Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 47 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ لوٹ رہے تھے۔ راستے میں پانی کے ایک چشمے تک پہنچے، تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے بڑی جلد بازی دکھائی۔ جلدی جلدی وضو کر لیا۔ ہم پہنچے تو ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں۔ ان کو پانی نے چھوا تک نہيں تھا۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ وضو اچھی طرح کیا کرو۔"
صحیح متفق علیہ
عثمان بن عفان کے غلام حمران سے روایت ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا، برتن کا پانی دونوں ہاتھوں پر تین بار انڈیلا، ان کو تین بار دھویا، پھر وضو کے پانی میں دائیں ہاتھ کو داخل کیا، پھر کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا، پھر چہرے کو تین بار اور دونوں ہاتھوں کو تین بار کہنیوں سمیت دھویا، پھر سر کا مسح کیا، پھر ہر ایک پیر کو تین تین بار دھویا اور اس کے بعد فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور اس کے بعد فرمایا: "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ تعالی اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔“
صحیح متفق علیہ
”مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا موجب ہے“۔
صحیح اسے نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے
عبد الرحمن بن عوف کى بیوى ام حبیبہ بنت جحش نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خون جاری رہنے کی شکایت کی، تو آپ نے ان سے فرمایا : "تم اتنے دن نماز سے رکی رہو، جتنے دن تمھارا حیض تمھیں نماز سے روکا کرتا تھا، پھر غسل کر لیا کرو"۔ لہذا وہ ہر نماز کے وقت غسل کیا کرتی تھیں۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
نبی ﷺ ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک پانی سے نہا لیا کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیا کرتھے تھے۔
صحیح متفق علیہ
میں ایک سفر میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے"۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
صحیح متفق علیہ
”جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے، اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیل کر ان کو دھویا، پھر اپنے دائيں ہاتھ سے بائيں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اپنی شرم گاہ کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر مارا، اسے رگڑا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنے سر پر پانی بہایا، پھر پورے بدن کو دھویا، پھر اپنی جگہ سے ہٹ کر کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔ اس کے بعد میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی، تو آپ نے اسے نہيں لیا اور اپنے ہاتھ سے پانی جھاڑنے لگے۔
صحیح متفق علیہ