Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 10 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے صدقہ میں سے مانگا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور ہمیں مضبوط اور توانا پایا، پھر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
صحیح اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح متفق علیہ
’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی نظر آئیں گے، اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی دیکھے گا اور اپنے سامنے دیکھے گا تو سامنے اسے جہنم کی آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ چنانچہ تم آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقے کرنے) کے ذریعے ہی سے ہو۔‘‘
صحیح متفق علیہ
"اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔
صحیح متفق علیہ
”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گیں، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔“
صحیح متفق علیہ
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
”صدقہ مال کو گھٹاتا نہيں ہے، بندہ کے عفو و درگزر سے کام لینے سے اللہ اس کی عزت کو مزید بڑھاتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے بلندیوں سے نوازتا ہے“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
کہ نبی ﷺ نے جب انھیں یمن روانہ فرمایا تو حکم دیا کہ وہ گایوں میں سے ہر تیس گائے پر ایک سال کا ايك بچھڑا یا ایک سال کی ايک بچھیا اور ہر چالیس گائے پر دو سال کی ایک بچھیا وصول کریں، اور ہر بالغ کی جانب سے -یعنی محتلم سے- ایک دینار یا اس کی قیمت کے برابر معافری کپڑا لیں، جو یمن میں تیار ہونے والے کپڑے ہیں۔
یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے