عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
تمام راوی دکھائیں (133)
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں, رمضان میں روزہ رکھوں اور حلال کو حلال سمجھوں اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو آپ ﷺ کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں!" اس شخص نے عرض کیا: اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا-
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے گہ کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”ہر اچھا کام صدقہ ہے“۔
صحیح اسے بخاری نے جابر کی حدیث سے اور مسلم نے حذیفہ کی حدیث سے روایت کیا ہے
"مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور پوری زمین میرے لیے مسجد اور حصولِ پاکیزگی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ چنانچہ میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے، اسے وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا ہے، مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی غنیمت کا مال حلال نہ تھا۔ مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ دیگر انبیا اپنی اپنی قوموں کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، لیکن مجھے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
صحیح متفق علیہ
ہم ایک غزوہ میں تھے کہ ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو پیچھے سے مارا۔ اس پر انصاری نے پکارا: ’’اے انصارو!‘‘ اور مہاجر نے پکارا: ’’اے مہاجرو!‘‘ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کو پیچھے سے مارا، جس پر انصاری نے پکارا: اے انصارو! اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تھے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ یہ سن کر عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا انہوں نے ایسا کر دیا ہے؟ اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والا وہاں سے ذلیل کو ضرور نکال باہر کرے گا۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں‘‘۔
صحیح متفق علیہ
ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے اسے مسلم نے روایت کیا ہے