"جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی : "الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ" (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور اس کى روزی دی, جب کہ اس میں میری طاقت اور قوت کا کوئی دخل نہيں ہے۔ "غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِا" تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
سہل بن معاذ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہيں، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
"جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی : "الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ" (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور اس کى روزی دی, جب کہ اس میں میری طاقت اور قوت کا کوئی دخل نہيں ہے۔ "غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِا" تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
«مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ».
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کھانا کھانے والے کو اللہ کی تعریف کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی توفیق اور مدد کے بغیر انسان کے پاس نہ غذا حاصل کرنے کی طاقت ہے اور نہ کھانے کی۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دعا کا اہتمام کرنے والے کو خوش خبری دی ہے کہ اللہ اس کے پچھلے صغیرہ گناہوں کو بخش دے گا۔
کھانے کے آخر میں اللہ کی تعریف کرنا مستحب ہے۔
اللہ کے بے پایاں فضل و کرم کا بیان کہ اس نے بندوں کو روزی دی، روزی کے اسباب مہیا کیے اور اس میں گناہوں کی بخشش کا سامان بھی پیدا کر دیا۔
بندوں کے سارے امور کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی طاقت و قوت کے بل پر کچھ نہیں ہوتا۔ بندے کو اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مزید (10)
سننِ ترمذی (5/ 452) (3458).
سننِ ابو داود (6/ 138) (4023).
سننِ ابن ماجہ (4/ 417) (3285).
مُسنَد احمد (24/ 394) (15632).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.
مجموعة من الباحثين (1/ 602).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
للهلالي (2/ 54).
تاج العروس من جواهر القاموس.
للزبيدي (28/ 366).
کتابوں میں مذکور
4 کتابیںمزید (4)
- الذكر والدعاء والعلاج بالرقي من الكتاب والسنة"من أكل طعاماً فقال: الحمد لله الذي أطعمني هذا، ورزقنيه من غير حول مني ولا قوةٍ، غفِرَ له ما تقدم من ذنبه" .
- تحفة الأخيار تحفة الأخيار (ببيان جملة نافعة مما ورد في الكتاب والسنة من الأدعية والأذكار)«مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» [80]
- رسالة في الأذكار1«مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الحَمْدُ للهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ لَهُ مِنْ ذَنْبِهِ».
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 4«مَنْ أَكَلَ طَعَاماً فَقَالَ: الحَمْدُ لله الَّذِي أَطْعَمَنِي هذا الطَّعَامَ، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ».