عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
تمام راوی دکھائیں (15)
اے اللہ کے نبی! اگر ہم پر ایسے حکمراں مسلط ہو جائیں، جو اپنا حق تو ہم سے وصول کریں، لیکن ہمارا حق ہمیں نہ دیں، تو آپ اس معاملے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے ان سے اعراض کیا۔ انھوں نے دوبارہ سوال کیا، تو بھی آپ ﷺ نے ان کى بات پر توجہ نہ دی، انہوں نے پھر سوال کیا دوسرى بار یا تیسری بار تو ان کو اشعث بن قیس نے کھینچ لیا، اور آپﷺ نے فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر اس بات کی ذمے داری ہے، جو ان کے اوپر ڈالى گئى ہے اور تم پر اس بات کی ذمے داری ہے جو تم پر ڈالى گئى ہے“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کے شیرازے کو منتشر کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے، تو تو بھی اس پر سختی فرما- اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر ان کے ساتھ نرمی کرے، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"مستقبل میں ایسے حکمراں سامنے آئیں گے، جن کے کچھ کام تمہیں بھلے لگیں گے اور کچھ برے۔ ایسے میں جو ان (کے برے کاموں) کو برا جانے گا، وہ گناہ سے بری رہے گا اور جو ان کے برے کاموں کو برا کہے گا، وہ سلامت رہے گا۔ لیکن جو (ان کے برے کاموں پر) مطمئن رہے گا اور ان کی پیروی کرے گا، (وہ ہلاکت میں پڑے گا۔)" لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : "نہیں، جب تک کہ وہ نماڑ پڑھتے رہیں۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"تم میں سے جو شخص منکر (غلط کام ) دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے اور اسے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہے؛ چنانچہ لوگوں کا امیر ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کى ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمے دار ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس طرح تم میں سے ہر شخص ذمے دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا“۔
صحیح متفق علیہ
ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ مشکل اور آسانی میں، چستی وسستی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اصحاب اقتدار سے تنازع نہیں کریں گے، ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کریں گے۔"
صحیح متفق علیہ
"دین خیر خواہی کا نام ہے"۔ ہم نے عرض کیا: کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے