Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 129 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (187)
أبو موسى7 أبو موسى الأشعري7 عبد الله بن عمرو بن العاص6 علي6 ‌أبي هريرة5 النعمان بن بشير5 حذيفة5 معاذ بن جبل5 ‌ابن عباس4 أبو الدرداء4 أبو ذر4 جرير بن عبد الله4 عقبة بن عامر4 أبو بكرة3 أبو مسعود3 أبو أمامة2 أبو أيوب الأنصاري2 أبو هريرة قال2 أسامة بن زيد2 العباس بن عبد المطلب2 المقدام بن معدي كرب2 النبي صلى الله عليه وسلم قال2 النواس بن سمعان الأنصاري2 أم عطية2 تميم الداري2 ثوبان2 سعد2 سعد بن أبي وقاص2 سهل بن سعد2 شداد بن أوس2 صهيب2 ‌عائشة2 عبادة بن الصامت2 عبد الله بن بسر2 عثمان2 عقبة بن عامر الجهني2 عمران بن حصين2 أبان بن عثمان قال1 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 ‌ابن أبي أوفى1 ابن أبي مليكة1 ‌ابن عمر1 أبو الحوراء السعدي قال1 أبو العباس سهل بن سعد الساعدي1 أبو الهياج الأسدي قال1 أبو أمامة الباهلي1 أبو أمامة قال1 أبو أيوب1 أبو برزة الأسلمي1 أبو بشير الأنصاري1 أبو بكر الصديق1 أبو بن كعب1 أبو ثعلبة الخشني جرثوم بن ناشر1 أبو حازم بن دينار1 أبو حمزة أنس بن مالك1 أبو رقية تميم بن أوس الداري1 أبو زهير عمارة بن رؤيبة1 أبو سعيد1 أبو سعيد الخدري قال1 أبو سعيد الخدري وأبي هريرة1 أبو سعيد الخدري وعن أبي هريرة1 أبو سعيد سعد بن مالك بن سنان الخدري1 أبو صرمة1 أبو طلحة1 أبو عبد الرحمن السلمي رحمه الله قال1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله النعمان بن بشير1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو عمرو- وقيل1 أبو قتادة1 أبو مالك الأشعري1 أبو مالك الحارث بن عاصم الأشعري1 أبو محمد عبد الله بن عمرو بن العاص1 أبو مرثد الغنوي1 أبو مسعود الأنصاري1 أبو مسعود عقبة بن عمرو الأنصاري البدري1 أبو نجيح العرباض بن سارية1 أبو هريرة رضي لله عنه قال1 أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر1 أبو واقد الليثي1 أبو يعلى شداد بن أوس1 ‌أبي الزبير قال1 ‌أبي بن كعب1 ‌أبي حميد أو عن ‌أبي أسيد قال1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 أبيه قال1 أسماء بنت أبي بكر1 البراء1 البراء بن عازب1 الحسين بن علي بن أبي طالب1 ‌الزبير بن العوام قال1 العرباض بن سارية1 المغيرة1 المقداد بن عمرو الكندي1 المقدام بن معديكرب1 النواس بن سمعان1 أم المؤمنين أم عبد الله عائشة1 أم سلمة أم المؤمنين1 أم قيس بنت محصن1 أمير المؤمنين أبي حفص عمر بن الخطاب1 ‌أنس بن مالك1 بريدة1 بريدة بن الحصيب1 جابر بن سمرة1 جبير بن مطعم1 جرير1 جندب1 جندب بن عبد الله1 جندب بن عبد الله القسري1 ‌حطان بن عبد الله الرقاشي قال1 حكيم بن حزام1 خريم بن فاتك1 خولة الأنصارية1 خولة بنت حكيم السلمية قالت1 رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال1 رسول الله صلى الله عليه وسلم قال1 زر بن حبيش قال1 زياد بن لبيد1 زيد بن خالد1 زيد بن خالد الجهني1 زينب بنت جحش1 سالم بن أبي الجعد قال1 سعد بن عبادة1 سفيان بن عبد الله الثقفي1 سفينة1 سلمة بن الأكوع1 سمرة بن جندب1 سمرة بن جندب والمغيرة بن شعبة1 سهل بن حنيف1 سهل بن معاذ بن أنس عن أبيه قال1 طارق بن أشيم الأشجعي1 طاوس أنه قال1 طلحة بن عبيد الله1 عائشة وعبد الله بن عباس1 عبادة1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 عبد الرحمن بن سمرة1 عبد الله بن الشخير1 عبد الله بن خبيب1 ‌عبد الله بن زيد1 عبد الله بن سلام1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مالك ابن بحينة1 عبد الله بن مسعود قال1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عبيد الله بن عدي بن الخيار قال1 عثمان بن أبي العاص1 عثمان بن أبي العاص الثقفي1 عثمان بن عفان1 عدي بن حاتم1 عرفجة1 عكرمة1 علي بن أبي طالب1 علي قال1 عمار بن ياسر1 عمر1 عمر بن أبي سلمة1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال1 عمرو بن عامر عن ‌أنس بن مالك قال1 ‌قتادة رحمه الله قال1 قتادة قال1 قيس بن عاصم1 كعب بن عجرة1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 محمود بن لبيد1 مطر بن عكامس1 معاوية1 معدان بن أبي طلحة اليعمري قال1 معقل بن يسار المزني1 ميمونة أم المؤمنين1 وائل الحضرمي قال1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
"کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو‘‘۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ بات میرے بھائی میں فی الواقع موجود ہو، تب بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے، تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور جو تم بیان کر رہے ہو، اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے، تو تم نے اس پر تہمت باندھی"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔
صحیح اسے احمد نے روایت کیا ہے
’’تمھاری دنیا کی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں (70) حصہ ہے۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول اللہ ﷺ! یہ دنیا کی آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’وہ آگ اس پر انہتر (69) حصے زیادہ کردی گئی ہے اور اس کا ہر حصہ دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلے کے سلسلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
صحیح اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
"مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ جب بندہ {الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب بندہ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب بندہ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی -اور ایک مرتبہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے اپنے سارے کاموں کو میرے حوالے کر دیا۔- جب بندہ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} کہتا ہے تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ پھر جب بندہ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ“ (اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے) کہنا میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج نکلتا ہے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آدم کی اولاد کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو فحش گوئی نہ کرے اور نہ شور وغل کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے يا اس سے جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوش بو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشی کے مواقع ہیں، جن میں وہ خوش ہوتا ہے : جب وہ روزہ افطار کرتا ہے، تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو (اس کی جزا دیکھ کر) اپنے روزے سے خوش ہوگا"۔
صحیح متفق علیہ