عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
تمام راوی دکھائیں (11)
ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ لوٹ رہے تھے۔ راستے میں پانی کے ایک چشمے تک پہنچے، تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے بڑی جلد بازی دکھائی۔ جلدی جلدی وضو کر لیا۔ ہم پہنچے تو ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں۔ ان کو پانی نے چھوا تک نہيں تھا۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ وضو اچھی طرح کیا کرو۔"
صحیح متفق علیہ
عثمان بن عفان کے غلام حمران سے روایت ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا، برتن کا پانی دونوں ہاتھوں پر تین بار انڈیلا، ان کو تین بار دھویا، پھر وضو کے پانی میں دائیں ہاتھ کو داخل کیا، پھر کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا، پھر چہرے کو تین بار اور دونوں ہاتھوں کو تین بار کہنیوں سمیت دھویا، پھر سر کا مسح کیا، پھر ہر ایک پیر کو تین تین بار دھویا اور اس کے بعد فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور اس کے بعد فرمایا: "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ تعالی اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔“
صحیح متفق علیہ
نبی ﷺ ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک پانی سے نہا لیا کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیا کرتھے تھے۔
صحیح متفق علیہ
”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے اسے مسلم نے روایت کیا ہے
میں نے عمرو بن ابو حسن کو دیکھا کہ انھوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔ انھوں نے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور تین بار اپنے ہاتھ دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین چلوؤں سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اسے صاف کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ ہاتھ کو ایک مرتبہ آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھویا۔
صحیح متفق علیہ
"جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یک سوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے"۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ میں نے کہا: کیا خوب بات ہے یہ ! تو میرے سامنے ایک کہنے والا کہنے لگا کہ اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے تم ابھی آئے ہو۔ آپ ﷺ نے ( اس سے پہلے) فرمایا تھا: ’’تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے یا خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ کہے: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ“ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں)، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جس سے چاہے، داخل ہوجائے۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے