Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 42 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نازل فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: 45] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ (آیات) یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل فرمائیں۔ ان میں سے ایک نے دورِ جاہلیت میں دوسرے پر غلبہ پا لیا تھا، یہاں تک کہ وہ اس بات پر راضی اور متفق ہو گئے کہ غالب گروہ اگر مغلوب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت پچاس وسق ہوگی، اور اگر مغلوب گروہ غالب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت سو وسق ہوگی۔ چنانچہ وہ اسی پر قائم رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد پر دونوں ہی گروہ کمزور پڑ گئے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کو سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی آپ نے انہیں زیر کیا تھا، بلکہ آپ صلح کی حالت میں تھے۔ پھر مغلوب گروہ نے غالب گروہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ تو غالب گروہ نے مغلوب گروہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس سو وسق بھیجو۔ اس پر مغلوب گروہ نے کہا: کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ دو قبیلوں کا دین ایک ہو، نسب ایک ہو، اور شہر ایک ہو، (پھر بھی) ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟ ہم نے تو یہ تمہیں تمہارے ظلم اور خوف کی وجہ سے دیا تھا۔ لیکن اب جب محمد ﷺ تشریف لے آئے ہیں تو ہم تمہیں یہ نہیں دیں گے۔ اس پر ان کے درمیان جنگ چھڑنے ہی والی تھی، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان منصف بنا لیں۔ پھر غالب گروہ کو خیال آیا اور انہوں نے آپس میں کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ تمہارے حق میں ان کے خلاف دوگنی دیت کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ اور انہوں نے یعنی مغلوب گروہ نے سچ ہی کہا، انہوں نے ہمیں یہ آدھی دیت صرف ہمارے ظلم اور ان پر ہمارے غلبے کی وجہ سے دی تھی۔ لہٰذا تم محمد ﷺ کے پاس کسی کو خفیہ طور پر بھیجو جو تمہارے لیے ان کی رائے معلوم کرے۔ اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں حَکَم مان لینا، اور اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ دیں تو ان سے بچنا اور انہیں حَکَم نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس خفیہ طور پر بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رائے معلوم کریں۔ چنانچہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ نے اپنے رسول کو ان کے سارے معاملے اور ان کے ارادے سے آگاہ فرما دیا۔ تب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41] سے لے کر اپنے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ پھر انہوں نے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! یہ آیات انہی کے بارے میں نازل ہوئیں، اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مراد یہی دونوں تھے۔
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے