Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 6 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (52)
میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے بلندی کے برابر ہو جائيں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہيں ہے۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر گناہ لے کر اس حال میں آئے کہ تونے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس زمین کے برابر بخشش لے کر آؤں گا۔"
حَسَنْ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔
صحیح متفق علیہ
”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔
صحیح متفق علیہ
"اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔"
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
"اللہ کے نبی ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا )۔
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ"۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہيں۔ پھر بھی کیا آپ کو ہمارے بارے میں ڈر ہے؟ آپ نے کہا : "ہاں! بے شک دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ اللہ جیسے چاہتا ہے، ان کو پلٹتا ہے۔"
صحیح اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے