Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 175 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (80)
عقبة بن عامر3 أبو موسى الأشعري2 ‌أبي هريرة2 أم عطية2 علي2 معاذ بن جبل2 إبراهيم النخعي عن همام بن الحارث قال1 ‌ابن أبي أوفى1 ‌ابن عباس1 أبو الدرداء1 أبو أمامة1 أبو أيوب الأنصاري1 أبو بن كعب1 أبو حازم بن دينار1 أبو ذر1 أبو عبد الرحمن عبد الله بن عمر بن الخطاب1 أبو عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري1 أبو قتادة1 أبو مالك الأشعري1 أبو مالك الحارث بن عاصم الأشعري1 أبو مرثد الغنوي1 أبو موسى1 أبو هريرة رضي لله عنه قال1 أبو هريرة قال1 أبو يعلى شداد بن أوس1 ‌أبي الزبير قال1 ‌أبي حميد أو عن ‌أبي أسيد قال1 ‌أبي قتادة السلمي1 أبيه أبي موسى الأشعري1 المغيرة1 أم قيس بنت محصن1 بريدة1 بريدة بن الحصيب1 ثوبان1 جابر بن سمرة1 ‌حطان بن عبد الله الرقاشي قال1 زر بن حبيش قال1 سالم بن أبي الجعد قال1 سعد1 سعد بن أبي وقاص1 سفينة1 سهل بن سعد1 شداد بن أوس1 عبادة بن الصامت1 عبد الرحمن بن أبي ليلى قال1 ‌عبد الله بن زيد1 عبد الله بن سلام1 ‌عبد الله بن عمرو بن العاص1 عبد الله بن مغفل1 عبد الله بن يزيد الخطمي قال1 عبيد الله بن عدي بن الخيار قال1 عثمان بن أبي العاص1 عثمان بن أبي العاص الثقفي1 عثمان بن عفان1 عدي بن حاتم1 عكرمة1 علي بن أبي طالب1 عمار بن ياسر1 عمر بن الخطاب1 عمران بن حصين1 عمرو بن سليم الأنصاري قال1 عمرو بن عامر عن ‌أنس بن مالك قال1 قيس بن عاصم1 كعب بن عجرة1 مالك بن أوس بن الحدثان أنه قال1 ‌محمود بن لبيد1 مطر بن عكامس1 ميمونة أم المؤمنين1 ‌وراد كاتب المغيرة بن شعبة قال1 يحيى بن عمارة المازني قال1
وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔
صحیح متفق علیہ
”جب پانی کی مقدار دو قلہ (دو بڑے بڑے گھڑوں کے برابر) ہو، تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دیتا۔“
صحیح اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! شیطان میرے، میری نماز اور میری تلاوت کے بیچ حائل ہو جاتا ہے اور مجھے الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ چناں چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو۔" ان کا کہنا ہے کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا، تو اللہ نے میری اس پریشانی کو دور کر دیا۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز روک نہيں سکتی۔"
صحیح اسے نسا‏ئی نے "الکبری" میں روایت کیا ہے
"جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست کر لو۔ پھر تم میں سے ایک شخص تمھارا امام بن کر نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر کہے، تو تم تکبیر کہو اور جب وہ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} [سورہ فاتحہ : 7] کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمھاری دعا قبول کرے گا۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے، تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جا‏ئے گا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔" اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے رکوع میں جانے میں جو لمحے بھر کی دیر ہوگی، وہ رکوع سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی۔ اور جب امام "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے، تو تم "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" کہو، اللہ تمھاری دعا سن لے گا۔ اور جب وہ تکبیر کہے اور سجدے میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا۔" اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے سجدے میں جانے میں جو لمحے بھر کی دیر ہوگی، وہ سجدے سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی۔ اور جب جلسے میں بیٹھے، تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھے: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
''اس شخص کی نماز نہیں، جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی''۔
صحیح متفق علیہ
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک انصاری خاتون سے، (راوی حدیث کہتے ہیں) جس کا نام عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا، لیکن میں اس کا نام بھول گیا، پوچھا : "تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟" اس نے جواب دیا : ہمارے پاس صرف دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر سوار ہوکر میرے بیٹے کے والد اور میرے بیٹے نے حج کیا، جب کہ دوسرا اونٹ ہمارے پاس پانی لانے کے لیے چھوڑ گئے۔ اس کی بات سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا۔ کیوں کہ رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔"
صحیح متفق علیہ