عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
تمام راوی دکھائیں (187)
”جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان والی چیز (زبان) اور اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز (شرم گاہ) کی حفاظت کی ضمانت دے دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں“۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”میں یہ جھنڈا کل ایسے آدمی کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالی فتح عطا فرمائے گا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ لوگوں نے رات یہ بحث کرتے ہوۓ گزاری کہ کون وہ (خوش نصیب) ہوگا، جسے ان میں سے جھنڈا دیا جاۓ گا۔ جب لوگوں نے صبح کی تو اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئے۔ سب کے سب امید رکھتے تھے کہ انھیں جھنڈا دیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے پو چھا : ’’علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟‘‘ اللہ کے رسول کو بتلایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ان کو بلا بھیجو۔‘‘ چنانچہ وہ لائے گئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک لگایا اور ان کے حق میں دعا فرمائی۔ تو وہ اس طرح ٹھیک ہوگئے، جیسے انھیں کوئی درد تھا ہی نہیں۔ آپ ﷺ نے انھیں جھنڈا عطا فرمایا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں ان سے لڑوں یہاں تک کہ وہ ہم جیسے (مسلمان) ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’(نہیں بلکہ) آرام و سکون کے ساتھ چلو، یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں پڑاؤ ڈالو، پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور انھیں بتلاؤ کہ تم پر اللہ کے یہ یہ حق ہیں۔ اللہ کی قسم! تمھارے ذریعے سے کسی ایک آدمی کا ہدایت یافتہ ہو جانا تمھارے لیے (بیش قیمت) سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘
صحیح متفق علیہ