”بندہ جب بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے، تو اس کے لیے ان عبادتوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، جنھیں وہ حالتِ اقامت یا صحت میں ادا کیا کرتاتھا“۔
ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
”بندہ جب بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے، تو اس کے لیے ان عبادتوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، جنھیں وہ حالتِ اقامت یا صحت میں ادا کیا کرتاتھا“۔
«إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے فضل و رحمت کے بارے میں بتاتے ہوئے یہ واضح کر رہے ہیں کہ جب ایک مسلمان کا معمول صحت اور اقامت کی حالت میں کوئی نیک کام کرنے کا رہتا ہے اور اس کے بعد کوئی عذر سامنے آ جاتا ہے، مثلا بیماری کی وجہ سے وہ کام کر نہیں پاتا یا سفر میں نکل جانے کی وجہ سے اس کی گنجائش نہیں رہتی یا اس طرح کا کوئی اور عذر پیش آ جاتا ہے، تو اس کے لیے اتنا ہی اجر وثواب لکھا جاتا ہے، جتنا صحت اور اقامت کی حالت میں اس کام کو کرنے پر لکھا جاتا۔
بندوں پر اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم۔
نیکی کے کاموں میں لگے رہنے اور صحت و اقامت کے اوقات کو غنیمت جاننے کی ترغیب۔
مزید (7)
صحیح بخاری (4/ 57) (2996).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (1/ 36).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
لسليم الهلالي (1/ 211).
بهجة قلوب الأبرار وقرة عيون الأخيار في شرح جوامع الأخبار.
لعبد الرحمن السعدي (ص83).