عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
زمرہ جات (13)
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (61)
”پانچ چیزیں (انسانی) فطرت (کا حصہ) ہیں: ختنہ کرنا، زير ناف بال مونڈنا، مونچھيں چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا“۔
صحیح متفق علیہ
”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم شام آئے، تو ہم نے دیکھا کہ بیت الخلا کعبہ رخ بنائے گئے تھے۔ چنانچہ ہم (جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو) کعبہ کی سمت سے ہٹ کر بیٹھتے اور اللہ عز و جل سے استغفار کرتے۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز ختم کرتے تو تین بار بخشش طلب کرتے اور اس کے بعد فرماتے : "اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ"۔ (اے اللہ تو سلامتی والا ہے اور تیری ہی جانب سے سلامتی حاصل ہوتی ہے۔ تو برکت والا ہے اے صاحب جلال و اکرام!) ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا کہ بخشش کیسے طلب کی جائے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ تم "استعفر اللہ استغفر اللہ" کہہ لیا کرو۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔"
صحیح متفق علیہ
”عورتوں کے پاس جانے سے اجتناب کرو“۔ ایک انصاری شخص نے سوال کیا : یا رسول اللہ! شوہر کے قریبی رشتہ دار (بھائی، چچا زاد وغیرہ) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”شوہر کا قریبی رشتہ دار تو موت ہے“۔
صحیح متفق علیہ
وہ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے۔ خواہ وہ نماز فرض ہو یا نفل۔ ماہ رمضان میں بھی اور دیگر مہینوں میں بھی۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر (رکوع سے اٹھتے وقت) سمع الله لمن حمده کہتے۔ بعد ازاں سجدہ کرنے سے پہلے ربنا ولك الحمد کہتے۔ اس کے بعد جب سجدے کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ اس کے بعد (دوسرا) سجدہ کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے، تو بھی اللہ اکبر کہتے۔ الغرض ہر رکعت میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ جب اپنی نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں تم سب کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ بےشک یہی آپ کی نماز ہوتی تھی تا آں کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
صحیح متفق علیہ
"تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔"
صحیح متفق علیہ
وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔
صحیح متفق علیہ