Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 24 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“۔
حَسَنْ اسے ابوداود اور احمد نے روایت کیا ہے
”وہ لوگ سب سے برے لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت کے وقوع کے وقت باحیات رہيں گے اور جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے“۔
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے
”جس نے دوسرے کا نقصان کیا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جس نے دوسرے کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا“۔
حَسَنْ اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک وقت اتنا سکڑ نہ جائے کہ سال مہینے کی طرح ہو جائے، مہینہ ہفتے کی طرح ہو جائے، ہفتہ دن کی طرح ہو جائے، دن گھنٹے کی طرح ہو جائے اور گھنٹہ کھجور کے پتے کو جلنے میں لگنے والے وقت کی طرح ہو جائے۔"
صحیح اسے احمد نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی، جن میں نو لوگوں سے آپ نے بیعت لی اور ایک شخص سے بیعت نہیں لی۔ لہذا انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ماجرا ہے کہ آپ نے نو لوگوں سے بیعت لی اور اسے چھوڑ دیا؟ آپ نے جواب دیا : "اس نے تعویذ باندھ رکھا ہے۔" چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ اندر ڈالا اور اسے کاٹ دیا۔ تب جاکر آپ نے اس سے بیعت لی اور فرمایا : "جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔"
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے
میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب ہو گیا، تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے، جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے اور بے شک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے، جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں بھلائی کے دروازے (راستے) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے، جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز (تہجد) پڑھنا"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ”تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ“ کی تلاوت ” يَعْمَلُونَ“ تک فرمائی“ (ترجمہ: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا میں تمھیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیے)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دار و مدار ہے، وہ نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں، اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری ماں تم پر روئے، اے معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ (یا فرمایا : اپنے نتھنوں کے بل) جہنم میں ڈالے جائیں گے؟“۔
یہ حدیث اپنے تمام طرق کی بنا پر صحیح ہے اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔
حَسَنْ اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
"یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے (دنیا و آخرت کی) ذلت قبول کر لی جائے؛ ایسی عزت جو اللہ اسلام کے ذریعے عطا کرے گا اور ایسی ذلت جس سے اللہ کفر کی وجہ سے دوچار کرے گا۔" تمیم داری رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اس فرمان رسول ﷺ کی صداقت میں نے اپنے خاندان میں دیکھی ہے کہ ان میں سے جو مسلمان ہوگیا، اسے خیر، شرافت اور عزت نصیب ہوئی اور جو کافر رہا، اسے ذلت، رسوائی اور جزیہ کا سامنا کرنا پڑا۔
صحیح اسے احمد نے روایت کیا ہے