٥٢ : ٣٠
أَمۡ يَقُولُونَ شَاعِرٞ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيۡبَ ٱلۡمَنُونِ
کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں.
Explanation & meanings · ١
- رَيْبٌ کے معنی ہیں حوادث ، مَنُونٌ، موت کےناموں میں سے ایک نام ہے۔ مطلب ہے کہ قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ زمانے کےحوادث سے شاید اس محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو موت آ جائے اور ہمیں چین نصیب ہو جائے، جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیاہے۔