مصلى الجنائز

مصلى الجنائز

"ہر جاندار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہے"۔ [آل عمران: 185]

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 2.0
Translations 9
English Persian French Hindi +5
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

"ہر جاندار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہے"۔ [آل عمران: 185]

نبی ﷺ نے ایک جنازہ دیکھا اور فرمایا: "راحت پانے والا اور جس سے (دوسروں کو) راحت ملے، مؤمن بندہ دنیا کی مشقت اور اذیت سے اللہ کی رحمت کی طرف راحت پاتا ہے، اور فاجر بندے سے بندے، شہر، درخت اور جانور راحت پاتے ہیں"۔ صحیح بخاری: (6512)

(تعزیت)

اللہ تعالی آپ کی اچھی تعزیت فرمائے، آپ کے صدمے کو دور کرے اور آپ کے میت کی مغفرت فرمائے۔

جو اللہ نے لے لیا، وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا، وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز کا اس کے پاس ایک وقت مقرر ہے۔ اس لیے آپ صبر کریں اور اللہ سے ثواب کی امید رکھیں۔

(نماز جنازہ کا طریقہ)

پہلی تکبیر کہہ کر ((أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ)) اور ((بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ)) کہے اور سورۂ فاتحہ پڑھے۔

پھر دوسری تکبیر کہے، اور نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجے جیسے نماز کے آخری تشہد میں پڑھتا ہے۔

پھر تیسری تکبیر کہے اور میت کے حق میں دعا کرے۔

پھر چوتھی تکبیر کہہ کر تھوڑی دیر ٹھہرے اور اگر چاہے تو دعا کرے، پھر اپنے دائیں جانب ایک سلام پھیرے۔ (السلام عليكم ورحمة الله)

نمازِ جنازہ میں میت کے لیے وارد دعائیں:

’’اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے، اس سے درگزر فرما، اس کی اچھی مہمان نوازی کر، اس کی قبر کو فراخ کر دے، پانی، برف اور اولوں کے ساتھ اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کر دیا، اسے بدلے میں ایسا گھر دے جو اس کے گھر سے زیادہ بہتر ہو، ایسے گھر والے دے جو اس کے گھر والوں سے زیادہ بہتر ہوں، ایسی بیوی دے جو اس کی بیوی سے زیادہ بہتر ہو، اسے جنت میں داخل فرما اور قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ‘‘ صحیح مسلم: (963)

"اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ کو، ہمارے چھوٹے اور بڑے کو، ہمارے مرد اور ہماری عورتوں کو، ہمارے حاضر اور غائب کو بخش دے، یا الٰہی! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جسے تو فوت کرے، اسے ایمان پر فوت کر، اے اللہ! ہمیں اس (میت) کے اجر سے محروم نہ کرنا اور ہمیں اس کے بعد گمراہ نہ کرنا"۔ اسے ابو داود (3201) نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔

اور اگر میت بچہ ہو تو استغفار کے بجائے یہ دعا پڑھے:

اے اللہ! اسے اپنے والدین کے لیے آگے جانے والا اور ذخیرہ اور ایسا سفارشی بنا جس کی سفارش قبول کی جائے، اے اللہ! اس کی وجہ سے ان کے اعمال کا پلڑا وزنی کردے اور ان کا اجر بڑھا دے، اسے نیک مومنوں کے ساتھ ملا دے، اسے ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں دے دے، اپنی رحمت سے اسے عذابِ جہنم سے بچا لے، اسے بدلے میں ایسا گھر دے جو اس کے گھر سے بہتر ہو اور ایسے گھر والے جو اس کے گھر والوں سے زیادہ بہتر ہوں، اے اللہ! ہمارے پیش رو، ہمارے میرِ ساماں اور جو ایمان کے ساتھ ہم سے پہلے گزر گئے ان کی مغفرت فرما"۔ دیکھیے: المغني لابن قدامة (416/3)۔

مسجد حرام میں دینی امور کا سربراہ ادارہ

شعبہ برائے علمی ودعوتی امور