Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 11 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
رسول اللہ ﷺ پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی۔ پھر آپ تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی اور آپ نے وہاں دس برس قیام فرمایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے وفات پائی۔
صحیح متفق علیہ
"میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس سے بہت ڈر گیا، چنانچہ میں واپس آیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ1 قُمْ فَأَنْذِرْ} سے لے کر {وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} تک۔ پھر کثرت سے اور مسلسل وحی آنے لگی۔
صحیح متفق علیہ
«اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔»
صحیح متفق علیہ
محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
صحیح متفق علیہ
نبی ﷺ نے ایک سرِیّہ بھیجا اور ایک انصاری شخص کو ان کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی اطاعت کا حکم دیا۔ وہ (کسی بات پر) غصہ ہو گیا اور کہنے لگا: کیا نبی ﷺ نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (یقیناً دیا ہے)۔ اس نے کہا: تو پھر میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اس نے کہا: آگ جلاؤ۔ تو انہوں نے آگ جلائی۔ پھر اس نے کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ تو انہوں نے (داخل ہونے کا) ارادہ کیا لیکن ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تو آگ ہی سے (بچنے کے لیے) نبی ﷺ کی طرف بھاگ کر آئے تھے۔ وہ اسی کشمکش میں تھے کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی اور اس (امیر) کا غصہ بھی فرو ہو گیا۔ جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے؛ اطاعت صرف نیکی (کے کاموں) میں ہے"۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جوتا پہننا، کنگھی کرنا، طہارت حاصل کرنا اور اپنے سبھی کاموں کو دائيں سے کرنا پسند کرتے تھے۔
صحیح متفق علیہ
آلِ محمد ﷺ نے ایک دن میں دو کھانے نہیں کھائے، اِلّا یہ کہ ان میں سے ایک کھجوریں ہوتیں۔
صحیح متفق علیہ