Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 8 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے اور ایسا متاثر کرنے والا وعظ فرمایا کہ ہمارے دل دہل گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ لہذا کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا وعظ فرمایا ہے، جو الوداعی وعظ معلوم ہوتا ہے۔ لہذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرمائ‏یں۔ چنانچہ فرمایا : "تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا۔ اسے اپنے داڑھوں سے پکڑے رہنا۔ اور دیکھو، دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں سے دور رہنا۔ کیوں کہ ہر بدعت (دین کے نام پر سامنے آنے والی نئی چیز) گمراہی ہے۔"
صحیح اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میں جو کچھ سنتا سب لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ ان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ لہذا قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیا کرتے ہو، جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم انسان ہیں، غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں؟ لہذا میں نے لکھنا موقوف کردیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : "لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا"۔
صحیح اسے ابو داود نے روایت کیا ہے
"خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری حدیث پہنچے تو کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کی چیز) بس اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے اسی کو ہم حرام جانیں گے۔ یاد رکھو! بلاشک و شبہ رسول اللہ ﷺ نے جو چیز حرام قرار دے دی ہے، وہ ویسے ہی حرام ہے، جیسے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز"۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
"جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی، حالاں کہ اسے لگ رہا ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا۔"
صحیح اسے امام مسلم نے اپنے مقدمہ میں روایت کیا ہے
”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!)تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“
صحیح اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے
"میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"
صحیح متفق علیہ
”میری طرف سے لوگوں کو پہنچا دو، اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔ بنی اسرائیل سے روایت کرو، ان سے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے