Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 68 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

"اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تيری پناہ مانگتا ہوں۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیّت کی ہو۔ چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف سمجھی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہے تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے سمجھی جائے گی، جس کے لیےاس نے ہجرت کی ہے۔“
صحیح اسے امام المحدثین ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراھیم بن مغیرۃ بن بردزبہ بخاری اور امام المحدثین ابو الحسین مسلم بن حجاج بن مسلم قشیری نیساپوری نے اپنی ان دو صحیح کتابوں میں روایت کیا ہے، جو (حدیث کی) تمام تصنیف کردہ کتابوں میں سب سے زیادہ صحیح ہیں۔
"اللہ کے نبی ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا )۔
صحیح متفق علیہ
ميں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے (عورت پر) اچانک پڑنے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”ميں نے اپنے بعد كوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا، جو مردوں کے حق میں عورتوں سے زیادہ ضرر رساں ہو“۔
صحیح متفق علیہ
’’اہلِ جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جو میں نے نہیں دیکھیں: ایک وہ قوم جن کے پاس کوڑے ہوں گے، جو گائے کی دموں جیسے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری قسم بظاہر کپڑوں میں ملبوس مگر حقیقتاً ننگی عورتوں کی ہے، جو سیدھی راہ سے بہکنے والی اور دوسروں کو بہکانے والی ہوں گی، جن کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کے طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، حالاں کہ اس کی خوشبو تو اتنے اور اتنے دور سے پائی جاتی ہے‘‘۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔ چنانچہ جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہے اور جس کی ہجرت حصول دنیا کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے، جس کے لیے اس نے ہجرت کی"۔جب کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے : "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔"
صحیح متفق علیہ