عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
باقی مصادر دکھائیں
راوی
تمام راوی دکھائیں (49)
فاطمہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھ میں پڑے ہوئے چھالے دکھانے کے لیے آئيں۔ دراصل ان کو اطلاع ملی تھی کہ آپ کے پاس کچھ غلام آئے ہوئے ہیں۔ آپ نہیں ملے، تو انھوں نے اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کر دیا۔ آپ جب تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ آپ ہمارے یہاں تشریف لے آئے۔ ہم بستر پر جا چکے تھے۔ کھڑے ہونے لگے، تو فرمایا : "جہاں ہو، وہیں رہو۔" پھر آپ آکر میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ آپ ہمارے اتنے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے آپ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ میں محسوس کی۔ آپ نے کہا : "کیا میں تمھیں جو کچھ تم نے مانگا ہے، اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم دونوں اپنے بستر پر جاؤ، یا فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے جاؤ، تو تینتیس مرتبہ (33) سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ (33) الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ (34) اللہ اکبر پڑھ لینا۔ یہ تمھارے لیے خادم سے بہتر ہے۔"
صحیح متفق علیہ
"اللہ کے نبی ﷺ جب صبح اور شام کرتے، تو ان دعاؤں کو پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے : ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا، اہل و عیال اور مال میں عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری شرم گاہ کی ستر پوشی فرما، مجھے خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے۔ میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں۔"
صحیح اسے ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو : اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیرے حضور تیری جانب سے ملنے والی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں۔ ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ لہذا میرى مغرفت فرما، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا : ”جس شخص نے کامل یقین کے ساتھ دن کے وقت اسے پڑھا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کی موت ہوگئی، وہ جنتی ہے۔ اسی طرح جس نے رات کے وقت کامل یقین کے ساتھ اسے پڑھا اور صبح ہونے سے قبل ہی فوت ہو گیا، تو وہ بھی جنتی ہے۔“
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
’’موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: اے اہل جنت! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: جی ہاں! یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر وہ منادی کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جہنم! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ اس کو پہچانتے ہوئے جواب دیں گے : جی ہاں، یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کیا جائے گا اور اعلان کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جنت! ہمیشہ جنت میں رہو، تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ اور اے اہل دوزخ! تم ہمیشہ دوزخ میں رہو، اب تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْحَسْرَةِ إِذْ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ} [سورۃ مریم: 39] یعنی یہ دنیا دار غفلت میں پڑے ہیں اور یہ ایمان نہیں لا رہے۔‘‘
صحیح متفق علیہ
"جو شخص سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہیدوں کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اس کی وفات اپنے بستر پر ہی ہوئی ہو"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو“۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔
صحیح متفق علیہ
"ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : تم سدا صحت مند رہوگے، کبھی بیمار نہيں ہوگے۔ تم سدا زندہ رہوگے، کبھی نہيں مروگے۔ تم سدا جوان رہوگے، کبھی بوڑھے نہيں ہوگے۔ تم سدا ناز و نعمت میں رہوگے، کبھی پریشان نہيں ہوگے۔" اسی کا ذکر اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے : "انھیں پکار کر کہا جائے گا : یہی وہ جنت ہے، جس کے وارث تم ان اعمال کی وجہ سے بنائے گئے ہو، جو تم کیا کرتے تھے۔" [سورہ اعراف : 43]
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے