Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 62 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔ رہا کافر، تو اسے نیکیوں کے بدلے میں، جو اس نے دنیا میں اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں، اسی دنیا میں کھلا (پلا) دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی، جس کی اسے جزا دی جائے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ہم نو، آٹھ یا سات لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : "کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟" حالاں کہ ہم نے انہیں دنوں آپ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ لہذا ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟" چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور کہا : ویسے تو ہم پہلے آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ لیکن اب بتائیں کہ آپ سے کس چیز کی بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اطاعت گزار رہو گے اور ایک جملہ آہستہ آواز میں کہا کہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“۔ (راوی کہتے ہیں:) اس کے بعد میں نے اس جماعت میں سے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کا کوڑا گر جاتا، تب بھی کسی سے اسے اٹھا کر دینے کے لئے نہ کہتے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“۔ (میں اللہ عظیم کی، جود وسخا والے اس کے چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ چاہتا ہوں، مردود شیطان سے)۔ (عقبہ نے) کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے (حدیث مکمل کرتے ہوئے) کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ ہو گیا۔
حَسَنْ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا : ’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے، ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں، جو میں نے اس پر فرض قراردی ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، تو پھر (اس کے نتیجے میں) مَیں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں، اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ چاہتا ہے تو میں اسے پناہ ضرور دیتا ہوں اور کسی چیز کے کرنے میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا تردد مومن کی روح قبض کرنے پر ہوتا ہے، جو موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اسے کسى ناگوار خاطر چیز میں ڈالنا ناپسند ہوتا ہے‘‘۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دل میں کچھ خیالات آتے ہیں۔ -وہ اشارے کنایے میں بات کر رہا تھا- ان خیالات کو زبان پر لانے کی بجائے کوئلہ ہو جانا اسے زیادہ پسند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ساری تعریف اس اللہ کی، جس نے اس (ابلیس) کے مکر کو وسوسے کی طرف پھیر دیا۔“
صحیح اسے ابو داود اور نسائی نے الکبری میں روایت کیا ہے
میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے، حالاں کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے"۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "تو اپنے بچے کو اس ڈر سے مار دے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہو گا"۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے"۔
صحیح متفق علیہ
"فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا یا تصویر ہو"۔
صحیح متفق علیہ