تعليم الصلاة
تعلیمِ نماز تالیف ڈاکٹر عبداللہ بن احمد الزید تمہید - صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر قائم ہے: اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں‘ نماز قائم کرنا‘ زکاۃ ادا کرنا‘ رمضان کے روزے رکھنا اور استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا“۔ (بخاری مسلم) یہ حدیث اسلام کے پانچوں ارکان کے بیان پر مشتمل ہے جو یہ ہیں:
تعلیمِ نماز
تالیف ڈاکٹر عبداللہ بن احمد الزید
تمہید
-
صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر قائم ہے: اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں‘ نماز قائم کرنا‘ زکاۃ ادا کرنا‘ رمضان کے روزے رکھنا اور استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا“۔ (بخاری مسلم)
یہ حدیث اسلام کے پانچوں ارکان کے بیان پر مشتمل ہے جو یہ ہیں:
رکن اول: کلمہ شہادت ”لا الٰہ الا اللہ‘ محمد رسول اللہ“ کا اقرار واعتراف ہے۔ کلمۂ توحید ”لا الٰہ الا اللہ“ کی شہادت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔چنانچہ ”لا الٰہ“ سے ان تمام معبودان باطل کی نفی اور تردید ہو جاتی ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے‘ اور دوسرے جزء ”الا اللہ“ سے اللہ تعالی کے لئے ہر قسم کی عبادت کا اثبات ہو جاتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں‘ اسی کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: ((شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ))اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور سب اہل علم بھی (گواہی دیتے ہیں) کہ وہی حاکم ہے انصاف کے ساتھ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ جو غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔ (سورۂ آل عمران: 18)
کلمہ توحید ”لا الٰہ الا اللہ“ کی شہادت کا تقاضا درج ذیل تین باتوں کا اقرار کرنا ہے:
اول توحید الوہیت: اس کا مطلب یہ ہے کہ جملہ عبادات میں اللہ تعالی کو اکیلا مانا جائے اور کسی طرح کی عبادت غیر اللہ کے لئے نہ کی جائے‘ اور یہی وہ توحید ہے جس کے لئے اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا‘ جیسا کہ ارشاد ہے: ((وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ))اور میں نے جن وانس کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ (سورۂ ذاريات: 56) اور اسی توحید الوہیت کی دعوت کے لئے اللہ تعالی نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں‘ چنانچہ ارشاد فرمایا: ((وَلَقَدْ بَعَثْنا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ))اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو۔ (سورۂ نحل: 36)
شرک توحید کی ضد ہے‘ جب توحید کا معنی یہ ہوا کہ اللہ تعالی کو اس کی عبادت میں اکیلا اور منفرد مانا جائے تو اس کے برعکس شرک کی تعریف یہ ہوگی کہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی کیلئے بھی کسی طرح کی عبادت کی جائے۔چنانچہ جس شخص نے اپنی خوشی اور مرضی سے کسی بھی طرح کی عبادت کسی غیر اللہ کے لئے کی‘ چاہے وہ عبادت نماز ہو یا روزہ‘ دعا ہو یا نذر‘ قربانی ہو یا کسی صاحب قبر وغیرہ سے فریاد طلبی‘ تو اس نے اللہ تعالی کے ساتھ شرک کیا‘ اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے جس کی وجہ سے سارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور اس کے مرتکب کی جان ومال بھی مباح ہو جاتے ہیں۔
دوم: توحید ربوبیت: توحید ربوبیت اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ اللہ تعالی ہی خالق ورازق‘ زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے اور وہی سارے جہاں کا کار ساز ہے جس کی آسمانوں اور زمین میں حکومت ہے۔ اور اس قسم کی توحید کا اقرار واعتراف اس فطرت کا تقاضا ہے جس پر اللہ تعالی نے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا ہے‘ حتیٰ کی مشرکین جن کے درمیان رسول اللہ ﷺ مبعود ہوئے وہ بھی اس کا اقرار کرتے تھے اور اس کے منکر نہ تھے‘ جیسا کہ اللہ تعالی نے مندرجہ ذیل آیت میں بیان فرمایا ہے: ((قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلا تَتَّقُونَ))یعنی آپ ان مشرکین سے کہئے کہ بتلاؤ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے اور وہ کون ہے جو (تمہارے) کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور بے جان کو جاندار سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے (آپ ان سے یہ سوالات کیجئے) وہ ضرور (جواب میں یہی) کہیں گے کہ وہ اللہ ہے تو ان سے کہئے پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے۔ (سورۂ یونس 31) اس قسم کی توحید کا انکار شاذ ونادر ہی لوگوں نے کیا ہے اور وہ بھی تکبر وعناد کی وجہ سے ظاہری طور پر کیا ہے‘ ورنہ دل سے وہ بھی اس کا اعتراف کرتے تھے‘ اللہ تعالی نے انہی کے متعلق ارشاد فرمایا: ((وَجَحَدُوا بِها وَاسْتَيْقَنَتْها أَنْفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوًّا))انہوں نے ظلم وغرور کی وجہ سے ان آیتوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل تھے۔ (سورۂ نمل: 14) سوم: توحید اسماء وصفات: توحید اسماء وصفات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یا اس کے رسولﷺ نے اللہ کے جو اوصاف بیان فرمائے ہیں ان پر ایمان رکھا جائے اور انہیں اللہ کے شیان شان بلا تکییف وتمثیل اور بلا تحریف وتعطیل تسلیم کر لیا جائے‘ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى فَادْعُوهُ بِها))اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں سو اسے انہی ناموں سے پکارو۔ (سورۂ اعراف: 180) نیز ارشاد ہے: ((لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ))اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا‘ دیکھنے والا ہے۔ (سورۂ شوری: 11)
کلمہ توحید ”لا الٰہ الا اللہ“ کی شہادت مذکورہ بالا تینوں قسموں کی توحید کا اقرار واعلان ہے‘ چنانچہ جس شخص نے اس کے مفہوم ومعانی کو سمجھ کر اس کا اقرار کیا اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوا‘ یعنی شرک سے بچتا رہا اور اللہ کی وحدانیت کا قائل رہا تو وہ سچا اور حقیقی مسلمان ہے‘ اور جس نے زبان سے اقرار کیا اور دل سے تصدیق کئے بغیر ظاہری طور پر اس کے تقاضوں پر عمل کیا تو وہ منافق ہے‘ اور جس نے اپنی زبان سے اس کا اقرار کیا لیکن اس کے تقاضوں کے برخلاف عمل کیا تو وہ کافر ہے اگر چہ وہ بار بار اس کلمہ کو پڑھتا اور دہراتا رہے۔
شہادت رسالت: ”محمد رسول اللہ“ کا معنی رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اقرار کرنا اور آپ جو کچھ اللہ تعالی کی طرف سے لے کر آئے ہیں اس کی تصدیق کرنا ہے‘ یعنی آپ کے احکامات کی بجا آوری اور منع کی ہوئی چیزوں سے اجتناب کرنا اور ساری عبادتوں کو آپ کی لائی شریعت کے مطابق ادا کرنا ہے‘ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ((لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ))بیشک تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آئے ہیں‘ تمہاری تکلیف ان کو ناگوار ہے‘ تمہاری بھلائی کے وہ حریص ہیں‘ ایمان والوں پر بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ (سورۂ توبہ: 128) مزید ارشاد فرمایا: ((مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ))جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی۔ (سورۂ نساء: 80) ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ((وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ))اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (سورۂ آل عمران: 132) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: ((مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ))محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں‘ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت (اور) آپس میں رحم دل ہیں۔ (سورۂ فتح: 29)
دوسرا اور تیسرا رکن: نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا ہے‘
اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد گرامی ہے: ((وَما أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكاةَ وَذلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ))اور انہیں یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ تعالی کی عبادت کریں دین کو اسی کے لئے خالص‘ کر کے‘ یکسو ہو کر‘ اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں اور یہی درست دین ہے۔ (سورۂ بینہ: 5) اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَارْكَعُواْ مَعَ الرَّاكِعِينَ))نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (سورۂ بقرہ: 43) اسلام کے دوسرے رکن نماز کے بارے میں گفتگو چل رہی ہے‘
البتہ زکاۃ وہ مال ہے جو مالداروں سے لے کر فقراء اور ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جن کا زکاۃ کے مصارف میں تذکرہ ہے‘ زکاۃ اسلام کے اصولوں میں سے ایک گرانقدر اصول ہے جس کے ذریعہ معاشرہ میں وحدت ویگانگت پیدا ہوتی ہے اور معاشرہ کے افراد ایک دوسرے کے لئے معاون ومدد گار ثابت ہوتے ہیں‘ بایں طور کہ مالدار کے احسان اور کسی برتری کے بغیر اس کے مال میں غریب کا بھی حصہ ہوتا ہے۔
چوتھا رکن: اسلام کا چوتھا رکن ماہ رمضان کے روزے رکھنا ہے‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ))اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ (سورۂ بقرہ: 183) پانچواں رکن: اسلام کا پانچواں رکن طاقت رکھنے والوں کے لئے بیت اللہ کا حج کرنا ہے‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ((وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعالَمِينَ))اور الله کا لوگوں پر یہ حق ہے کہ جو بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے‘ اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ (سورۂ آل عمران: 97)
نماز کی اہمیت
سابقہ گفتگو سے دین اسلام میں نماز کی اہمیت اور اس کی غیر معمولی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے نیز یہ کہ نماز اسلام کا دوسرا عظیم الشان رکن ہے جس کی ادائیگی کے بغیر انسان کا اسلام معتبر اور صحیح نہیں ہوتا‘ اور اس میں کسی طرح کی لاپرواہی وسستی منافقوں کے اوصاف میں شمار ہوتی ہے‘ اور نماز کا چھوڑنا کفر اور گمراہی ہے اور دائرہ اسلام سے نکل جانا ہے‘ اس کی دلیل رسول اللہ ﷺ کی یہ صحیح حدیث ہے: ”انسان اور کفر وشرک کے درمیان بس نماز کا چھوڑنے کا فرق ہے تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان نماز کا فرق ہے تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔ نماز دین اسلام کا سر اور اس کا ستون ہے اور بندہ اور اس کے رب کے درمیان ایک رابطہ ہے‘ جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے“ ساتھ ہی نماز بندے کی اپنے رب سے محبت کی ایک علامت اور اس کی نعمتوں کی شکر گزاری ہے۔اللہ کے نزدیک نماز کے عظیم الشان ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نماز وہ پہلا فریضہ ہے جو نبی اکرم ﷺ پر فرض کیا گیا‘ اور آسمان پر شب معراج میں امت اسلامیہ کو یہ فریضہ بطور تحفہ عنایت کیا گیا‘ نیز جب رسول اللہ ﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے متعینہ وقت پر ادا کرنا“ (بخاری ومسلم) نماز کو اللہ تعالی نے گناہوں سے پاک وصاف ہونے کا ایک ذریعہ بنایا ہے‘ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر کوئی نہر جاری ہو جس میں وہ ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کچھ بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گا‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے‘ اللہ تعالی ان کے ذریعہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے“ (بخاری ومسلم) ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت آپ کی آخری وصیت اور امت سے آپ کا آخری عہد وپیمان یہی تھا کہ وہ نماز کے سلسلہ میں اور غلاموں کے متعلق اللہ سے ڈریں۔ (اسے امام احمد‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے) اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نماز کی بڑی اہمیت بیان فرمائی ہے اور نماز اور نمازیوں کی تکریم کی ہے‘ نیز بیشمار مقامات پر خصوصی طور سے نماز کا ذکر فرمایا ہے اور اس کی ادائیگی وپابندی کی خاص تاکید فرمائی ہے‘ چنانچہ ارشاد فرمایا: ((حَافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ))نمازوں کی حفاظت کرو خاص طور سے بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے ادب کے ساتھ کھڑے ہو۔ (سورۂ بقرہ: 238) مزید ارشاد فرمایا: ((وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشاءِ وَالْمُنْكَرِ))اور نماز قائم کیجئے کیونکہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ (سورۂ عنکبوت: 45) مزید ارشاد ہے: ((يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ))اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد حاصل کرو‘ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۂ بقرہ: 153) اورفرمایا: ((إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً))بیشک نماز ایمان والوں پر پابندی وقت کے ساتھ فرض ہے۔ (سورۂ نساء: 103) دوسری طرف اللہ تعالی نے نماز چھوڑنے اور اس کے بارے میں سستی برتنے والوں کے لئے عذاب لازمی قرار دیا ہے‘ فرمایا: ((فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَواتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا))پھر ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات کی پیروی کی سو وہ عنقریب گمراہی کا انجام دیکھ لیں گے۔ (سورۂ مریم: 59) اللہ سبحانہ نے قرآن کریم مین یہ بیان فرمایا ہے کہ گنہگاروں کو جہنم میں لے جانے والا پہلا سبب نماز کا چھوڑنا ہے‘ فرمایا: ((مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ))تمہیں جہنم میں کس چیز نے ڈالا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے۔ (سورۂ مدثر: 42،43) اور رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑھے وہ جنت میں جائے گا‘ جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے: ”جس نے دو ٹھنڈی نمازیں پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوگا“
نماز ایک ایسا دینی فرضہ ہے جو تمام آسمانی ادیان میں موجود رہا ہے‘ نماز دراصل اللہ وحدہ لا شریک کے لئے کمال اطاعت وبندگی کا اظہار ہے‘ اور نفس کے اندر تقویٰ‘ انابت‘ صبر‘ جہاد اور توکل کی روح بیدار کرتی ہے‘ اور یہی وہ ظاہری شعار ہے جو اللہ رب العالمین کے لئے صدق واخلاص اور ایمان پر دلالت کرتا ہے۔
لہٰذا! ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ نماز کو ان کے اوقات میں ادا کرنے کا اہتمام کرے اور جس طرح اللہ تعالی نے اسے مشروع فرمایا ہے قائم کرے، تاکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت وفرماں برداری سے مشرف ہو اور اللہ کے غضب اور اس کے عذاب وعقاب سے محفوظ رہے۔
طہارت کا بیان
-
نماز کے لئے تین طرح کی طہارت ضروری ہے:(1) بدن کی طہارت(2) کپڑے کی طہارت(3) نماز کی جگہ کی طہارتبدن کی طہارت دو چیزوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے:
1-غسل:غسل حدث اکبر کے لاحق ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہے‘ یعنی جنابت کے بعد یا حیض یا نفاس کے خون کے بند ہو جانے کے بعد غسل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔طہارت کی نیت سے تمام بدن اور بالوں پر پانی بہانے اور پہنچانے سے غسل (شرعی) مکمل ہو جاتا ہے۔
2- وضوء:اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: ((يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ))اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھوؤ۔ (سورۂ مائدہ: 6) یہ آیت کریمہ ان تمام امور کے بیان پر مشتمل ہے جن کا وضو میں لحاظ کرنا واجب ہے‘ جو یہ ہیں: 1- چہرے کا دھونا‘ کلی اور ناک مین پانی ڈالنا بھی اسی میں شامل ہے۔ 2- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا۔ 3- پورے سر کا مسح کرنا‘ دونوں کانوں کا مسح بھی اسی میں شامل ہے۔ 4- دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا۔ کپڑے اور جگہ کی طہارت پیشاب وپائخانہ وغیرہ جیسی نجاستوں سے پاکی وصفائی حاصل ہونے سے ہوتی ہے۔
تیمّم کا بیان
طہارت کے سلسلہ مین مسلمانوں کے لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ایک آسانی یہ ہے کہ جس کے پاس پانی نہ ہو یا پانی کے استعمال سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس کے لئے اللہ تعالی نے پاک مٹی سے تیمّم کرنا جائز قرار دیا ہے‘ اور تیمّم کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارے پھر ان کو اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لے‘ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ))… اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمّم کر لو‘ پھر اسے اپنے چہرے پر اور ہاتھوں پر مل لو۔ (سورۂ مائدہ: 6) اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک مہم پر روانہ فرمایا‘ میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ مل سکا‘ تو میں (طہارت حاصل کرنے کیلئے) زمین پر اس طرح لوٹ گیا جس طرح چوپایا لوٹتا ہے‘ پھر میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے لئے اتنا کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرتے“ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا‘ پھر بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کا اور دونوں ہتھیلیوں کے اوپری حصہ کا اور چہرے کا مسح فرمایا۔ (بخاری ومسلم)
فرض نمازیں
اسلام نے ہر مسلمان پر دن ورات مین پانچ نمازیں فرض کی ہیں‘ جو یہ ہیں: فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء۔
1- نماز فجر: دو رکعت ہے‘ اس کا وقت صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک ہے ( صبح صادق وہ روشنی ہے جو رات کے آخری حصہ میں مشرق کی جانب سے نمودار ہوتی ہے)۔
2- نماز ظہر: چار رکعت ہے‘ اس کا وقت زوال آفتاب سے لے کر اس وقت تک ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کے بعد اس کے مثل یعنی اس کے برابر ہو جائے۔
3- نماز عصر: چار رکعت ہے‘ اس کا وقت ظہر کے وقت کے اختتام سے شروع ہو کر اس وقت تک رہتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کے بعد اس سے دو گنا ہو جائے‘ اور بوقت ضرورت غروب آفتاب تک ہے۔
4- نماز مغرب: تین رکعت ہے‘ اس کا وقت غروب آفتاب سے شفق احمر (سرخی) کے غائب ہونے تک رہتا ہے۔
5- نماز عشاء: چار رکعت ہے‘ اس کا وقت مغرب کے وقت کے اختتام سے یعنی سرخی غائب ہونے کے بعد سے لے کر تہائی رات یا نصف رات تک ہے۔
نماز کا طریقہ
مندرجہ بالا طریقہ سے جسم کی طہارت حاصل کرنے کے بعد بندہ نماز کا وقت ہو جانے کا اطمینان کر لے اور قبلہ رخ کھڑا ہو جائے (اور وہ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ ہے) اور جس کی نماز کی ادائیگی کا ارادہ ہو فرض ہو یا نفل دل میں اس کی نیت کرے، پھر مندرجہ ذیل کام کرے:
1- سجدہ کی جگہ پر نظر رکھ کر ”اللّٰهُ أَكْبَر“ کے الفاظ سے تکبیر تحریمہ کہے۔ 2- تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر یا کانوں کی لو تک اٹھائے۔ 3- تکبیر تحریمہ کے بعد قرأت شروع کرنے سے پہلے دعائے استفتاح پڑھنا مسنون ہے جو یہ ہے: ”سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ“اے اللہ! تو پاک ہے‘ تیری ہی تعریف ہے‘ تیرا نام بابرکت ہے‘ تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اگر چاہے تو اس کے علاوہ یہ دعا پڑھے: ”اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ“اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کر دے جیسی مشرق ومغرب کے درمیان تو نے دوری کی ہے، اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے پانی اور برف اور اولے سے دھو دے۔ 4- پھر ”أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ“ کہہ کر سورہ فاتحہ پڑھے: ((الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ))تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام عالم کا پروردگار ہے، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا، جو مالک ہے روز جزاء کا، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں، ہم کو سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نہ انعام فرمایا، نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہو گئے۔ - - - - - سورہ فاتح کے ختم ہونے کے بعد آمین کہے۔ 5- پھر قرآن میں سے جو آسان لگے اور یاد ہو پڑھے‘ جیسے سورہ نصر: ((إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا))جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں‘ تو آپ اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے‘ بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ - - -
6- پھر ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے رکوع کرے‘ اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھے اور ”سُبْحانَ ربِّي العظيمِ“ کہے‘ مذکورہ دعا کا تین مرتبہ یا اس سے زیادہ پڑھنا سنت ہے۔
7- پھر اگر امام یا منفرد ہو تو ”سَمِعَ اللهُ لِمَن حمِدَه“ کہتے ہوئے رکوع سے کھڑا ہو جائے‘ اور پوری طرح سیدھا کھڑا ہو جانے کے بعد یہ دعا پڑھے: ”رَبَّنا وَلَكَ الحَمْدُ، حَمْدًا كَثِيْرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، مِلْءَ السَمَاوَاتِ وَمِلْءَ الأرضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ“اے ہمارے پروردگار! تیرے ہی لئے ساری تعریفیں ہیں‘ بہت زیادہ‘ پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں‘ آسمانوں اور زمینوں کے برابر‘ اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اس کے برابر‘ اور اس کے علاوہ جو چیز بھی تو چاہے اس کے برابر۔ لیکن اگر مقتدی ہو تو کھڑا ہو کر ”رَبَّنا وَلَكَ الحَمْدُ“ آخر تک پڑھے۔
8- پھر ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے سجدہ میں جائے‘ اور سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو پہلوؤں سے اور دونوں رانوں کو پنڈلیوں سے دور رکھے‘ اور سات اعضاء: پیشانی ناک سمیت‘ دونوں ہاتھوں‘ دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کے پوروں پر سجدہ کرے‘ اور سجدے میں: ”سُبحانَ ربِّيَ الأعلى“ تین یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے‘ اس کے علاوہ بھی جو دعائیں چاہے پڑھے۔
9- پھر ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے سر اٹھائے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائے اور دونوں ہاتھ دونوں رانوں اور گھٹنوں پر رکھے اور یہ دعا پڑھے: ”ربِّ اغْفِرْ لِيْ، وَارْحَمْنِيْ، وَعَافِنِيْ، وَارْزُقْنِيْ، وَاهْدِنِيْ، وَاجْبُرُنِيْ“اے اللہ! مجھے بخش دے‘ اور مجھ پر رحم کر‘ اور مجھے عافیت دے‘ اور مجھے رزق عطا فرما‘ اور مجھے ہدایت دے‘ اور میرے نقصان پورے کر۔ 10- اس کے بعد ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرے اور اس میں بھی وہی سب کرے جو پہلے سجدہ میں کیا تھا‘ اور اس کے ساتھ ہی پہلی رکعت پوری ہو گئی۔ 11- پھر ”اللہ اکبر“ کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے۔ 12- دوسری رکعت کے شروع مین سورہ فاتحہ اور قرآن کی کچھ آیتیں پڑھے‘ پھر رکوع کرے‘ پھر رکوع سے سر اٹھائے اور دو سجدے ٹھیک اسی طرح کرے جیسے پہلی رکعت میں کئے تھے۔ 13- دوسرے سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد بالکل اسی طرح بیٹھ جائے جیسے دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھا تھا‘ پھر تشہد پڑھے، تشہد یہ ہے: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ساری حمد وثنا اور نمازیں اور پاکیزہ چیزیں اللہ کے لئے ہیں‘ اے نبی آپ پر سلام ہو‘ اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو‘ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اور گواہی دیتا ہوں کہ بیشک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اگر نماز دو رکعت والی ہو جیسے فجر، جمعہ اور عیدین کی نمازیں تو بدستور بیٹھا رہے اور تشہد کے بعد یہ دعا پڑھے: ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسے رحمت نازل کی تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر‘ بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے‘ اور برکت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر‘ جیسے برکت نازل کی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ پھر درج ذیل چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے یہ دعا پڑھے: ”اللَّهمَّ إنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ وَمِنْ فِتْنَةِ المَسِيْحِ الدَّجَّالِ“اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور قبر کے عذاب سے، اور تیری پناہ چاہتا ہون زندگی اور موت کے فتنہ سے، اور مسیح دجال کے فتنہ سے۔ اور اس کے بعد‘ خواہ فرض ہو یا نفل‘ دنیا وآخرت کی بھلائی کے لئے جو دعا چاہے کرے۔ پھر ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہتا ہوا داہنی طرف اور پھر اسی طرح بائیں طرف سلام پھیر دے۔
لیکن اگر تین رکعت والی نماز مغرب ہو‘ یا چار رکعت والی نماز ظہر یا عصر یا عشاء ہو تو تشہد کے بعد ”اللہ اکبر“ کہتا ہوا کھڑا ہو جائے اور صرف سورہ فاتحہ پڑھے‘ پھر اسی طرح رکوع اور سجدے کرے جس طرح پہلی دونوں رکعتوں میں کئے تھے‘ اور اسی طرح چوتھی رکعت بھی مکمل کرے‘ البتہ اس مرتبہ تشہد میں تورک کرے‘ یعنی دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور اس کے نیچے سے بایاں پاؤں نکال کر کولھے پر بیٹھے‘ پھر مغرب کی تیسری رکعت اور ظہر اور عصر اور عشاء کی نماز مین چوتھی رکعت کے بعد تشہد اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھے‘ اور جی چاہے تو دعا بھی مانگے‘ پھر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیر دے‘
اور اس کے ساتھ ہی نماز مکمل ہو گئی۔
نماز با جماعتجماعت کی نماز تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس (27) گنا افضل ہے،
جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:”جماعت کی نماز تنہا کی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے“ (صحیح بخاری)
- ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ جماعت کھڑی کرنے کا حکم دوں اور کوئی نماز پڑھائے اور میں ان لوگوں کے گھروں کی طرف جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو جلا دوں“ (بخاری ومسلم) اگر جماعت سے پیچھے رہنا اور اس میں کوتاہی وسستی کرنا گناہ کبیرہ نہ ہوتا تو ان کے گھروں کو رسول اللہ ﷺ جلا کر خاکستر کرنے کی دھمکی نہ دیتے۔ ((وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَارْكَعُواْ مَعَ الرَّاكِعِينَ))نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو اور جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔ (سورۂ بقرہ: 43) یہ آیت بھی مسلمانوں کے ساتھ با جماعت نماز پڑھنے کے وجوب پر نص صریح ہے۔
نمازِ جمعہ
دین اسلام اجتماعیت کو پسند کرتا ہے اور اس کی دعوت دیتا ہے اور اختلاف وافتراق کو ناپسند کرتے ہوئے اس سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے‘ باہمی الفت ومحبت اور تعارف واجتماعیت کی کوئی ایسی راہ نہیں ہے جس کی طرف اسلام نے بلایا یا اس کا حکم نہ دیا ہو۔
مسلمانوں کے لیے جمعہ عید کا دن ہے جس میں اللہ تعالی کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں اور دنیاوی مشغولیات کو چھوڑ کر اللہ کے گھروں (مسجدوں) مین اکٹھے ہوتے ہیں تاکہ اللہ کے فرائض میں سے ایک فریضہ نماز جمعہ ادا کریں‘ خطبہ جمعہ مین علماء اور خطباء کے ارشادات سنیں‘ جو کہ ایک طرح کا ہفتہ واری سبق اور درس ہے جس کے ذریعہ خطیب سامعین کو اکٹھا کر کے ان کے دلوں میں تازگی پیدا کرتا ہے اور ان کے نفوس مین اللہ اور اس کے رسول کی محبت واطاعت کی روح پھونکتا ہے‘ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ((يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ، فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيراً لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ))اے ایمان والوں! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف چل پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو‘ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو‘ اور جب نماز پوری کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کی جستجو کرو‘ اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔ - (سورۂ جمعہ: 9،10) نماز جمعہ ہر مسلمان مرد پر جو مقیم‘ عاقل‘ بالغ اور آزاد ہو‘ واجب ہے‘ خود رسول اللہ ﷺ نے بنفس نفیس پابندی کے ساتھ اسے ادا فرمایا ہے اور اس کے چھوڑنے والے پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے‘ چانچہ فرمایا: ”خبر دار لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگادے گا پھر یہ لوگ غافلوں میں سے ہو جائیں گے“ (صحیح مسلم) ایک اور حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص سستی وکاہلی میں تین جمعہ چھوڑ دے اللہ تعالی اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے“ (ابو داؤد‘ ترمذی) نماز جمعہ دو رکعت ہے جسے مسلمان تمام مسلمانوں کے ساتھ با جماعت اپنے امام کی اقتداء میں ادا کرتا ہے۔
نماز جمعہ کے درست اور صحیح ہونے کے لئے اس نماز کا با جماعت پڑھنا ضروری ہے‘ جہان مسلمان جمع ہوں اور امام خطبہ دے اور انہیں وعظ ونصیحت کرے۔خطبہ کے دوران گفتگو کرنا حرام ہے‘ ایک روایت میں ہے:”اگر تم نے اپنے ساتھی سے خطبہ کے دوران یہ کہہ دیا کہ چپ رہ تو تم نے بھی لغو کام کیا“ (بخاری ومسلم)
مسافر کی نماز
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ))”اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ دشواری نہیں چاہتا اور یہ (چاہتا ہے) کہ تم گنتی پوری کرو‘ اور یہ کہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔ (سورۂ بقرہ: 185)
دین اسلام آسان دین ہے‘ وہ بندے کو اتنا مکلّف کرتا ہے جتنے کی وہ طاقت رکھتا ہے، اور ایسے احکامات کی تعمیل کا وہ حکم نہیں دیتا جس کے کرنے کی اس میں طاقت نہیں۔سفر کے دوران چونکہ مشقت ودشواری سے دوچار ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالی نے اس سلسلے میں دو چیزوں کی رخصت دی ہے:
1-نماز مین قصر کرنا: نماز میں قصر اس طرح کیا جائے گا کہ چار رکعت والی نمازوں کو دو رکعت پڑھا جائے گا‘ لہٰذا اگر کوئی سفر میں ہے تو ظہر‘ عصر‘ اور عشاء کی نمازوں کو بجائے چار رکعت کے دو رکعتیں پڑھے‘ البتہ دو یا تین رکعت والی نماز میں قصر نہیں ہے‘ لہٰذا فجر اور مغرب کے نمازیں پوری پڑھی جائیں گی۔ نماز مین قصر کی مشروعیت اللہ تعالی کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لئے ایک آسانی اور رخصت ہے اور اللہ تعالی یہ پسند فرماتا ہے کہ اس کی عطا کی ہوئی رخصت پر عمل کیا جائے جس طرح وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے فرائض کو ادا کیا جائے۔ قصر کی یہ رخصت کسی مخصوص سواری کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ سفر خواہ موٹر کار سے ہو یا ہوائی جہاز سے یا پانی کی جہاز سے یا ریل گاڑی سے یا کسی جانور پر ہو یا پیدل چل کر ہو‘ ان تمام ذرائع کے استعمال کو سفر کہا جاتا ہے‘ لہٰذا ان تمام صورتوں میں نماز قصر کی جائے گی بشرطیکہ وہ سفر‘ سفر معصیت نہ ہو۔ 2- جمع بین الصلاتین (دو نمایں ایک ساتھ پڑھنا) مسافر کے لئے جائز ہے کہ دو نمازوں کو ایک وقت میں باہم جمع کر کے پڑھ لے‘ چنانچہ ظہر اور عصر کے درمیان اور اسی طرح مغرب اور عشاء کے درمیان جمع کر کے دو نمازیں ایک ہی وقت میں پڑھی جائیں گی‘ بایں طور کہ وقت تو ایک ہو گا مگر ہر نماز الگ الگ پڑھی جائے گی‘ چنانچہ پہلے ظہر کی نماز پڑھی جائے گی پھر اس کے فوراً بعد عصر کی نماز پڑھی جائے گی‘ اور اس طرح مغرب اور عشاء کا معاملہ بھی ہے کہ پہلے مغرب کی نماز پڑھی جائے گی پھر اس کے فوراً بعد عشاء کی نماز۔ واضح رہے کہ جمع بین الصلاتین صرف ظہر اور عصر کے درمیان اور مغرب اور عشاء کے درمیان ہی کیا جا سکتا ہے‘ چنانچہ فجر اور ظہر یا عصر اور مغرب میں جمع کرنا جائز نہیں ہے۔
مسنون دعائیں
نمازی کے لئے سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ ”أسْتَغْفِرُ الله“ کہنا اور پھر یہ دعائیں پڑھنا مسنون ہے: ”اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ؛ لَا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ؛ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ“اے اللہ! تو سلامتی والا ہے اور تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہوتی ہے‘ تو بڑا ہی با برکت ہے اے عظمت وبزرگی والے‘ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ واکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں‘ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے سب تعریفیں ہیں اور وہی ہر چیز پر قادر ہے‘ اے اللہ! جو کچھ تو دے اس کا کوئی روکنے والا نہیں‘ اور جو تو روک لے اس کا کوئی دینے والا نہیں اور کسی دولت مند کو اس کی دولت تیرے عذاب سے فائدہ نہ دے گی۔ پھر تینتیس (33) مرتبہ ”سُبْحَانَ اللَّهِ“ تینتیس (33) مرتبہ ”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“ اور تینتیس (33) مرتبہ ”اللّٰهُ أَكْبَر“ کہے اور سو کی گنتی اس دعا سے پوری کرے:”لَا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں‘ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں‘ اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی‘ قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ‘ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھے‘ فجر اور مغرب کی نماز کے بعد ان تینوں سورتوں کا تین تین بار پڑھنا مستحب ہے۔اسی طرح مغرب اور فجر کی نماز کے بعد مذکورہ اذکار کے بعد درج ذیل تسبیحات کا دس مرتبہ پڑھنا مستحب ہے: ”لَا إلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں‘ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں‘ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ -
واضح رہے کہ مذکورہ اذکار وتسبیحات کا پڑھنا مستحب ہے، فرض نہیں۔
موکدہ سنتیں
ہر مسلمان مرد وعورت کے لئے حالت حضر میں بارہ رکعتوں کی ادائیگی مسنون ہے، جو اس طرح ہیں: چار رکعتیں ظہر سے پہلے‘ دو رکعتیں ظہر کے بعد‘ دو رکعتیں مغرب کے بعد‘ دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔ ام المومنین ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو بھی مسلمان ہر دن بارہ رکعتیں اللہ کے لئے فرض کے علاوہ نفل پڑھے تو اس کے لئے اللہ تعالی جنت میں محل تعمیر فرماتا ہے‘ یا فرمایا: اس کے لئے جنت میں محل تعمیر کیا جاتا ہے“۔ (صحیح مسلم) حالت سفر میں رسول الہ ﷺ ظہر‘ مغرب اور عشاء کی سنتوں کو ترک کر دیتے تھے‘ لیکن فجر کی سنت اور نماز وتر کو پابندی سے ادا فرماتے تھے‘ اور ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی میں اسوہ حسنہ ہے‘ جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ((لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ))رسول اللہ (ﷺ) کی ذات گرامی تمہارے لئے اچھا نمونہ ہے۔ (سورۂ احزاب: 21) اور خود رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے“۔
والله ولي التوفيق، وصلى الله على محمد وعلى آله وصحبه وسلم۔
Related books
All books
(کتاب: نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب)11 زبانیں(کتاب: نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب)
تالیف: شیخ الاسلام، فريد عصر, امام ومجدد، شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمه الله تعالىٰ سعودی لائبریری میں موجود قلمی نسخہ نمبر 269 /86 اور دیگر مطبوعہ نسخوں سے تقابل وتصحیح کاکام شیخ عبد الكريم بن محمد اللاحم، شیخ ناصر بن عبد الله الطريم اور شیخ سعود بن محمد البشر نے انجام دیا ہے . بسم اللہ الرّحمن الرّحیم (باب: نماز کی طرف جانے کے آداب) نماز کے لیے باوضو ہوکر خشوع کے ساتھ نکلنا مسنون ہے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : "جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کے ارادے سے نکلے، تو وہ اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے، کیونکہ وہ حالت نماز میں ہے۔" جب وہ گھر سے نکلے-اگرچہ نماز…
عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق40 زبانیںعام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق
کتاب ”عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق“ شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کا ایک مختصر مگر نہایت نافع رسالہ ہے، جسے امام موصوف نے عام مسلمانوں کے لیے علمی زادِ راہ کے طور پر تصنیف فرمایا۔ اس میں دین کے اصول وارکان، یعنی توحید، ایمان اور اسلام سے لے کر طہارت ونماز کے احکام، آدابِ اسلام، اور شرک ومعاصی کے خطرات کو آسان وواضح اسلوب میں، کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر مسلمان کے لیے صحیح عقیدہ اور درست عبادت کو سمجھنا آسان ہو جائے۔
طہارت، نماز اور جنازے کے فقہی احکام14 زبانیںطہارت، نماز اور جنازے کے فقہی احکام
کتاب "طہارت، نماز اور جنازے کے بعض فقہی احکام" فضیلۃ الشیخ علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کی تالیف ہے، جو کتاب وسنت کی روشنی میں طہارت، نماز اور جنازے کی عبادات کو وضاحت سے بیان کرتی ہے، اس کا مقصد مسلمان کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بصیرت کے ساتھ اپنی عبادات کو نبی ﷺ کے طریقے پر انجام دے سکے، جو آسانی اور پابندی کا مجموعہ ہے اور اخلاص واتباع کی ترغیب دیتا ہے تاکہ قبولیت اور اللہ کی قربت حاصل ہو۔
نماز کى شرطیں، ارکان اور واجبات11 زبانیںنماز کى شرطیں، ارکان اور واجبات
تالیف: شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہّاب رحمه الله 1115- 1206 هـ تحقیق و اہتمام اور تخریج احادیث ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی بسم اللہ الرحمن الرحیم