Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 384 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (133)
أبو موسى الأشعري5 عمر بن الخطاب5 أبو ذر4 ‌أبي هريرة4 جرير بن عبد الله4 عقبة بن عامر4 علي4 النعمان بن بشير3 حذيفة3 ‌ابن عباس2 أبو أيوب الأنصاري2 أبو بكرة2 أبو مسعود2 أبو هريرة قال2 أسامة بن زيد2 ثوبان2 سعد2 سعد بن أبي وقاص2 صهيب2 عبادة بن الصامت2 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 ‌ابن أبي أوفى1 أبو الهياج الأسدي قال1 أبو أيوب1 أبو بشير الأنصاري1 أبو حازم بن دينار1 أبو حمزة أنس بن مالك1 أبو رقية تميم بن أوس الداري1 أبو زهير عمارة بن رؤيبة1 أبو سعيد الخدري قال1 أبو سعيد الخدري وأبي هريرة1 أبو سعيد الخدري وعن أبي هريرة1 أبو طلحة1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله النعمان بن بشير1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو عمرو- وقيل1 أبو قتادة1 أبو مالك الأشعري1 أبو مالك الحارث بن عاصم الأشعري1 أبو مرثد الغنوي1 أبو مسعود الأنصاري1 أبو هريرة رضي لله عنه قال1 أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر1 أبو يعلى شداد بن أوس1 ‌أبي الزبير قال1 ‌أبي بن كعب1 ‌أبي حميد أو عن ‌أبي أسيد قال1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 أبيه قال1 أسماء بنت أبي بكر1 البراء1 البراء بن عازب1 العباس بن عبد المطلب1 المغيرة1 المقداد بن عمرو الكندي1 النبي صلى الله عليه وسلم قال1 النواس بن سمعان1 النواس بن سمعان الأنصاري1 أم المؤمنين أم عبد الله عائشة1 أم سلمة أم المؤمنين1 أم عطية1 أم قيس بنت محصن1 أمير المؤمنين أبي حفص عمر بن الخطاب1 ‌أنس بن مالك1 تميم الداري1 جابر بن سمرة1 جبير بن مطعم1 جرير1 جندب1 جندب بن عبد الله القسري1 ‌حطان بن عبد الله الرقاشي قال1 حكيم بن حزام1 خولة بنت حكيم السلمية قالت1 رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال1 زيد بن خالد1 زيد بن خالد الجهني1 زينب بنت جحش1 سفيان بن عبد الله الثقفي1 سفينة1 سلمة بن الأكوع1 سمرة بن جندب1 سمرة بن جندب والمغيرة بن شعبة1 سهل بن حنيف1 سهل بن سعد1 شداد بن أوس1 طارق بن أشيم الأشجعي1 طاوس أنه قال1 طلحة بن عبيد الله1 ‌عائشة1 عائشة وعبد الله بن عباس1 عبادة1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 عبد الرحمن بن سمرة1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مالك ابن بحينة1 عبد الله بن مسعود قال1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عثمان1 عثمان بن أبي العاص1 عثمان بن أبي العاص الثقفي1 عثمان بن عفان1 عدي بن حاتم1 عرفجة1 عمار بن ياسر1 عمر1 عمر بن أبي سلمة1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 ‌قتادة رحمه الله قال1 كعب بن عجرة1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 معاذ بن جبل1 معاوية1 معدان بن أبي طلحة اليعمري قال1 معقل بن يسار المزني1 ميمونة أم المؤمنين1 وائل الحضرمي قال1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
ایک یہودی شخص نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین، آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے، انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ اس نے کہا: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی جہاں یہ نبی ﷺ پر نازل ہوئی، جب کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن عرفہ میں قیام فرما تھے۔
صحیح متفق علیہ
میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقيقي معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دوں گا، نماز قائم کروں گا، زکوۃ ادا کروں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔
صحیح متفق علیہ
"غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے۔" یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست کر لو۔ پھر تم میں سے ایک شخص تمھارا امام بن کر نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر کہے، تو تم تکبیر کہو اور جب وہ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} [سورہ فاتحہ : 7] کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمھاری دعا قبول کرے گا۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے، تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جا‏ئے گا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔" اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے رکوع میں جانے میں جو لمحے بھر کی دیر ہوگی، وہ رکوع سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی۔ اور جب امام "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے، تو تم "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" کہو، اللہ تمھاری دعا سن لے گا۔ اور جب وہ تکبیر کہے اور سجدے میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا۔" اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے سجدے میں جانے میں جو لمحے بھر کی دیر ہوگی، وہ سجدے سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی۔ اور جب جلسے میں بیٹھے، تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھے: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔ رہا کافر، تو اسے نیکیوں کے بدلے میں، جو اس نے دنیا میں اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں، اسی دنیا میں کھلا (پلا) دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی، جس کی اسے جزا دی جائے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو جہاد کے لئے سامان فراہم کیا، اس نے درحقیقت جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھے انداز میں جانشینی کی، حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔
صحیح متفق علیہ
ہم نو، آٹھ یا سات لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : "کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟" حالاں کہ ہم نے انہیں دنوں آپ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ لہذا ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟" چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور کہا : ویسے تو ہم پہلے آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ لیکن اب بتائیں کہ آپ سے کس چیز کی بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اطاعت گزار رہو گے اور ایک جملہ آہستہ آواز میں کہا کہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“۔ (راوی کہتے ہیں:) اس کے بعد میں نے اس جماعت میں سے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کا کوڑا گر جاتا، تب بھی کسی سے اسے اٹھا کر دینے کے لئے نہ کہتے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
''اس شخص کی نماز نہیں، جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی''۔
صحیح متفق علیہ