Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 38 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔ پس جسے وہ جنت کہے گا، درحقیقت وہی دوزخ ہو گی۔ میں تمھیں اس سے اسی طرح خبردار کرتا ہوں، جس طرح نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔"
صحیح متفق علیہ
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ وقت بہت ہی نزدیک ہے، جب تمھارے درمیان مریم کا بیٹا اترے گا۔ اس وقت وہ منصف حاکم ہوگا۔ صلیب توڑ دے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ جزیہ ختم کر دے گا۔ مال کی اس قدر بہتات ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔"
صحیح متفق علیہ
"قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے، جب تک اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کس چیز میں فنا کیا، اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس سے کیا کیا، اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں کھپایا۔"
صحیح اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
"مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔" اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ‘‘ [سورہ ابراہیم: 27] (اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات کے ذریعہ مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی))ــــــــــــــــ کا یہی مطلب ہے۔
صحیح متفق علیہ
”وہ لوگ سب سے برے لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت کے وقوع کے وقت باحیات رہيں گے اور جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے“۔
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے
"اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مُٹھی میں لے گا اور آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اس کے بعد کہے گا : میں بادشاہ ہوں؛ زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟"
صحیح متفق علیہ
جب آیت کریمہ {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ تکاثر : 8] نازل ہوئی، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم سے بھلا کس نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا، ہمارے پاس تو بس دو کالی چیزيں: کھجور اور پانی ہی ہیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "دیکھو، تم سے سوال تو کیا ہی جائے گا۔"
حَسَنْ اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
"قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک وقت اتنا سکڑ نہ جائے کہ سال مہینے کی طرح ہو جائے، مہینہ ہفتے کی طرح ہو جائے، ہفتہ دن کی طرح ہو جائے، دن گھنٹے کی طرح ہو جائے اور گھنٹہ کھجور کے پتے کو جلنے میں لگنے والے وقت کی طرح ہو جائے۔"
صحیح اسے احمد نے روایت کیا ہے