Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 57 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
”بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا“ [سورہ مومنون : 51] (اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) نیز ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ“ [سورہ بقرہ : 172] (اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو۔) پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر پر نکلا ہوا ہو، اس کے بال بکھرے ہوئے اور جسم غبار آلود ہو۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہے: ”اے میرے رب! اے میرے رب!“ حالاں کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہو۔ ایسے میں بھلا اس کی دعا کہاں سے قبول ہوگی؟“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”ویسے تو اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔" پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ [سورہ ہود : 102]
صحیح متفق علیہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالی نے کہا : ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ اس نے مجھے گالی دی۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ جہاں تک اس کا مجھے جھٹلانے کی بات ہے، تو یہ دراصل اس کا یہ کہنا ہے کہ میں نے جس طرح اسے پہلی بار پیدا کیا ہے، اس طرح اسے دوبارہ پیدا نہیں کروں گا۔ حالاں کہ میرے لیے اسے پہلی بار پیدا کرنا دوسری بار پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے۔ جب کہ اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنا رکھا ہے۔ حالاں کہ میں ایک ہوں۔ بے نیاز ہوں۔ نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں۔ کوئی میرا ہم سر بھی نہیں ہے۔"
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
"بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانا اور بد شگونی لینا کوئی چیز نہیں۔ البتہ مجھے فال اچھی لگتی ہے"۔ صحابہ کرام نے پوچھا : فال کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اچھی بات“۔
صحیح متفق علیہ
”اے لڑکے! میں تجھے چند (اہم) باتیں بتلاتا ہوں (انھیں یاد رکھ): تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر! وہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب تو مانگے تو صرف اللہ سے مانگ، اور جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر۔ اور یہ بات جان لے کہ اگر ساری امت بھی اکٹھا ہو کر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہے تو اس سے زیادہ کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تجھے کچھ نقصان پہنچانے کے لیے اکٹھا ہو جائے، تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی، جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہيں۔“
صحیح اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
ایک مرتبہ ہم مسجد میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک اونٹ سوار آیا اور اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا۔ پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟ نبی ﷺ اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے تکیہ لگائے بیٹھے شخص۔ چنانچہ وہ آپ سے کہنے لگا: اے فرزند عبدالمطلب! نبیﷺ نے فرمایا: ’’(پوچھ) میں تجھے جواب دیتا ہوں۔‘‘ اس نے نبیﷺ سے کہا: میں آپ سے کچھ دریافت کرنے والا ہوں اور اس میں سختی کروں گا، آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’(کوئی بات نہیں) جو چاہے پوچھ!‘‘ اس نے پوچھا: میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے مالک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے غریبوں پر تقسیم کریں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا: میں اس (شریعت) پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لائے ہیں۔ میں اپنی قوم کا نمائندہ بن کر حاضر خدمت ہوا ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
صحیح متفق علیہ
"اللہ عز و جل تمھیں اپنے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔" عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم! جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے منع کرتے سنا ہے، کبھی باپ دادوں کی قسم نہیں کھائی۔ نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی کی قسم نقل کرتے ہوئے۔
صحیح متفق علیہ
"جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں، اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، بے شک عیسٰی علیہ السلام اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں اور جنت اور دوزخ بر حق ہیں، اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔
صحیح متفق علیہ