اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)
كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول بين السجدتين: «اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے اندر دو سجدوں کے بیچ یہ پانچ چیزیں مانگا کرتے تھے، جن کی ایک مسلمان کو بڑی ضرورت ہوتی ہے اور جن کے اندر دنیا اور آخرت دونوں جہان کی بھلائیاں سمٹ آئی ہيں۔ آپ اللہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے اور انھیں بخش دینے، اپنے اوپر رحمت کی چادر تان دینے، شکوک و شبہات، شہوتوں اور بیماریوں سے عافیت میں رکھنے، راہ حق پر چلانے اور اس پر مضبوطی سے قائم رکھنے اور ایمان، علم، عمل صالح اور رزق حلال عطا کرنے کی دعا کیا کرتے تھے۔
...:
دو سجدوں کے بیچ کے جلسے میں اس دعا کی مشروعیت۔
ان دعاؤں کی فضیلت، جو دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہیں۔
مزید (10)
سننِ ابو داود (2/ 138) (850).
سننِ ترمذی (1/ 317) (284).
سننِ ابن ماجہ (2/ 64) (898).
مُسنَد احمد (5/ 72) (2895).
مشكاة المصابيح.
للتبريزي (1/ 283).
سبل السلام شرح بلوغ المرام.
لمحمد الصنعاني (1/ 274).
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام.
لعبد الله البسام (2/ 240).