Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 104 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (52)
’’موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: اے اہل جنت! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: جی ہاں! یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر وہ منادی کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جہنم! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ اس کو پہچانتے ہوئے جواب دیں گے : جی ہاں، یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کیا جائے گا اور اعلان کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جنت! ہمیشہ جنت میں رہو، تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ اور اے اہل دوزخ! تم ہمیشہ دوزخ میں رہو، اب تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْحَسْرَةِ إِذْ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ} [سورۃ مریم: 39] یعنی یہ دنیا دار غفلت میں پڑے ہیں اور یہ ایمان نہیں لا رہے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
"جو شخص سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہیدوں کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اس کی وفات اپنے بستر پر ہی ہوئی ہو"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو“۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔
صحیح متفق علیہ
"ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : تم سدا صحت مند رہوگے، کبھی بیمار نہيں ہوگے۔ تم سدا زندہ رہوگے، کبھی نہيں مروگے۔ تم سدا جوان رہوگے، کبھی بوڑھے نہيں ہوگے۔ تم سدا ناز و نعمت میں رہوگے، کبھی پریشان نہيں ہوگے۔" اسی کا ذکر اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے : "انھیں پکار کر کہا جائے گا : یہی وہ جنت ہے، جس کے وارث تم ان اعمال کی وجہ سے بنائے گئے ہو، جو تم کیا کرتے تھے۔" [سورہ اعراف : 43]
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”نہ چھوت لگنا ہے اور نہ بدشگونی، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ ماہ صفر کی۔ تم کوڑھ کے مریض سے اسی طرح بھاگو، جس طرح شیر سے بھاگتے ہو“۔
صحیح متفق علیہ
"اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔ عطر فروش یا تو تمہیں عطر تحفے میں دے دے گا یا پھر تم اس سے عطر خرید لو گے یا ( کم از کم )تمہیں اس سے خوش بو تو آئے گی ہی۔ جب کہ بھٹی میں پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا ڈالے گا یا پھر تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔"
صحیح متفق علیہ
’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے، وہ ترازو کو جھکاتا اور اٹھاتا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے -اور ایک روایت میں: آگ ہے- اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال وجمال ان تمام مخلوقات کو جلا دے گا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے گی‘‘۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے