Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 7 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے منت ماننے سے منع فرمایا اور کہا : "منت کوئی خیر نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے بس کنجوس کا مال نکالا جاتا ہے۔"
صحیح متفق علیہ
”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے“۔
صحیح متفق علیہ
”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گیں، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔“
صحیح متفق علیہ
’’ایک دوسرے سے محبت کرنے کے لیے تحائف کا لین دین کریں‘‘۔
حَسَنْ اسے امام بخاری نے الأدب المفرد میں، اور ابو یعلیٰ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
”چاندی سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ گیہوں گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ جَو جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ کھجور کھجور کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے“۔
صحیح متفق علیہ
میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اشعری قبیلے کے کچھ لوگوں کے ساتھ پہنچا۔ میں نے آپ سے سواری مانگی، تو آپ نے کہا : "اللہ کی قسم! میں تمھیں سواری نہيں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے، جو تمھیں دے سکوں۔" پھر ہم وہاں جتنی دیر اللہ نے چاہا، اتنی دیر رکے۔ اسی درمیان آپ کے پاس کچھ اونٹ آ گئے، تو آپ نے ہمیں تین اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم چل پڑے، تو ہمارے بیچ کے کچھ لوگوں نے دوسرے لوگوں سے کہا : اللہ ہمارے لیے برکت نہ دے۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آکر سواری مانگی اور آپ نے قسم کھاکر بتایا کہ ہمیں سواری نہيں دے سکیں گے اور پھر دے دی۔ ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے کہا : "سواری میں نے تمھیں نہيں دی ہے۔ سواری تو تمھیں اللہ نے دی ہے۔ جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا، تو جب بھی میں کسی بات کی قسم کھاؤں گا اور دوسری بات کو اس سے بہتر دیکھوں گا، تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہی کروں گا، جو بہتر ہو۔"
صحیح متفق علیہ
”اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریقِ مخالف ہوں گا: ایک وہ آدمی جس نے میرے نام سے عہد کیا، پھر اسے توڑ دیا، دوسرا وہ آدمی جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھا لی، اور تیسرا وہ آدمی جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا، اس سے پورا کام تو لے لیا لیکن اسے اس کی مزدوری نہیں دی۔“
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے