Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 288 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (88)
عمر بن الخطاب5 أبو موسى4 ‌ابن عباس3 أبو بكرة3 أبو مسعود3 النعمان بن بشير3 جرير بن عبد الله3 حذيفة3 علي3 أبو أيوب الأنصاري2 أبو هريرة قال2 ‌أبي هريرة2 أسامة بن زيد2 أم عطية2 سهل بن سعد2 ‌عائشة2 عبادة بن الصامت2 عقبة بن عامر2 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 أبو أيوب1 أبو بشير الأنصاري1 أبو حازم بن دينار1 أبو حمزة أنس بن مالك1 أبو سعيد الخدري وعن أبي هريرة1 أبو طلحة1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله النعمان بن بشير1 أبو قتادة1 أبو مسعود عقبة بن عمرو الأنصاري البدري1 أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 أبيه قال1 أسماء بنت أبي بكر1 البراء1 البراء بن عازب1 المغيرة1 المقداد بن عمرو الكندي1 أم المؤمنين أم عبد الله عائشة1 أم قيس بنت محصن1 أمير المؤمنين أبي حفص عمر بن الخطاب1 ‌أنس بن مالك1 بريدة بن الحصيب1 جبير بن مطعم1 حكيم بن حزام1 خولة الأنصارية1 زيد بن خالد1 زيد بن خالد الجهني1 زينب بنت جحش1 شداد بن أوس1 طلحة بن عبيد الله1 عائشة وعبد الله بن عباس1 عبادة1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 ‌عبد الله بن زيد1 عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مالك ابن بحينة1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عثمان1 عدي بن حاتم1 عكرمة1 عمار بن ياسر1 عمر1 عمر بن أبي سلمة1 عمران بن حصين1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 عمرو بن عامر عن ‌أنس بن مالك قال1 ‌قتادة رحمه الله قال1 قتادة قال1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 معاذ بن جبل1 معاوية1 معقل بن يسار المزني1 ميمونة أم المؤمنين1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
”طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دیتا ہو، بلکہ طاقتور وہ ہے، جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے“۔
صحیح متفق علیہ
ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟‘‘ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"
صحیح متفق علیہ
”جس نے دن میں سو بار ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھا، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
صحیح متفق علیہ
"کوئی عورت دو دن کی مسافت کے سفر پر اس وقت تک نہ نکلے، جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم نہ ہو، دو دنوں میں روزہ نہیں ہے، عیدالفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن، صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہیں ہے اور سفر کر کے بس تین مسجدوں کی جانب جانا جائز ہے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری یہ مسجد۔"
صحیح متفق علیہ
"جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔"
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے منت ماننے سے منع فرمایا اور کہا : "منت کوئی خیر نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے بس کنجوس کا مال نکالا جاتا ہے۔"
صحیح متفق علیہ
"تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے سے ایک نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن میں ذرا بھی میل کچیل باقی رہ سکے گا؟" صحابہ نے عرض کیا : اس کے بدن میں میل کچیل ذرا بھی باقی نہيں رہے گا۔ لہذا آپ نے فرمایا : "یہی مثال ہے پانچ نمازوں کی۔ ان کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"
صحیح متفق علیہ