Skip to content

”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز نہیں“۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز نہیں“۔

«لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللهِ تَعَالَى مِنَ الدُّعَاءِ».

اسے ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
حديث حسن
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ کے یہاں دعا سے افضل کوئی عبادت نہيں ہے۔ کیوں کہ اس میں اللہ تعالی کی بے نیازی اور بندے کی بے بسی اور ضرورت مندی کا اعتراف ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

دعا کی فضیلت اور یہ کہ اللہ سے دعا کرنے والا دراصل اللہ کی تعظیم کرتا اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ پاک غنی ہے، کیوں کہ فقیر سے کچھ مانگا نہیں جاتا، وہ سننے والا ہے‘ کیوں کہ بہرے کو پکارا نہیں جاتا‘ وہ رحیم ہے، کیوں کہ سخت دل سے دعا نہيں کی جاتی، وہ قدرت والا ہے، کیوں عاجز سے دعا نہيں کی جاتی، وہ قریب ہے، کیوں کہ بعید سن نہيں سکتا۔ دعا کرنے والا اس کے علاوہ بھی اللہ کے دیگر جمال و جلال کی صفات کا اقرار کرتا ہے۔

حوالہ جات
مزید (11)

سننِ ترمذی (5/ 385) (3370).

سننِ ابن ماجہ (5/ 6) (3829).

مُسنَد احمد (14/ 360) (8748).

توضيح الأحكام من بلوغ المرام.

للبسام (7/ 546).

منحة العلام في شرح بلوغ المرام.

لعبد الله الفوزان (10/ 416).

فتح ذي الجلال والإكرام.

لابن عثيمين (6/ 481).

سبل السلام بشرح بلوغ المرام.

للصنعاني (2/ 707).