Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 132 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (62)
أبو موسى2 النعمان بن بشير2 عبد الله بن بسر2 أبو أمامة1 أبو أمامة الباهلي1 أبو أيوب1 أبو أيوب الأنصاري1 أبو بكرة1 أبو حمزة أنس بن مالك1 أبو سعيد1 أبو سعيد الخدري1 أبو سعيد الخدري قال1 أبو سعيد الخدري وعن أبي هريرة1 أبو عبد الرحمن السلمي رحمه الله قال1 أبو عبد الله النعمان بن بشير1 أبو قتادة1 أبو مسعود1 أبو مسعود الأنصاري1 أبو مسعود عقبة بن عمرو الأنصاري البدري1 أبو موسى الأشعري1 أبو هريرة قال1 أبو يعلى شداد بن أوس1 ‌أبي بن كعب1 ‌أبي هريرة1 المغيرة1 المقدام بن معدي كرب1 النواس بن سمعان1 النواس بن سمعان الأنصاري1 ثوبان1 جبير بن مطعم1 جرير1 جرير بن عبد الله1 حذيفة1 خريم بن فاتك1 خولة الأنصارية1 رسول الله صلى الله عليه وسلم قال1 سعد بن أبي وقاص1 سلمة بن الأكوع1 سمرة بن جندب والمغيرة بن شعبة1 شداد بن أوس1 ‌عائشة1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 عبد الله بن سلام1 عبد الله بن عباس1 عبد الله بن عمرو بن العاص1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عثمان بن أبي العاص1 عقبة بن عامر الجهني1 عمر1 عمر بن أبي سلمة1 معاذ بن جبل1 معاوية1
ایک مرتبہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، جس کا نام عفیر تھا۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
بات یہ ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے صحابہ کے ایک حلقے کے پاس آئے اور پوچھا : "تم کس لیے بیٹھے ہو؟" صحابہ نے جواب دیا : ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کر ر ہے ہیں کہ اس نے ہمیں دین اسلام کی راہ دکھائی اور ہمیں اپنے فضل وکرم سے یہ دین عطا کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "قسم کھاؤ کہ تم اسی غرض سے بیٹھے ہو"۔ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ہم اسی غرض سے بیٹھے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کر تا ہے۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز اہل و عیال سے کیا ہے۔ پھر ابو قلابہ کہتے ہيں کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمن عز و جل کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے۔ جب کہ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اپنی رعایا، اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل و انصاف کرتے ہوں گے“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے، وہ ترازو کو جھکاتا اور اٹھاتا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے -اور ایک روایت میں: آگ ہے- اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال وجمال ان تمام مخلوقات کو جلا دے گا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے گی‘‘۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اسلام کا کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جانے پہچانے اور ان جانے سب کو سلام کرو۔"
صحیح متفق علیہ
”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے