Skip to content
الأنبيَاء /

آیت ٥

٢١ : ٥
الأنبيَاء آیات ١١٢
سورت · الأنبيَاء
الترجمة الأردية - محمد جوناكرهي
٢١ : ٥

بَلۡ قَالُوٓاْ أَضۡغَٰثُ أَحۡلَٰمِۭ بَلِ ٱفۡتَرَىٰهُ بَلۡ هُوَ شَاعِرٞ فَلۡيَأۡتِنَا بِـَٔايَةٖ كَمَآ أُرۡسِلَ ٱلۡأَوَّلُونَ

اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگنده خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی ﻻتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے.

Explanation & meanings · ٢
  1. ان سرگوشی کرنے والے ظالموں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کہا کہ یہ قرآن تو پریشان خواب کی طرح حیران کن افکار کا مجموعہ، بلکہ اس کا اپنا گھڑا ہوا ہے، بلکہ یہ شاعر ہے اور یہ قرآن کتاب ہدایت نہیں، شاعری ہے۔ یعنی کسی ایک بات پر ان کو قرار نہیں ہے۔ ہر روز ایک نیا پینترا بدلتے اور نئی سے نئی الزام تراشی کرتے ہیں۔
  2. یعنی جس طرح ثمود کے لئے اونٹنی، موسیٰ (عليه السلام) کے لئے عصا اور ید بیضا وغیرہ۔