عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (48)
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی، جب تک وہ اسے چھوڑ نہیں دیتا: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوج کرے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
”بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور بے شک مؤمن کو بھی غیرت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ بندہ وہ کام کرے، جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی ﷺ کے چند صحابہ حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ’’یہی صریح ایمان ہے۔‘‘
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں"۔ مجھ سے کہا جائے گا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام کیے تھے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے"۔
صحیح متفق علیہ
"شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک آپہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے"۔
صحیح متفق علیہ
”اے بلال! مجھے اپنا وہ عمل بتلاؤ جو تم نے اسلام میں سب سے زیادہ امید والا کیا ہے، اس لیے کہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمھارے جوتوں کی آواز سنی۔“ انھوں نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید والا نہیں کیا کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی وضو کیا تو اس وضو سے اتنی نماز ضرور پڑھی جتنی میرے مقدر میں لکھی تھی۔
صحیح متفق علیہ
ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟‘‘ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"
صحیح متفق علیہ