٢٧ : ٤٣
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعۡبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ إِنَّهَا كَانَتۡ مِن قَوۡمٖ كَٰفِرِينَ
اسے انہوں نے روک رکھا تھا جن کی وه اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی، یقیناً وه کافر لوگوں میں سے تھی.
Explanation & meanings · ١
- یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور صَدَّهَا کا فاعل مَا كَانَتْ تَعْبُدُ ہے یعنی اسے اللہ کی عبادت سے جس چیز نے روک رکھا تھا، وہ غیراللہ کی عبادت تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا تعلق ایک کافر قوم سے تھا، اس لیے توحید کی حقیقت سے بے خبر رہی بعض نے صَدَّهَا کا فاعل اللہ کو اور بعض نے سلیمان (عليه السلام) کو قرار دیا ہے۔ یعنی اللہ نے یا اللہ کے حکم سے سلیمان (عليه السلام) نے اسے غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (فتح القدیر)۔