Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 13 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
"جب مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور تم میں سے کسی نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور اس نے بھی "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی سچے دل سے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! دولت مند لوگ کہیں (زیادہ) اجر لے گئے۔ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، (اس پر مزید) وہ اپنے بچے ہوئے مال میں سے صدقہ و خیرات کر لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” کیا اللہ نے تمھیں صدقہ کرنے کو کچھ نہيں دیا ہے؟ بے شک ہر بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر بار اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر بار الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور ہر بار لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا بھی صدقہ ہے“۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سےایک شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے، کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : ”بھلا بتلاؤ! اگر وہ اسے حرام جگہ سے پوری کرے، تو اسے گناہ ہوگا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پوری کرے گا، تو اسے اجر ملے گا۔“
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو، کیوں کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، کیوں کہ وہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ چناں چہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جس نے دس بار "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" (اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں ہے، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہا، وہ اس شخص کی طرح ہوگا، جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلاموں کو آزاد کیا۔"
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مکے کے راستے میں محو سفر تھے۔ دوران سفر جُمْدان نامی ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ”چلتے رہو۔ یہ جمدان ہے۔ مفرِّدون سبقت لے گئے“۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مفرِّدون کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتيں‘‘۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے