Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 16 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو۔“
صحیح پہلی حدیث کو مسلم نے اور دوسری حدیث کو احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے۔
"جس نے تین بار یہ دعا پڑھی : " بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" (اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین وآسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہ خوب سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔) اس پر صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہيں آئے گی۔ اور جس نے اسے صبح کے وقت تین بار پڑھ لیا، اس پر شام ہونے تک اچانک کوئی مصیبت نہيں آئے گی۔" راوی کا کہنا ہے کہ بعد میں ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہو گیا، تو ان کی طرف ان سے یہ حدیث سننے والا شخص دیکھنے لگا۔ چنانچہ ابان نے ان سے پوچھا : بات کیا ہے کہ تم میری طرف دیکھے جا رہے ہو؟ اللہ کی قسم نہ میں نے عثمان کی جانب منسوب کر کے جھوٹی بات کہی ہے اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کر کے جھوٹی بات کہی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی، اس دن میں غصے کا شکار ہوکر اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں‘ ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے ہلکی نماز پڑھی۔ جب وہ باہر نکلے تو میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو الیقظان! آپ نے بہت ہلکی نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا: تو کیا تم نے مجھے اس کے ارکان میں کوئی کمی کرتے ہوئے دیکھا؟! میں نے عرض کیا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے تو اس کے ذریعے شیطان کی غفلت پر سبقت کی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بندہ نماز پڑھتا ہے‘ اس کے لیے نماز کا صرف دسواں حصہ‘ نواں حصہ‘ آٹھواں‘ ساتواں‘ چھٹا‘ پانچواں‘ چوتھا‘ تیسرا‘ اور نصف حصہ ہی لکھا جاتا ہے‘‘۔
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے
"کوئی بھی بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے، پھر کھڑے ہوکر طہارت حاصل کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اس کی مغفرت کر دیتا ہے"۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ} (اور جب کبھی وہ کوئی بڑا گناہ کر جائیں یا اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اللہ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں) (سورہ آل عمران : 135)
صحیح اسے ابو داود‘ ترمذی‘ نسائی نے الکبری میں‘ ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"اللہ کے نبی ﷺ جب صبح اور شام کرتے، تو ان دعاؤں کو پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے : ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا، اہل و عیال اور مال میں عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری شرم گاہ کی ستر پوشی فرما، مجھے خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے۔ میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں۔"
صحیح اسے ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“
صحیح اسے امام احمد‘ ترمذی‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
" اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب کر دے۔ میں تجھ سے سوالی ہوں کہ میرے حق میں کیے گئے ہر فیصلے کو بہتر بنادے۔"
صحیح اسے ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“
صحیح اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے