عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ جنبی ہوتے۔
حَسَنْ اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نازل فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: 45] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ (آیات) یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل فرمائیں۔ ان میں سے ایک نے دورِ جاہلیت میں دوسرے پر غلبہ پا لیا تھا، یہاں تک کہ وہ اس بات پر راضی اور متفق ہو گئے کہ غالب گروہ اگر مغلوب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت پچاس وسق ہوگی، اور اگر مغلوب گروہ غالب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت سو وسق ہوگی۔ چنانچہ وہ اسی پر قائم رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد پر دونوں ہی گروہ کمزور پڑ گئے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کو سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی آپ نے انہیں زیر کیا تھا، بلکہ آپ صلح کی حالت میں تھے۔ پھر مغلوب گروہ نے غالب گروہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ تو غالب گروہ نے مغلوب گروہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس سو وسق بھیجو۔ اس پر مغلوب گروہ نے کہا: کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ دو قبیلوں کا دین ایک ہو، نسب ایک ہو، اور شہر ایک ہو، (پھر بھی) ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟ ہم نے تو یہ تمہیں تمہارے ظلم اور خوف کی وجہ سے دیا تھا۔ لیکن اب جب محمد ﷺ تشریف لے آئے ہیں تو ہم تمہیں یہ نہیں دیں گے۔ اس پر ان کے درمیان جنگ چھڑنے ہی والی تھی، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان منصف بنا لیں۔ پھر غالب گروہ کو خیال آیا اور انہوں نے آپس میں کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ تمہارے حق میں ان کے خلاف دوگنی دیت کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ اور انہوں نے یعنی مغلوب گروہ نے سچ ہی کہا، انہوں نے ہمیں یہ آدھی دیت صرف ہمارے ظلم اور ان پر ہمارے غلبے کی وجہ سے دی تھی۔ لہٰذا تم محمد ﷺ کے پاس کسی کو خفیہ طور پر بھیجو جو تمہارے لیے ان کی رائے معلوم کرے۔ اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں حَکَم مان لینا، اور اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ دیں تو ان سے بچنا اور انہیں حَکَم نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس خفیہ طور پر بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رائے معلوم کریں۔ چنانچہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ نے اپنے رسول کو ان کے سارے معاملے اور ان کے ارادے سے آگاہ فرما دیا۔ تب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41] سے لے کر اپنے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ پھر انہوں نے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! یہ آیات انہی کے بارے میں نازل ہوئیں، اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مراد یہی دونوں تھے۔
حَسَنْ اسے احمد نے روایت کیا ہے