Skip to content

”کھانے کی موجودگی میں نماز نہ پڑھی جائے اور نہ ہی اس وقت جب انسان کو پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت ہو“۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا :

”کھانے کی موجودگی میں نماز نہ پڑھی جائے اور نہ ہی اس وقت جب انسان کو پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت ہو“۔

«لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ».

اسے مسلم نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کھانے کی موجودگی میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے کہ انسان کا دل کھانے میں لگا رہے اور وہ پوری توجہ کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکے۔ اسی طرح اس وقت بھی نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، جب پیشاب پاخانہ کی بہت زیادہ حاجت ہو اور انسان ذہنی طور پر مشغول ہونے کی وجہ سے نماز پر توجہ مرکوز نہ کر سکے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

انسان کو نماز میں داخل ہونے سے پہلے ان تمام چیزوں سے دور ہو جانا چاہیے، جو اس کی توجہ کو نماز پر مرکوز ہونے نہيں دیتیں۔

حوالہ جات
مزید (6)

صحیح مسلم (1/ 393) (560).

شرح النووي على مسلم (5/ 46).

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام.

للبسام (ص96).

تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام.

لابن عثيمين (1/ 123).