Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 19 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"جب صبح ہوتی تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ بِك أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِك نَحْيَا، وَبِك نَمُوتُ، وَإِلَيْك النُّشُورُ“ (اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیری حفاظت میں ہی شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے)۔ اورجب شام ہوتی تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے: ”بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ“ (اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیری حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔ کبھی کبھی آپ (وَإِلَيْكَ النُّشُورُ) کی جگہ پر (وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ) بھی کہتے تھے۔
حَسَنْ اسے ابو داود‘ ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
"جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی : "الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ" (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور اس کى روزی دی, جب کہ اس میں میری طاقت اور قوت کا کوئی دخل نہيں ہے۔ "غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِا" تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
حَسَنْ اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ جنبی ہوتے۔
حَسَنْ اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔"
حَسَنْ اسے ابوداود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
"تم جہاں کہیں بھی رہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ اور (اگر کوئی گناہ ہو جائے تو) اس گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو، یہ گناہ کو مٹا دے گی اور لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے پیش آیا کرو۔"
ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
جب آیت کریمہ {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ تکاثر : 8] نازل ہوئی، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم سے بھلا کس نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا، ہمارے پاس تو بس دو کالی چیزيں: کھجور اور پانی ہی ہیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "دیکھو، تم سے سوال تو کیا ہی جائے گا۔"
حَسَنْ اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
”جس نے دوسرے کا نقصان کیا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جس نے دوسرے کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا“۔
حَسَنْ اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز نہیں“۔
حَسَنْ اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے