث سوم : علماے احناف کا قبرپرستوں کے فوت شدگان سے استغاثہ کا رد
ان قرآنی آیات اور احادیث رسول کے ساتھ ساتھ علماے احناف نے اپنے اقوال کے ذریعے بھی قبر پرستی کے حامیوں کا رد کیا ہے۔ اس طرح کے کچھ علما یہ ہیں :
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ (متوفی150هـ-767ء) فرماتے ہیں : "کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ تعالی کو اس کی ذات کے علاوہ کسی اور کا واسطہ دے کر پکارے۔ میں اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہوں کہ کوئی کہے : اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عرش کى عزت کا واسطہ دے کر مانگتا ہوں۔ اسی طرح میں اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہوں کہ کوئی کہے : اے پروردگار! میں تجھ سے تیرے نبیوں، رسولوں اور تیرے مقدس گھر کے حق کا واسطہ دے کر مانگتا ہوں۔" [76]
[76] جهود علماء الحنفية : 1123۔ دیکھیے : جهود علماء الحنفية : 1123۔ دیکھیے : زيارة القبور : 47۔ وجلاء العينين از علامہ نعمان آلوسي : 452۔ غاية الأماني : 2/65۔ وفتح المنان : 410. صيانة الأنسان از علامۃ سهسواني : 211۔ البصائر از فنجفيري : 117۔ الكواكب الدرية از رباطي : 126۔
امام قدوری [77] (ت428هـ-1037م) نے مذکورہ عبارت کو امام بشر بن ولید (متوفی 238هـ-852ء) سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو یوسف (متوفی 182هـ-798ء) کو کہتے سنا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے فرمایا : "کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ تعالی کو اس کے علاوہ کسی اور کا واسطہ دے کر پکارے..." اس مکمل عبارت کو انہوں نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے, جس میں انھوں نے مختصر امام کرخی (340هـ-951ء)[78] کی شرح کی ہے۔
[77] ابو الحسین احمد بن محمد بن احمد بغدادی، فقہ حنفی کی مشہور کتاب ’المختصر‘ کے مؤلف ہیں۔ ان کا شمار کبار ائمۂ احناف میں ہوتا ہے۔
[78] جهود علماء الحنفية : 1124۔ دیکھیے : تاج التراجم : 39۔ طبقات الفقهاء : 60۔ كشف الظنون : 2/1634۔ أسماء الكتب از عبداللطيف : 267۔
پھر امام قدوری کی تحریر کردہ مختصر امام کرخی کی شرح سے اسے بہت سے بڑے بڑے حنفی علما نے نقل کیا ہے اور یہ استدلال کیا ہے کہ قبوریوں کا مصیبت کے وقت مردوں سے فریاد کرنے کے جواز کا عقیدہ باطل ہے۔ ساتھ ہی اس سے انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ قبوری لوگ اللہ کی شریعت کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ عقیدے کے باب میں اس امت کے ائمہ اور بطور خاص ائمۂ احناف کے بھی مخالف ہیں۔ اس قول کے ذریعے انھوں نے غیر اللہ سے فریاد کے سلسلے میں قبوریوں کے تمام شبہات اور غیر مشروع توسل کے سلسلے میں ان کے تمام دعووں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔[79]
[79] جهود علماء الحنفية : 1124۔ دیکھیے : زيارة القبور از إمام البركوي : 47۔
امام حصکفی [80] (متوفی 1088هـ-1677ء) نے امام ابو حنیفہ کی اس بات کو, جسے ان سے امام ابویوسف نے روایت کیا ہے, دوسرے الفاظ کے ساتھ, اس طرح نقل کیا ہے: "کسی شخص کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ اللہ تعالی کو اس کے علاوہ کسی اور کا واسطہ دے کر پکارے۔ اللہ تعالی کو پکارنے کے لیے جس طریقے کو اپنانے کی اجازت ہے اور جس کا حکم دیا گیا ہے، اس کا ذکر اللہ تعالی کے اس قول میں ہے : "وَلِلَّهِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا" (اچھے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، لہذا اس کو انھیں ناموں سے پکارو!) [الأعراف : 180]۔ انھوں نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ دعا کرنے والا اس طرح کہے : اے پروردگار! میں تجھ سے تیرے انبیا ورسل علیہم السلام، اولیا اور بیت الحرام کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں۔"[81]
[80] علاء الدین محمد بن علی بن عبد الرحمن دمشقی حصنی کا شمار احناف کے کبار علما میں ہوتا ہے۔
[81] جهود علماء الحنفية : 1125۔ دیکھیے : در المختار حكصفي اور شرح تنوير الأبصار از تمرتاشي : 5/254۔
امام ابن عابدین شامی (متوفی 1252هـ-1836ء) امام ابو حنیفہ کی عبارت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "إلا به" (مگر اسى سے) سے مراد : اس کی ذات، اس کے صفات اور اس کے اسما ہیں۔ [82]
[82] جهود علماء الحنفية : 1126۔ دیکھیے : رد المحتار على الدر المختارت، حاشيۃ ابن عابدين۔
علامہ رستمی نے بھی ابن عابدین کی تائید کی ہے۔ انھوں نے ان کے قول کو نقل کیا، اسے خاموشی سے تسلیم کیا اور اس کے بعد عام طور پر سبھی قبوریوں اور خاص طور پر حنفی قبوریوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : "امام ابو حنیفہ کے اس قول سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دعاؤں میں صرف اللہ کے اسما و صفات کا وسیلہ اختیار کیا جاسکتا ہے"۔ [83]
[83] جهود علماء الحنفية : 1126۔ دیکھیے : التبيان : 172۔
امام ابو جعفر طحاوی فرماتے ہیں : "اللہ تعالی لوگوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے، ضرورتیں پوری کرتا ہے، تمام چیزوں کا مالک ہے، اس کا مالک کوئی نہیں ہے اور پلک جھپکنے کے برابر وقت کے لیے بھی کوئی اس سے بے نیاز نہيں ہو سکتا۔ جو خود کو اللہ سے ذرہ بھی بے نیاز سمجھے گا، وہ کافر اور گنہگار ٹھہرے گا۔"[84]
[84] جهود علماء الحنفية : 1130۔ دیکھیے : العقيدة الطحاوي شرح الألباني : 56۔
مفسر قرآن علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "اس سلسلے میں پختہ بات یہ ہے کہ کسی مخلوق سے فریاد کرنا اور اسے اس معنی میں وسیلہ بنانا کہ اس سے دعا کرنے کو کہا جائے، اس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے، بشرطے کہ جس سے درخواست کی جائے وہ زندہ ہو، لیکن اگر وہ فوت ہو چکا ہو یا وہاں موجود نہ ہو، تو کسی عالم کو اس بات میں کوئی شبہ نہيں ہوگا کہ یہ ناجائز اور ان بدعات میں سے ہے، جنھیں سلف نے نہیں کیا ہے اور جو کسی صحابی سے منقول نہيں ہیں۔ حالاں کہ وہ ہر بھلی چیز کے سب سے زیادہ حریص تھے۔" [85]۔
[85] جهود علماء الحنفية : 1134۔ دیکھیے : روح المعاني : 6/125۔
امام فتنی (متوفی 986هـ-1578ء) نے، جو ایک بڑے حنفی عالم تھے، قبر پرستوں کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے : "بعض لوگ انبیا وصالحین کی قبروں کی زیارت اس لیے کرتے ہیں، تاکہ ان کے قبروں کے پاس نماز ادا کریں، دعائيں کريں اور ان سے ضرورت کی چیزیں مانگیں۔ یہ تمام اعمال ناجائز ہیں [کیوں کہ یہ تمام اعمال عبادت ہیں] اور یقینََا عبادت، حاجتیں مانگنا اور مدد چاہنا یہ صرف اللہ کا حق ہے۔" [86]
[86] جهود علماء الحنفية : 1136۔ مجمع بحار الأنوار : 2/244۔
امام برکوی (متوفی 981هـ-1573ء)، احمد رومی (متوفی 1043هـ-1633ء) اور علامہ خجندی (متوفی 1397هـ-1977ء) نے بھی قبر پرستی اور قبر میں مدفون لوگوں سے مدد مانگنے کا بڑے زور دار انداز میں رد کیا ہے۔ برکوی کہتے ہيں : "زیارت بدعی : اس سے مراد قبروں کى وہ زیارت ہے جس کو کیا جائے, قبروں کے پاس نماز پڑھنے، ان کا طواف کرنے، انھیں چومنے، چھونے، ان کى مٹى سے گالوں کو خاک آلود کرنے, ان کی مٹی لینے، اہلِ قبور کو پکارنے کے لئے، ان سے مدد، رزق، عافیت، اور اولاد مانگنے، قرض کى ادائیگى کروانے, پریشانیوں کو ختم کروانے اور مصیبتوں سے چھٹکارا دلوانے, وغیرہ دیگر حاجات کے لئے، جن کو بت پرست اپنے بتوں سے مانگا کرتے تھے۔ یہ سارے کام حرام ہیں، اس بات میں سارے مسلم ائمہ کا اتفاق ہے۔ یہ سارے کام نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کیے ہیں، نہ کسی صحابی اور تابعین نے اور نہ سارے ائمۂ دین نے کیے ہیں۔ اصل میں یہ بدعی اور شرک پر مبنی زیارت, بت پرستوں سے ماخوذ ہے۔" [87]
[87] جهود علماء الحنفية : 1139. دیکھیے : زيارة القبور : 28، مجالس الأبرار : 126، خزينة الأسرار، ونفائس الأزهار : 157-158، حكم الله الواحد الصمد : 25-26.
امام شاہ اسماعیل دہلوی [88] (متوفی 1246هـ-1830ء) فرماتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مولانا ابو الحسن علی ندوی [89] (المتوفی 1420هـ-1999ء)، اس پس منظر میں کہ قبر میں مدفون لوگوں سے مدد طلب کرنے اور انھیں پکارنے کا شرک مسلم معاشرے میں عام ہو چکا ہے، فرماتے ہيں (الفاظ مولانا ابوالحسن علی ندوی کے ہیں) : "لوگوں میں جہالت اور شرک کے فتنہ کا پھیلنا اور عام ہونا : اس بات کو بخوبی جان لیجیے کہ اس زمانہ میں شرک لوگوں میں بہت پھیل چکا ہے اور اصل توحید نایاب ہو چکی ہے۔ ۔ ۔"
[88] علامہ مجاہد اسماعیل بن عبد الغنی بن ولی اللہ دہلوی۔ ہندستان کے ایک عظیم حنفی عالم۔ بعد میں رفتہ رفتہ اہلِ حدیث ہو گئے تھے۔ سکھوں کے ساتھ ساتھ قبوریوں سے بھی جہاد کیا۔ بالاکوٹ کے میدان میں سکھوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
[89] علامہ علی بن عبد الحی حسینی ندوی۔ قبوریوں سے برسرپیکار رہے۔ اہل بدعت کی ریشہ دوانیوں کے باوجود لوگوں کو خوب فیض یاب کیا۔ لیکن ماتریدیت، نقشبندیت اور دیوبندیت سے متاثر تھے۔
شرک کے مظاہر :
آج (توحید سے بے خبر) اکثر لوگ پیروں، پیغمبروں، اماموں، شہیدوں، فرشتوں اور جنیوں کو مشکل کے وقت پکارتے ہیں، انہی سے مرادیں مانگتے ہیں، انہی کی منتیں مانتے ہیں اور مرادیں بر لانے کے لیے انہی پر نذر و نیاز چڑھاتے ہیں۔ [90]
[90] جهود علماء الحنفية : 1147۔ دیکھیے : تقوية الإيمان از شاه إسماعيل : 19۔ رسالة التوحيد از ندوي : 25-26۔
علامہ محمود شکری آلوسی (متوفی 1342هـ- 1924ء) رحمہ اللہ فرماتے ہیں : "شرعا، فطرۃ اور عقلا یہ محال ہے کہ یہ کامل و پاک شریعت مشکلات و پریشانیوں کے وقت مردوں اور غائبین سے دعا اور مدد طلب کرنے کو مباح کہے۔ جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں : اے مسیح کی والدہ! اللہ کے یہاں ہماری سفارش کردے، اے عیسی! مجھے فلاں چیز عطا فرما یا میرا فلاں کام بنا دے۔ بالکل اسی طرح قبر پرست لوگ اے علی، اے حسین، اے عباس، اے عبد القادر، اے عیدروس، اے بدوی، اے فلاں وغیرہ جیسے ایسے الفاظ کہتے ہیں، جو کسی کو اللہ کے ہم سر قرار دینے اور اسے اللہ کے برابر جاننے کا معنی دیتے ہيں۔ شریعت اس کی اجازت اور اس کے مباح ہونے کا کہیں کوئی اشارہ نہیں دیتی۔ دراصل یہ شرک کا مظہر ہے، جو انسان کو جہنم میں ہمیشہ رہنے کا حق دار بناتا ہے اور اس سے بندہ اللہ کی ناراضگی کا شکار ہوجاتا ہے۔" [91]
[91] فتح المنان تتمة منهاج التأسيس : 445-449۔
فصل رابع : قبرپرستوں کا صالحین اور بزرگوں کی قبروں کے بارے میں غلو اور ان پر رد
دین میں غلو صدیوں سے قبر پرستوں کا شعار رہا ہے۔ وہ ایسے اقوال و افعال پیش کرتے رہے ہیں، جو قرآن و سنت مطہرہ سے متصادم ہوتے ہیں۔ انھوں نے صالحین اور بزرگوں کی شان میں اس قدر غلو کیا کہ یہ شرک اکبر کے مرتکب ہو بیٹھے اور ملت اسلام سے خارج ہوگئے۔ صالحین کی شان میں غلو کرنے کی بعض مثالیں ملاحظہ ہوں۔
مبحث اول : قبر پرستوں کا نبی ﷺ کی شان میں غلو
غلو کی جو شکلیں سب سے زیادہ عام ہیں، ان میں سے ایک ہمارے نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں غلو ہے۔ کچھ لوگوں کا تو یہاں تک دعوی ہے کہ یہ آپ کے ساتھ محبت کی نشانی ہے۔ لیکن وہ اللہ تعالی کے اس قول کو یا تو بھول جاتے ہیں یا پھر جان بوجھ کر بھولنے کی کوشش کرتے ہيں : ’’آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا۔ اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔‘‘ [آل عمران: 31] اللہ کے رسول ﷺ سے حقیقی محبت آپ کی اطاعت اور کتاب و سنت کی اتباع میں پنہاں ہے، شیطان اور اس کی پیروکاروں کے نقش قدم پر چلنے کی روش میں نہیں۔ نبی ﷺ کی شان میں غلو کی چند مثالیں اس طرح ہیں :
پہلی قسم : اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم کےلئے علم غیب کے دعوے میں غلو
قبرپرست یہ دعوی کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وہ سب کچھ جانتے ہیں جو لوحِ محفوظ میں ہے اور وہ سب کچھ جانتے ہیں جسے قلم نے لکھا ہے۔ یہ کہنے والا پہلا شخص بوصیری [92](ت 694هـ-1295م) ہے، جس نے قبوریوں کے یہاں مشہور قصیدہ بردہ مٰیں کہا ہے :
[92] اس شخص سىے مراد: محمد بن سعيد دلاحی صنہاجي صوفي خرافي ہے۔ دیکھیے : الوافي بالوفيات از صفدی : 3/105۔
’’آپ کے فیض سے دنیا و آخرت کا وجود ہے اور آپ کے علوم کا حصہ لوح و قلم کا علم ہے۔‘‘۔[93]
[93] جهود علماء الحنفية : 696. دیکھیے : قصيدۃ بردة۔
قبرپرستوں کا یہ بھی دعوی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا علم پوری کائنات کو گھیرے ہوئے ہے۔ ان میں سے کسی کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی روح سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ آپ اللہ کے عرش، اس کی بلندی، اس کی تہہ، اس کی دنیا و آخرت اور اس کی جنت اور جہنم سے واقف ہیں اور آپ کا علم تمام غیبی ملکوتی معلومات کو محیط ہے۔ [94]
[94] جهود علماء الحنفية : 697. دیکھیے : الكلمة العليا لإعلاء علم المصطفى از مرادآبادي : 14. وجاء الحق از احمد يار خان : 50. وروح البيان از بروسوي۔
دوسری قسم : رسول اللہ ﷺ کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہوئے آپ کو کائنات میں متصرف ماننا
قبرپرستوں کا دعوی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کائنات میں تصرف حاصل ہے۔
اس ضمن میں ان کے چند اقوال اس طرح ہیں : "کائنات کی تمام چابیاں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ مالکِ کل اور آپ قادر مطلق کے نائب اکبر ہیں۔ آپ ہی کلمۃ ’’کن‘‘ کے مالک ہیں۔" [95]
[95] جهود علماء الحنفية : 703۔ دیکھیے : الاستمداد على أجيال الارتداد از بريلوي : 32۔
تیسری قسم : رسول اللہ ﷺ کی برزخی زندگی کے متعلق غلو
قبرپرست حضرات رسول اللہ ﷺ کی برزخی زندگی کے منکر ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ آپ ﷺ کی قبر کی زندگی دنیوی زندگی کی مانند ہے اور آپ ﷺ اپنی قبر میں نماز بھی پڑھتے ہیں۔
نانوتوي (1297هـ-1880م) اور دیوبند کے کبار علما, جیسے گنگوہی (متوفی 1323هـ-1905ء) جو ان کے یہاں امام ربانی کے لقب سے مشہور ہیں، كشميري (متوفی 1352هـ-1933ء) جو ان کے یہاں امام ربانی کے لقب سے مشہور ہیں، تھانوی (متوفی 1362هـ-1943ء) جو ان کے یہاں حكيم الأمت کے لقب سے مشہور ہیں، عثماني (1369هـ-1950م)، اور حسين احمد (1377هـ- 1958 م) جو ان کے یہاں شيخ الإسلام کے لقب سے مشہور ہیںں فرماتے ہیں : "نبی ﷺ اپنی قبر میں اسی طرح زندہ ہیں، جیسے کوئی آدمی لوگوں سے الگ ہوکر چالیس دن کے اعتکاف میں ہو۔ آپ محض روحانی ہی نہیں، بلکہ اپنے جسم کے ساتھ دنیوی زندگی کی طرح حسی طور پر اب تک زندہ ہیں۔ اسی لیے آپ کا مال میراث میں تقسیم نہیں ہوتا اور آپ کی بیویوں سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ آپ زندہ ہیں اور زندہ شخص کا مال بطور میراث تقسیم نہیں ہوتا۔ آپ اپنی قبر میں اذان و اقامت کے ساتھ نماز بھی ادا کرتے ہیں۔" [96]
[96] جهود علماء الحنفية : 713۔ دیکھیے : آب حياة : 2. والكوكب الدري : 1/423۔ وهداية الشيعة : 18۔ واللطائف القاسمية : 4۔ وجمال القاسمي : 13۔ والطهور : 149۔ والحياة النبوية : 2۔ ونقش الحياة : 1/113۔ وفيض الباري : 1/183۔ وتحية الإسلام : 36۔ وفتح الملهم : 1/329۔. وعقائد أهل السنة والجماعة (الديوبندية) از مفتي عبدالشكور : 159۔ اور دیکھیے الشهاب الثاقب : 45۔ و شفاء الصدور از سواتي المديني : 22۔
مبحث دوم : اولیا کے بارے میں غلو
قبر پرستوں نے بعض اولیا کے بارے میں اس قدر غلو کیا کہ انہیں اللہ کی صفت ربوبیت میں شریک کردیا اور اس معاملے میں کفارِ قریش سے دو قدم آگے نکل گئے۔ کفار قریش صرف اللہ کو ہی رب تسلیم کرتے تھے اور بس الوہیت میں شرک سے کام لیتے تھے۔ لیکن یہ قبرپرست ربوبیت اور الوہیت دونوں میں اللہ کے ساتھ (اپنے مزعوم اولیا کو) شریک کرتے ہیں۔ انھوں نے جن لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا، ان میں سے کچھ لوگ اس طرح ہیں :
قادریہ سلسلے کے امام شیخ عبد القادر جیلانی (متوفی 561هـ-1166ء)۔
رفاعی سلسلے کے امام احمد رفاعی (متوفی 578هـ-1182ء)۔
بدوی سلسلے کے امام احمد بدوی (متوفی 675هـ-1276ء)۔
نقشبندی سلسلے کے امام شاہ نقشبند حنفی (متوفی 791هـ-1389ء)۔
اول : قادری سلسلے کے امام شیخ عبد القادر جیلانی [97] (متوفی 561هـ-1166ء) کے بارے میں غلو
[97] شیخ عبد القادر جیلانی ایک حنبلی عالم تھے۔ ان کا شمار نیکوکار علما میں ہوتا تھا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد قبرپرستوں نے بغداد میں واقع ان کی قبر کو بت بنا کر اس کی پرستش شروع کر دی۔
قبرپرستوں کا عقیدہ ہے کہ ربوبیت (کائنات و نظامِ کائنات کی تخلیق و تدبیر) میں عبد القادر جیلانی کو ویسے ہی قدرت حاصل ہے جیسے اللہ تعالی کو۔ عبدالقادر جیلانی کے بارے میں شرک پر مبنی ان کا یہ دعوی دیکھیے : "اے میرے مددگار! تو ہی زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے۔ ’’کن‘‘ اور ’’لا تکن‘‘ (ہوجا اور مت ہو) کا فرمان جاری کرنے کا مقام پہلے رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوا تھا اور پھر آپ سے منتقل ہوکر عبد القادر جیلانی کو ملا۔ عبد القادر جیلانی کو عالم میں باجازتِ الہی تصرف کا حق حاصل ہے، وہ صاحب اختیار ہیں اور عالم کے نظام کو چلاتے ہیں۔" [98]
[98] جهود علماء الحنفية : 729۔ دیکھیے : حدائق بخشش از بريلوي : 125، 2/7، 1/23. اور بريلويت : 71۔
دوم : رفاعی سلسلے کے امام احمد رفاعی [99] (متوفی 578هـ-1182ء) کے بارے میں غلو
[99] احمد بن علی بن احمد مغربی بطاعی واسطی عراقی رفاعی۔ ان کو رفاعی صوفی اپنا امام مانتے ہیں ، جو ان کے بعد بت پرستی، شعبدہ بازی، زندیقیت اور الحاد کے راستے پر چل پڑے تھے۔ ان کی قبر عراق کے واسط گاؤں میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رفاعی اپنے آپ میں ایک نیک آدمی تھے، لیکن ان کے پیروکاروں میں زندیقیت پھیل گئی۔
قبرپرستوں نے رفاعی کے سلسلے میں بھی غلو سے کام لیا اور ان کی طرف ایسی چیزوں کو منسوب کردیا، جن سے ان کا کوئی لینا دینا نہيں ہے۔ ان کے کچھ غلو آمیز اقوال اس طرح ہیں : "رفاعی, اولا زمین میں قطب الاقطاب تھے، پھر آسمانوں کى قطبیت ان کو مل گئى اور آخر کار ساتوں آسمان ان کے پیر میں پازیب کی طرح بن گئے۔"
ان کے بارے میں رفاعیوں کا ایک اور قول ہے : "وہ غریب اور امیر بناتے تھے، خوش بخت اور بد بخت بناتے تھے، موت اور زندگی دیتے تھے اور ساتوں آسمان ان کے پیر میں پازیب کی طرح ہیں۔" [100]
[100] جهود علماء الحنفية : 734۔ دیکھیے : الرفاعية از دمشقي عن ترياق المحبين : 9۔ لطائف المنن : 491۔ قلادة الجواهر : 42۔ التاريخ الأوحد : 107۔ اور دیکھیے شيخ رشيد رضا کے وہ اقوال جو انھوں نے رفاعی سلسلے کی کتابوں سے متعلق کہے ہیں اور جن کا ذکر صيانة الإنسان کی تعلیق صفحہ: 448 میں موجود ہے۔
سوم : بدوی سلسلے کے امام احمد بدوی [101] (675هـ-1276م) کے بارے میں غلو
[101] ابو العباس احمد بن علی مغربی مصری خرافات کا پرچارک۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خیالی اور غیر حقیقی شخصیت تھا۔ اس کے باوجود بہت سے صوفیوں نے اس کی قبر کو اس جہاں کا رب بنادیا۔
احمد بدوی کی شخصیت امت مسلمہ میں حد درجہ خرافات اور من گھڑت باتوں سے بھری ہوئی شخصیت ہے۔ عقیدت مندوں نے اس کی تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ اسے اللہ عز وجل کی طرح کائنات میں حق تصرف رکھنے والا رب بنا دیا۔ اس کی تقدیس کے قصیدے پڑھنے والوں میں ایک غالی اور خرافاتی شخص شعرانی[102] (متوفی 973هـ-1566ء) ہے، جو مولد بدوی میں شرکت کے بارے میں کہتاہے : "ہر سال ان کی پیدائش کے دن میرے حاضر ہونے کا سبب یہ ہے کہ میرے شیخ عارف باللہ محمد شناوی نے، جو بدوی گھرانے کے ایک فرد ہیں، مجھ سے گنبد میں احمد بدوی کے روبرو عہد لیا، مجھے اپنے ہاتھوں سے ان کے حوالے کردیا اور قبر سے ان کا مبارک ہاتھ نکل کر میرے ہاتھ کو پکڑ لیا۔ اس موقعے پر شناوی نے کہا : ’’اے میرے آقا! اس کو اپنے دل میں جگہ دیجیے اور اپنی نگرانی میں رکھیے۔‘‘ [شعرانی کہتا ہے کہ] میں نے احمد بدوی کو قبر سے ’’ہاں‘‘ کہتے ہوئے سنا۔" شعرانی آگے کہتا ہے : "میں نے احمد بدوی کو مصر میں دوبارہ دیکھا۔ اس کے بعد بھی ان کو دیکھا۔ انھوں نے مجھے طنطا کی جانب قحافہ پل پر روکا۔ وہاں ایک دائرہ نما دیوار تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ یہاں رک جاؤ اور جسے چاہو میر ے پاس آنے دو اور جسے چاہو روک لو۔" [103]
[102] عبدالوهاب بن احمد بن علي شعراني۔ ایک وثن پرست صوفی و ملحد۔ قاہرہ میں فوت ہوا۔ کفر و الحاد پر مبنی چند کتابیں لکھیں۔
[103] جهود علماء الحنفية : 743-752۔ دیکھیے : الطبقات الكبرى المسماة بلواقح الأنوار في طبقات الأخيار از شعراني :1/183۔
چہارم : نقشبندی سلسلے کے امام شاہ نقشبند بخاری [104] (متوفی 791هـ-1389ء) کے بارے میں غلو
[104] خواجہ بهاء الدين محمد بن محمد اويسی۔ نقشبندی سلسلے کا امام۔ قبرپرستوں نے اس کے بارے میں اس حد تک غلو کیا کہ اسے اللہ عز وجل کی طرح کائنات میں حق تصرف رکھنے والا رب بنا دیا۔
نقشبندی فرقہ ماوراء النہر کے علاقوں، خراسان، ترکستان، ایشائے کوچک، افغانستان اور بھارت میں زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ موجودہ دور کے تبلیغی، دیوبندی اور فنجفیری وغیرہ اسی فرقے کی نئی شاخیں ہیں۔ قبوری نقشبندیوں نے اس آدمی کے بارے میں اتنا غلو سے کام لیا کہ اسے مقام ربوبیت تک پہنچا دیا۔
اس کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں، اس کا ایک نمونہ ملاخظہ ہو : "شاہ نقشبندی ’’غوث اعظم، غوث خلیفہ، قطب حقیقت اور غوث سبحانی ہیں۔‘‘ وہ زندگی اور موت دیتے تھے۔ وہ چاہیں تو پہاڑ کو سونا بنادیں۔ اگر وہ اپنی آستین کو حرکت دیں تو سارے اہل بخاری کو اپنا شائق اور گرودہ بنادیں، پھر سب اپنے گھر و دکان چھوڑ کر ان کی خدمت و عقیدت میں لگ جائیں۔" [105]
[105] جهود علماء الحنفية : 754۔ دیکھیے : المواهب السرمدية از کردی : 108۔ والحدائق الوردية از خانی : 125۔ والأنوار القدسية از سنہوتی :1126۔ والسبع الأسرار از محمد معصوم عمری : 4۔ والبهجة السنية از خانی : 65۔ والقصيدة في السلسلة المجددية النقشبيندية از ترہتی مع حاشیہ كشف الأستار از ابو تراب سندھی : 98۔ جامع كرامات الأولياء از نبہانی : 1/251۔
مبحث سوم : عام اولیا کے بارے میں غلو
قبرپرستوں کے بے دلیل اور بے بنیاد دعووں میں سے ایک دعوی یہ ہے کہ اولیا میں ربوبیت اور الوہیت کی خصوصیات موجود ہیں۔ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ قطب اور غوث کی نظر لوحِ محفوظ پر ہوتی ہے اور وہ ان امورِ خمسہ کو جان لیتے ہیں جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب قرآنِ مجید میں کیا ہے؛ یعنی : قیامت کا وقت، نزولِ باراں کا وقت، مادرِ رحم میں موجود جنین کا علم اور یہ علم کہ کون کب اور کہاں مرے گا؟
ان کا بھی دعوی ہے کہ : "اولیا لوحِ محفوظ کو دیکھتے ہیں۔
اولیا اللہ کے کے بچے ہیں، جو غیب و حاضر کا علم رکھتے ہیں۔
اولیا پر ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے اور مستقبل میں جو کچھ ہونے والا ہے اور لوح محفوظ کے سارے علوم منکشف ہوتے ہیں۔ وہ اپنی قبروں میں ابدی زندگی جی رہے ہیں اور ان کا علم و ادراک اور ان کی سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں دنیوی زندگی سے کہيں زیادہ مضبوط ہیں۔" [106]
[106] جهود علماء الحنفية : 760۔ دیکھیے : طبقات الشعراني : 1/160. اور تقويم الدين از افغانستان کے علما کی ایک جماعت : 175۔ بهار شريعت از امجد علي : 55۔
مبحث چہارم : قبرپرستوں کے غلو کے ابطال اور ان کی تردید میں علما احناف کی کوششیں
علماے احناف نے قبرپرستوں کے باطل عقائد کا رد کیا ہے، ان کے دعووں کی دھجیاں اڑائی ہیں اور ان کے خلاف دلیلیں پیش کی ہیں۔ کبھی قرآنی آیات اور احادیث نبویہ سے استدلال کیا ہے اور کبھی سلف کے ان اقوال سے استشہاد کیا ہے، جو کتاب و سنت کی توضیح و تشریح کرتے ہيں۔ ان کی کتابوں کے کچھ ردود ملاحظہ ہوں :
قرآن کریم سے استدلال
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں غلو نہ کرو اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شده) ہیں، جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں۔‘‘ [النساء : 171]
مزید ارشاد ہے: ’’کہہ دیجیے : اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راه سے ہٹ گئے ہیں۔‘‘ [المائدة : 77]
زمخشری (متوفی 538هـ-1144ء)، نسفي (متوفی 710هـ-1310ء)، عمادي (متوفی 982هـ-1574ء)، اور آلوسي (متوفی 1170هـ-1757ء) فرماتے ہیں (الفاظ آلوسی کے ہیں) : " {لا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ} یعنی حد سے تجاوز نہ کرو۔ اس میں نصاری کو عیسی علیہ السلام کی تعظیم کے نام پر انھیں رسالت کے مرتبے سے اونچا کرنے سے روکا گیا ہے اور اسی طرح ان کی ماں مریم علیہا السلام کو مقام صدیقیت سے اونچا کرنے سے روکا گیا ہے۔ اس میں یہودیوں سے بھی کہا گیا ہے (اگر وہ اس کے خطاب میں داخل ہيں تو) کہ عیسی علیہ السلام کی تنقیص اور ان کی والدہ پر بے بنیاد الزامات لگاکر حد سے تجاوز نہ کریں۔ ساتھ ہی انھیں اہل کتاب کے عنوان سے ذکر اس بات کی جانب اشارہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ ان کی کتاب کے اندر بھی انھیں غلو سے روکنے کی تعلیم موجود ہے۔" [107]
[107] جهود علماء الحنفية : 817۔ دیکھیے : الكشاف : 1/584۔ والمدارك : 1/381۔ وإرشاد العقل : 2/259۔ وروح المعاني : 6/210۔
سنت مطہرہ سے استدلال
دین میں غلو سے ڈرانے کے لیے علماء احناف نے احادیث سے بھی استدلال کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ”تم دین میں غلو سے بچو، اس لیے کہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا ہے“۔[108]
[108] سنن نسائي : 5/268، سنن ابن ماجه : 2/1008۔ صحيح سنن نسائی : 2/640 اور صحيح سنن ابن ماجه : 2/177۔
رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا ہے : ’’میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض ایک بندہ ہوں۔ اس لیے یوں کہو کہ یہ اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔‘‘[109]
[109] صحيح بخاری : 3/1271۔
دین میں غلو کی تردید پر مبنی علماے احناف کی وضاحتیں
علماے احناف نے بڑے مضبوط انداز میں قبوریوں کی مخالفت کی ہے اور دین میں غلو کو غلط ٹھہرایا ہے۔ ان کے کچھ اقوال ملاحظہ ہوں :
امام محمود آلوسی (متوفی 1170هـ- 1754ء)، ان کے بیٹے نعمان آلوسی (متوفی 1317هـ-1899ء)، ان کے پوتے شكري آلوسي (متوفی 1342هـ-1924ء)، شيخ غلام الله (جنھیں احناف نے شيخ القرآن کا لقب دیا ہے)، علامہ رباطي اور علامہ رستمي فرماتے ہیں : "اللہ تعالی کے قول : ’’إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَاباً‘‘ (تم جن لوگوں کو اللہ کے علاوہ پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہيں کر سکتے) [الحج : 73] میں ان لوگوں کی مذمت کی طرف اشارہ ہے، جو اولیا کے حق میں غلو کرتے ہیں، ان سے مصیبتوں میں مدد طلب کرتے ہیں، اللہ سے غافل رہتے ہیں اور ان کے لیے منتیں مانتے ہیں۔ میں نے اس طرح کے اکثر لوگوں کو اولیا کی قبروں کی چوکھٹ پر سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ اولیا کے لیے قبروں کے اندر مکمل تصرف ثابت کرتے ہیں اور جب ان سے دلیل مانگی جاتی ہے، تو کہتے ہیں کہ یہ کشف سے ثابت ہے۔ انھیں اللہ غارت کرے۔ یہ کس قدر جاہل اور افترا پرداز ہیں! اس طرح کی ساری باتیں بے بنیاد ہیں۔ کتاب و سنت اور سلف امت کے کلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ ان لوگوں نے عوام کے سامنے دین کی غلط شکل پیش کی ہے اور یہود و نصاری نیز دہریوں کے یہاں مزاق کا موضوع بن گئے ہیں۔ اللہ ہم سے درگزر کرے اور امن و عافیت سے رکھے۔" [110]
[110] جهود علماء الحنفية : 824۔ دیکھیے : روح المعاني : 17/212 جلاء العينين : 490۔ غاية الأماني : 2/312۔ جواهر القرآن : 2/748۔ الكواكب الدرية : 59۔ اورتنشيط الأذهان : 43۔
علامہ محمود شکری آلوسی (متوفی 1342هـ- 192ء) فرماتے ہیں : "اگر تعظیم میں مبالغے کا مطلب وہ مبالغہ ہو، جسے ہر آدمی اپنے خیال کے مطابق تعظیم سمجھتا ہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی قبر کا حج کرنا، اسے سجدہ کرنا، اس کا طواف کرنا، آپ ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ ﷺ غیب کا علم رکھتے ہیں، آپ ﷺ کسی کو کچھ عطا کر سکتے ہيں، کسی فریاد کرنے والے کو نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں، مانگنے والوں کے ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں، مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت دور کر سکتے ہیں، جس کے بارے میں چاہیں سفارش کر سکتے ہيں اور جسے چاہیں جنت میں داخل کر سکتے ہیں۔ اس تعظیم میں مبالغہ کا دعوی دراصل شرک میں مبالغہ ہے اور دین سے کلیۃ نکل جانا ہے۔" [111]
[111] جهود علماء الحنفية : 825۔ دیکھیے : فتح المنان : 396۔ یہ عبارت اصل میں ابن عبدالہادی کی ہے، جو انھوں نے قبرپرستوں کے امام سبکی کے رد میں لکھی ہے۔ دیکھیے : الصارم المنكي : 464۔
علامہ خجندی (متوفی 1379هـ-1959ء) فرماتے ہیں : "اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی خاطر شیطان کی ایک پرانی اور نئی چال یہ رہی ہے کہ وہ صالحین کی تعظیم و توقیر کے نام پر وسیلہ و سفارش وغیرہ کے چولے میں ان کے اندر شرک کو داخل کرتا ہے۔ شرک کرنے والا کوئی بھی ہو، وہ مشرک ہے۔ چاہے مانے یا نہ مانے۔ غیر اللہ سے دعا اور مدد طلب کرنا بھی شرک ہے۔ جو غیر اللہ سے دعا کرے وہ سب سے بڑا گمراہ ہے۔ اولاد آدم کا اپنے دین کو چھوڑنے کا ایک بنیادی سبب نیک لوگوں کے بارے میں غلو، انھیں سفارشی سمجھنا اور ان سے پناہ طلب کرنا ہے، حالانکہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور ان لوگوں سے غافل ہیں۔ نہ ان کی بات سن سکتے ہيں اور نہ ان کی مراد پوری کر سکتے ہيں۔"۔ [112]
[112] جهود علماء الحنفية : 827. دیکھیے : حكم الله الواحد الصمد : 26، 33۔
فوت شدہ لوگوں کو عالم برزخ میں دنیوی زندگی حاصل ہونے کے قبوریوں کے عقیدے کے رد میں علماے احناف کے واضح بیانات :
قبرپرستوں کے باطل عقائد کے رد میں علماے احناف کی بڑی کوششیں رہیں ہیں۔ انہیں کوششوں کا ایک حصہ قبوریوں کے اس عقیدہ کا رد بھی ہے کہ مردوں کو قبر کے اندر دنیوى زندگی جیسی زندگی حاصل رہتی ہے۔ اس طرح کے علما کے کچھ اقوال یہاں نقل کیے جا رہے ہیں :
امام نسفی (متوفی 710هـ-1310ء) آیت کریمہ "بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ" (بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔) [البقرة : 154] کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "تم اس کو جاننے سے قاصر ہو، کیوں کہ تم شہید کی زندگی کو حسی طور پر نہیں جان سکتے۔"
[113] جهود علماء الحنفية : 831. دیکھیے : المدارك : 102۔
امام ابو سعود عمادی [34] (متوفی 982هـ-1574ء) فرماتے ہیں : "لیکن تم ان کی اس برزخی زندگی کو سمجھ نہیں سکتے۔ اس آیت میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اس زندگی کو جسمانی زندگی کے ظاہری حواس سے محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک روحانی جقیقت ہے، جس کا ادراک عقل نہیں، بلکہ وحی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔" [114]
[114] جهود علماء الحنفية : 832۔ دیکھیے : إرشاد العقل السليم :1/179۔
امام انو منصور ماتریدی (متوفی 333هـ-945ء) نے کہا ہے : "ارواح شہدا کے علم کا تعلق غیب سے ہے۔" [115]
[115] جهود علماء الحنفية : 832. دیکھیے : تأويلات أهل السنة : 1/287۔
امام آلوسی (متوفی 1170هـ-1757ء)، جو بغداد میں حنفیہ کے مفتی تھے، فرماتے ہیں : "یعنی تم حواس کے ذریعے ان کے حال کا احساس اور ادراک نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ اس کا تعلق برزخ کے احوال سے ہے، جن سے آگاہ ہونے کی کوئی صورت نہيں ہے اور ان کو جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر ہے تو بس وحی کا راستہ۔ ساتھ ہی یہ کہ ارواح -اگرچہ جواہر ہیں اور بذات خود قائم ہیں- اس جسم سے بالکل الگ ہیں جسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کا اس برزخی بدن سے تعلق ہونے میں کوئی رکاوٹ نہيں ہے، جو اس کثیف بدن سے بالکل الگ ہے۔" [116]
[116] جهود علماء الحنفية : 832۔ دیکھیے : روح المعاني : 2/21،20۔
علماے احناف کے اس عقیدے: کہ مردے ان سے فریاد کرنے والوں کی فریاد سنتے ہیںں, کی تردید میں واضح اقوال :
علماے احناف نے قبوریوں کے اس دعوے کو بے بنیاد بتایا ہے کہ مردے مصیبت کے وقت ان سے فریاد کرنے والوں کی فریاد سنتے ہیں۔ اس طرح کے کچھ علما کے نام اور ان کے اقوال ملاحظہ ہوں :
مولانا گنگوہی (متوفی 1323هـ-1905ء) فرماتے ہیں : مردوں کے سننے کا انکار کرنے والے، جن میں عائشہ رضی اللہ عنہا، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ شامل ہیں، اللہ تعالی کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں : “إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى” (اے نبی! یقیناً آپ مردوں کو سنا نہیں سکتے)۔ کیوں کہ جب اللہ نے سن نہ سکنے کے معاملے میں کفار کو مردوں کے مشابہ قرار دیا، تو اس سے معلوم ہوا کہ مردے سنتے نہیں ہیں۔ ورنہ تشبیہ صحیح نہیں ہوگی۔" [117]
[117] جهود علماء الحنفية : 847۔ دیکھیے : الكوكب الدري : 319۔ والحجرية : 2/197۔
امام نسفی (متوفی 710هـ-1310ء) اسی آیت کی تفسیر میں ’’صم‘‘ یعنی بہرے کو پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی قید سے مقید کرنے کا فائدہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : "اگر آپ یہ کہیں کہ بہرا اگر اس سے کچھ کہا جائے تو نہ آتے ہوئے کچھ سن سکتا ہے اور نہ جاتے ہوئے کچھ سن سکتا ہے۔ تو پھر اس تخصیص کا کیا فائدہ؟ تو میں یہ کہوں گا کہ اگر بہرا آ رہا ہو تو علامت اور اشارے سے سمجھ سکتا ہے، لیکن اگر جا رہا ہو تو نہ سن سکتا ہے اور نہ اشارے کو سمجھ سکتا ہے۔" [118]
[118] جهود علماء الحنفية : 848. دیکھیے : المدارك : 3/20۔
شیخ محمد حسین نیلوی اور محمد بندیالی (دونوں معاصر علماے احناف میں سے ہیں) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں (الفاظ نیلوی کے ہيں) : ’’یا اس شخص کی مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی۔ وه کہنے لگا : اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟ تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا سو سال کے لیے۔ پھر اسے اٹھایا۔ پوچھا : کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا : ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ فرمایا : بلکہ تو سو سال تک رہا۔ ۔ ۔‘‘ [البقرة : 259] "معلوم ہوا کہ اس طویل عرصے کے دوران عزیر علیہ السلام کو کچھ معلوم نہ ہوا۔ انہوں نے نہ سورج کو طلوع ہوتے دیکھا نہ غروب ہوتے۔ نہ محل، نہ ستارہ، نہ بادل، نہ بارش محسوس کی، نہ بجلی کے گرج کی آواز سنی اور نہ رات ودن کے گزرنے کا احساس کیا۔ نہ گرمی محسوس کی اور نہ سردی کی شدت۔ اگر ہم یہ کہیں کہ انہوں نے ان چیزوں کو محسوس کیا تھا، تو جھوٹ لازم آئے گا۔"[119]
[119] جهود علماء الحنفية : 850۔ دیکھیے : شفاء الصدور : 18۔
پانچویں فصل : قبروں پر عمارت بنانے کی بدعت اور اس کے لئے پیش پیش رہنا
قبروں پر پختہ عمارت بنانے کا شمار بہت ہی خطرناک بدعات میں سے ہوتا ہے۔ اس نے بہت سارے مسلمانوں کو توحیدِ خالص سے دور کردیا ہے اور انھیں جانے ان جانے میں شرکِ اکبر کا مرتکب بنادیا ہے۔ اسی لیے علماے حق نے اس بڑے نقصان سے روکنے اور اس سے آگاہ کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ اس کام کو انجام دینے میں دیگر علما کے ساتھ علماے احناف بھی شامل رہے ہیں۔ اس فصل میں قبرپرستوں کے عقیدے کا ذکر کیا جائے گا، جو اس بات کے قائل ہیں کہ قبروں پر عمارت اور گنبد وغیرہ بنانا جائز ہے اور اس کے بعد قبرپرستوں کی تردید میں علماے احناف کی کوششوں کا بھی ذکر کیا جائے گا۔
مبحث اول : قبروں پر عمارت بنانے کے سلسلے میں قبرپرستوں کا عقیدہ
قبرپرستی کے حامیوں کا عقیدہ ہے کہ قبروں پر عمارت بنانا جائز ہے۔ انھوں نے اپنے عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے کئی کتب و رسائل تحریر کیے۔ ان میں سے کچھ گمراہی کی راہ دکھانے والے مصنفین اس طرح ہیں :
سنمودی (متوفی 1326هـ-1908ء کے بعد) نے ایک مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا : "دلائل کی روشنی میں مذاہب اربعہ کے نزدیک قبروں پر عمارت بنانے کی حقیقت" [120]
[120] جهود علماء الحنفية : 1613. دیکھیے : كشف الارتياب 357-408۔
حسن عاملی عراقی (متوفی 1371هـ-1952ء) نے نویں فصل کا اضافہ کیا اور اس کا عنوان یہ قائم کیا : "نویں فصل : قبروں کو پختہ بنانا، ان پر تعمیر کرنا، گنبد بنانا، صندوق رکھنا اور چادر چڑھانا۔" [121]
[121] سابقہ حوالہ۔
کوثری حنفی قبوری (متوفی 1371هـ- 1952ء) نے بھی ایک مقالہ لکھا، جس کا عنوان تھا : "قبروں پر مساجد بنانا اور ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا" [122]
[122] جهود علماء الحنفية : 1614. دیکھیے : مقالاتِ كوثري : 156-159۔
بنوری دیوبندی حنفی قبوری (متوفی 1397هـ-1977ء) نے مقالات کوثری پر ایک مقدمہ لکھا، جس میں کوثری کی تعریف میں مبالغہ سے کام لیتے ہوئے توحیدِ خالص کی دعوت دینے والے علماے حق اور ان کی کتابوں کی توہین کی۔ انھوں نے امام ابن خزیمہ کی کتاب ’’کتاب التوحید‘‘ اور عبداللہ بن امام احمد کی کتاب ’’السنۃ‘‘ اور بشر المریسی پر دارمی کے رد پر شدید حملے کیے اور ان کتابوں کو بت پرستی کے راستے پر لے جانے والی کتابیں قرار دیا۔ دراصل خود ایک بت پرست نے علماے سنت پر بت پرستی کا الزام لگایا۔ [123]
[123] جهود علماء الحنفية : 1614. دیکھیے :مقدمة البنوري لمقالات الكوثري۔
کوثری نے ابو عبد اللہ محمد بن خلیفہ [124] کی بات نقل کرتے ہوئے اور قبروں پر مسجد اور گنبد بنانے کے جواز کے دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے : "اگر کوئی شخص کسی صالح انسان کی قبر کے پاس مسجد بنائے یا اس کے آثار سے برکت حاصل کرنے کے ارادے سے اور وہاں دعا قبول ہونے کی امید میں اس کے مقبرے میں نماز پڑھے، تو اس میں کوئی حرج نہيں ہے۔"[125]
[124] ابو عبد اللہ محمد بن خلیفہ وشتانی مغربی مالکى قبوری (متوفی 828هـ- 1425ء)۔
[125] جهود علماء الحنفية : 1615. دیکھیے : إكمال الإكمال : 2:234. اور مقالات الكوثري : 157۔
اسی طرح کوثری نے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے اور ان پر عمارتیں بنانے اور اس عمل کی دعوت دینے کے جواز پر نابلسی حنفی قبوری (متوفی 1143هـ- 1731ء) کے کلام سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے : "اگر کوئی کسی صالح انسان کے پاس مسجد بنائے، اس کی قبر میں نماز پڑھے اور اس کا مقصد کسی بھی طرح مدد حاصل کرنا اور اپنی عبادت کو اثر انگیز بنانا ہو، مقصد صاحب قبر کی تعظیم [126] اور اس کی توجہ حاصل کرنا نہ ہو، تواس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" [127]
[126] ہر مسلمان کو اس اقتباس پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔ صاحب تحریر کے الفاظ : ’’مقصد صاحب قبر کی تعظیم نہ ہو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اسے رب اور خالق بنانے کا ارادہ نہ ہو۔ یعنی مقصد توحید ربوبیت میں دست درازی نہ ہو۔ رہی بات شرک پر مبنی تعظیم کی ان ساری شکلوں کی، جو قبوری انجام دیتے ہيں اور جو الوہیت میں شرک کے دائرے میں آتے ہیں، تو قبوریوں کے نزدیک ان سب میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[127] جهود علماء الحنفية : 1615. دیکھیے : الحديقة الندية : 2/631۔ اور مقالات الكوثري : 157۔
احمد بن محمد غماری [128] (متوفی 1380هـ- 1960ء) نے جو خرافات کا داعی رہا ہے، اپنے ایک رسالے میں، جس کا نام "إحياء المقبور من أدلة استحباب بناء المساجد والقباب على القبور" ہے، وثنیت کی کھلی دعوت دی ہے۔[129]
[128] ابو الفيض احمد بن محمد غماری مغربی۔ فقہ اور حدیث سے لگاؤ رکھتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس کا شمار قبر پرستوں کے اماموں میں ہے۔ صفات کے باب میں تفویض کا قائل تھا اور تاویل کرنے والوں اور ان کی تاویلات پر شدید حملہ کرتا تھا۔
[129] جهود علماء الحنفية :1618۔
مبحث دوم : قبروں پر عمارت بنانے سے ڈرانے اور (جو عمارتیں بنی ہیں انھیں) منہدم کرنے کے وجوب پر علماے احناف کا صحیح احادیث سے استدلال
اللہ تعالی نے قبرپرستی اور گمراہی کے راستے سے روکنے کے لیے علماے حق کا انتخاب کیا، جن میں علماے احناف بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں علماے احناف نے جو خدمتیں پیش کی ہیں، وہ اس طرح ہيں :
حدیث نمبر (1)
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض الموت میں ارشاد فرمایا : ”يہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو۔ انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر یہ بات نہ ہوتی، تو آپ ﷺ کی قبر مبارک باہر بنائی جاتی؛ لیکن آپ ﷺ کو خدشہ تھا کہ کہیں اسے سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔‘‘[130]
[130] صحیح بخاری : 1/168۔ 3/1273۔ 4/1615. 5/2190 اور صحیح مسلم : 1/377۔
اس حدیث سے علماے احناف نے استدلال کیا ہے کہ قبروں پر عمارت بنانا اور ان کو سجدہ گاہ بنا لینا، اللہ کی لعنت کو واجب کرنے کے اہم ترین اسباب میں سے ایک ہے۔ یہ عمل شرک اکبر کی طرف لے جانے کا سبب بنتا ہے اور یہود و نصاری کے افعال میں سے ہے۔ [131]
[131] جهود علماء الحنفية : 414،415،1622۔ دیکھیے : شرح الطحاوية : 22۔ زيارة القبور از بركوي : 6-8۔ مجالس الأبرار : 123۔ عمدة القارئ : 8/135۔ الفكر واللمع في الحوادث والبدع از تركماني : 1/216۔ روح المعاني : 15/238۔ جلاء العينين : 522۔ غاية الأماني : 1/267۔ فتح المنان : 477۔
حدیث نمبر (2)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا روایت ہے : ’’وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہ تصویریں بناتے۔ وہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں۔‘‘[132]
132] صحیح بخاری : 1/167۔ 165۔ 450۔ 3/1406 اور صحیح مسلم : 1/376۔
حدیث نمبر (3)
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات سے پانچ دن قبل فرماتے ہوئے سنا : ”خبردار! بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ لہذا خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں“۔[133] اس حدیث سے علماء احناف کی ایک بڑی تعداد نے استدلال کیا ہے۔ [134]
[133] صحیح مسلم : 1/378۔
[134] جهود علماء الحنفية : 416۔ دیکھیے : شرح الطحاوية : 22۔ جلاء العينين : 522۔ زيارة القبور از بركوي : 5۔ مجالس الأبرار از احمد الرومي : 123۔ غاية الأماني : 1/267 اور 2/206۔
حدیث نمبر (4)
جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،و ہ فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ ﷺ نے قبر کو پختہ بنانے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘[135] ایک روایت میں : ’’اس پر لکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔‘‘[136]
[135] صحیح مسلم : 2/667، سنن أبو داود : 3/552، سنن الترمذي : 3/359۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح بھی کہا ہے۔ سنن نسائی : 4/86، سنن ابن ماجه : 1/498، مسند احمد : 3/295۔ صحیح ابن حبان : 5/65۔ مصنف عبدالرزاق : 3/504۔ مصنف ابن ابو شيبة : 3/335، طحاوی کی معاني الآثار : 1/515 اور مستدرک حاکم : 1/370۔
[136] صحیح مسلم، مسند أحمد اور مصنف عبد الرزاق کے علاوہ مذکورہ تمام مراجع کی طرف رجوع کریں۔
حدیث نمبر (5)
ابوالھیاج اسدی سے روات ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمھیں اس کام کے لیے نہ بھیجوں، جس کام کے لیے مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا ؟ ’’(وہ یہ ہے کہ) کوئی بھی مجسمہ ملے تو اسے مٹا دینا اور کوئی بھی اونچی قبر ملے تو اسے زمین کے برابر کر دینا۔‘‘[137]
[137] صحیح مسلم : 2/666، سنن ابو داؤد : 3/548، سنن ترمذی : 3/357، سنن نسائی : 4/88، مسند احمد : 1/96 اور 129، مصنف عبد الرزاق : 3/503 اور مستدرک : 1/369۔
اس صحیح حدیث سے تمام علماے احناف نے استدلال کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ قبروں پر مساجد اور گنبد بنانا حرام ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ قبروں پر بنی ہوئی مساجد اور گنبد کو فوری طور پر منہدم کرنا واجب ہے۔ [138]
[138] جهود علماء الحنفية : 1633۔ اور دیکھیے : زيارة القبور از بركوي : 13۔ روح المعاني از آلوسي : 15/238۔ جلاء العينين : 522۔ فتح المنان : 477۔ غاية الأماني : 1/269۔ فتح الملهم از شبیر احمد عثماني : 2/506۔ المشاهدات از علامہ خجندي : 27۔ البصائر از ابن آصف فنجفيري : 451۔ المنهاج الواضح ازصفدر : 185۔ عقد اللآلي والدرر از علامہ رباطي : 104۔ البلاغ المبيں از شاه ولي الله دہلوی : 26۔ مصباح المؤمنين از محمد مظفري : 25۔
مبحث سوم : قبروں پر عمارت بنانے کی ممانعت اور ان پر تعمیر کردہ عمارتوں کو منہدم کرنے کے وجوب کے بیان کے سلسلے میں علماے احناف کی کوششیں
علماے احناف نے قبروں کو پختہ کرنے، ان پر عمارت بنانے اور ان پر چراغاں کرنے سے روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے امرا اور رؤسا کو انھیں منہدم کرنے اور ان سے جڑے ہوئے ہر طرح کی بدعت کو زائل کرنے پر ابھارا۔ اس طرح کے چند علما کے نام اور ان کے کچھ اقوال ملاحظہ ہوں :
امام برکوی (متوفی 981هـ-1573ء)، امام احمد رومی (متوفی 1043هـ-1633ہ)، امام ولی اللہ دہلوی (متوفی1176هـ-1763ء)، شیخ سبحان بخش ہندی، شیخ ابراہیم سورتی، شیخ محمد مظفری اور علامہ رباطی فرماتے ہیں :
"شیطان کی ایک بڑی چال جو اس نے اکثر لوگوں کے ساتھ چلی ہے، یہ ہے کہ اس نے ہر دور میں اپنے پیچھے چلنے والے لوگوں کو قبروں کے فتنے میں مبتلا کیا ہے۔ اس کی یہ چال اتنی کامیاب نکلی کہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر قبروں اور ان کے اندر مدفون لوگوں کی عبادت کرنے لگے اور ان کے اوپر بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کر دیں۔ اسی راستے سے نوح علیہ السلام کی قوم کے اندر شرک کی بیماری داخل ہوئی تھی اور بتوں کی عبادت کا آغاز ہوا تھا۔ اسی لیے نبیٔ اکرم ﷺ نے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے اور ان پر عمارت وگنبد وغیرہ تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے، اس فعلِ بد کو انجام دینے والے پر لعنت بھیجی ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ سارے یہود ونصاری کے افعال ہیں، جو ملعون اور شر پسند لوگ ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو یہود ونصاری کے کرتوتوں سے اپنے مرض موت میں بھی آگاہ کیا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کی وصیت پر عمل کیا اور آپ کو باہر دفن نہيں کیا کہ کہیں آپ کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے اور لوگ اللہ کی بجائے اس کی پرستش نہ کرنے لگیں۔ [انھوں نے اس ضمن میں بہت سی حدیثیں نقل کیں اور اس کے بعد فرمایا :] سارے فرقوں کے علما نے ان واضح حدیثوں کی پیروی کرتے ہوئے قبروں پر مساجد بنانے اور ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے سے بنا کسی لاگ لپیٹ کے منع کیا ہے۔ امام احمد، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ نے اسے حرام کہا ہے۔ بعض علما کے نزدیک یہ مکروہ عمل ہے، مگر ان کے یہاں مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہے۔ کیوں کہ جس فعل کی ممانعت رسول اللہ ﷺ کی زبانی وارد ہو اور اس کے کرنے والے پر لعنت کی وعید سنائی گئی ہو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ صرف مکروہ ہو اور حرام نہ ہو!
فقہاء کرام نے بھی اس فعل کے حرام ہونے کی صراحت کی ہے۔ اس لیے کہ قبر پر چراغاں کرنا مباح ہوتا تو اس کے کرنے والے پر رسول اللہ ﷺ لعنت نہیں بھیجتے، جب کہ آپ ﷺ نے اس پر لعنت بھیجی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں مال کا ضیاع، قبروں کی تعظیم میں افراط اور بت پرستی کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قبروں کے اوپر تعمیر سے منع کرنے میں اینٹ اور پتھر سے عمارت کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر خیمہ لگانے جیسے اس کی قائم مقام دیگر چیزیں بھی شامل ہيں۔ کیوں کہ یہ دونوں جاہلی فعل ہیں۔ آپ ﷺ نے اہل کتاب پر لعنت اسی لیے بھیجی، کیوں کہ انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔
جب کہ یہ قبرپرست سمجھتے ہیں کہ صالحین کی قبروں کے پاس نماز پڑھنا ان کی تعظیم کرنا ہے۔ حالاں کہ یہ کھلا ہوا شرک ہے۔ ان کا گمان ہے کہ قبروں کی طرٖف رخ کر کے نماز پڑھنے سے اللہ کے یہاں نماز کی قدر و قیمت بڑھ جاتی ہے۔ حالاں کہ یہی وہ بنیادی سبب ہے، جس کی وجہ سے شارع نے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع کیا ہے۔ اسی عمل نے بہت ساری امتوں کو شرکِ اکبر یا اس سے کم تر شرک کا مرتکب بنا دیا۔ کیوں کہ وہ شرک جو ایسے شخص کی قبر سے تعلق کی وجہ سے سامنے آئے جس کے نیک ہونے کا دل میں یقین ہو، اس شرک سے کہیں زیادہ رائج ہو جاتا ہے، جو درخت اور پتھر کے تعلق کی بنا پر سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بہت سے لوگوں کو قبروں پر آہ وزاری اور خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت کرتے ہوئے پاتے ہیں، لیکن وہ اس طرح کی عبادت نہ اللہ کے مساجد میں کرتے ہیں اور ناہی وقتِ سحر میں۔ بہت سارے لوگ قبروں کے پاس نماز پڑھ کر برکت کی امید رکھتے ہیں، جب کہ مساجد میں نماز پڑھ کر ایسی امید نہیں رکھتے۔" [139]
[139] جهود علماء الحنفية : 1635۔ دیکھیے : زيارة القبور از بركوي : 4-9۔ مجالس الأبرار :123-126۔ خزينة الأسرار : 125-126۔ نفائس الأزهار : 154-157۔ عقد اللآلي والدرر از رباطي : 110-112۔ والبلاغ المبين از شاه ولي الله : 26-28۔ اور مصباح المؤمنين : 26-27۔
امام ابن ابی العز (متوفی 792هـ-1390ء) رحمہ اللہ نے قبروں پر مساجد اور گنبد وغیرہ بنانے کی حرمت کے سلسلے میں کئی احادیث ذکر کی ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ عمل باعث لعنت، اللہ کی رحمت سے محرومی کا ذریعہ، یہود و نصاری اور مشرکین کا عمل اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے اسباب میں سے ہے۔ لہذا قبروں پر بنائی گئی عمارتون کو ڈھانا واجب ہے۔ [140]
[140] جهود علماء الحنفية : 1642۔ دیکھیے : شرح الطحاوية :21-22۔
امام آلوسی جو بغداد میں مذہب حنفی کے بڑے مفتی تھے، انہوں نے بھی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے اور ان پر گنبد بنانے کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث کا ذکر کیا اور اس عمل کو موجبِ لعنت، پچھلے کفار و مشرکین کے افعال اور اسبابِ شرک میں شمار کیا ہے اور کہا کہ یہ عمل انسان کو ہلاک وبرباد کرنے والا عمل ہے۔ اسی طرح قبر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا اور قبر سے تبرک حاصل کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
پھر اس کے بعد کہا ہے : "قبر کے پاس اس سے تبرک حاصل کرنے کے ارادے سے نماز پڑھنا اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور دین میں ایک ایسی نئی بات ایجاد کرنا ہے، جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ہے۔ یہ ایک ممنوع کام ہے، اس پر تمام علما کا اجماع ہے۔ لہذا قبروں پر بنے ہوئے مکانوں اور گنبدوں کو ڈھانا واجب ہے۔ کیوں کہ یہ مسجدِ ضرار سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی معصیت و نافرمانی پر ہے۔ آپ ﷺ نے ان سے منع کیا ہے اور اونچی قبروں کو ڈھاکر برابر کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح قبروں پر لگائی گئی قندیلوں و چراغوں کو بھی ہٹانا ضروری ہے اور انھیں وقف کرنا یا ان کی منت ماننا جائز نہیں ہے۔" [141]
[141] جهود علماء الحنفية : 1643۔ دیکھیے : روح المعاني : 15/237-238۔
مبحث چہارم : قبروں پر عمارت بنانے کے سلسلے میں قبوریوں کے بعض شبہات پر علماے احناف کا رد
قبرپرسوں نے قبروں پر مساجد اور گنبد وغیرہ بنانے کو جائز قرار دینے کی پوری کوشش کی، شرعی دلائل کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور عام لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بہت سے شبہات یک جا کردیے۔ مگر اللہ تعالی کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس امت میں ایسے علماے حق پیدا کر دیے، جنہوں نے ان شبہات کا ازالہ کیا اور شرعی دلائل سے غلط استدلال کی نشان دہی کر دی۔ ان علما میں ایسے حنفی علما بھی شامل ہیں، جنہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں قبر پرستی کی مذمت کی اور امت کو اس سے آگاہ کیا۔
پہلا شبہ : قبرپرستوں کا دعوی ہے کہ صرف قبروں کے اوپر ہی عمارت بنانا حرام ہے۔
قبرپرستوں کا دعوی ہے کہ احادیث میں ممانعت صرف قبروں کے اوپر مساجد کی تعمیر چراغ جلانے کی آئی ہے۔ قبروں کے آس پاس ایسا کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔
اس شبہ کا ازالہ
علماے احناف نے ان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ احادیث میں جو حرف جر ’’علی‘‘ وارد ہوا ہے، اس میں ’اوپر‘ اور ’آس پاس‘ دونوں معنی شامل ہیں، جیساکہ کتاب و سنت سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ [142] :
[142] جهود علماء الحنفية :1648۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’یا اس شخص کی مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی۔‘‘ [البقرة، آیت : 259]۔
اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ شخص بستی کی دیواروں کے اوپر سے گزرا ہو۔
مزید ارشاد ہے : ’’اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔‘‘ [التوبة : 84] کیا اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو منافقین کی قبروں کے اوپر کھڑے ہونے سے منع کیا گیا ہے اور اس کے پاس کھڑے ہونے سے روکا نہیں گیا ہے؟
جہاں تک سنت مطہرہ کی بات ہے، تو اسرا و معراج کی حدیث میں ہے : "فأتيت على آدم"، "فأتيت على إبراهيم" اور "فأتيت على موسى"۔ تو کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان جملوں کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ان انبیاے کرام علیھم الصلاۃ والسلام کے سر کے اوپر آئے اور ان کے اوپر سے گزرے؟!
خلاصۂ کلام یہ کہ یہ شبہ سرے سے بے بنیاد ہے اور ممانعت کے اندر یہ ساری صورتیں آتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
[سورۃ الْكَهْف : 21]۔
ان کا کہنا ہے کہ اس آیت کے معنی ہيں : "ہم ضرور غار کے دروازے پر مسجد بنائیں گے، جس میں مسلمان نماز ادا کریں گے اور اس جگہ سے برکت حاصل کریں گے۔" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔
شبہ کا ازالہ
علماے احناف نے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ یہ فعل کسی موحد اور انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی اتباع کرنے والے مسلمان کا ہے، بلکہ بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ مشرک لوگ تھے، جنہوں نے اپنی بت پرستانہ روش پر چلتے ہوئے مسجد بنا ڈالی۔ ورنہ کسی بھی نبی کی شریعت میں قبروں پر مسجد یا گنبد وغیرہ بنانے کا جواز نہیں تھا۔ لیکن اگر ہم بہ فرض محال مان لیں کہ ایسا پچھلی شریعتوں میں جائز تھا، تو پھر جواب یہ ہوگا کہ پچھلی شریعتوں کے احکام ہماری شریعت میں اسی وقت حجت ہوا کرتے ہيں، جب ہماری شریعت نے انھیں برقرار رکھا ہو۔ جب کہ زیر بحث معاملے میں ہماری شریعت نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کا عمل ہے، جن پر اللہ نے اسی طرح کے کام، جو وثنیت اور شرک باللہ کے چور دروازے ہیں، کرنے کی وجہ سے لعنت کی ہے۔ لہذا اس سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔[143]
[143] جهود علماء الحنفية : 1650-1651۔
تیسرا شبہ : قبرپرستوں کا دعوی ہے کہ انبیا اور اولیا کی قبروں پر مسجد و گنبد بنانے کا عمل امتِ مسلمہ میں وراثت کی طرح
نسل در نسل مشرق و مغرب میں منتقل ہوتا آیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے جواز پر امت کا اجماع ہے۔
شبہ کا ازالہ
علماے احناف نے قبرپرستوں کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل اجماعِ امت کے قبیل سے نہیں ہے، بلکہ یہ ان قبیح ترین بدعات اور بری رسوم کے قبیل سے ہے، جو اہل بدعت میں نسل در نسل بطور وراثت منتقل ہوتی آ رہی ہیں۔ علماے احناف کی ایک جماعت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ نسل در نسل انتقال ایک منکر عمل ہے اور دلیل نہیں بن سکتا، کیوں کہ یہ جاہل عوام کا فعل ہے۔ ان حضرات نے کہا ہے : "اگر تم کہو کہ یہ ایک فعلی اجماع ہے اور اسے دلیل ہونا چاہیے۔ تو میں کہوں گا: ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کا کوئی اجماع ثابت نہیں ہے۔ ساتھ ہی اسے فعلی اجماع اس وقت مانا جا سکتا تھا، جب امت اس طرح صالحیت کے راستے پر گام زن ہوتی کہ بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا عام ماحول ہوتا۔ لیکن یہ ماحول تو مدت ہوئی دم توڑ چکا ہے۔" [144]
[144] جهود علماء الحنفية : 1656-1658۔
چوتھا شبہ : قبرپرستوں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ابو بکر اور عمن رضي الله عنهما کے قبروں پر بنے ہوئے گنبد کو دلیل بنایا ہے اور اس کی بنا پر اس عمل کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
دراصل نے انھیں یہ قیاس سجھایا ہے، جب کہ یہ قیاس قطعا درست نہیں ہے۔
شبہ کا ازالہ
علماے احناف نے اس شبہ کا جواب دو طریوں سے دیا ہے :
پہلا طریقہ : اللہ کے نبی ﷺ کی قبر پر جو عمارت ہے، وہ عام قبروں پر بنی ہوئی عمارتوں کی طرح نہيں ہے۔ کیوں کہ یہ مکان اس وقت موجود تھا، جب اس کے نیچے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دفن کیا گیا تھا۔ کیوں کہ یہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ کا کمرہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا گھر تھا۔ اتفاق یہ ہوا کہ آپ کا انتقال عائشہ رضی اللہ عنہ کے اسی کمرے میں ہوا اور خود آپ ہی کی ایک حدیث کی وجہ سے آپ کو اسی کمرے میں دفن کر دیا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : "جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو آپ کے دفنانے کے مسئلہ میں صحابہ میں اختلاف ہو گیا۔ اتنے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک بات سن رکھی ہے، جسے میں اس وقت بھول گیا تھا۔ آپ نے فرمایا ہے : ’’اللہ نے ہر نبی کو اسی جگہ موت دی، جس جگہ وہ اسے دفن کرانا چاہتا تھا۔" آپ کو اسی جگہ دفن کر دو، جہاں آپ کا بستر لگا ہوا تھا۔ لہذا صحابہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے ہی میں آپ کو دفن کر دیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں آپ کی قبر پر مکان بنانے کا کام نہيں ہوا ہے۔ کیوں کہ مکان پہلے ہی سے تھا۔ رہی بات حضرت ابو بکر اور عمر رضی الہ عنہما کو دفن کرنے کی، تو ان کو وہاں تبعا دفن کیا گیا تھا۔
دوسرا طریقہ : یہ گنبد صحابہ رضي الله عنهم أجمعين، تابعین، تبع تابعین، فقہاے عظام، محدثین کرام اور خیر القرون کے زمانے میں موجود نہیں تھا۔
علامہ خجندی (متوفی 1379-1959ء) آپ ﷺ کی قبر پر بنائے گئے سبز رنگ کے گنبد کی تاریخ بتاتے ہوئے اور یہ تحقیق پیش کرتے ہوئے کہ یہ بدعت ہے، کہتے ہيں : "آپ ﷺ کی قبر پر سبز رنگ کے گنبد کی ابتدا : یہ بات بخوبی جان لیجیے کہ سنہ 678هـ - موافق 1279ء تک اس کمرے کے اوپر کوئی گنبد نہیں تھا، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر ہے۔ اسے بادشاہ منصور قلاوون صالحی نے اسی سال بنوایا۔ اس کی تعمیر کی وجہ یہ تھی کہ اس نے مصر اور شام میں نصاری کے عالی شان مزین کنیسوں کو دیکھا تھا اور حکم رسول و سنت رسول سے ناآشنائی کے سبب ان کی تقلید میں اسے بنوا دیا۔ جب کہ اس کا یہ عمل صحیح اور ثابت احادیث کے عین مخالف ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جہالت ایک بڑی مصیبت ہے، محبت اور تعظیم کے نام پر غلو کرنا بڑی وباء ہے اور غیروں کی تقلید ایک مہلک بیماری ہے۔" [145]
[145] جهود علماء الحنفية : 1660-1662۔ دیکھیے : المشاهدات المعصومية للخجندي : 26، 34۔
خاتمہ
اللہ کے فضل و کرم سے, ڈاکٹر شمس الدین افغانی سلفی کے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کے روشنی میں, قبوریہ کے عقائد کے رد میں حنفی علماء کے جہود کا مفصل تعارف لکھنے کا کام مکمل ہوا۔ اس تعارف کے اہم موضوعات اس طرح ہیں :
بنیادی تعریفات : توحید، عبادت اور شرک۔
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کے درمیان فرق۔
قبرپرستوں کا مردوں سے مدد طلب کرنا اور ان کا رد۔
قبرپرستوں کا اللہ کے نیک بندوں اور بزرگوں کی قبروں کے بارے میں غلو اور ان کا رد۔
قبروں پر عمارت بنانے کی بدعت اور اس کے لئے قبوریوں کا پیش پیش رہنا۔
Related books
All books
كتاب التوحيد (اس توحید کى کتاب)14 زبانیںكتاب التوحيد (اس توحید کى کتاب)
الذي هو حق الله على العبيد (جو بندوں پر اللہ کا حق ہے) تالیف: شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب تمیمی رحمہ اللہ 1206ھ باہتمام
اسلام کے اصول و مبادی7 زبانیںاسلام کے اصول و مبادی
تالیف ڈاکٹر محمد بن عبد اللہ بن صالح السحیم بسم الله الرحمن الرحيم مقدمہ بے شک ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم اپنے نفسوں کے تمام شرور اور اپنے اعمال کی تمام برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔آپ پررب کی بہت زیادہ رحمت…
القواعد الأربع
تین بنیادی باتیں اور ان کے دلائل65 زبانیںتین بنیادی باتیں اور ان کے دلائل
یہ کتاب ان بنیادی اصول کو بیان کرتی ہے جن کا سیکھنا مسلمان پر واجب ہے: اللہ کی معرفت، دینِ اسلام کی معرفت، اور نبی محمد ﷺ کی معرفت، اور یہ قرآن وحدیث کے دلائل کی بنیاد پر ایمان اور نیک اعمال کی تشکیل میں ان اصول کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔