Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 18 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

میں نے عمرو بن ابو حسن کو دیکھا کہ انھوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔ انھوں نے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور تین بار اپنے ہاتھ دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین چلوؤں سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اسے صاف کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ ہاتھ کو ایک مرتبہ آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھویا۔
صحیح متفق علیہ
"جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یک سوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے"۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ میں نے کہا: کیا خوب بات ہے یہ ! تو میرے سامنے ایک کہنے والا کہنے لگا کہ اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے تم ابھی آئے ہو۔ آپ ﷺ نے ( اس سے پہلے) فرمایا تھا: ’’تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے یا خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ کہے: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں)، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جس سے چاہے، داخل ہوجائے۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے