عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
"مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
رسول اللہ ﷺ پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی۔ پھر آپ تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی اور آپ نے وہاں دس برس قیام فرمایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے وفات پائی۔
صحیح متفق علیہ
"میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس سے بہت ڈر گیا، چنانچہ میں واپس آیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ1 قُمْ فَأَنْذِرْ} سے لے کر {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} تک۔ پھر کثرت سے اور مسلسل وحی آنے لگی۔
صحیح متفق علیہ
نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔، آپ ﷺ اپنی نماز کی اس جگہ سے جہاں آپ صبح کی نماز پڑھتے تھے، اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا، چنانچہ جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے۔ صحابہ کرام باتیں کرتے اور دورِ جاہلیت کے امور کا تذکرہ شروع کر دیتے، تو وہ ہنستے اور آپ ﷺ تبسم فرماتے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
«اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔»
صحیح متفق علیہ
اے ام المؤمنین! مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے، تو انھوں نے کہا : کیا تم قرآن نہيں پڑھتے؟ میں نے کہا : پڑھتا تو ہوں۔ فرمایا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاق قرآن تھا۔
صحیح اسے مسلم نے لمبی حدیث کے ضمن میں روایت کیا ہے
محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
صحیح متفق علیہ
نبی ﷺ نے ایک سرِیّہ بھیجا اور ایک انصاری شخص کو ان کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی اطاعت کا حکم دیا۔ وہ (کسی بات پر) غصہ ہو گیا اور کہنے لگا: کیا نبی ﷺ نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (یقیناً دیا ہے)۔ اس نے کہا: تو پھر میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اس نے کہا: آگ جلاؤ۔ تو انہوں نے آگ جلائی۔ پھر اس نے کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ تو انہوں نے (داخل ہونے کا) ارادہ کیا لیکن ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تو آگ ہی سے (بچنے کے لیے) نبی ﷺ کی طرف بھاگ کر آئے تھے۔ وہ اسی کشمکش میں تھے کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی اور اس (امیر) کا غصہ بھی فرو ہو گیا۔ جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے؛ اطاعت صرف نیکی (کے کاموں) میں ہے"۔
صحیح متفق علیہ