Skip to content
مُحمد /

آیت ٣٥

٤٧ : ٣٥

آیت ٣٥ of مُحمد (٤٧ : ٣٥). This page carries the verse in the Uthmani script with a translation of its meaning, at a stable URL that can be cited on its own.

مُحمد آیات ٣٨
سورت · مُحمد
الترجمة الأردية - محمد جوناكرهي
٤٧ : ٣٥

فَلَا تَهِنُواْ وَتَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلسَّلۡمِ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمۡ وَلَن يَتِرَكُمۡ أَعۡمَٰلَكُمۡ

پس تم بودے بن کر صلح کی درخواست پر نہ اتر آؤ جبکہ تم ہی بلند وغالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے، ناممکن ہے کہ وه تمہارے اعمال ضائع کر دے.

Explanation & meanings · ٣
  1. مطلب یہ ہے کہ جب تم تعداد اور قوت وطاقت کے اعتبار سےدشمن پر غالب اور فائق تر ہو تو ایسی صورت میں کفار کے ساتھ صلح اور کمزوری کا مظاہرہ مت کرو، بلکہ کفر پر ایسی کاری ضرب لگاؤ کہ اللہ کا دین سر بلند ہو جائے۔ غالب وبرتر ہوتےہوئے کفر کےساتھ مصالحت کا مطلب، کفر کےاثر ونفوذ کے بڑھانے میں مدد دینا ہے۔ یہ ایک بڑا جرم ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کافروں کے ساتھ صلح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ اجازت یقیناً ہے، لیکن ہر وقت نہیں۔ صرف اس وقت ہےجب مسلمان تعداد میں کم اوروسائل کے لحاظ سے فروتر ہوں۔ ایسے حالات میں لڑائی کی بہ نسبت صلح میں زیادہ فائدہ ہے تاکہ مسلمان اس موقعے سےفائدہ اٹھا کر بھرپور تیاری کر لیں، جیسے خود نبی ﹲ نےکفار مکہ سے جنگ نہ کرنے کا دس سالہ معاہدہ کیا تھا۔
  2. اس میں مسلمانوں کے لئے دشمن پر فتح ونصرت کی عظیم بشارت ہے۔ جس کے ساتھ اللہ ہو، اس کو کون شکست دے سکتاہے؟
  3. بلکہ وہ اس پر پورا اجر دے گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔